{"title":"History Books (Urdu)","description":"","products":[{"product_id":"bar-e-saghir-main-islam-ke-awaleen-naqoosh-بر-أ-صغیر-میں-اسلام-کے-اولین-نقوش","title":"Bar E Saghir Main Islam Ke Awaleen Naqoosh | بر أ صغیر میں اسلام کے اولین نقوش","description":"\u003cp\u003ePages:420\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eAuthor: Moalana Shibli Nomani\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eتفصیل:- اختر حسین رائے پوری کا شمارترقی پسند تحریک کے نمائندہ لوگوں میں ہوتا ہےجنہوں نے عہد آفریں مضمون’ ادب اور زندگی‘ لکھا۔ زیر نظرکتاب دراصل ان کی آپ بیتی کے پیرایے میں ادبی تہذیبی، سیاسی اور سماجی دستاویز ہے جو قسط وار افکار میں چھپتے تھے جسے انہوں نے گرد راہ کے نام سے کتابی صورت میں شائع کی ہے۔ یہ کتاب ادب و تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے نہایت ہی اہم ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Muhammad Ishaq Bhatti","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":43446224027682,"sku":null,"price":350.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/bar_e_sagheer_main_islam_kay_awaleen_naqoosh_9f47e377-db17-477f-88e2-058a1925a98d.jpg?v=1737455552"},{"product_id":"tareekh-ul-ambiya-تاریخ-الا-مبیہ","title":"Tareekh ul Ambiya | تاریخ الانبیاء","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\"تاریخ الانبیاء\" ذوالفقار ارشد گیلانی کی لتصنیف کردہ ایک جامع کتاب ہے جو انبیاء کرام کی زندگیوں اور ان کے زمانے کی تاریخ کو بیان کرتی ہے۔ یہ کتاب اسلامی تاریخ اور قصص الانبیاء کے موضوع پر ایک اہم حوالہ ہے \u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eذوالفقار ارشد گیلانی ایک معروف مؤرخ اور مصنف ہیں، اور ان کی یہ کتاب اسلامی تاریخ کے طلباء اور عام پڑھنے والوں کے لیے ایک مفید ذریعہ ہے۔\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Zulfiqar Arshad Gilani","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":43446224060450,"sku":null,"price":1050.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/tareekh_ul_anbiya.jpg?v=1737455554"},{"product_id":"tareekh-e-fatooh-misro-maghrib-تاریخ-الفتوح-مسرو-مغرب","title":"Tareekh E Fatooh Misro Maghrib | تاریخ الفتوح مسرو مغرب","description":"\u003cp\u003ePages:420\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eAuthor: Moalana Shibli Nomani\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eتفصیل:- اختر حسین رائے پوری کا شمارترقی پسند تحریک کے نمائندہ لوگوں میں ہوتا ہےجنہوں نے عہد آفریں مضمون’ ادب اور زندگی‘ لکھا۔ زیر نظرکتاب دراصل ان کی آپ بیتی کے پیرایے میں ادبی تہذیبی، سیاسی اور سماجی دستاویز ہے جو قسط وار افکار میں چھپتے تھے جسے انہوں نے گرد راہ کے نام سے کتابی صورت میں شائع کی ہے۔ یہ کتاب ادب و تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے نہایت ہی اہم ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Ibn Abdul Hakeem; Abu Qaidar Muhammad Asif Nasim","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":43446224125986,"sku":null,"price":700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/tareekh_e_fatooh_misr_o_maghrib_2293ed49-af8e-4bad-a7df-e6e8e8eed611.jpg?v=1737455557"},{"product_id":"banaame-khuda-بنامے-خدا","title":"Banaame Khuda | بنامے خدا","description":"\u003cp\u003ePages:420\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eAuthor: Moalana Shibli Nomani\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eتفصیل:- اختر حسین رائے پوری کا شمارترقی پسند تحریک کے نمائندہ لوگوں میں ہوتا ہےجنہوں نے عہد آفریں مضمون’ ادب اور زندگی‘ لکھا۔ زیر نظرکتاب دراصل ان کی آپ بیتی کے پیرایے میں ادبی تہذیبی، سیاسی اور سماجی دستاویز ہے جو قسط وار افکار میں چھپتے تھے جسے انہوں نے گرد راہ کے نام سے کتابی صورت میں شائع کی ہے۔ یہ کتاب ادب و تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے نہایت ہی اہم ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Syed Bilal Qutab","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":43446225043490,"sku":null,"price":630.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/5e35362a51c731580545578.jpg?v=1737455593"},{"product_id":"basharat-e-bahisht-paany-wale-ra-ashra-mubashara-ra-بشارت-بہشت-پانے-والے-اشرہ-مبشرہ-رضی-اللہ-عنہا","title":"Basharat E Bahisht Paany Wale RA (Ashra Mubashara (RA)) | بشارت بہشت پانے والے (اشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہا)","description":"\u003cp\u003ePages:420\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eAuthor: Moalana Shibli Nomani\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eتفصیل:- اختر حسین رائے پوری کا شمارترقی پسند تحریک کے نمائندہ لوگوں میں ہوتا ہےجنہوں نے عہد آفریں مضمون’ ادب اور زندگی‘ لکھا۔ زیر نظرکتاب دراصل ان کی آپ بیتی کے پیرایے میں ادبی تہذیبی، سیاسی اور سماجی دستاویز ہے جو قسط وار افکار میں چھپتے تھے جسے انہوں نے گرد راہ کے نام سے کتابی صورت میں شائع کی ہے۔ یہ کتاب ادب و تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے نہایت ہی اہم ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Dr. Asghar Hussain Waseer; Moalana Abdul Qayum Haqani","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":43446225272866,"sku":null,"price":420.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/2a94cb1d87f1c00bb6b8c2a760d23871_1024x1024_2x_5170f443-2ad0-4ec0-a246-a930bc33a8d5.jpg?v=1737455606"},{"product_id":"hazrat-khalid-bin-waleed-ra-حضرت-خالد-بن-ولید-رضی-اللہ-عنہا","title":"Hazrat Khalid Bin Waleed (RA) | حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہا","description":"\u003cp\u003ePages:420\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eAuthor: Moalana Shibli Nomani\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eتفصیل:- اختر حسین رائے پوری کا شمارترقی پسند تحریک کے نمائندہ لوگوں میں ہوتا ہےجنہوں نے عہد آفریں مضمون’ ادب اور زندگی‘ لکھا۔ زیر نظرکتاب دراصل ان کی آپ بیتی کے پیرایے میں ادبی تہذیبی، سیاسی اور سماجی دستاویز ہے جو قسط وار افکار میں چھپتے تھے جسے انہوں نے گرد راہ کے نام سے کتابی صورت میں شائع کی ہے۔ یہ کتاب ادب و تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے نہایت ہی اہم ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Sadiq Hussain Siddiqui","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":43446225338402,"sku":null,"price":420.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/20946499.jpg?v=1737455609"},{"product_id":"greater-israel-گر-یٹر-اسرائیل","title":"Greater Israel - گر یٹر اسرائیل","description":"\u003cdiv class=\"xdj266r x14z9mp xat24cr x1lziwak x1vvkbs x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eگریٹر اسرائیل.\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eمصنف: توصیف احمد خان.\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eپاکستان اور عالمِ اسلام کی توڑ پھوڑ کی سازش.\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x14z9mp xat24cr x1lziwak x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاسرائیل کے پہلے وزیراعظم ڈیوڈ بن گوری (Ben Gurion) نے 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے فوراً بعد پیرس (فرانس) کی ساربون یونیورسٹی میں ممتاز یہودیوں کے ایک اجتماع میں تقریر کرتے ہوئے کہا:\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\" بین الاقوامی صیہونی تحریک کو کسی طرح بھی پاکستان کے بارے میں غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔ پاکستان درحقیقت ہمارا اصلی اور حقیقی آئیڈیالوجیکل (نظریاتی) جواب ہے۔ پاکستان کا ذہنی و فکری سرمایہ اور جنگی و عسکری قوت و کیفیت آگے چل کر کسی بھی وقت ہمارے لئے باعثِ مصیبت بن سکتی ہے ہمیں اچھی طرح سوچ لینا چاہئے۔ بھارت سے دوستی ہمارے لئے نہ صرف ضروری ہے بلکہ مفید بھی ہے۔ ہمیں اس تاریخی عناد سے لازماً فائدہ اٹھانا چاہئے جو ہندو، پاکستان اور اس میں رہنے والے مسلمانوں کے خلاف رکھتا ہے۔ یہ تاریخی دشمنی ہمارے لئے زبردست سرمایہ ہے لیکن حکمتِ عملی (Strategy) ایسی ہونی چاہئے کہ ہم بین الاقوامی دائرہ کے ذریعہ ہی بھارت کے ساتھ اپنا ربط و ضبط رکھیں۔\"\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e(یروشلم پوسٹ 9۔ اگست 1967)\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Toseef Ahmad Khan","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646635470882,"sku":null,"price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/afa3f37a-d576-4b84-a652-371a82cef6d8_a2633744-33f3-478a-aa8f-bc7cac828d30.webp?v=1766144219"},{"product_id":"ghazwa-e-hind-غزوہ-ہند","title":"Ghazwa E Hind - غزوہ ہند","description":"\u003cdiv class=\"xdj266r x14z9mp xat24cr x1lziwak x1vvkbs x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"text-align: right;\"\u003e\"Ghazwa e Hind - غزوہ ہند\"\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"text-align: right;\"\u003eغزوہ ہند ایک اہم اسلامی پیشگوئی ہے جس کے بارے میں حضور ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان ایک دن ہندوستان میں فتح حاصل کریں گے۔ یہ غزوہ مسلمانوں کی تاریخ میں ایک بڑا مقام رکھتا ہے اور اس کی اہمیت اس بات پر ہے کہ اس کے ذریعے اسلام کو ہندوستان میں پھیلانے کی بشارت دی گئی۔ بعض محدثین اور علما نے اس غزوہ کو ایک عظیم جنگ کے طور پر بیان کیا ہے جس میں مسلمان کامیاب ہوں گے۔ اس غزوہ کے حوالے سے مختلف تفاسیر اور روایات بھی موجود ہیں جو اس کی حقیقت اور مستقبل میں ہونے والی کامیابی کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x14z9mp xat24cr x1lziwak x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"text-align: right;\"\u003eمصنف: توصیف احمد خان\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Toseef Ahmad Khan","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646635503650,"sku":null,"price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/GhazwaEHind.jpg?v=1766144220"},{"product_id":"ghulba-e-rom","title":"Ghulba-E-Rom","description":"\u003cp\u003eمولانا ظفر علی کی \"غلبہ روم\" ایک گہری اور باریک بینی سے تحقیقی کتاب ہے جو اسلام کے تاریخی، مذہبی اور تشریحی پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہے۔ یہ کتاب تہذیبوں کے عروج و زوال کے بارے میں قیمتی بصیرت فراہم کرتی ہے، جس میں روم (کمرہ) اور اسلامی تاریخ اور تفسیر (قرآنی تفسیر) میں اس کی مطابقت پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ یہ کتاب ایک منفرد تناظر پیش کرتی ہے کہ کس طرح تاریخی واقعات نے اسلامی فکر اور حکمرانی کو تشکیل دیا۔ یہ قرآنی حوالوں، تاریخی لڑائیوں اور قوموں کی تقدیر کی تشکیل میں مسلم حکمرانوں کے کردار کے درمیان ربط پیدا کرتا ہے۔ اسلامی صحیفوں اور تاریخی واقعات کے گہرائی سے تجزیہ کے ساتھ، مولانا ظفر علی علماء، طلباء، اور اسلامی علوم میں دلچسپی رکھنے والے عام قارئین کے لیے ایک دلچسپ بیانیہ پیش کرتے ہیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eظفر علی خان کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں ۔ وہ شاعر بھی تھے ،مدیر بھی اور آزادی کی جدوجہد میں حصہ لینے والے ایک سرگرم سیاسی کارکن بھی ۔ ان کی پیدائش 1873  میں قصبہ کوٹ مرتا ضلع سیالکوٹ میں ہوئی ۔ ابتدائی تعلیم کرم آباد میں ہی حاصل کی اور اس کے بعد اینگلو محمڈن کالج علی گڑھ میں زیر تعلیم رہے ۔\u003c\/p\u003e","brand":"Moalana Zafar Ali Khan","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646635733026,"sku":null,"price":700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/9789694796086-626x974_f986c099-a86e-4712-a51e-2ff2f6ead6b0.jpg?v=1766144224"},{"product_id":"qomi-jadojahad-ki-manzoom-tarikh","title":"Qomi Jadojahad ki Manzoom Tarikh","description":"\u003cp\u003eمولانا ظفر علی خان ہماری قومی تاریخ کے ایک اہم رہنما، صحافی، سیاستدان اور شاعر ہیں۔ وہ ایک عہد ساز اور تاریخ کا دھارا بدلنے والے فرد تھے۔ وہ مسلمانوں کی سربلندی اور سرافزازی چاہتے تھے اور اسی لئے انہوں نے محاورتاً نہیں ا صلاً اپنا تن من دھن قربان کیا۔ انہوں نے سیاست ہی نہیں، صحافت اور شعر و ادب میں بھی نئی راہیں نکالیں اور انہیں جوش، جذبہ اور والہانہ پن عطا کیا۔ \u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cbr\u003e  مولانا ظفر علی خان کو خراج عقیدت پیش کرنا آسان کام نہیں۔ قومی سطح پر ان کی خدمات کا ویسا اعتراف نہیں کیا گیا جیسا کہ ان کا حق تھا۔اس کمی کو پورا کرنے کیلئے ان کے نام پر قائم کیا گیا ادارہ مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ(اب فائونڈیشن) اپنے آغاز سے ہی مولانا کی خدمات کے اعتراف اور ان کی تخلیقات کی حفاظت کے لئے کوشاں ہے۔ اس سلسلے میں اس ادارے کی جانب سے اب تک مولانا کے متعدد نثری اور شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ مولانا ظفر علی خاں فائونڈیشن نے اپنی خدمات کا دائرہ وسیع کرنے کے لئے پنجاب یونیورسٹی کے ادارہ تالیف و ترجمہ کے ساتھ تعاون کے ذریعے اس سلسلے کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا جوبڑے خلوص کے ساتھ گزشتہ چالیس برس سے مولانا ظفر علی خان کی خدمات کے اعتراف اور ان کے قلمی آثار کے تحفظ کیلئے کوشاں ہیں۔ اس موضوع پر ان کی متعدد کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ اب ڈاکٹر زاہد منیر عامر نے اپنے شاگرد حافظ محمد سعد عبداللہ کے ساتھ مل کر ایک ایسا کارنامہ انجام دیا ہے جس پر مولانا ظفر علی خان کے مداح انہیں ہمیشہ خراج تحسین پیش کرتے رہیں گے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eمولانا ظفر علی خان کا کلام ان کے متعدد مجموعوں میں بکھرا ہوا ہے ان کے اشعار زبان زدِ عام ہیں۔ ان کی اور علامہ اقبالؒ کی فکر کے اشتراک کی وجہ سے اکثر لوگ ان کے اشعار کو اقبالؒ یا دوسرے شعرا سے منسوب کر دیتے ہیں۔ ڈاکٹر زاہد منیر عامر اور حافظ محمد سعد عبداللہ کے اس کام سے یہ معلوم ہو جائے گا کہ کون سا شعر مولانا ظفر علی خان کا ہے اور کون سا نہیں۔ اگر آپ کو ان کے شعر کا ایک مصرع بھی معلوم ہے تو یہ کتاب آپ کو اس کے دوسرے مصرعے، مولانا ظفر علی خان کی اس نظم، اس کتاب اور اس صفحہ تک پہنچا دے گی جہاں آپ پورا شعر بلکہ وہ پوری نظم دیکھ سکتے ہیں۔پھر یہ اشاریہ، کلام ظفر علی خان کی کسی ایک اشاعت تک محدود نہیں بلکہ ان کے کلام کے اب تک جتنے مجموعے شائع ہوئے ہیں یہ اشاریہ ان سب کا احاطہ کرتا ہے۔صرف یہی نہیں کلام ظفر علی خان کے تمام مجموعوں کی تاریخ اور ان میں ہونے والی تبدیلیوں پر ڈاکٹر زاہد منیر عامر نے جو قابل داد تحقیق کی ہے وہ ان جیسا کوئی محقق ہی انجام دے سکتا تھا ۔\u003cbr\u003eاسی پس منظر میں پروفیسر ڈاکٹر زاہد منیر عامر اپنے مضمون میں لکھتے ہیں کہ ظفر علی خان، غالب سے مستفید اور ان کے ایک مداح ہیں۔ ان کے کلام کی اہمیت شاعری کے نقطۂ نظر ہی سے نہیں ہماری ملی تاریخ اور قومی جدوجہد کے نقطہ نظر سے بھی ہے۔ راقم مدت العمر سے ان کے آثار و افکار پر کام کرتا رہا ہے۔ ان کے کلام کے مجموعوں سے تعارف اور ان کے کلام تک قارئین کی رسائی کو ممکن بنانے کیلئے ایک منصوبہ شروع کیا اس کے تسلسل میں پیش نظر تحریر کے ذریعے مولانا کے شعری مجموعوں سے متعلق کچھ ایسی تفصیلات فراہم کی ہیں جو پہلے قارئین کے سامنے نہیں آئی تھیں۔\u003cbr\u003eمولانا ظفر علی خان کا پہلا باقاعدہ شعری مجموعہ ’’حبسیات‘‘ ہے۔ اس سے پہلے ان کے زمانہ قیام حیدر آباد دکن میں ان کی طویل نظم ’’شور محشر‘‘ کتابچے کی شکل میں شائع ہوئی تھی۔ یہ نظم موسیٰ ندی میں طغیانی کے المناک حادثے پر لکھی گئی تھی اور بڑی تعداد میں شائع کرکے تقسیم کی گئی اور اس کی آمدنی طغیانی کے متاثرین کیلئے وقف کردی گئی تھی۔ یہ 1908ء کا واقعہ ہے۔ اصغر حسین خان نظیر لدھیانوی مرحوم نے یہ نظم بہارستان کی تیسری اشاعت مکتبہ کارواں لاہور میں درج کرتے ہوئے اس پر نوٹ لکھا تھا۔نظیر صاحب کے منقولہ متن میں یہ نظم محض چونیتس اشعار پر مشتمل ہے۔ مولانا ظفر علی خان کے سوانح نگار ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار کے مطابق اس نظم کے اشعار کی تعداد ایک سو تھی، حقیقت یہ ہے کہ ایک سو اشعار صرف پہلے چھ بندوں کے تھے جنہیں شیخ عبدالقادر نے’’ مخزن ‘‘میں شائع کیا۔پوری نظم اب دستیاب نہیں ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eاس کے بعد مولانا کا کوئی شعری مجموعہ شائع نہ ہوا تھا۔ وہ بارہا گرفتار بھی ہوئے، اس زمانہ اسارت میں انہوں نے متعدد علمی و ادبی مضامین لکھے ان کا مجموعہ1925ء میں ’’ لطائف الادب‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ سورہ روم کی تاریخ تفسیر قلمبند کی جو بعد ازاں غلبہ روم کے نام سے اشاعت پذیر ہوئی۔ ان نثری کاموں کے علاوہ اس زمانہ اسارت میں ان کا شعری سفر بھی جاری رہا جس کا ثمر ان کے اولین شعری مجموعے’’ حبسیات‘‘ کی صورت میں سامنے آیا۔ یہ مجموعہ 8\/20x26سائز پر منصوبہ اسٹیم پریس لاہور سے میں چھپ کر شائع ہوا۔ مجموعے کے سرورق کی عبارت مظہر ہے کہ اس مجموعے کی نظمیں سنٹرل جیل منٹگمری کے زمانہ اسارت کی یادگار ہیں ۔ سرورق پر لکھا ہے:’’حبسیات یعنی مولانا ظفر علی خان مدظلہ العالی کی ان نظموں کا مجموعہ جو انہوں نے زمانہ قید فرنگ میں سنٹرل جیل منٹگمری میں ارشاد فرمائیں‘‘۔بہ حیثیت مجموعی یہ بات درست ہے کہ اس مجموعے میں شامل بیشتر نظمیں سنٹرل جیل منٹگمری کے زمانہ اسارت میں کہی گئیں لیکن ایسا نہیں ہے کہ تمام منظومات اسی جیل میں کہی گئیں۔ اس مجموعے میں سنٹرل جیل لاہور اور کرم آباد میں نظر بندی کے زمانے کی نظمیں بھی شامل ہیں۔\u003cbr\u003eقصہ مختصریہ ایک جامع اور مفید دستاویز ہے جس کا مطالعہ تاریخ و ادب کے طلبہ ہی نہیں ہر پاکستانی کے لئے ضروری ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e \u003c\/p\u003e","brand":"Moalana Zafar Ali Khan","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646635896866,"sku":null,"price":1500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/5295_66622784.jpg?v=1766144230"},{"product_id":"tarikh-se-mehroom-log","title":"Tarikh Se Mehroom Log","description":"\u003cp\u003eتاریخ سے محروم لوگ\u003c\/p\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646636060706,"sku":null,"price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/almiya_1_5a9c2779-7933-42c0-b951-d73ed7361d7e.jpg?v=1766144234"},{"product_id":"tarikh-ke-zakham","title":"Tarikh Ke Zakham","description":"","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646636093474,"sku":null,"price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/tareekh-kay-zakhan-by-dr-mubarak-ali_5830a9f8-fdde-4ef7-b110-f204be388cee.jpg?v=1766144235"},{"product_id":"renaissance-رینساں","title":"Renaissance - رینساں","description":"\u003cp\u003eReformation and the National State\u003c\/p\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646636126242,"sku":null,"price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/rensan_77379a69-8f51-45c1-a2f9-f532de312378.jpg?v=1766144236"},{"product_id":"europe-ka-urooj-یورپ-کا-عروج","title":"Europe Ka Urooj - یورپ کا عروج","description":"","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646636159010,"sku":null,"price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/9789694797083.jpg?v=1766144236"},{"product_id":"tarikh-ki-awaz","title":"Tarikh Ki Awaz","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eTareekh ki Awaz - تاریخ کی آواز\u003c\/span\u003e\u003cbr class=\"html-br\"\u003e\u003cspan\u003ePages : 296\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646636191778,"sku":null,"price":1200.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/536289420_4165251403752134_2851778404197065553_n_1b2872b8-701b-4578-92a1-de4c736f808f.jpg?v=1766144236"},{"product_id":"tareekh-ki-roshni","title":"Tareekh Ki Roshni","description":"\u003cp\u003eاس وقت پاکستانی معاشرہ کی جو صورت حال ہے، اس نے یہ ثابت کردیا ہے کہ ہم نے اپنے لئے جو راستہ منتخب کیا تھا، وہ ہمیں پس ماندگی، جہالت اور اندھیرے کی جانب لے جارہا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اگر ہم نے وقت کا ساتھ نہیں دیا، اور عالمی اقدار کو نہیں اپنایا، تو اس صورت میں ہم دنیا سے کٹ کر اور نیچے کی طرف گرتے چلے جائیں گے_ ہمیں ان حقیقت کو تسلیم کرلینا چاہئے کہ یہ زمانہ جمہوری اور سیکولر اقدار کا ہے کہ جس میں معاشرے کے ہر فرد کو مساوی حقوق ملتے ہیں اور انہیں مذہب، نسل، یا زبان کی بنیاد پر ثانوی درجہ نہیں دیا جاسکتا ہے، اور ایک مضبوط اور مستحکم معاشرہ جب ہی قائم ہوتا ہے کہ جب اس میں ہر فرد کو برابر کے حقوق ملیں.\u003c\/p\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646636224546,"sku":null,"price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/6891c04d06f231754382413_781690e5-ffce-46e4-8098-b031d6cbd1f3.jpg?v=1766144237"},{"product_id":"alishan-wahmay","title":"ALISHAN WAHMAY","description":"\u003cp\u003eایک کردار پر مبنی تاریخ جو امریکہ اور پاکستان کے درمیان عجیب و غریب طور پر موزوں اتحاد کو بیان کرتی ہے، جسے ایک منفرد بصیرت والے شریک نے لکھا ہے: امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eامریکہ اور پاکستان کے تعلقات باہمی فہم پر مبنی ہیں، اور ہمیشہ رہے ہیں۔ پاکستان—امریکی نظروں میں—ایک مستحکم دوست بننے سے ایک ضروری فوجی اتحادی بن کر دہشت گردی کے بیج تک چلا گیا ہے۔ امریکہ—پاکستانی نظروں کے لیے—سلامتی کا ضامن، سرد دور کی ڈانٹ، ایک پرجوش فوجی فراہم کنندہ اور اتحادی، اور اب قومی سلامتی کے لیے خطرہ اور ذلت کا باعث ہے۔ ان کے پینسٹھ سالہ تعلقات میں، ایک ملک عالمی سپر پاور بن چکا ہے، دوسرا خطرناک طور پر ایک ناکام ریاست کے قریب ہے، جو شاید دنیا کے خطرناک ترین مقامات میں سے ایک ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eحسین حقانی پاکستان، اپنے وطن اور امریکہ کے بارے میں ایک منفرد بصیرت رکھتے ہیں، جہاں وہ پاکستانی سفیر تھے اور اب بوسٹن یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ ان کی زندگی نے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی نقشہ کشی کی ہے اور انہوں نے خود کو اکثر اس کے دل کے قریب پایا ہے، بعض اوقات انتہائی تصادم کے حالات میں، یہاں تک کہ گھر میں نظربند بھی، جس کی وجہ سے انہیں دونوں ملکوں کے ہنگامہ خیز معاملات کی کہانی لکھنے کا موقع ملا، یہاں یادگاری طور پر برہنہ پڑا۔\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Husain Haqqani","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646641467426,"sku":null,"price":1995.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/9789694026152_27bc0739-52f1-4304-8b6f-6119073a2d31.jpg?v=1766144360"},{"product_id":"akbar-badshah-ke-9-ratan","title":"Akbar Badshah ke 9 Ratan","description":"\u003cp\u003eاکبر بادشاہ کے 9 رتن (اکبر کے نو جواہرات) امیر علی خان کی تحریر کردہ۔ یہ کتاب مختصر مگر جامع تاریخ اور مغل بادشاہ جلال الدین اکبر کے 9 مقبول ترین وزیروں کی سوانح حیات پر مشتمل ہے۔ راجہ بیربل، شیخ مبارک، شیخ فیضی، عبدالفضل، ملا عبدالقادر بدایونی، راجہ توڈر مل، عبدالرحیم خان ای خانہ، راجہ مان سنگھ اور میاں تانسین کی زندگی کے بارے میں اردو زبان میں جانیں۔\u003c\/p\u003e","brand":"Ameer Ali Khan","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646642909218,"sku":null,"price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/akbar-badshah-k-9-ratn_f9d1666a-11cc-4687-8546-ed2f0eb362de.png?v=1766144381"},{"product_id":"pakistan-mai-marshal-law-ki-tareekh","title":"Pakistan mai Marshal Law ki Tareekh","description":"\u003cp\u003eمارشل لا کا تصور یورپ سے ایشیا اور افریقہ میں ایا یورپ میں جب سول حکومت ناکام ہو جاتی تھی یا کسی بحران میں مبتلا ہو جاتی تھی تو معاشرہ کے ذریعے حالات پر قابو پانے کی کوشش کی جاتی تھی جب مارشل لا کا نفاذ ہوتا تھا تو تمام سیاسی سرگرمیاں پر پابندی لگا دی جاتی تھی ماشاءاللہ کے خلاف تحریر اور تقریر پر سخت پابندیاں تھیں معاشرے میں ہر شبے کی نگرانی کے لیے فوجی افسران مقرر ہوتے تھے عدالتوں کے اختیارات ختم ہو جاتے تھے اور مقدمات مارشل لاء کولڈ میں پیش ہوتے تھے خفیہ ایجنسیاں سرگرم ہو جاتی ہیں اور ذرا اس شبے پر افراد کو قید و بند کی سزائے کی جاتی تھی سینسر شپ کے ذریعے کتابوں کی اشاعت پر وہ بندی تھی تعلیمی اداروں میں مارشل لا کے نظریات کے تحت نیا نصاب ترتیب دیا جاتا تھا جلسے جلوسوں پر پابندی تھی مظاہروں پر پابندی تھی پاکستان نے چار مارشل لاؤں کا تجربہ کیا ہر مارشل لا اپنی نوعیت کا جدا گانا تھا لیکن خاص طور سے ضیاء الحق کے زمانے میں پاکستانی معاشرے میں بڑی بنیادی تبدیلیاں ائی اور سیاسی کارکنوں کو سخت سزائیں دی گئی پورا معاشرہ اس دور میں دانشوری میں کوئی ترقی نہ کر سکا ضیاء الحق کے حادثے کے بعد اس کی تعمیر کردہ ادارے اسی طرح قائم ہے موجودہ کتاب میں شامل مضامین ایک کانفرنس کا نتیجہ ہے جو تاریخ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام کی گئی تھی اس میں مختلف دانشوروں نے مارشل لا کے مختلف پہلو کا تجزیہ کیا تھا اس لحاظ سے اس کتاب کی اہمیت ہے کہ اس کے مضامین میں پاکستان میں مارشل لا کے اثرات کا تنقیدی جائزہ لیا ہے اس لحاظ سے یہ پہلی کتاب ہے جس نے مارشلاء کے موضوع کا پوری طرح احاطہ کیا ہے \u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eڈاکٹر مبارک علی دو ستمبر 202 لاہور\u003c\/p\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646643073058,"sku":null,"price":1100.