Rs.1,200.00

افکار غالب غالب اصطلاحی معنوں میں فلسفی تو نہیں ، مگر انہیں فلسفیانہ مسائل سے گہری دلچسپی ہے وہ ان مسائل کو ایسے عام فہم اور دلچسپ انداز میں پیش کرتے ہیں کہ ان مسائل...

Tags: Urdu Adab

افکار غالب غالب اصطلاحی معنوں میں فلسفی تو نہیں ، مگر انہیں فلسفیانہ مسائل سے گہری دلچسپی ہے وہ ان مسائل کو ایسے عام فہم اور دلچسپ انداز میں پیش کرتے ہیں کہ ان مسائل کی پیچیدگی اور گہرائی کا ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا لیکن اگر اُن کے اشعار کی نہیں کھولی جائیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ الفاظ کے پردے میں ایک جہانِ معنی چھپا ہوا تھا۔ خالص فلسفیانہ نقطۂ نظر سے دو ہی شرحیں سامنے آئی ہیں اور دونوں متفرق اشعار کی جزوی شرحیں ہیں۔ پہلے ڈاکٹر شوکت سبزواری کی کتاب فلسفہ کلام غالب سامنے آئی تھی جس میں غالب کے ان اشعار کی تفسیر و تشریح پیش کی گئی تھی جن میں ایسے مضامین نظم ہوئے ہیں جن سے فلسفہ کو دلچسپی ہے۔ لیکن شوکت سبزواری بھی اصطلاحی معنوں میں فلسفی نہیں تھے ان کی اس کوشش کو ایک عام شارح کی فلسفیانہ کاوش ہی کہا جا سکتا ہے۔ دوسری کتاب افکار غالب“ ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم کی لکھی ہوئی ہے۔ خلیفہ عبدالحکیم خود فلسفی تھے ۔ مغرب و مشرق کے فلسفوں پر اُن کی گہری نظر تھی ، وہ اسلامیات کے بھی دیدہ ور عالم تھے۔ مثنوی مولانا روم کے علاوہ مسلمان فلاسفہ کے افکار سے واقف تھے اور انہیں وہ مواضع بھی معلوم تھے جہاں مغرب و مشرق کے فلسفے ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں یا بغل گیر ہو جاتے ہیں۔ انھوں نے جس طرح مولانا روم اور شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے افکار کا فلسفیانہ جائزہ لیا، اسی انداز سے غالب کے فارسی اور اُردو کلام سے وہ اشعار انتخاب کیے جن میں فلسفیانہ مضامین باندھے گئے ہیں اور اُن کی تشریح ایسے فکر افروز انداز میں کی ہے کہ افکار غالب کی دقت ، لطافت اور فلسفیانہ قدر و قیمت روشن ہو کر ہمارے سامنے آجاتی ہے۔ یہ اگر چہ صرف منتخب اشعار کی شرح و تفسیر ہے مگر اسے پڑھ کر ہم پورے غالب کو سمجھ سکتے ہیں۔ ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم کا انداز بیان اور اسلوب نگارش نہ صرف نہایت عالمانہ ہے، اس میں دل رُبائی کی آن بھی ہے، ایسا اسلوب بھی کم لکھنے والوں کو نصیب ہوتا ہے۔ سید مظفر حسین برنی

Translation missing: en.general.search.loading