Rs.800.00Rs.1,000.00

غزالی کی مشہور کتاب "تہافت الفلاسفہ" اور ابنِ رُشد کے جواب"تہافت التہافتہ" کو اسلامی عقائد و افکار میں سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ غزالی نے اس معرکتہ الآرا کتاب میں یونانی فلسفہ اور انسانی...

غزالی کی مشہور کتاب "تہافت الفلاسفہ" اور ابنِ رُشد کے جواب"تہافت التہافتہ" کو اسلامی عقائد و افکار میں سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ غزالی نے اس معرکتہ الآرا کتاب میں یونانی فلسفہ اور انسانی فکر و کاوش  کی  وامندگی کو اجاگر کیا ہے اور بتایا ہے کہ انسانی فکراور عقیدے کی اپنی منطق اور فہم و استدلال کا اپنا اسلوب ہے  جس کو صرف اسی کی روشنی میں سمجھنا ممکن ہے۔ ابنِ رُشد نے اس کے جواب میں یونانی فلسفے کی رُو سے غزالی کے اعتراضات کاٹھیٹھ فلسفیانہ زبان میں جواب دیا۔ "تہافت الفلاسفہ" کی اس تلخیص و تفہیم میں مولانا ندوی نے نہ صرف غزالی کے اس تنقیدی شاہکار کو  شگفتہ اور رواں دواں اردو میں منتقل کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے، بلکہ اپنے طویل اور شاندار مقدمے میں دونوں کے خیالات اور افکار پرجچا تُلا محاکمہ بھی سپرد قلم کیا ہے،جس میں علامہ طوسی اور خواجہ زادہ کے تاریخی محاکموں سے استفادے کے علاوہ مولانا نے موجودہ فلسفے کے رجحانات کو سامنے رکھ کر اپنی آرا کا بھی اظہار کیا ہے۔ اسلامی فلسفے پر تحقیقی کام کرنے والوں کے لیےہمارے نزدیک یہ کتاب انتہائی قیمتی دستاویز ہے۔ اس ایک تو یہ معلوم ہو جائے گا کہ یونانی فلسفے نے اسلامی علم الکلام کو کس حد تک متاثر کیا ہے، دوسرے یہ حقیقیت بھی فکر و نظر کی ان نئی سمتوں کی نشاندہی بھی ملے گی جن کی روشنی میں جدید علم الکلام کی تعبیر کی جا سکتی ہے۔

Translation missing: en.general.search.loading