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/background-editor_output_38a6426f-8dfb-4845-8af7-bfc3a9f43d7a.png?v=1766144399"},{"product_id":"nationalism-kya-hai","title":"Nationalism Kya Hai?","description":"\u003cp\u003eفرانسیسی انقلاب نے کئی سیاسی اور سماجی نظریات کو جنم دیا ہے ان میں سیاسی نظریات کے اظہار کے لیے دائیں اور بائیں بازو کی اصطلاح جو قدامت پرست اور ترقی پسند خیالات کی نشاندہی کرتی ہے عوامی اقتدار اعلی کا تصور کہ ریاست میں بادشاہت اور متعلق العنانت کی خاتمہ کا اظہار ہے اور نیشنلزم یا قوم پرستی کا نظریہ کہ جس کے تحت ریاست کا ادارہ کبھی ہو گیا اور اس میں رہنے والے ایک قوم ہو گئے اس کی وجہ سے مذہب رنگ اور نسل کنٹیات ختم ہو گیا بلکہ اس کے تحت امیر و غریب دونوں ایک قوم کا حصہ ہو گئے قومی ریاست میں ہر چیز قومی ہو گئی قومی رہنما قومی جھنڈا قومی ترانہ قومی لباس اور یہاں تک کہ قومی یونیورسٹی اور تعلیمی ادارے یورپ میں قومی پرستی کے نظریے میں عیسائیت کی یونیورسل کے تصور کو ختم کر کے ہر قوم کو علیحدہ شناختی اس شناخت کی بنیاد پر ہر قوم نے اپنے کلچر اپنی زبان پر رکھی قومیت کی اس جذبے نے 1870 میں جرمنی کو جو چھوٹی سلطنتوں میں تقسیم تھا متحد کیا مگر اس قوم پرستی نے یورپ کی اقوام میں تنازع اور جھگڑے بھی پیدا کیے جب ایشیا اور امریکہ میں کالونیوں پر قبضہ کرنے اور ان کے ذرائع کو استعمال کرنے کا سوال ایا تو اس نے پہلی مجرم دیا تو پھر یہی جرمن قوم پرستی تھی کہ جس کو بنیاد نسل پرستی پر تھی اس نے دوسری جنگ عظیم کی ابتدا کی اور پورے یورپ کو تباہ کاریوں سے روشناش کرایا\u003c\/p\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646643105826,"sku":null,"price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/nationalism_kya_hai_6841b8f9-15b9-4f32-9b57-55854f7bd0f6.jpg?v=1766144400"},{"product_id":"europe-ka-urooj","title":"Europe Ka Urooj","description":"\u003cp\u003eاس کتاب کو لکھنے کا مقصد یہ نہیں کہ یہ ثابت کیا جائے کہ یورپ کی ترقی کی برتن اصلی خوبیوں یا اس کی خاص ماحول کی وجہ سے ہوئی ہے بلکہ یہ ہے کہ اس نے کسی ماحول اور حالات میں رہتے ہوئے اپنے بڑھنے کی راستے تلاش کیے اس پورے عمل کے متعلق کے بعد واضح ہوتا ہے کہ ترقی راستے بند نہیں ہوتے بلکہ کھلے ہوتے ہیں مگر اس کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ ذہن کو بھی کھلا رکھا جائے اور تبدیلی کو قبول کیا جائے چاہے اس کے لیے ہمیں اپنی روایات اور اداروں کو گمان کرنا پڑے کیونکہ روایات اور ادارے معاشروں کے لیے ہوتے ہیں انسانی ضروریات کے تحت بدلتے رہتے ہیں ترقی ہمیشہ اگے کی جانب دیکھتی ہیں ماضی کی طرف نہیں لے جاتی ہے پاکستانی معاشرہ اس وقت جس دوراہے پہ کھڑا ہے اس سے زندہ رہنے اگے بڑھنے اور وقت کا ساتھ دینے کے لیے اپنے ماضی اور اس کی روایات سے چھٹکارا پانا ہوگا ورنہ تاریخ میں جہاں قومیں تیزی و تمدن میں ترقی کرتی ہیں وہیں ایسی قومیں بھی ہوتی ہیں جو تاریخ کو نامی میں رہتی ہیں \u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eڈاکٹر مبارک علی\u003c\/p\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646643138594,"sku":null,"price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/europe-ka-urooj_6f839ae3-062e-489a-b903-8c824dce3cca.jpg?v=1766144401"},{"product_id":"cheen-ka-urooj-o-zawal","title":"Cheen ka Urooj o Zawal","description":"","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646643171362,"sku":null,"price":300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/cheen-ka-zawal-o-arooj_9f15a732-4c60-42ff-af25-f97b76ab3630.jpg?v=1766144402"},{"product_id":"badalti-hui-tareekh","title":"Badalti hui tareekh","description":"\u003cblockquote\u003e\n\u003cp\u003eانسانی معاشرہ ایک جگہ ٹھہرا ہوا نہیں رہتا ہے ضرورت کے ساتھ ادارے روایات نظریات اور اخلاقی قدریں بھی بدلتی رہتی ہیں پر نئی نسل اپنے ساتھ نئے خیالات اور افکار کو لے کر اتی ہے اس وجہ سے تاریخی واقعات کے معنی اور مفہوم بھی بدلتے رہتے ہیں لہذا ماضی اور حال کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ وقت پر ماحول کے لحاظ سے تاریخ کو بار بار لکھا جائے مثلا تاریخ کے قدیم عہد کو بیگم کہا جاتا ہے یعنی جس کا کوئی ایک مفسوط مذہب نہ ہو عہدے وسطی میں جب نئے مداہب ائے تو انہوں نے پیدل احد کو رد کر دیا لیکن اب مورخ بیگم دور کی رواداری اور اس کے بعد انے والے وضاحت کی انتہا پسندی کے بارے میں لکھ رہے ہیں جس نے انسانی معاشرے میں فساد کی بنیاد ڈالی تاریخ کو بدلنے میں ٹیکنالوجی کا بڑا کردار ہے اس سے انسان کی ذہنی تحلیق کا اظہار ہوتا ہے اور انسان تہذیب کے ارتقا میں بھی اس کا بڑا حصہ ہے معاشرے کے فرسودہ خیالات بھی اس وقت بدلتے ہیں جب انہیں مفکر اور فلسفی چیلنج کرتے ہیں قومیں اپس میں جنگ کرتی ہیں ایک دوسرے کا قتل عام کرتی ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی تجارت ادب اور ارٹ کے ذریعے ایک دوسرے کے کلچر سے سیکھتی بھی ہیں اگر تاریخ ایک جگہ رک جائے تو اس کی وہی حالت ہوگی جیسے کسی تالاب میں ٹھہرے ہوئے پانی کی ہوتی ہے حرکت تاریخ کو شگفتہ اور خوشگوار بناتی ہے پاکستان کی تاریخ میں نہ کوئی تبدیلی ہے نہ کوئی حرکت اس لیے ایک ہی دائرے میں بے معنی گردش کرتے ہوئے سوسائٹی میں کوئی تبدیلی نہیں لا رہی ہے \u003cbr\u003eڈاکٹر مبارک علی \u003cbr\u003eدو ستمبر 2024 لاہور\u003c\/p\u003e\n\u003cdiv class=\"code-block code-block-2\"\u003e\u003cbr\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/blockquote\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646643204130,"sku":null,"price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/background-editor_output_f52c1e14-24f3-426d-b321-3faa1134514f.png?v=1766144403"},{"product_id":"achoot-logo-ka-adab","title":"Achoot Logo Ka Adab","description":"\u003cp\u003eاردو زبان میں دلت تحریک اور دلت ادب پر کوئی مواد دستیاب نہیں ہے اس لیے اس مختصر کی کتاب میں اس بات کو کوشش کی گئی ہے کہ دلت تحریک کی تعریف اس کے مقاصد اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی شاعری سے لوگوں کو روشناس کروایا جائے اس کتاب کی تیاری میں بار بارہ ار جوشی کی کتاب اچھوت لندن اور ساؤتھ ایشین بلوٹن کی ساتویں جلد سے مدد لی گئی ہے نظموں کا اردو ترجمہ اس انگریزی ترجمے سے کیا ہے جو ان دو کتابوں میں ہے\u003c\/p\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646643236898,"sku":null,"price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/9789694797069_202-313x487_77f58f48-bb51-4f86-93e6-8ec4739f9dfc.jpg?v=1766144403"},{"product_id":"almia-tareekh","title":"Almia Tareekh","description":"\u003cp\u003eاس کتاب میں میرے وہ مضامین شامل ہیں جو میں نے تاریخ اور اگہی اور تاریخ اور روشنی میں شامل کیے تھے ان کی ترتیب بدل دی ہے اور نئے مضامین اس میں شامل کیے ہیں اب یہ نئی کتاب بر صغیر ہندوستان کی تاریخ میں مسلمانوں کے کردار اور اس دور میں جو اخلاقی اور سماجی اقدار بنی تھی ان پر روشنی ڈالتی ہے اس کتاب کی ایک حصے میں ان مسائل پر بحث کی گئی ہے کہ جو پاکستان میں تاریخ کے تعلیم کے سلسلے میں ہے مقصد یہ ہے کہ قاری نہ صرف تاریخ کے بنیادی مفہوم سے اگا رہے ہیں بلکہ وہ مسلمان خاندانوں کی حکومت کے کردار کو بھی سمجھے اور ان سے جو نتائج نکلے ہیں ان سے بھی اگئی ہو تصوف کے موضوع پر اس نئے ایڈیشن میں دو نئے مضامین اور شامل کر دیے ہیں جو اس موضوع کو سمجھنے میں مدد دیں گے ان مضامین میں کوشش کی گئی ہے کہ تاریخ کو ایک نئے نقطہ نظر سے بیان کیا جائے تاکہ لوگوں کو تاریکی واقعات وہ حقائق کا نئے انداز میں تجزیہ کرنے کا موقع مل سکے میں اپنے طالب علموں اور دوستوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے ان مضامین کو پڑھ کر اپنی رائے دی \u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eڈاکٹر مبارک علی\u003c\/p\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646643269666,"sku":null,"price":1100.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/almia-tareekh-500x500h_jpg_9b26f050-f707-4f53-9c48-0c9552a8a32c.webp?v=1766144403"},{"product_id":"1857-ki-jung-e-azadi-complete","title":"1857 Ki Jung E Azadi (Complete)","description":"\u003cdiv class=\"zI7 iyn Hsu\"\u003e\n\u003cdiv class=\"tNl zI7 iyn Hsu\"\u003e\n\u003cdiv data-test-id=\"CloseupDescriptionContainer\" class=\"zI7 iyn Hsu\"\u003e\n\u003cdiv data-test-id=\"main-pin-description-text\" class=\"zI7 iyn Hsu\"\u003e\n\u003cdiv aria-disabled=\"false\" class=\"S9z eEj CCY Tbt L4E e8F BG7\" role=\"button\" tabindex=\"0\"\u003e\n\u003cdiv class=\"zI7 iyn Hsu\"\u003e\n\u003cdiv data-test-id=\"truncated-description\" class=\"XiG ujU zI7 iyn Hsu\"\u003e\n\u003cdiv data-test-id=\"safeTextDirection\" dir=\"auto\"\u003e\n\u003cdiv class=\"X8m zDA IZT CKL tBJ dyH iFc sAJ swG\"\u003e\u003cspan class=\"X8m zDA IZT tBJ dyH iFc sAJ swG\"\u003eTareekh Jang e Azadi Hind 1857 is about the Independence War of 1857. It has a proper historical standard beneficial for history students.\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646643302434,"sku":null,"price":1600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/1857-ki-jungh-azadi-1100x1100h_jpg_a3cca423-371a-49d3-9244-bd93f3cba5d8.webp?v=1766144404"},{"product_id":"jinnah-ki-kamyabi-nakami-aur-tareekh-mian-kardar","title":"Jinnah Ki Kamyabi Nakami Aur Tareekh Mian Kardar","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi; mso-bidi-language: ER;\"\u003eمحمد علی جناح کو تقسیم ہند میں ان کے کردار کے لیے منایا گیا اور ان کی تذلیل کی گئی، اور ان کی موت کے بعد سے ان کے اقدامات سے متعلق تنازعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اشتیاق احمد نے قائداعظم کی کامیابیوں اور ناکامیوں اور ان کی میراث کے معنی اور اہمیت کا پتہ لگانے کے لیے جناح کے اقدامات کو سخت جانچ پڑتال کے تحت رکھا ہے۔ عصری ریکارڈ اور آرکائیو مواد کی دولت کا استعمال کرتے ہوئے، وہ جناح کے ایک ہندوستانی قوم پرست سے ایک مسلم فرقہ پرست، اور پھر ایک مسلم قوم پرست سے آخر میں، پاکستان کے طاقتور سربراہ مملکت تک کے سفر کا سراغ لگاتے ہیں۔ ہندو مسلم اتحاد کا سفیر دو قومی نظریہ کا غیر لچکدار حامی کیسے بن گیا؟ کیا جناح نے پاکستان کا تصور ایک تھیوکریٹک ریاست کے طور پر کیا تھا؟ وفاقیت کیا تھی؟ یہ اہم سوالات مہاتما گاندھی کے بارے میں ان کے موقف اور برطانوی استعمار کے خلاف ہنگامہ خیز جدوجہد کے پس منظر میں پوچھتے ہوئے، جناح بیسویں صدی کی سب سے متنازعہ شخصیات میں سے ایک کے لیے ایک راہ توڑنے والا امتحان ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e \u003c\/p\u003e","brand":"Ishtiaq Ahmed","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646691700770,"sku":null,"price":4495.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/647c4ab52ca451685867189_da21eec8-4995-4d2e-b5e3-57d554da0d72.jpg?v=1766144530"},{"product_id":"hijaz-ki-aandhi","title":"Hijaz Ki Aandhi","description":"\u003cdiv class=\"tw-ta-container F0azHf tw-lfl\" id=\"tw-target-text-container\" role=\"text\" tabindex=\"0\"\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi; mso-bidi-language: ER;\"\u003eاس کتاب میں مصنف نے اسلام کی ابتدائی تاریخ بیان کی ہے۔ پہلی بار مسلمانوں نے ایران کو فتح کیا اور ایرانی سلطنت کی طاقتوں کو تباہ کیا۔ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کے ساتھ اس مہم کی قیادت کی۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"mso-bidi-language: ER;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e \u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"tw-target-rmn tw-ta-container F0azHf tw-nfl\" id=\"tw-target-rmn-container\" role=\"text\" tabindex=\"0\"\u003e\u003c\/div\u003e","brand":"Inayatullah Altamash","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646709461026,"sku":null,"price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/64885072586611686655090_fa62624e-98f9-43a1-8a2b-e8f1d8d145ca.jpg?v=1766144738"},{"product_id":"four-books-set-of-devendar-issar","title":"Four Books Set of Devendar Issar","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eتعارف\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cspan\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003ch4\u003eدیوندر اسر | ادب کی آبرو\u003c\/h4\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eنئی صدی کی دہلیز پر\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cspan\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan\u003e \u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eابھی بیسویں صدی ختم نہیں ہوئی کہ ادیبوں اور دانشوروں نے ہر فکر شے اور فن کے خاتمے یا موت کا اعلان کر دیا ہے ۔ خدا، انسان ، مذہب ، تاریخ ، نظریہ ، مارکسیت ، فن، ادب اور ادیب نابود یا پوسٹ “ ہو گئے ہیں (احساس مرگ اور لکھنا مستقبل کا)۔ اس عہد مرگ میں دنیا کی تاریخ ایک ایسے موڑ پر آگئی ہے جہاں جدیدیت اور مارکسیت اپنی کامرانیوں کے تمام تر دعووں کے باوجود شکست دریخت کا شکار ہو چکی ہیں۔ لہذا ان کے بعد آنے والے دور کو ما بعد جدیدیت کے عہد سے موسوم کیا جانے لگا ہے۔ کیا یہ احساس مرگ ایک بھولا ہوا بھیانک خواب بن کر رہ جائے گا یا اپنے گرداب میں سب کچھ بہا کر لے جائے گا؟\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003e \u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003e\u003cspan\u003e \u003c\/span\u003eآخر یہ مابعد جدیدیت کیا ہے ؟ کیسے وجود میں آئی ؟ اس کی شناخت کے خدو خال کیا ہیں ہے (مابعد جدیدیت کا منظر نامہ ) کہیں ایسا تو نہیں کہ جدیدیت نے جو ریڈیکل موڑ لیا ہے ما بعد جدیدیت اُسے از سر نو لکھ رہی ہے ۔ اور ہم جدیدیت کا خاتمہ نہیں بلکہ نئی جدیدیت کا آغاز دیکھ رہے ہیں۔ اُس جدیدیت کا جو کلاسیکی اور صنعتی دور کی جدیدیت سے الگ ہے ۔ کیونکہ جدید کاری ایک نہ ختم ہونے والا مسلسل عمل ہے ۔ (ما بعد جدیدیت یا جدیدیت تحریر ثانی) - نئی صدی میں داخل ہوتے ہوئے ہمارے سامنے یہ اہم سوال ہے کہ کلاسیکی دور کی ماضی پرستی ، جدیدیت کی حال پرستی اور مابعد جدیدیت کی مستقبل پرستی کے بعد پوسٹ ۔ پوسٹ ماڈرن ازم کا منظر نامہ کیا ہوگا ہے\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cspan\u003e \u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eدنیا کی تاریخ میں ہر چند سو سال بعد کمیتی اور کیفیتی طور پر ایسی حیرت انگیز تبدیلیاں ظہور پذیر ہوتی ہیں کہ ایسا معلوم ہونے لگتا ہے کہ گزشتہ تاریخ ، معاشرہ ، تہذیب ، فکر اور فن سب بدل گئے ہیں ۔ اور حیات و کائنات کے بارے میں ہمارا رویہ ہمارے معاشی، سماجی اور سیاسی نظام، ہمارا ادب اور فن ، ہمارا ور لڈویو ، ہمارا ظاہر و باطن ، ہماری بنیادی قدریں ۔ غرضیکہ پرانی تعمیریں منہدم ہو جاتی ہیں اور فکر و اظہار کے نئے پیکر اور اُسلوب جنم لیتے ہیں۔ جسے تاریخ کا تسلسل کہا جاتا ہے اس میں مسلسل عدم تسلسل کی صورتیں پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ ہر تبدیلی نئی امید، نئے خدشات اور نئے\u003cspan\u003e  \u003c\/span\u003eامکانات کو جنم دیتی ہے ۔ جدیدیت سے مابعد جدیدیت کی تبدیلی بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ کیا نئی صدی کے دہانے پر ہم ایک بار پھر ایسی ہی تبدیلیوں کے روبرو ہو رہے ہیں۔ سائنس اور ٹکنا لوجی نےانسان اور کائنات کے بارے میں ہمارے تصورات کو ہی نہیں بدلا بلکہ انسان اور کائنات کو ہی بدل دیا ہے ۔\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003ch4\u003eادب اور جدید ذہن | دیوندر اسر\u003c\/h4\u003e\n\u003cdiv class=\"product__description rte quick-add-hidden\"\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eتعارف\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cspan\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eاردو زبان و ادب میں مختلف تحریکات و رجحانات کے زیر اثرمثبت او رمنفی تبدیلیاں ہوتی رہی،جس میں حلقہ ارباب ذوق،ترقی پسند تحریک ،جدیدیت ،مابعد جدیدیت کے اثرات ادب پر زیادہ رہے۔ان تحریکات و رجحانات نے مختلف ادوار میں قلمکاروں کو اپنی جانب متوجہ کیا،جس سے متاثر ہوکر ادب تخلیق کیا گیا۔جدیدذہانت کے حامل تخلیق کاروں نے جدیدیت کا آغاز کرتے ہوئے، جدید ادب تخلیق کیا ۔پیش نظر اسی ادب کا مطالعہ ہے۔کتاب کے موضوع سے متعلق مصنف دیویندرسرا رقمطراز ہیں۔\"یہ کتاب جدید تہذیب اور اس سے پروردہ نئے ذہن کے دائرے میں ہم عصر اد ب کا مطالعہ ہے۔ظاہر ہے کیلنڈر کی کسی تاریخ سے جدید ذہن کے یوم پیدائش کی نشاندہی نہیں کی جاسکتی۔جدید ذہن سے مراد وہ ذہنی اور سماجی فضا ہے جو دوسری جنگ عظیم کے دوران اور اس کے بعد پید اہوئی اور جس نے ادب اور اقدار کو گہرے بحران میں لا پھینکا ہے۔\"مصنف نے جدید ادب سے متعلق مختلف موضوعات پر مبنی مضامین کو یکجا کرتے ہوئے ،جدیدیت کی تعریف ،تشریح اورجدید نظریات کی وضاحت کی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003ch4\u003eفکر اور ادب | دیوندر اسر\u003c\/h4\u003e\n\u003cdiv class=\"product__description rte quick-add-hidden\"\u003e\n\u003cp align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eادب کی ماہیت ، اُس کا منصب اور اُس کی پرکھ ایک دوسرے سے ہمیشہ اس طرح منسلک رہے ہیں کہ انہیں الگ الگ خانوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے وجود کی شرط ان کا غیر منسلک باہمی رشتہ ہے کسی بھی شے کی پر کچھ کے لئے اس کی ماہیت اور اس کے منصب کا جاننا ضروری ہوتا ہے۔ اُس شے کی ماہیت سے اس کے منصب کا تعین ہوتا ہے اور اس کی ماہیت کا یہ تقاضا ہے کہ اُس کا مخصوص مقصد حاصل ہو جائے۔ جس کے لئے وہ وجود میں آئی ہے یا لائی گئی ہے ہر شے کی تکمیل اس کے مخصوص استعمال میں ہے جس کو اُس شے کی ماہیت نے جنم دیا ہے۔ لہذا جن کے کچھ کی کسوٹی کا سوال اٹھتا ہے تو نہیں ان با ن باتوں پر غور کر نالازمی ہے کہ امس کرنالازمی شے کی ماہیت کیا ہے ؟ اس ماہیت سے کیا منصب والبتہ ہے ؟ اور اس منصب کی تکمیل کیسے ہو سکتی ہے اس کے بعد ہم عملی طور پر کسی فنی تخلیق کی قدر معبد ما قدر معین کر سکتے ہیں۔ ادب اور فن کی ماہیت ان کے منصب لہندا اسکی پرکھ کے معیار میں ہمیشہ اختلاف الرائے رہا ہے اسلئے من تنقید میں مختلف نظریے کا ر فرما نظر آتے ہیں نظریات کی ایسی کشمکش سے ادبی بحث کے رخ بدلتے رہے ہیں اور ادب میں گونا گوں تجر بے ہوتے رہے ہیں جن سے تخلیقی اور تنقیدی ادب کی ترقی کی نیت نئی راہیں دا ہوتی رہی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eادب اور نفسیات\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cp align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eپیش لفظ\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan\u003e \u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eادب اور نفسیات کے باہمی رشتے کو واضح کرنے کے لئے گوناگوں نظریات کے مطالعے اور تجزئیے کی ضرورت آج کئی گنا بڑھ گئی ہے ۔ ادبی مسائل پر کبت کے دوران میں سماجی، سیاسی، سائنسی، مذہبی اور اخلاقی نکات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ جب بھی ادیب کی شخصیت اور اس کے تخلیقی عمل پر بحث ہو گی نفسیات کا ذکر نا گزیر ہو گا۔ انسان کا ہر شعور ہی عمل بنیادی طور پر اس کے ذہن سے وابستہ ہے۔ چنانچہ اس کے تخلیقی عمل کو سمجھنے کے لئے اس کی ذہنی ساخت اور اس کے ذہنی عمل کا مطالعہ ضروری ہے۔ علم نفسیات کے ذریعے ہم ادیب کا مطالعہ اس کی انفرادی اور مثالی (ٹائپ) حیثیت سے کرنے کے بعد اس کے تخلیقی عمل کے سرچشے کا راز پا سکتے ہیں۔ اور اس طرح ہم یہ جان سکتے ہیں کہ اس کا تخلیقی عمل ۔ کسی طرح پائے تکمیل کو پہنچا ہے اور اس کا اظہار ایک مخصوص شکل\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003e\u003cspan\u003e \u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eمیں ہی کیوں ہوا ہے ؟\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan\u003e \u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eادب میں نفسیاتی صداقت سے کیا مراد ہے ؟ ادبی تخلیقات میں نفسیاتی ٹائپ اور نقطہ نظر کو کیا مقام حاصل ہے ؟ ادیب داخلی یا خارجی محرکات سے جو محسوسات اخذ کرتا ہے ۔ انھیں کسی طرح ذہنی طور پر فن کے پیکر میں ڈھالتا ہے اور پھر کیسے انہیں خارجی شکل میں پیش کرتا ہے ۔ اس کے مختلف ہوتا ہے؟ کیا یہ سوال محض تیکنیک سے متعلق ہے یا اس کی کچھ نفسیاتی وجوہ بھی ہوتی ہیں۔ کسی ادیب کی تخلیقی قوت کو بروئے کار لانے کے لئے کون سے خارجی یا داخلی محرکات ضروری ہوتے ہیں۔ اور مختلف ادیبوں میں ان کی ماہیت یکساں رہتی ہے یا بدل جاتی ہے۔ کیا تخلیقی عمل شعوری ہوتا ہے یا لا شعوری ؟ کیا ادیب نورمل انسان ہوتا ہے یا اب نور مل؟ ادیب اپنی ذہنی ساخت کی مناسبت سے ادب اور سماج سے کس طرح مسلک ہوتا ہے ؟ ادیب اپنی تخلیقات سے کیوں اور کس طرح قارئین پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس نوعیت کے حملہ سوالات کا تعلق ادب اور نفسیات کے باہمی رشتے کے علاوہ علم کے دوسرے شعبوں سے بھی ہے۔ جدید ادب نفسیات کے نئے نظریوں کی روشنی میں فرد اور اس کے ذہنی عمل میں زیادہ سے زیادہ لچسپی لیتے لگا ہے ۔ جدید ادب میں ایک مخصوص نظریہ تو کردار کی ذہنی کیفیت کے بیان ہی کو اپنا مقصود سمجھتا ہے جدید ادب میں ہمیں اکثر اوقات فرد ، اس کے ذہن اس کی لاشعوری قوت اور ذہنی کیفیت کے گوناگوں تجربات کا بیان ملتا ہے ادب میں ان رجحانات کی اشاعت کا باعث فرائیڈ، ژونگ اور ایڈلر کے نظریات ہیں لیکن یہ کہہ دینا صحیح نہیں کہ فلاں ادیب فرائیڈ پرست ہے یار رنگ پریست عموماً ادیب کی تخلیقات میں کم و بیش ان تمام نظریات کی آمیزش ملتی ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ بنیادی طور پر کسی ایک ماہر نفسیات سے متاثر ہوا ہو۔\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"DEVENDAR ISSAR","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646709887010,"sku":null,"price":2250.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/devenderIssra_d6e66d84-9847-4c19-ad81-91f0c5ad5691.jpg?v=1766144747"},{"product_id":"3-books-set-of-dr-mubarak-ali","title":"3 Books Set of Dr. Mubarak Ali","description":"\u003cdiv class=\"xyamay9 x1pi30zi xsag5q8 x1swvt13\"\u003e\n\u003cdiv class=\"xyinxu5 x4uap5 x1g2khh7 xkhd6sd\"\u003e\u003cspan dir=\"auto\" class=\"x193iq5w xeuugli x13faqbe x1vvkbs x1xmvt09 x1lliihq x1s928wv xhkezso x1gmr53x x1cpjm7i x1fgarty x1943h6x xudqn12 x3x7a5m x6prxxf xvq8zen xo1l8bm xzsf02u\"\u003eڈاکٹر مبارک علی کی 3 بہترین کتب کا سیٹ رعایتی قیمت 1770 روپے فری ہوم ڈلیوری کے ساتھ۔ آرڈر کرنے کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں 03174627290\u003cbr class=\"html-br\"\u003eان میں شامل ہیں۔\u003cbr class=\"html-br\"\u003eکتاب کا نام: آخری عہد مغلیہ کا ہندستان۔\u003cbr class=\"html-br\"\u003eمعنف: ڈاکٹر مبارک علی۔\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"xyinxu5 x4uap5 x1g2khh7 xkhd6sd\"\u003e\u003cspan dir=\"auto\" class=\"x193iq5w xeuugli x13faqbe x1vvkbs x1xmvt09 x1lliihq x1s928wv xhkezso x1gmr53x x1cpjm7i x1fgarty x1943h6x xudqn12 x3x7a5m x6prxxf xvq8zen xo1l8bm xzsf02u\"\u003eصفحات:188\u003cbr class=\"html-br\"\u003eقیمت: 800\u003cbr class=\"html-br\"\u003e\u003cbr class=\"html-br\"\u003eکتاب کا نام: برطانوی راج۔\u003cbr class=\"html-br\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"xyinxu5 x4uap5 x1g2khh7 xkhd6sd\"\u003e\u003cspan dir=\"auto\" class=\"x193iq5w xeuugli x13faqbe x1vvkbs x1xmvt09 x1lliihq x1s928wv xhkezso x1gmr53x x1cpjm7i x1fgarty x1943h6x xudqn12 x3x7a5m x6prxxf xvq8zen xo1l8bm xzsf02u\"\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی۔\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"xyinxu5 x4uap5 x1g2khh7 xkhd6sd\"\u003e\u003cspan dir=\"auto\" class=\"x193iq5w xeuugli x13faqbe x1vvkbs x1xmvt09 x1lliihq x1s928wv xhkezso x1gmr53x x1cpjm7i x1fgarty x1943h6x xudqn12 x3x7a5m x6prxxf xvq8zen xo1l8bm xzsf02u\"\u003eصفحات:99\u003cbr class=\"html-br\"\u003eقیمت: 600\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"xyinxu5 x4uap5 x1g2khh7 xkhd6sd\"\u003e\u003cspan dir=\"auto\" class=\"x193iq5w xeuugli x13faqbe x1vvkbs x1xmvt09 x1lliihq x1s928wv xhkezso x1gmr53x x1cpjm7i x1fgarty x1943h6x xudqn12 x3x7a5m x6prxxf xvq8zen xo1l8bm xzsf02u\"\u003e\u003cbr class=\"html-br\"\u003eکتاب کا نام: اکبر کا ہندوستان۔\u003cbr class=\"html-br\"\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی۔\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"xyinxu5 x4uap5 x1g2khh7 xkhd6sd\"\u003e\u003cspan dir=\"auto\" class=\"x193iq5w xeuugli x13faqbe x1vvkbs x1xmvt09 x1lliihq x1s928wv xhkezso x1gmr53x x1cpjm7i x1fgarty x1943h6x xudqn12 x3x7a5m x6prxxf xvq8zen xo1l8bm xzsf02u\"\u003eصفحات:192\u003cbr class=\"html-br\"\u003eقیمت: 800\u003cspan\u003e \u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"xyinxu5 x4uap5 x1g2khh7 xkhd6sd\"\u003e\u003cspan dir=\"auto\" class=\"x193iq5w xeuugli x13faqbe x1vvkbs x1xmvt09 x1lliihq x1s928wv xhkezso x1gmr53x x1cpjm7i x1fgarty x1943h6x xudqn12 x3x7a5m x6prxxf xvq8zen xo1l8bm xzsf02u\"\u003e\u003cspan\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv\u003e\n\u003cdiv class=\"xq8finb x16n37ib x1uuop16 x1fqkajt x1aj7aux x1axty5n\"\u003e\n\u003cdiv class=\"x9f619 x1ja2u2z x78zum5 x2lah0s x1n2onr6 x1qughib x1qjc9v5 xozqiw3 x1q0g3np xjkvuk6 x1iorvi4 x4cne27 xifccgj\"\u003e\n\u003cdiv class=\"x9f619 x1n2onr6 x1ja2u2z x78zum5 xdt5ytf x193iq5w xeuugli x1r8uery x1iyjqo2 xs83m0k x10b6aqq x1yrsyyn\"\u003e\n\u003cdiv role=\"button\" class=\"x1i10hfl x1qjc9v5 xjbqb8w xjqpnuy xa49m3k xqeqjp1 x2hbi6w x13fuv20 xu3j5b3 x1q0q8m5 x26u7qi x972fbf xcfux6l x1qhh985 xm0m39n x9f619 x1ypdohk xdl72j9 x2lah0s xe8uvvx xdj266r x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x2lwn1j xeuugli xexx8yu x4uap5 x18d9i69 xkhd6sd x1n2onr6 x16tdsg8 x1hl2dhg x1ja2u2z x1t137rt x1o1ewxj x3x9cwd x1e5q0jg x13rtm0m x3nfvp2 x1q0g3np x87ps6o x1lku1pv x1a2a7pz x5ve5x3\" aria-label=\"Like\" tabindex=\"0\"\u003e\n\u003cdiv class=\"x9f619 x1ja2u2z x78zum5 x1n2onr6 x1r8uery x1iyjqo2 xs83m0k xeuugli xl56j7k x6s0dn4 xozqiw3 x1q0g3np xn6708d x1ye3gou xexx8yu xcud41i x139jcc6 x4cne27 xifccgj xn3w4p2 xuxw1ft\"\u003e\n\u003cdiv class=\"x9f619 x1n2onr6 x1ja2u2z x78zum5 xdt5ytf x2lah0s x193iq5w xeuugli x150jy0e x1e558r4 x10b6aqq x1yrsyyn\"\u003e\n\u003cspan class=\"x3nfvp2\"\u003e\u003ci class=\"x1b0d499 x1d69dk1\" data-visualcompletion=\"css-img\"\u003e\u003c\/i\u003e\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv data-visualcompletion=\"ignore\" role=\"none\" class=\"x1ey2m1c xds687c x17qophe xg01cxk x47corl x10l6tqk x13vifvy x1ebt8du x19991ni x1dhq9h x1o1ewxj x3x9cwd x1e5q0jg x13rtm0m\"\u003e\u003cbr\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv role=\"button\" class=\"x1i10hfl x1qjc9v5 xjbqb8w xjqpnuy xa49m3k xqeqjp1 x2hbi6w x13fuv20 xu3j5b3 x1q0q8m5 x26u7qi x972fbf xcfux6l x1qhh985 xm0m39n x9f619 x1ypdohk xdl72j9 x2lah0s xe8uvvx xdj266r x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x2lwn1j xeuugli x16tdsg8 x1hl2dhg x1ja2u2z x1t137rt x1o1ewxj x3x9cwd x1e5q0jg x13rtm0m x3nfvp2 x1q0g3np x87ps6o x1lku1pv x1a2a7pz x4r51d9 x1d0ri9u x1ug4tga xkhd6sd x4uap5 xnfr1j xzpqnlu x179tack x10l6tqk x5ve5x3\" aria-label=\"React\" tabindex=\"0\"\u003e\n\u003ci class=\"x1b0d499 x1d69dk1\" data-visualcompletion=\"css-img\"\u003e\u003c\/i\u003e\n\u003cdiv data-visualcompletion=\"ignore\" role=\"none\" class=\"x1ey2m1c xds687c x17qophe xg01cxk x47corl x10l6tqk x13vifvy x1ebt8du x19991ni x1dhq9h x1o1ewxj x3x9cwd x1e5q0jg x13rtm0m\"\u003e\u003cbr\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x9f619 x1n2onr6 x1ja2u2z x78zum5 xdt5ytf x193iq5w xeuugli x1r8uery x1iyjqo2 xs83m0k x10b6aqq x1yrsyyn\"\u003e\n\u003cdiv role=\"button\" class=\"x1i10hfl x1qjc9v5 xjbqb8w xjqpnuy xa49m3k xqeqjp1 x2hbi6w x13fuv20 xu3j5b3 x1q0q8m5 x26u7qi x972fbf xcfux6l x1qhh985 xm0m39n x9f619 x1ypdohk xdl72j9 x2lah0s xe8uvvx xdj266r x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x2lwn1j xeuugli xexx8yu x4uap5 x18d9i69 xkhd6sd x1n2onr6 x16tdsg8 x1hl2dhg xggy1nq x1ja2u2z x1t137rt x1o1ewxj x3x9cwd x1e5q0jg x13rtm0m x3nfvp2 x1q0g3np x87ps6o x1lku1pv x1a2a7pz\" aria-label=\"Leave a comment\" tabindex=\"0\"\u003e\n\u003cdiv class=\"x9f619 x1ja2u2z x78zum5 x1n2onr6 x1r8uery x1iyjqo2 xs83m0k xeuugli xl56j7k x6s0dn4 xozqiw3 x1q0g3np xn6708d x1ye3gou xexx8yu xcud41i x139jcc6 x4cne27 xifccgj xn3w4p2 xuxw1ft\"\u003e\n\u003cdiv class=\"x9f619 x1n2onr6 x1ja2u2z x78zum5 xdt5ytf x2lah0s x193iq5w xeuugli x150jy0e x1e558r4 x10b6aqq x1yrsyyn\"\u003e\n\u003ci class=\"x1b0d499 x1d69dk1\" data-visualcompletion=\"css-img\"\u003e\u003c\/i\u003e\u003cbr\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv data-visualcompletion=\"ignore\" role=\"none\" class=\"x1ey2m1c xds687c x17qophe xg01cxk x47corl x10l6tqk x13vifvy x1ebt8du x19991ni x1dhq9h x1o1ewxj x3x9cwd x1e5q0jg x13rtm0m\"\u003e\u003cbr\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x9f619 x1n2onr6 x1ja2u2z x78zum5 xdt5ytf x193iq5w xeuugli x1r8uery x1iyjqo2 xs83m0k x10b6aqq x1yrsyyn\"\u003e\n\u003cdiv role=\"button\" class=\"x1i10hfl x1qjc9v5 xjbqb8w xjqpnuy xa49m3k xqeqjp1 x2hbi6w x13fuv20 xu3j5b3 x1q0q8m5 x26u7qi x972fbf xcfux6l x1qhh985 xm0m39n x9f619 x1ypdohk xdl72j9 x2lah0s xe8uvvx xdj266r x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x2lwn1j xeuugli xexx8yu x4uap5 x18d9i69 xkhd6sd x1n2onr6 x16tdsg8 x1hl2dhg xggy1nq x1ja2u2z x1t137rt x1o1ewxj x3x9cwd x1e5q0jg x13rtm0m x3nfvp2 x1q0g3np x87ps6o x1lku1pv x1a2a7pz\" tabindex=\"0\"\u003e\n\u003cdiv class=\"x9f619 x1ja2u2z x78zum5 x1n2onr6 x1r8uery x1iyjqo2 xs83m0k xeuugli xl56j7k x6s0dn4 xozqiw3 x1q0g3np xn6708d x1ye3gou xexx8yu xcud41i x139jcc6 x4cne27 xifccgj xn3w4p2 xuxw1ft\"\u003e\n\u003cdiv class=\"x9f619 x1n2onr6 x1ja2u2z x78zum5 xdt5ytf x2lah0s x193iq5w xeuugli x150jy0e x1e558r4 x10b6aqq x1yrsyyn\"\u003e\n\u003ci class=\"x1b0d499 x1d69dk1\" data-visualcompletion=\"css-img\"\u003e\u003c\/i\u003e\u003cbr\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv data-visualcompletion=\"ignore\" role=\"none\" class=\"x1ey2m1c xds687c x17qophe xg01cxk x47corl x10l6tqk x13vifvy x1ebt8du x19991ni x1dhq9h x1o1ewxj x3x9cwd x1e5q0jg x13rtm0m\"\u003e\u003cbr\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x9f619 x1n2onr6 x1ja2u2z x78zum5 xdt5ytf x193iq5w xeuugli x1r8uery x1iyjqo2 xs83m0k x10b6aqq x1yrsyyn\"\u003e\n\u003cdiv role=\"button\" class=\"x1i10hfl x1qjc9v5 xjbqb8w xjqpnuy xa49m3k xqeqjp1 x2hbi6w x13fuv20 xu3j5b3 x1q0q8m5 x26u7qi x972fbf xcfux6l x1qhh985 xm0m39n x9f619 x1ypdohk xdl72j9 x2lah0s xe8uvvx xdj266r x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x2lwn1j xeuugli xexx8yu x4uap5 x18d9i69 xkhd6sd x1n2onr6 x16tdsg8 x1hl2dhg xggy1nq x1ja2u2z x1t137rt x1o1ewxj x3x9cwd x1e5q0jg x13rtm0m x3nfvp2 x1q0g3np x87ps6o x1lku1pv x1a2a7pz\" aria-label=\"Send this to friends or post it on your profile.\" tabindex=\"0\"\u003e\n\u003cdiv class=\"x9f619 x1ja2u2z x78zum5 x1n2onr6 x1r8uery x1iyjqo2 xs83m0k xeuugli xl56j7k x6s0dn4 xozqiw3 x1q0g3np xn6708d x1ye3gou xexx8yu xcud41i x139jcc6 x4cne27 xifccgj xn3w4p2 xuxw1ft\"\u003e\n\u003cdiv class=\"x9f619 x1n2onr6 x1ja2u2z x78zum5 xdt5ytf x2lah0s x193iq5w xeuugli x150jy0e x1e558r4 x10b6aqq x1yrsyyn\"\u003e\n\u003ci class=\"x1b0d499 x1d69dk1\" data-visualcompletion=\"css-img\"\u003e\u003c\/i\u003e\u003cbr\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv data-visualcompletion=\"ignore\" role=\"none\" class=\"x1ey2m1c xds687c x17qophe xg01cxk x47corl x10l6tqk x13vifvy x1ebt8du x19991ni x1dhq9h x1o1ewxj x3x9cwd x1e5q0jg x13rtm0m\"\u003e\u003cbr\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x8cjs6t x13fuv20 x178xt8z xdj266r xktsk01 xat24cr x1d52u69\"\u003e\u003cbr\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"html-div xdj266r x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r xexx8yu x18d9i69 x1swvt13 x1pi30zi\"\u003e\n\u003cdiv class=\"html-div xdj266r x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r xexx8yu x4uap5 x18d9i69 xkhd6sd\"\u003e\n\u003cdiv class=\"html-div xdj266r x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r xexx8yu x4uap5 x18d9i69 xkhd6sd x78zum5 x1n2onr6 x1nhvcw1\"\u003e\u003cbr\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003ch2 class=\"html-h2 xdj266r x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r xexx8yu x4uap5 x18d9i69 xkhd6sd x1vvkbs x1heor9g x1qlqyl8 x1pd3egz x1a2a7pz xzpqnlu x1hyvwdk xjm9jq1 x6ikm8r x10wlt62 x10l6tqk x1i1rx1s\" dir=\"auto\"\u003eCo\u003c\/h2\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646710345762,"sku":null,"price":1770.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/467310596_955503609931632_7321206787734793937_n_0969ee2b-ab4b-40b5-b0c0-7d9d6d3c923d.jpg?v=1766144771"},{"product_id":"marxism-tareekh-jisko-radd-kar-chuki-hai","title":"Marxism: Tareekh Jisko Radd Kar Chuki Hai","description":"\u003ch5 class=\"product-title urdufont\"\u003eمارکسزم صرف ایک اقتصادی تدبیر نہیں ہے، بلکہ وہ اقتصادیات کے حوالے سے انسان کی پوری زندگی کے لیے ایک فلسفے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اپنی غیرفطری بنیاد کی بنا پر وہ امکانی طور پر اپنے آغازہی میں قابل رد تھا۔ اب وہ واقعہ کے طور پر قابل رد قرار پاچکا ہے۔ زیر نظر کتاب میں یہ حقیقت مارکس ازم کے زوال سے 35 سال پہلے بیان کی گئی تھی۔\u003c\/h5\u003e","brand":"Wahiduddin Khan","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646710444066,"sku":null,"price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/WhatsAppImage2025-01-21at7.13.40PM_1_f4df9ca4-16f6-4cf9-8a0f-919f66735d16.jpg?v=1766144773"},{"product_id":"awan-qabaiel-اعوان-قبائل","title":"Awan Qabaiel | اعوان قبائل","description":"\u003cdiv class=\"product__description rte quick-add-hidden\"\u003e\n\u003cp\u003e(اعوان قوم کی تاریخ، محل وقوع، شکون یا مشاہیر کا تذکرہ)\u003cbr\u003eکامران اعظم کی کتاب\u003cbutton class=\"share-button__button\"\u003e\u003cspan class=\"svg-wrapper\"\u003e\u003csvg xmlns=\"http:\/\/www.w3.org\/2000\/svg\" fill=\"none\" class=\"icon icon-share\" viewbox=\"0 0 13 12\"\u003e\u003cpath stroke=\"currentColor\" stroke-linecap=\"round\" stroke-linejoin=\"round\" d=\"M1.625 8.125v2.167a1.083 1.083 0 0 0 1.083 1.083h7.584a1.083 1.083 0 0 0 1.083-1.083V8.125\"\u003e\u003c\/path\u003e\u003cpath fill=\"currentColor\" fill-rule=\"evenodd\" d=\"M6.148 1.271a.5.5 0 0 1 .707 0L9.563 3.98a.5.5 0 0 1-.707.707L6.501 2.332 4.147 4.687a.5.5 0 1 1-.708-.707z\" clip-rule=\"evenodd\"\u003e\u003c\/path\u003e\u003cpath fill=\"currentColor\" fill-rule=\"evenodd\" d=\"M6.5 1.125a.5.5 0 0 1 .5.5v6.5a.5.5 0 0 1-1 0v-6.5a.5.5 0 0 1 .5-.5\" clip-rule=\"evenodd\"\u003e\u003c\/path\u003e\u003c\/svg\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/button\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Kamran Azam Sohdarvi","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646710509602,"sku":null,"price":1200.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/AwanQabail_94bd26ee-7607-45fd-a582-fe7aa440ec02.jpg?v=1766144774"},{"product_id":"ulma-aur-siasat","title":"Ulma aur Siasat","description":"\u003ctable style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\" width=\"780\" cellspacing=\"0\" cellpadding=\"0\" border=\"0\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\" width=\"780\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr style=\"height: 15.0pt;\" height=\"20\"\u003e\n\u003ctd style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\" width=\"780\" align=\"right\" dir=\"RTL\" height=\"20\"\u003eکتاب کا نام: علماء اور سیاست\u003cbr\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی \u003cbr\u003eقیمت: 600\u003cbr\u003eبرصغیر ہندوستان میں سلاطین دہلی اور مغل سلطنتوں میں علماء کا کردار رہا ہے۔ لیکن ان کے اور\u003cbr\u003eحکمرانوں کے درمیان سیاسی اختلافات رہے تھے، علماء مذہبی طور پر ہندو رعایا کے ساتھ انتہا پسندی کا سلوک چاہتے تھے۔ لیکن حکمران سیاسی طور پر اپنی ہندو رعایا کے ساتھ خوشگوار تعلقات رکھنا چاہتے تھے۔ چونکہ سیاسی طاقت حکمرانوں کے پاس تھی اس لیے وہ علماء کے دباؤ میں نہیں آئے بلکہ انہیں ریاست کا وفادار بنائے رکھا۔\u003cbr\u003eبرطانوی دور حکومت میں جبکہ یہاں سے مغل ریاست ختم ہو چکی تھی ۔ انہوں نے اپنے مدر سے قائم کر کے مسلمانوں کو مذہبی تعلیمات دیں، بلکہ فتوؤں کے ذریعے اُن کے سماجی اور معاشی مسائل کو بھی\u003cbr\u003eحل کیا۔ جب سائنس کی ایجادات آئیں تو انہوں نے اُن کی مخالفت کی ، تاکہ مسلمانوں کے عقیدے\u003cbr\u003eمیں شک وشبہ پیدا نہ ہو۔ ان کے مقابلے میں سرسید احمد خاں نے اسلام کا ترقی پسندانہ نظریہ پیش\u003cbr\u003eکیا، جس کی وجہ سے آج تک اسلام کی قدامت پسندی اور ترقی پسندی کے درمیان تصادم جاری ہے پاکستان کے موجودہ حالات میں جب سیاستدان ناکام ہو گئے اور جمہوری ادارے بھی عوام کو\u003cbr\u003eنمائندگی نہ دیں سکیں تو اس ماحول میں علماء کو اپنی جگہ بنانے کا موقع مل گیا۔ لیکن ان حالات میں سیاستدانوں اور علماء کے درمیان مذہبی پالیسی پر کوئی اختلاف نہیں رہا۔\u003cbr\u003eاس کتاب میں کوشش کی گئی ہے کہ اسلامی تاریخ میں علماء کے بدلتے ہوئے کردار کا تجزیہ کیا جائے۔\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646710870050,"sku":null,"price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/IMG-20250118-WA0029_c7768e0a-e9e2-4892-bc9b-63657afe0810.jpg?v=1766144791"},{"product_id":"tehzeeb-ki-kahani","title":"Tehzeeb ki Kahani","description":"\u003ctable border=\"0\" cellpadding=\"0\" cellspacing=\"0\" width=\"780\" style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol width=\"780\" style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr height=\"20\" style=\"height: 15.0pt;\"\u003e\n\u003ctd height=\"20\" dir=\"RTL\" align=\"right\" width=\"780\" style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\"\u003eکتاب کا نام: تہذیب کی کہانی \u003cbr\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی \u003cbr\u003eقیمت: 900\u003cbr\u003eمؤرخوں نے تہذیب کی بنیاد اور ترقی کو سمجھنے کے لیے اُسے مختلف ادوار میں تقسیم کیا ہے۔\u003cbr\u003eپہلا زمانہ پتھر کا کہلاتا ہے۔اس میں انسان نے پتھر کے ہتھیار بنا کر\u003cbr\u003eاور اُن سے شکار کر کے اپنی غذا حاصل کی ۔\u003cbr\u003eدوسرا کانسی کا زمانہ کہلاتا ہے۔ اس میں ترقی کرتے ہوئے ریاست کی بنیاد ڈالی گئی۔ اُس کے ادارے قائم ہوئے اور معاشرے کو متحد کر کے قانون کے ذریعے ان پر حکومت کی گئی۔ یہ عہد اس لیے بھی قابل ذکر ہے کیونکہ اس میں رسم الخط\u003cbr\u003eکی ابتدا ہوئی جس نے تاریخ اور تہذیب کے بارے اہم معلومات فراہم کیں ۔\u003cbr\u003eتیسرا عہد لوہے کا زمانہ کہلاتا ہے۔ اس میں بڑی سلطنتیں وجود میں\u003cbr\u003eآئیں اور سیاسی نظام مستحکم بنیادوں پر قائم ہوا۔ حکمراں کو بے حد اختیارات ملے۔ اسی عہد میں فلسفہ تھیڑ ، رقص اور موسیقی اپنی پختگی کو پہنچے ۔ جن ملکوں نے ترقی کی تھی وہ مہذب کہلائے اور جو پسماندہ رہ گئے تھے انھیں بار بیرین کہا گیا۔\u003cbr\u003eتہذیب کی اس کہانی سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ انسانی ذہن ہمیشہ غور وفکر کے بعد اپنے ماحول کو بدلتا رہا ہے۔ دنیا ایک جگہ ٹھہری ہوئی نہیں رہی ہے۔ انسانی ذہن آج بھی\u003cbr\u003eنئی ایجادات اور افکار کے ذریعے ایک نئی دنیا کو جنم دے رہا ہے۔\u003cbr\u003e1. Pathar Ka Zamana\u003cbr\u003e2. Kansi Ka Zamana\u003cbr\u003e3. Lohay Ka Zamana\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646710902818,"sku":null,"price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/IMG-20250118-WA0020_7bec5901-b936-4890-9e85-df6a2b6bd50b.jpg?v=1766144792"},{"product_id":"tarikh-or-nisabi-kutab","title":"Tarikh or Nisabi Kutab","description":"\u003ctable style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\" width=\"780\" cellspacing=\"0\" cellpadding=\"0\" border=\"0\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\" width=\"780\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr style=\"height: 15.0pt;\" height=\"20\"\u003e\n\u003ctd style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\" width=\"780\" align=\"right\" dir=\"RTL\" height=\"20\"\u003eکتاب کا نام: تاریخ اور نصابی کتب\u003cbr\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی\u003cbr\u003eقیمت: 700\u003cbr\u003eقومی ریاست کے وجود میں آنے کے بعد سے تعلیم کو قومی بنانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ قومی ریاست نصابی تعلیم کے ذریعے طالب علموں میں قوم پرستی اور وطن پرستی کے جذبات کو پیدا کرنا چاہتی ہے۔ اس کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ حکمران طبقے پر کوئی تنقید نہ کی جائے اور نہ ہی ریاست میں اصلاح کی تجاویز دی جائیں۔ اس مقصد کے لیے نصابی کتب اُن افراد سے لکھوائی جاتی ہیں جو قومی ریاست کے منصوبے کو پورا کرتے ہیں۔\u003cbr\u003eنصابی کتابوں میں سیاست کا بھی دخل ہوتا ہے۔ اقتدار میں آنے والی سیاسی پارٹی انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے اُن موضوعات کو شامل کرتیں جو عوام میں مقبول ہوں جبکہ نصابی کتابوں کے ذریعے عالمگیر سیاست نئے افکار و خیالات کو شامل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ جن ملکوں میں نصابی کتابوں کے ذریعے کسی ایک خاص نظریے کی تعلیم دی گئی ہو تو اس صورت میں نوجوانوں میں تعصب اور نفرت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ لہذا نصابی کتابوں کی وجہ سے کئی ملکوں کے باہمی تعلقات کشیدہ ہیں۔ جیسے جاپان اور کوریا، اسرائیل اور عرب ممالک ، امریکہ اور لاطینی ممالک، جرمنی اور انگلینڈ، انڈیا اور پاکستان۔ کئی بار یہ کوشش کی گئی کہ جن ملکوں کے درمیان نصابی کتب تنازعے کا باعث ہیں اُن کے مورخ مل کر ایسی تاریخ لکھیں جس میں تعصبات نہ ہوں بلکہ باہمی روابط کے واقعات ہوں۔\u003cbr\u003eڈاکٹر مبارک علی\u003cbr\u003e2 ستمبر 2024 ء ، لاہور\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646710935586,"sku":null,"price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/IMG-20250118-WA0013_373d4240-3d19-48b3-a649-8b82810398b1.jpg?v=1766144792"},{"product_id":"tarikh-or-falsafa-e-tarikh","title":"Tarikh or Falsafa E Tarikh","description":"\u003ctable style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\" width=\"780\" cellspacing=\"0\" cellpadding=\"0\" border=\"0\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\" width=\"780\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr style=\"height: 15.0pt;\" height=\"20\"\u003e\n\u003ctd style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\" width=\"780\" align=\"right\" dir=\"RTL\" height=\"20\"\u003eکتاب کا نام: تاریخ اور فلسفہ تاریخ\u003cbr\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی\u003cbr\u003eقیمت: 1000\u003cbr\u003eتاریخ اور فلسفہ تاریخ پر میرے یہ مضامین تین کتابوں پر\u003cbr\u003eبکھرے ہوئے تھے یعنی تاریخ کیا ہے؟ تاریخ اور روشنی اور تاریخ کے نظریات۔ ان مضامین کو اس لیے یکجا کیا کہ یہ ایک ہی مفہوم کے حامل ہیں اور ایک جگہ پڑھنے سے (اگر چہ بعض جگہ کچھ باتیں دہرائی ہوئی ملیں گی ) تاریخ کو سمجھنے میں آسانی ہوگی ۔ ایک چیز کا ذکر میں خاص طور سے کرنا چاہتا ہوں کہ میری اولین کتاب ” تاریخ کیا ہے ؟ تھی۔ اس وقت تک میرا یہ خیال تھا کہ انسان تاریخ سے کچھ نہیں سیکھتا ہے کیونکہ جن غلطیوں کو وہ بار بار دہراتا ہے وہ اس بات کی تصدیق ہے مگر جب تاریخ کا اور مطالعہ کیا تو اس نتیجہ پر پہنچا کہ انسان تاریخ سے ضرور سیکھتا ہے اور اس میں تاریخ کے ذریعہ آگہی و شعور پیدا ہوتا ہے اور وہ اس کو اپنی زندگی میں استعمال بھی کرتا ہے۔ یہ بات ضرور صحیح ہے کہ جو تاریخ سے ناواقف ہوتے ہیں، وہ غلطیوں کو بار بار دہراتے ہیں۔\u003cbr\u003eاس لیے ضروری یہ ہے کہ تاریخ کو سچائی کے ساتھ پڑھا جائے کیونکہ اگر اس کو مسخ کر کے اور اپنی مرضی کے مطابق پڑھا جائے گا تو وہ غلط راستہ پر ہی لے جائے گی اور اس کے نتیجہ میں انھیں غلطیوں کو دہرایا جائے گا۔ تنقیدی و تجزیاتی تاریخ، جو کمزوریوں سے پردہ اٹھائے ، وہ صحیح راستہ متعین کرنے میں مدد دے گی۔\u003cbr\u003eاس لیے یہ کہنا کہ تاریخ سے انسان کچھ نہیں سیکھتا ، غلط ہے۔ انسان جب ہی تاریخ سے سیکھتا ہے کہ جب تاریخ کو سچائی کے ساتھ لکھا جائے۔\u003cbr\u003eاس کی مثال ہماری تاریخ سے دی جاسکتی ہے کہ جسے یک طرفہ ہاتھ سے ایک ہی نظریہ کے تحت لکھا جا رہا ہے اور اس میں کوئی تنقیدی اور تجزیاتی عصر نہیں ہے، ہمارے تمام راہنما غلطیوں سے پاک ومبرا تھے ظاہر ہے کہ تاریخ تو لوگوں کو سکھانے کے بجائے گمراہ کرے گی۔\u003cbr\u003eیہ کتاب طالب علموں کے لیے بھی ہے اور عام قارئین کے لیے بھی ، یہ دانشوروں کے لیے نہیں ہے کہ وہ پہلے سے سب کچھ جانتے ہیں اور میری کوئی خواہش نہیں کہ ان کے علم میں اضافہ کروں ۔ میں اپنے دوستوں اور پڑھنے والوں کا مشکور ہوں کہ وہ مجھے اپنے مشوروں سے نوازتے رہتے ہیں۔\u003cbr\u003eڈاکٹر مبارک علی\u003cbr\u003e2 ستمبر 2024ء ، لاہور\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646710968354,"sku":null,"price":750.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/IMG-20250118-WA0010_56d52abb-2bbc-4e0b-afb0-3031dd904bdb.jpg?v=1766144793"},{"product_id":"tareekh-thug-aur-daku","title":"Tareekh: Thug Aur Daku","description":"\u003ctable style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\" width=\"780\" cellspacing=\"0\" cellpadding=\"0\" border=\"0\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\" width=\"780\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr style=\"height: 15.0pt;\" height=\"20\"\u003e\n\u003ctd style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\" width=\"780\" align=\"right\" dir=\"RTL\" height=\"20\"\u003eکتاب کا نام: تاریخ: ٹھگ اور ڈاکو۔\u003cbr\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی۔\u003cbr\u003eقیمت: 1000\u003cbr\u003eتاریخ میں ڈاکوؤں کا وجود بغاوت کی علامت ہوتا ہے۔ یہ وڈیروں کے ظلم وستم ، ٹیکسوں کی بہتات، سرکاری عہدیداروں کی رعونت ، کسانوں میں سے بعض افراد کو اس پر مجبور کرتی ہے کہ وہ ظلم وستم کی زنجیریں توڑ کر آزاد ہو جائیں۔ جب یہ ڈاکہ زنی کے ذریعے دولت مندوں کو لوٹتے ہیں تو یہ قانون کے تحت مجرم ہو جاتے ہیں۔ لیکن جب کوئی حملہ آور مفتوح قوموں کا مال غنیمت لوٹتا ہے یا اُن کا قتل عام کرتا ہے تو وہ فاتح کہلاتا ہے۔ کیونکہ ڈاکو طاقتور کے خلاف آواز اُٹھاتے ہیں اس لیے یہ عوام میں مقبولیت حاصل کر لیتے ہیں۔ جیسے انگلستان میں روبن ہڈ اور برصغیر ہندوستان میں سلطانہ ڈاکو لوک کہانیوں کا موضوع بن گئے ہیں۔ اکثر مورخ ان کو پسماندہ دور کے باغی یا Primitive Rebel کہتے ہیں۔\u003cbr\u003e\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003eڈاکو اُسی وقت تک محفوظ رہتے ہیں جب گاؤں اور دیہاتوں کے عام لوگ ان سے تعاون کرتے ہیں اور انہیں پناہ دیتے ہیں۔ لہذا ڈاکو طاقتور کی نا انصافی اور اُس کے استحصال کی وجہ سے بغاوت کرتے ہیں۔ جہاں تک ٹھگوں کا تعلق ہے ان کا کردار ڈاکوؤں سے مختلف ہوتا ہے۔ یہ فریب ، دھو کے بازی اور جھوٹ کے ذریعے افراد کو اپنے جال میں پھنسا کر اُن کو لوٹتے بھی ہیں اور جان سے مار بھی دیتے ہیں ٹھگی کی اصطلاح کو آج ہم کئی معنوں میں استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً ایسے واقعات اکثر ہوتے رہتے ہیں کہ کسی عورت سے زیور لے کر اُسے دو گنا کرنے کا لالچ دیتے ہیں۔ کچھ افراد رقم کو دوگنا کرنے کا دعوی بھی کرتے ہیں اور کبھی کبھی فون سے یہ پیغام بھی آتا ہے کہ لاٹری میں اُس کے نام پر لاکھوں روپے نکل آئے ہیں۔\u003cbr\u003e\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003eڈاکو ہوں یا ٹھگ یہ کمزور ریاست میں پیدا ہوتے ہیں جو لوگوں کی جان و مال کی حفاظت نہیں کر پاتی۔ پاکستان میں اب ماڈرن ڈاکو اور ٹھگ پیدا ہو گئے ہیں۔ جو بدعنوانی، رشوت ، غبن اور جعلسازی کے ذریعے دولت اکٹھی کرتے ہیں اور معاشرے کے معزز رکن بن جاتے ہیں۔ موجودہ کتاب ٹھگوں اور ڈاکوؤں کے بارے میں تاریخی معلومات فراہم کرے گی۔ اس کے مطالعے کے بعد اپنے اردگرد ٹھگوں اور ڈاکوؤں کو پہچان سکیں گے۔\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646711001122,"sku":null,"price":700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/IMG-20250118-WA0022_dd4d4890-d0af-4370-959e-6fdd6f4d5f7d.jpg?v=1766144794"},{"product_id":"tareekh-kay-badalty-nazariyat","title":"Tareekh Kay Badalty Nazariyat","description":"\u003ctable style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\" width=\"780\" cellspacing=\"0\" cellpadding=\"0\" border=\"0\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\" width=\"780\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr style=\"height: 15.0pt;\" height=\"20\"\u003e\n\u003ctd style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\" width=\"780\" align=\"right\" dir=\"RTL\" height=\"20\"\u003eکتاب کا نام: تاریخ کے بدلتے نظریات۔\u003cbr\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی۔\u003cbr\u003eقیمت: 700\u003cbr\u003eابتدائی دور میں تاریخ نویسی کا یہ مطلب تھا کہ ماضی میں ہونے والے واقعات کو بیان کر دیا جائے۔ یہ نہیں بتایا جاتا تھا کہ واقعات کی نوعیت کیا ہے، اس کی وجوہات کیا ہیں اور کیا ہی ڈالی شعور میں اضافہ کریں گے۔ اس کمی کو دور کرنے کے لیے اب جدید تاریخ کو نظریات کی روشنی میں لکھا جاتا ہے خام جب ایشیا اور افریقہ کے ملکوں میں آزادی کی جدو جہد شروع ہوئی تو تاریخ کو قوم پرستی کے نظریے کے تحت لکھا گیا تا کہ یورپی سامراج کا مقابلہ کیا جائے۔ یورپ کے سامراجی ملکوں نے یورپ کی تاریخ کو برتر ثابت کیا اور کالونیز کی تاریخ کو پسماندہ کہہ کر اپنے اقتدار کو جائز قرار دیا۔ کارل مارکس نے تاریخ میں طبقاتی جنگ کو اہمیت دیتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ یہ طبقاتی جنگ تاریخ کو تبدیل کرتی رہتی ہے۔ اب\u003cbr\u003eتک تاریخ نویسی میں عورتوں کے کردار کا بہت کم ذکر تھا۔ لہذا تحریک نسواں نے مردوں کی تاریخ پر اجارہ\u003cbr\u003eداری کو چیلنج کیا اور تاریخ کی تشکیل میں عورتوں کے کردار کو پیش کر کے تاریخ نویسی کو تبدیل کیا۔ ایک وقت تک تاریخ سیاست تک محدود تھی۔ بعد میں اس میں معیشت کا بھی اضافہ ہوا لیکن تاریخ نویسی کو سیاست اور معیشت سے نکال کر اس میں نفسیات ، عمرانیات ، علم بشریات اور سائنس کے مضامین کو بھی شامل کر لیا۔ فرانس میں 1930 ء کی دہائی میں قائم ہونے والے انا لز اسکول کے مؤرخین نے ٹوٹل ہسٹری کا نظریہ پیش کیا ، جس میں جذبات کی تاریخ بھی ہے۔\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eاب مؤرخین کا دعوی ہے کہ معاشرے کی تمام روایات، ادارے اور رویے تاریخ کی دسترس میں ہیں۔ تاریخ کی وسعت نے اسے ایک نئی زندگی دے دی ہے اور مؤرخ ان موضوعات پر تحقیق کر رہے ہیں جو اب تک تاریخ نویسی کا حصہ نہیں تھے۔\u003cbr\u003eوقت کے ساتھ جیسے جیسے ماحول بدلتا ہے اُس کے ساتھ نئے نظریات بھی پیدا ہوتے ہیں اس لیے تاریخ کو\u003cbr\u003eبار بار لکھنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ نئے نظریات کی روشنی میں واقعات کی تشریح کرے۔\u003cbr\u003eڈاکٹر مبارک علی\u003cbr\u003e2 ستمبر 2024 ، لاہور\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e\n\u003cp\u003e\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646711099426,"sku":null,"price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/IMG-20250118-WA0026_9496e80a-ffc4-4653-b893-35a1b6cb2564.jpg?v=1766144794"},{"product_id":"tareekh-aur-mazhabi-tahreeken","title":"Tareekh aur Mazhabi Tahreeken","description":"\u003ctable style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\" width=\"780\" cellspacing=\"0\" cellpadding=\"0\" border=\"0\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\" width=\"780\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr style=\"height: 15.0pt;\" height=\"20\"\u003e\n\u003ctd style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\" width=\"780\" align=\"right\" dir=\"RTL\" height=\"20\"\u003eکتاب کا نام: تاریخ اور مذہبی تحریکیں۔\u003cbr\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی۔\u003cbr\u003eقیمت: 600\u003cbr\u003eتاریخ میں جب بھی مسلم اقوام سیاسی بحرانوں سے گزریں اور زوال میں مبتلا ہوئیں تو ان حالات میں مذہبی رہنماؤں نے یہ دلیل دی کہ اُن کے زوال کا سبب مذہبی تعلیمات سے انحراف ہے۔ اس لئے اگر مذہبی تعلیمات کا احیاء کیا جائے اور اس میں جو غلط رسم و رواج داخل ہوگئے ہیں۔ اُن سے مذہب کو پاک صاف کیا جائے تو مسلمان ایک بار پھر طاقتور ہو کر اُبھریں گے۔ لیکن احیاء کی جتنی تحریکیں چلیں اُنہوں نے مسلمانوں کی اکثریت کو متاثر نہیں کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ماننے والے فرقوں میں تقسیم ہوگئے اور اتحاد کے بجائے ایک دوسرے کے ساتھ تعصب کا برتاؤ کیا جانے لگا۔\u003cbr\u003eدنیا کے تقریبا ہر مذہب میں اصلاحی تحریکیں جاری ہیں۔ فرقہ واریت کے نتیجے میں باہمی جنگ و جدل اور خونریزی بھی ہوتی رہتی ہے۔ آخر میں خاص طور سے مغرب میں یہ حل ڈھونڈا گیا کہ مذہب کے معاملے میں ریاست کو غیر جانبدار اور قومی ہونا چاہیے۔ تاکہ ریاست ہر فرقے اور مذہب کے ماننے والوں کو تحفظ دے۔ پاکستان کے موجودہ حالات میں یہ کتاب میں دی گئی مذہبی تحریکوں کا تجربہ کرکے اُن کی مدد سے موجودہ حالات کو سمجھنا چاہیے۔\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646711132194,"sku":null,"price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/IMG-20250118-WA0019_b456f7d0-0a81-4505-a2fc-6e59999659eb.jpg?v=1766144795"},{"product_id":"tareekh-aur-mashra","title":"Tareekh aur Mashra","description":"\u003ctable style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\" width=\"780\" cellspacing=\"0\" cellpadding=\"0\" border=\"0\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\" width=\"780\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr style=\"height: 15.0pt;\" height=\"20\"\u003e\n\u003ctd style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\" width=\"780\" align=\"right\" dir=\"RTL\" height=\"20\"\u003eکتاب کا نام: تاریخ اور معاشرہ۔\u003cbr\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی۔\u003cbr\u003eقیمت: 700\u003cbr\u003eہر معاشرہ اپنے عہد میں مختلف سیاسی، معاشری اور سماجی بحرانوں کا شکار ہوتا ہے۔ ان میں سے کچھ مسائل ایسے ہوتے ہیں جو اُسے پچھلے دور کی وراثت سے ملے تھے۔ کچھ وسائل ایسے ہوتے ہیں جنھیں جديد ایجادات اور ٹیکنالوجی نے پیدا کیا ہوتا ہے۔ آب و ہوا کی تبدیلی بھی معاشرے کے خدوخال کو بدلتی ہے۔ اس لیے معاشرے کے پیچیدہ مسائل کو سمجھنے کے لیے علم کی آگاہی ضروری ہوتی ہے۔ اگر کسی معاشرے کو علم کی اہمیت سے گھٹا دیا جائے تو اس صورت میں معاشرہ ذہنی طور پر مفلوج ہو جاتا ہے۔\u003cbr\u003eتاریخ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر معاشرہ طبقات میں پڑ جائے تو یہ طبقاتی تقسیم اشرافیہ اور محروم طبقوں کو جنم دیتی ہے اور معاشرہ طبقوں کی آپس کے تصادم میں اپنی\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e  \u003c\/span\u003eتوانائی اور طاقت کھو دیتا ہے۔\u003cbr\u003eمعاشرے کی اہمیت اُسی وقت ہوتی ہے جب یہ نئے اُفقار اور خیالات کو پیدا کرتا ہے۔ نئ ایجادات کرتا ہے۔ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو اُبھارتا ہے۔ اگر وہ ان منصوبوں کو پورا نہیں کر سکتا تو اس صورت میں اُس کی عزت اور وقار کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور وہ دنیا کے لیے ایک بوجھ بن جاتا ہے۔ ایسے معاشرے تاریخ میں بھی گمنام ہو جاتے ہیں۔\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646711164962,"sku":null,"price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/IMG-20250118-WA0016_12645a82-cd1a-4527-bdd6-1ac3acc69292.jpg?v=1766144796"},{"product_id":"tareekh-aur-aurat","title":"Tareekh aur Aurat","description":"\u003ctable style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\" width=\"780\" cellspacing=\"0\" cellpadding=\"0\" border=\"0\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\" width=\"780\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr style=\"height: 15.0pt;\" height=\"20\"\u003e\n\u003ctd style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\" width=\"780\" align=\"right\" dir=\"RTL\" height=\"20\"\u003eکتاب کا نام: تاریخ اور عورت۔\u003cbr\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی۔\u003cbr\u003eقیمت: 900\u003cbr\u003eعورت دنیا کی مظلوم ترین مخلوق ہے۔ مرد نے اپنی بالادستی کے لیے اور عورت کا سماجی رتبہ گرانے کے لیے مذہب، تاریخ، بولی جانے والی زبانیں، سماجی اور سائنسی علوم، ان سب کو استعمال کر لیا ہے۔ ارسطو جو یونان کا ایک بڑا فلسفی تھا، اُس کا کہنا تھا کہ عورت کی پیدائش نہ مکمل حمل کی وجہ سے ہوتی ہے۔اس نظریے کے تحت مرد کو عورت پر فوقیت حاصل ہوگئی جس نے پدرسری کا نظریہ پیدا کیا چونکہ عورت کی شناخت مرد کے ساتھ ہے اس لیے اگر اُس کے شوہر کی وفات ہو جاتی ہے تو وہ بیوہ کی حیثیت سے اپنی شناخت کھو دیتی ہے۔ اسی بنیاد پر ہندوؤں میں ستی کا رواج تھا۔\u003cbr\u003eعورت کے کردار کو اور اُس کی ذہانت اور سرگرمیوں کو تاریخ کا حصہ نہیں بنایا گیا، کیونکہ ہماری تاریخ مردوں کی لکھی ہوئی ہے اس لیے اس میں عورتیں گمنام ہیں۔\u003cbr\u003eجدید دور میں عورتیں مختلف تحریکوں کے ذریعے تاریخ اور سماج میں باوقار مقام حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ لہذا مختلف موضوعات پر عورتوں نے تحقیق کے بعد ثابت کیا ہے کہ وہ ذہانت، قابلیت اور شعور کے لحاظ سے مردوں کے برابر ہیں۔ اب نئے قوانین اور اصولوں کے تحت ترقی یافتہ ملکوں میں عورتوں کو حقوق دیئے گئے ہیں۔ تیسری دنیا کے ممالک میں چونکہ عورتوں کو برابر نہیں سمجھا جاتا اس لیے اُن کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔\u003cbr\u003eعورتوں کا سماجی تعلیم میں جو حصہ ہے،\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e  \u003c\/span\u003eاُس کو سمجھنے کے لیے تاریخ اور عورت کا پڑھنا ضروری ہے۔\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e\n\u003cp\u003e\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646711197730,"sku":null,"price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/IMG-20250118-WA0017_362e8464-0ab3-4fb9-b8cf-cac9e4157e09.jpg?v=1766144797"},{"product_id":"sirmayadari-aur-socialism","title":"Sirmayadari Aur Socialism","description":"\u003ctable style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\" width=\"780\" cellspacing=\"0\" cellpadding=\"0\" border=\"0\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\" width=\"780\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr style=\"height: 15.0pt;\" height=\"20\"\u003e\n\u003ctd style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\" width=\"780\" align=\"right\" dir=\"RTL\" height=\"20\"\u003eکتاب کا نام: سرمایہ داری اور سوشلزم \u003cbr\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی\u003cbr\u003eقیمت: 600\u003cbr\u003eتاریخ میں سرمایہ داری بدلتی رہی ہے۔ ابتدائی سرمایہ داری کو تاجرانہ Merchant)\u003cbr\u003e(Capitalism کہا جاتا تھا۔ اس میں تاجر ایک منڈی سے سستا مال خرید کر دوسری منڈی\u003cbr\u003eمیں مہنگے داموں فروخت کر کے منافع حاصل کرتا تھا۔ صنعتی انقلاب کے بعد ایک نیا سرمایہ داری کا نظام پیدا ہوا۔ یہ سرمایہ دار فیکٹریوں کے مالک تھے اور زیادہ سے زیادہ منفعتی پیداوار کے ذریعے دُنیا بھر کی منڈیوں میں اُن کی فروخت کے ذریعے سرمایہ اکٹھا کرتے تھے۔ پھر\u003cbr\u003eسرمائے کی تیسری شکل فنانس کیپٹل ازم کی صورت میں آئی۔ اس میں بڑی بڑی تجارتی کمپنیاں بنیں جنہوں نے آزاد منڈی کے نظریئے کے تحت بے تحاشا سر مایہ اکٹھا کیا۔ موجودہ دور میں سرمایہ داری نے معاشرے کے ہر شعبے کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ سرمایہ داری\u003cbr\u003eکے اس جارحانہ عمل کو روکنے کے لیے سوشل ازم کا نظریہ آیا تھا مگر وہ سرمایہ داری کا مقابلہ زیادہ\u003cbr\u003eدیر تک نہیں کر سکا۔\u003cbr\u003eاس وقت سرمایہ داری نے جو عالمگیریت حاصل کرلی ہے اُس میں ایشیاء اور افریقہ کے غریب ملکوں کا استحصال ہو رہا ہے۔ اُن کے قدرتی وسائل اور ان کی مارکیٹیں سرمایہ دار ملکوں کی گرفت میں ہیں۔ سرمایہ داری کا یہ نظام غریبوں کے خون و پسینے کی کمائی سے آگے بڑھ رہا\u003cbr\u003eہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نئی ٹیکنا لوجی غریبوں کی نسلوں کا خاتمہ کر کے صرف سرمایہ دار کے\u003cbr\u003eوجود کو باقی رکھے گی۔\u003cbr\u003eان حالات میں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا سوشل ازم ایک نئی توانائی کے ساتھ اُبھر سکے گا اور کیا وہ انسانیت کو سرمایہ داروں کی گرفت سے آزاد کر سکے گا؟\u003cbr\u003eڈاکٹر مبارک علی\u003cbr\u003e2 ستمبر 2024 ء ، لاہور\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646711230498,"sku":null,"price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/IMG-20250118-WA0011_d3932fa7-bcaa-4ace-813e-087cd3a393fd.jpg?v=1766144797"},{"product_id":"quaid-e-azam-kia-they-kia-nahi","title":"Quaid-e-Azam Kia They Kia Nahi","description":"\u003ctable style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\" width=\"780\" cellspacing=\"0\" cellpadding=\"0\" border=\"0\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\" width=\"780\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr style=\"height: 15.0pt;\" height=\"20\"\u003e\n\u003ctd style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\" width=\"780\" align=\"right\" dir=\"RTL\" height=\"20\"\u003eکتاب کا نام: قائداعظم کیا تھے کیا نہیں تھے۔\u003cbr\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی۔\u003cbr\u003eقیمت: 600\u003cbr\u003eمعاشرہ پہلے اپنے ہیروز کی تشکیل کرتا ہے، پھر اُن کی شخصیت کو مقدس بناتا ہے، پھر اُس کے حوالے سے اپنے خیالات اور نظریات کو پیش کر کے انھیں عوام میں مقبول بناتا ہے۔ ہیرو کی شخصیت تمام غلطیوں اور کمزوریوں سے پاک ہو جاتی ہے۔ یہی صورتحال پاکستان میں قائد اعظم محمدعلی جناح کی ہے۔ کبھی اُن\u003cbr\u003eکے نام سے جعلی ڈائری چھپ کر سامنے آئی کبھی اُن سے وہ واقعات منسوب کیے گئے جس سے اُن کا کوئی\u003cbr\u003eتعلق نہیں تھا۔ مثلاً ٹی وی کے ایک اینکر پرسن نے کہا کہ ایک مرتبہ جناح صاحب اسلام آباد کی سائٹ سے گزر رہے تھے تو انھوں نے اشارہ کر کے کہا کہ پاکستان کا دارالخلافہ یہاں بنے گا۔ اب جب علامہ اقبال اور جناح صاحب میں مقابلہ ہوتا ہے تو علامہ اقبال نے جناح صاحب کو مشورہ دیا کہ آپ پاکستان میں سوشل ڈیموکریسی لے کر آئیں یعنی پاکستان کی سیاست میں علامہ اقبال جناح صاحب سے بڑھ کر تھے۔\u003cbr\u003eاس کتاب میں جناح صاحب کی شخصیت کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ مسلم لیگ کی شمولیت سے پہلے\u003cbr\u003eاور بعد میں ۔ پاکستان کے قیام کے بعد اُن کی تبدیل ہوتی سیاست کے بارے ذکر ہے۔ اُن کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے یہ کتاب مفید ہوگی۔\u003cbr\u003eڈاکٹر مبارک علی\u003cbr\u003e2 ستمبر 2024 ، لاہور\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646711263266,"sku":null,"price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/IMG-20250118-WA0024_87212720-fe2b-4c1e-8757-d40e3e2b0e8b.jpg?v=1766144798"},{"product_id":"muhghal-darbar","title":"Muhghal Darbar","description":"\u003ctable style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\" width=\"780\" cellspacing=\"0\" cellpadding=\"0\" border=\"0\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\" width=\"780\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr style=\"height: 15.0pt;\" height=\"20\"\u003e\n\u003ctd style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\" width=\"780\" align=\"right\" dir=\"RTL\" height=\"20\"\u003eکتاب کا نام: مغل دربار۔\u003cbr\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی۔\u003cbr\u003eقیمت: 800\u003cbr\u003eیہ بات 1987ء کی ہے جب نگارشات لاہور نے میری کتاب \"مغل دربار\" کا پہلا ایڈیشن چھاپہ تھا۔ اس کے بعد اس کے مختلف ایڈیشنز شایع ہوتے رہے۔ اب یہ نیا ایڈیشن ترمیم و اضافے کے بعد ایک بار پھر نگارشات سے بہتر شکل میں چھپا ہے۔\u003cbr\u003e\"مغل دربار\" کی اہمیت یہ ہے کہ اس میں دربار کی رسومات، ادب و آداب، مذہبی تہوار کا انعقاد، شاہی خاندان کے جلسے و جلوس، مغل خاندان کی لائبریری اور اُمراء کے ساتھ دربار خاص کی محفلیں، دربار عام میں عام لوگوں کی رسائی، ان سب نے مل کر مغل کلچر کو پیدا کیا تھا۔\u003cbr\u003eاس کے مقابلے میں عام لوگوں کا بازاری کلچر تھا، بازار میں نہ صرف شہر کے لوگ ہوتے تھے بلکہ قصبوں اور گاؤں سے دیہاتی بھی آتے تھے جو اپنی اپنی زبانیں بولتے تھے جبکہ فارسی اشرافیہ کی زبان تھی۔\u003cbr\u003e\"مغل دربار\" کے اد مطالعے سے یہ واضح ہوتا ہے کی اشرافیہ اور عوام میں کلچر کا جو فرق ہے وہ آج بھی جاری ہے۔ آج بھی اشرافیہ عام لوگوں کو اپنی دولت اور شان و شوکت سے متاثر کرتی ہے اور انہیں کمتری کا احساس دلاتی ہے، اس لیے سوال یہ ہے کہ کیا درباری کلچر پر غالب آگیا ہے اور عام لوگوں کو اُن کے بنیادی حقوق سے محروم کر رکھا ہے۔\u003cbr\u003eاب میری تمام کتابوں کی اشاعت آہستہ آہستہ نگارشات کی جانب سے ہوگی لیکن اس کے ساتھ میری نئ کتابیں بھی جو مختلف تاریخی موضوعات پر ہوں گی اُن کی اشاعت بھی ہوتی رہے گی۔\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646711296034,"sku":null,"price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/IMG-20250118-WA0018_5e116cd5-6f4a-4554-9706-96eba5d39999.jpg?v=1766144799"},{"product_id":"jahangir-ka-hindustan","title":"Jahangir Ka Hindustan","description":"\u003ctable style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\" width=\"780\" cellspacing=\"0\" cellpadding=\"0\" border=\"0\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\" width=\"780\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr style=\"height: 15.0pt;\" height=\"20\"\u003e\n\u003ctd style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\" width=\"780\" align=\"right\" dir=\"RTL\" height=\"20\"\u003eکتاب کا نام: جہانگیر کا ہندوستان \u003cbr\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی \u003cbr\u003eقیمت: 600\u003cbr\u003eمغل دور حکومت میں یورپی سیاحوں کی بڑی تعداد آئی۔ان کا مقصد ہندوستان سے تجارت کرنا تھا اور اُن حالات کا جائزہ لینا تھا جو اُن کے لیے سہولت کا باعث ہو۔ لیکن یہ سیاح ہندوستان کے معاشرے، نظام حکومت اور اُس کے تجارتی شہروں کے بارے میں معلومات اکٹھی کرتے تھے۔ جہانگیر یورپی سیاحوں کو خوش آمدید کہتا تھا اور\u003cbr\u003eاُن سے فرمائش کرتا تھا کہ یورپی آرٹسٹوں کی پینٹگز لے کر آئیں جن کا وہ بڑا شائق تھا۔\u003cbr\u003eیورپی سیاحوں کے لیے ہندوستان ایک اجنبی ملک تھا۔ جس کی تہذیب اور کلچر یورپ سے مختلف تھی۔ اس لیے وہ ہندوستانی معاشرے کو ناقدانہ نقطۂ نظر سے دیکھتے\u003cbr\u003eتھے اور یہاں ماحول کا عادی ہونے کے لیے انھیں کافی وقت لگتا تھا۔\u003cbr\u003eواپس جا کر جب یہ ہندوستان کے بارے میں اپنی یادداشتیں لکھتے تھے تو یورپ کے لوگ اُنھیں بڑے شوق سے پڑھتے تھے۔ مسئلہ یہ تھا کہ ہندوستان سے سیاح یورپی ملکوں میں نہیں جاتے تھے۔ اس لیے یورپ کے بارے میں ہندوستان کے لوگوں کو اُن کی تہذیب اور کلچر کے بارے میں بہت کم معلومات تھیں۔\u003cbr\u003eاس مختصر کتاب میں ڈچ سیاح نے جو جہانگیر کے عہد میں ہندوستان آیا تھا یہاں کے رسم ورواج ، نظام حکومت اور لوگوں کی عادات کے بارے میں ذکر کیا ہے۔\u003cbr\u003eڈاکٹر مبارک علی\u003cbr\u003e2 ستمبر 2024ء ، لاہور\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646711328802,"sku":null,"price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/IMG-20250118-WA0014_638f1810-cff6-40e0-a033-b56f9efe8826.jpg?v=1766144800"},{"product_id":"jageerdari","title":"Jageerdari","description":"\u003ctable style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\" width=\"780\" cellspacing=\"0\" cellpadding=\"0\" border=\"0\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\" width=\"780\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr style=\"height: 15.0pt;\" height=\"20\"\u003e\n\u003ctd style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\" width=\"780\" align=\"right\" dir=\"RTL\" height=\"20\"\u003eکتاب کا نام: جاگیر داری\u003cbr\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی \u003cbr\u003eقیمت: 1000\u003cbr\u003eقدیم زمانے میں زرعی زمین کی اہمیت ہوا کرتی تھی ، کیونکہ پیداوار اور لگان آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔ بادشاہ اپنے وفادار اُمرا کو زرعی زمین بطور جا گیر دیا کرتا تھا تا کہ وقت ضرورت وہ اُس کی مالی اور فوجی مدد کرے ۔ مختلف سلطنتوں میں جاگیر کی مختلف شکلیں ہوا کرتیں تھیں۔ کہیں جاگیر موروثی ہوتی تھی جو ایک ہی خاندان کے افراد میں منتقل ہو جاتی تھی۔ اگر جاگیر کے کئی حصے دار ہوتے تھے تو اُسے ان میں تقسیم کر دیا جاتا تھا۔ نتیجہ یہ نکلتا تھا کہ وقت کے ساتھ جاگیردار خاندان کا خاتمہ ہو جاتا تھا۔ اس کو روکنے کے لئے یورپ میں یہ قانون بنایا گیا ، کہ جائیداد کا وارث بڑا لڑکا ہوگا۔\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eہندوستان میں بادشاہ زمین کا مالک ہوتا تھا۔ کسی بھی امیر کو جاگیر خاص وقت کے لئے دی جاتی تھی۔ اُس کی جاگیر کا تبادلہ بھی ہوتا رہتا تھا۔ اُس کے ریٹائر ہونے یا مرنے پر جاگیر دوبارہ سے بادشاہ کے پاس آجایا کرتی تھی۔ لہذا جاگیر داروں کا کوئی مستقل طبقہ نہیں تھا۔\u003cbr\u003e\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003eجب ہندوستان میں برطانوی حکومت قائم ہوئی تو اُس نے جاگیرداروں کا ایک نیا طبقہ پیدا کیا اور جاگیر کونجی بنا دیا گیا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ وفادار جاگیردار طبقہ برطانوی حکومت کا وفادار رہے اور وقت ضرورت اُن کی مالی امداد بھی کرتا رہے۔\u003cbr\u003e\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003eبرصغیر کی تقسیم کے بعد ہندوستان کی حکومت نے جاگیرداری اور مقامی ریاستوں کو ختم کر دیا۔ لیکن پاکستان میں موروثی جاگیردار خاندان باقی رہے جو آج بھی ملک کی سیاست، معیشت اور عام لوگوں پر اپنا تسلط قائم رکھے ہوئے ہیں۔\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646711361570,"sku":null,"price":700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/IMG-20250118-WA0021_eea9d8aa-fbc4-45da-bfb0-1343a9d8280f.jpg?v=1766144800"},{"product_id":"hindustan","title":"Hindustan","description":"\u003ctable border=\"0\" cellpadding=\"0\" cellspacing=\"0\" width=\"780\" style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol width=\"780\" style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr height=\"20\" style=\"height: 15.0pt;\"\u003e\n\u003ctd height=\"20\" dir=\"RTL\" align=\"right\" width=\"780\" style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\"\u003eکتاب کا نام: ہندوستان \u003cbr\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی \u003cbr\u003eقیمت: 1000\u003cbr\u003eہندوستان میں تہذیب کی ابتداء اگرچہ وادی سندھ کی تہذیب سے ہوئی لیکن یہ تہذیب حادثات کے\u003cbr\u003eہاتھوں زوال کا شکار ہو کر مٹی میں مدفون ہو گئی۔ ہندوستان کی تاریخ آریاؤں کی آمد سے شروع ہوتی ہے جو 1500 قبل مسیح میں ہندوستان میں آنا شروع ہوئے تھے ۔ 1920 عیسوی میں جب ہر پہ اور موہنجو داڑو دریافت ہوئے تو تاریخ\u003cbr\u003eکی ابتداء 5000 قبل مسیح سے شروع ہو گئی۔ آریاؤں کی تہذیب کی بنیاد مذہب اور فلسفے پر تھی۔ ان کے ویدک عہد میں مذہبی کتابوں کا ذکر ہے۔ جن سے ان کے مذہبی عقیدے کے بارے میں معلومات ملتی ہیں۔ اسی عہد میں ہندوستان مختلف ریاستوں میں تقسیم ہوا۔ ان کی آپس کی جنگیں تاریخ کا اہم موضوع ہیں۔\u003cbr\u003eتیرویں صدی میں ترکوں نے ہندوستان میں اپنی حکومت قائم کی۔ یہ اپنے ساتھ نیا طرز تعمیر نئی صنعتیں اور آب پاشی کے نئے نظام کو ساتھ میں لائے۔ ترکوں کی حکومت نے ہندوستان کی سیاست کو بدل ڈالا اور ایک لحاظ سے\u003cbr\u003eہندوستان قدیم عہد سے جدید دور میں آیا۔\u003cbr\u003eسلاطین کے بعد ہندوستان میں مغلوں کی حکومت قائم ہوئی۔ مغلوں کے شہنشاہ اکبر نے تمام مذاہب کو آپس میں ملایا اور رواداری کی پالیسی کو اختیار کیا۔ مغل دور ہی میں فتوحات کے ذریعے ہندوستان کو سیاسی طور پر متحد کیا۔ یہ دور اس لحاظ سے قابل ذکر ہے کیونکہ اس میں ادب، آرٹ ہتعمیرات موسیقی اور ادب آداب کی روائتیں قائم ہوئیں ۔\u003cbr\u003eمغل زوال کے بعد یہاں برطانوی حکومت کا قیام عمل میں آیا۔ انگریز اپنے ساتھ یورپی تہذیب اور اس کے علوم وفنون کو اپنے ساتھ لائے ۔ انگریزوں کی آمد نے ہندوستان کے سماج کو بدل ڈالا اور اشرافیہ کا ایک ایسا طبقہ پیدا\u003cbr\u003eہوا جو مغربی تعلیم یافتہ تھا اور مغرب کی تہذیب کو اختیار کر چکا تھا۔ ان کی مدد سے انگریزوں نے ہندوستان پر اپنا تسلط قائم\u003cbr\u003eکیا اور یورپی تہذیب کو ہندوستان میں روشناس کرایا۔ اس نے ہندوستانی سماج کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ جدید طبقہ جو\u003cbr\u003eیورپی تہذیب کا حامی تھا اور اکثریت جو قدامت پرست تھی اور جن کی اپنی ہی دنیا تھی۔ انگریزوں کے جانے کے بعد بھی\u003cbr\u003eبرصغیر ہندوستان میں یہ تقسیم جاری رہی۔\u003cbr\u003e1. Qadeem Hindustan\u003cbr\u003e2. Ohd E Wasta Ka Hindustan\u003cbr\u003e3. Bartanvi Hindustan\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e\n\u003cp\u003e\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646711394338,"sku":null,"price":700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/IMG-20250118-WA0015_64643430-a770-424c-a6e4-e150e4b3938b.jpg?v=1766144801"},{"product_id":"ghulami-aur-nasal-parasti","title":"Ghulami Aur Nasal Parasti","description":"\u003ctable style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\" width=\"780\" cellspacing=\"0\" cellpadding=\"0\" border=\"0\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\" width=\"780\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr style=\"height: 15.0pt;\" height=\"20\"\u003e\n\u003ctd style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\" width=\"780\" align=\"right\" dir=\"RTL\" height=\"20\"\u003eکتاب کا نام: غلامی اور نسل پرستی\u003cbr\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی\u003cbr\u003eقیمت: 600\u003cbr\u003eقدیم زمانے میں جنگی قیدیوں کو غلام بنا لیا کرتے تھے اس لئے یونانی ، رومی اور مسلمانوں میں غلامی کا رواج تھا اور اُس کو اخلاقی طور پر جائز بھی سمجھا جاتا تھا لیکن امریکہ میں غلامی کی ایک اور ہی شکل پیدا ہوئ کیونکہ جو یورپی آبادکار یہاں آئے اُنھوں نے ریڈ انڈینز کی زمینوں پر قبضہ کیا تا کہ وہاں کاشت کاری کر سکیں اس کے لئے اُنھیں بڑی تعداد میں غلاموں کی ضرورت\u003cbr\u003eتھی لہذا یہ غلام افریقہ سے لائے گئے اور یہ ایک انتہائی منافع بخش کاروبار ہو گیا۔\u003cbr\u003eافریقی غلاموں کو جہازوں میں بھر کر لایا جاتا تھا اور جب یہ امریکہ میں کسی بندرگاہ میں پہنچتے تھے تو ان کی گردنوں میں لوہے کے پٹے ڈال دیے جاتے تھے۔ پیروں میں زنجیریں ہوتیں تھیں۔ بندرگاہ سے قریبی شہر تک انھیں پیدل چلا کر لے جایا جاتا تھا۔ شہروں میں غلاموں کی منڈیاں ہوتی تھیں جہاں بڑے کھیتوں کے مالک انھیں خریدنے کے لئے آتے تھے۔ خرید کے وقت بیٹی کو ماں سے، بیٹے کو باپ سے اور شوہر کو بیوی سے جدا کر دیا جاتا تھا۔ اس کے بعد یہ خریدار کی ملکیت ہو جاتے تھے۔ وہ انھیں جنوب کی ریاستوں میں لے جاتے تھے۔ جہاں کاٹن، تمباکو اور گنے کی کاشت ہوتی تھی۔ یہاں یہ صبح سے شام تک کھیتوں میں کام کرتے تھے اور ان کے آرام کا کوئی وقت نہیں ہوتا تھا۔ برطانیہ میں کاٹن کی مانگ بڑھ گئی تھی کیونکہ لیور پول اور مانچسٹر میں کپڑے کی ملیں کپڑا تیار کر کے یورپ اور ایشیا کی منڈیوں میں\u003cbr\u003eفروخت کر رہے تھے۔\u003cbr\u003eچونکہ غلاموں کے ساتھ بے حد ظلم کیا جاتا تھا۔ انہیں اذیتیں دیں جاتی تھیں۔ لوہے کا پٹہ ان کی گردن میں ہوتا\u003cbr\u003eتھا جس پر مالک کا نام درج ہوتا تھا۔ کاٹن کے کھیت میں پھول چننے کے لیے ایک خاص کوٹہ ہوتا تھا۔ اگر وہ پورا نہ ہوتا تو انھیں سزا دی جاتی تھی۔ ان کو سزا دیتے وقت سفید فام مالک کے دل میں کوئی رحم نہیں آتا تھا۔ افریقی غلاموں کے بارے میں خیال یہ تھا کہ ان کی نہ تو کوئی روح ہوتی ہے اور نہ ہی ان میں جذبات اور احساسات ہوتے ہیں۔ اس رویے نے سفید فام لوگوں میں نسلی برتری کو پیدا کیا تاکہ وہ افریقیوں پر اپنا تسلط قائم کرسکیں۔\u003cbr\u003eاگرچہ افریقیوں کو عیسائی تو بنا لیا گیا مگر اس کے باوجود انھیں کمتر ہی سمجھا گیا اور چرچ میں بھی عبادت کے وقت یہ سفید فاموں سے علیحدہ رہتے تھے۔ امریکہ میں افریقی غلاموں نے جس نفرت اور تعصب کو برداشت کیا ہے اُس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔\u003cbr\u003eموجودہ دور میں امریکی افریقی اپنی یاداشتیں لکھ رہے ہیں جن سے سفید فام لوگوں کے رویوں اور رجحانات کا اندازہ ہوتا ہے اور ساتھ ہی میں افریقی اپنے دُکھ بھی اور تعصبات کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ یہ امریکی تاریخ کا ایک دردناک باب ہے۔\u003cbr\u003eڈاکٹر مبارک علی\u003cbr\u003e2 ستمبر 2024ء ، لاہور\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646711427106,"sku":null,"price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/IMG-20250118-WA0012_7d38d51b-d326-4a3f-86cf-349ba0cc9720.jpg?v=1766144802"},{"product_id":"brtanvi-raaj","title":"Brtanvi Raaj","description":"\u003ctable style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\" width=\"780\" cellspacing=\"0\" cellpadding=\"0\" border=\"0\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\" width=\"780\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr style=\"height: 15.0pt;\" height=\"20\"\u003e\n\u003ctd style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\" width=\"780\" align=\"right\" dir=\"RTL\" height=\"20\"\u003eکتاب کا نام: برطانوی راج۔\u003cbr\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی۔\u003cbr\u003eقیمت: 600\u003cbr\u003eپاکستان میں برطانوی راج اور اُس کے اثرات کو پوری طرح سے نہیں سمجھا گیا۔ اس لیے لوگوں میں یہ تاثر ہے کہ برطانوی دور حکومت میں انصاف تھا، لوگوں کے حقوق کا تحفظ تھا اور ریاست کے ادارے جن میں فوج، پولیس اور سیاسی عہد یدار شامل تھے ، وہ عوام کی خدمت کرتے تھے ۔ رشوت اور نمین\u003cbr\u003eمیر با ادارے کم سے کم ملوث تھے۔ سیاسی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے مخبری کے کئی ادارے تھے ۔ عدلیہ آزاد اور خود مختار تھی ۔ ملک میں امن و امان تھا۔ قانون کی بالا دستی تھی۔\u003cbr\u003eبرطانوی حکومت کے بارے میں یہ ایک رومانوی داستان ہے۔ اُس کے جن پہلوؤں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے، وہ ریاست کا جبر تھا۔ آزادی پر پابندیاں تھیں ۔ اپنے اقتدار کے تحفظ کے لیے برطانوی حکومت نے جو اقدامات کیے اُن میں ریاستوں کا خاتمہ تھا۔ معاہدوں کی خلاف ورزیاں تھیں۔ زمینداروں کے طبقے کو تشکیل دینا تھا تا کہ اُس کے ذریعے عام لوگوں کو قابو میں رکھا جائے ۔ ٹیکسوں کی سختی\u003cbr\u003eسے وصولی کی جاتی تھی اور ہندوستان کی دولت کو سمیٹ کر انگلستان لے جایا جاتا تھا۔ ہندوستان کی صنعت و حرفت کو ختم کیا گیا۔ خاص طور سے کپڑے کی صنعت کو تا کہ انگلستان کا مال یہاں فروخت ہو سکے۔ تعلیم کے ذریعے ایک ایسا طبقہ پیدا کیا گیا جس نے حکومت کی مدد کی اور اپنے ہی لوگوں کو اُن کا\u003cbr\u003eغلام بنایا۔\u003cbr\u003eبرطانوی راج کو آج اس لیے یاد رکھا جاتا ہے کیونکہ آزادی کے بعد ہمارے حکمراں طبقے نے ملک کی\u003cbr\u003eاصلاح کے لیے یا اُسے جدید حالات کے لیے تیار نہیں کیا۔ نا اہلی، کرپشن، ذاتی مفادات اور اقتدار کے\u003cbr\u003eغلط استعمال نے معاشرے کو ایک کے بعد ایک بحرانوں میں مبتلا کیا اور اب لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا آزادی نے چند خاندانوں کو فائدہ پہنچایا جبکہ ملک کی اکثریت غربت ، مایوسی اور بے بسی کا شکار ہے۔\u003cbr\u003eڈاکٹر مبارک علی\u003cbr\u003e2 ستمبر 2024 ء ، لاہور\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646711459874,"sku":null,"price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/IMG-20250118-WA0028_e98a08e3-3aee-4986-a893-c0c09a4be8e8.jpg?v=1766144802"},{"product_id":"bare-e-sakheer-mein-musalman-mashra-ka-almia","title":"Bare-e-Saghir mein Musalman Mashra ka Almia","description":"\u003ctable style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\" width=\"780\" cellspacing=\"0\" cellpadding=\"0\" border=\"0\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\" width=\"780\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr style=\"height: 15.0pt;\" height=\"20\"\u003e\n\u003ctd style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\" width=\"780\" align=\"right\" dir=\"RTL\" height=\"20\"\u003eکتاب کا نام: برصغیر میں مسلمان معاشرہ کا المیہ \u003cbr\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی \u003cbr\u003eقیمت: 600\u003cbr\u003eبرصغیر انڈو پاک میں مسلمان بہ حیثیت حملہ آور، تاجر اور مہاجرین کی حیثیت سے آئے۔ یہاں\u003cbr\u003eآباد ہو کر خود کو ہندوستانی بنایا۔ لیکن مسلمان معاشرہ کبھی متحد نہیں رہا۔ ذات پات اور فرقہ وارانہ\u003cbr\u003eشناختوں کی وجہ سے یہ ٹکڑوں میں بٹا رہا۔ جغرافیائی طور پر بھی مختلف علاقوں میں رہنے والے مسلمانوں کی بولی جانے والی زبان اور کلچر میں فرق رہا۔\u003cbr\u003eبرطانوی عہد میں مسلمان را ہنماؤں نے کوشش کی کہ مذہب کی بنیاد پر ان کو متحد کیا جائے لیکن\u003cbr\u003eاسی کے ساتھ ان میں عالم اسلام سے تعلق کی ابتداء ہوئی۔ جس کی وجہ سے ہندوستان کے مسلمانوں\u003cbr\u003eنے بھی خود کو وہابی تحریک میں الجھایا اور کبھی خلافت تحریک میں حصہ لیا۔ اس کی وجہ سے یہ ذہنی طور پر سیاسی انتشار کا شکار ہو گئے۔ اس کے علاوہ مسلم شناخت اور ہندوستانی شناخت کے درمیان کوئی فیصلہ نہ کر سکے۔ اس مختصر کتاب میں اسی ذہنیت کا تجزیہ کیا گیا ہے۔\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646711492642,"sku":null,"price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/IMG-20250118-WA0025_0e9cdaaf-ff12-478f-9133-88ea857b12fa.jpg?v=1766144803"}],"url":"https:\/\/www.onlineurdubazar.pk\/collections\/history-books-urdu.oembed?page=10","provider":"Online Urdu Bazar","version":"1.0","type":"link"}