{"title":"Philosophy","description":"","products":[{"product_id":"being-and-nothingness","title":"Wajood Aur Adam","description":"\u003cp\u003eBeing \u0026amp; Nothingness بلا شبہ 20ویں صدی کی سب سے اہم فلسفیانہ کتابوں میں سے ایک ہے۔ صدی کے سب سے زیادہ بااثر مفکرین میں سے ایک کا مرکزی کام، اس نے مغربی فلسفے کا رخ بدل دیا۔ اس کے انقلابی انداز نے دنیا کے ساتھ فرد کے تعلقات کے بارے میں سابقہ ​​تمام مفروضوں کو چیلنج کیا۔ 'وجود کی بائبل' کے نام سے جانا جاتا ہے، ثقافت اور ادب پر ​​اس کا اثر فوری طور پر ہوا اور اسے دنیا بھر میں محسوس کیا گیا، سیموئیل بیکٹ کے مضحکہ خیز ڈرامے سے لے کر بیٹ شاعروں کی روح کو تلاش کرنے والی پکار تک۔\u003cbr\u003eBeing \u0026amp; Nothingness ان نایاب کتابوں میں سے ایک ہے جس کے اثرات نے آنے والی نسلوں کی ذہنیت کو متاثر کیا۔ اس کی پہلی اشاعت کے ستر سال بعد، اس کا پیغام ہمیشہ کی طرح قوی ہے - قارئین کو انسانی آزادی، انتخاب، ذمہ داری اور عمل کے بنیادی مخمصوں کا مقابلہ کرنے کے لیے چیلنج کرتا ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Jean-Paul Sartre","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646705594402,"sku":null,"price":2200.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Wajood_Aur_Adam_by_Jean-Paul_Sartre.jpg?v=1766144579"},{"product_id":"marxism-tareekh-jisko-radd-kar-chuki-hai","title":"Marxism: Tareekh Jisko Radd Kar Chuki Hai","description":"\u003ch5 class=\"product-title urdufont\"\u003eمارکسزم صرف ایک اقتصادی تدبیر نہیں ہے، بلکہ وہ اقتصادیات کے حوالے سے انسان کی پوری زندگی کے لیے ایک فلسفے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اپنی غیرفطری بنیاد کی بنا پر وہ امکانی طور پر اپنے آغازہی میں قابل رد تھا۔ اب وہ واقعہ کے طور پر قابل رد قرار پاچکا ہے۔ زیر نظر کتاب میں یہ حقیقت مارکس ازم کے زوال سے 35 سال پہلے بیان کی گئی تھی۔\u003c\/h5\u003e","brand":"Wahiduddin Khan","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646710444066,"sku":null,"price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/WhatsAppImage2025-01-21at7.13.40PM_1_f4df9ca4-16f6-4cf9-8a0f-919f66735d16.jpg?v=1766144773"},{"product_id":"tehzeeb-ki-kahani","title":"Tehzeeb ki Kahani","description":"\u003ctable border=\"0\" cellpadding=\"0\" cellspacing=\"0\" width=\"780\" style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol width=\"780\" style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr height=\"20\" style=\"height: 15.0pt;\"\u003e\n\u003ctd height=\"20\" dir=\"RTL\" align=\"right\" width=\"780\" style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\"\u003eکتاب کا نام: تہذیب کی کہانی \u003cbr\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی \u003cbr\u003eقیمت: 900\u003cbr\u003eمؤرخوں نے تہذیب کی بنیاد اور ترقی کو سمجھنے کے لیے اُسے مختلف ادوار میں تقسیم کیا ہے۔\u003cbr\u003eپہلا زمانہ پتھر کا کہلاتا ہے۔اس میں انسان نے پتھر کے ہتھیار بنا کر\u003cbr\u003eاور اُن سے شکار کر کے اپنی غذا حاصل کی ۔\u003cbr\u003eدوسرا کانسی کا زمانہ کہلاتا ہے۔ اس میں ترقی کرتے ہوئے ریاست کی بنیاد ڈالی گئی۔ اُس کے ادارے قائم ہوئے اور معاشرے کو متحد کر کے قانون کے ذریعے ان پر حکومت کی گئی۔ یہ عہد اس لیے بھی قابل ذکر ہے کیونکہ اس میں رسم الخط\u003cbr\u003eکی ابتدا ہوئی جس نے تاریخ اور تہذیب کے بارے اہم معلومات فراہم کیں ۔\u003cbr\u003eتیسرا عہد لوہے کا زمانہ کہلاتا ہے۔ اس میں بڑی سلطنتیں وجود میں\u003cbr\u003eآئیں اور سیاسی نظام مستحکم بنیادوں پر قائم ہوا۔ حکمراں کو بے حد اختیارات ملے۔ اسی عہد میں فلسفہ تھیڑ ، رقص اور موسیقی اپنی پختگی کو پہنچے ۔ جن ملکوں نے ترقی کی تھی وہ مہذب کہلائے اور جو پسماندہ رہ گئے تھے انھیں بار بیرین کہا گیا۔\u003cbr\u003eتہذیب کی اس کہانی سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ انسانی ذہن ہمیشہ غور وفکر کے بعد اپنے ماحول کو بدلتا رہا ہے۔ دنیا ایک جگہ ٹھہری ہوئی نہیں رہی ہے۔ انسانی ذہن آج بھی\u003cbr\u003eنئی ایجادات اور افکار کے ذریعے ایک نئی دنیا کو جنم دے رہا ہے۔\u003cbr\u003e1. Pathar Ka Zamana\u003cbr\u003e2. Kansi Ka Zamana\u003cbr\u003e3. Lohay Ka Zamana\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646710902818,"sku":null,"price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/IMG-20250118-WA0020_7bec5901-b936-4890-9e85-df6a2b6bd50b.jpg?v=1766144792"},{"product_id":"tarikh-or-falsafa-e-tarikh","title":"Tarikh or Falsafa E Tarikh","description":"\u003ctable style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\" width=\"780\" cellspacing=\"0\" cellpadding=\"0\" border=\"0\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\" width=\"780\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr style=\"height: 15.0pt;\" height=\"20\"\u003e\n\u003ctd style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\" width=\"780\" align=\"right\" dir=\"RTL\" height=\"20\"\u003eکتاب کا نام: تاریخ اور فلسفہ تاریخ\u003cbr\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی\u003cbr\u003eقیمت: 1000\u003cbr\u003eتاریخ اور فلسفہ تاریخ پر میرے یہ مضامین تین کتابوں پر\u003cbr\u003eبکھرے ہوئے تھے یعنی تاریخ کیا ہے؟ تاریخ اور روشنی اور تاریخ کے نظریات۔ ان مضامین کو اس لیے یکجا کیا کہ یہ ایک ہی مفہوم کے حامل ہیں اور ایک جگہ پڑھنے سے (اگر چہ بعض جگہ کچھ باتیں دہرائی ہوئی ملیں گی ) تاریخ کو سمجھنے میں آسانی ہوگی ۔ ایک چیز کا ذکر میں خاص طور سے کرنا چاہتا ہوں کہ میری اولین کتاب ” تاریخ کیا ہے ؟ تھی۔ اس وقت تک میرا یہ خیال تھا کہ انسان تاریخ سے کچھ نہیں سیکھتا ہے کیونکہ جن غلطیوں کو وہ بار بار دہراتا ہے وہ اس بات کی تصدیق ہے مگر جب تاریخ کا اور مطالعہ کیا تو اس نتیجہ پر پہنچا کہ انسان تاریخ سے ضرور سیکھتا ہے اور اس میں تاریخ کے ذریعہ آگہی و شعور پیدا ہوتا ہے اور وہ اس کو اپنی زندگی میں استعمال بھی کرتا ہے۔ یہ بات ضرور صحیح ہے کہ جو تاریخ سے ناواقف ہوتے ہیں، وہ غلطیوں کو بار بار دہراتے ہیں۔\u003cbr\u003eاس لیے ضروری یہ ہے کہ تاریخ کو سچائی کے ساتھ پڑھا جائے کیونکہ اگر اس کو مسخ کر کے اور اپنی مرضی کے مطابق پڑھا جائے گا تو وہ غلط راستہ پر ہی لے جائے گی اور اس کے نتیجہ میں انھیں غلطیوں کو دہرایا جائے گا۔ تنقیدی و تجزیاتی تاریخ، جو کمزوریوں سے پردہ اٹھائے ، وہ صحیح راستہ متعین کرنے میں مدد دے گی۔\u003cbr\u003eاس لیے یہ کہنا کہ تاریخ سے انسان کچھ نہیں سیکھتا ، غلط ہے۔ انسان جب ہی تاریخ سے سیکھتا ہے کہ جب تاریخ کو سچائی کے ساتھ لکھا جائے۔\u003cbr\u003eاس کی مثال ہماری تاریخ سے دی جاسکتی ہے کہ جسے یک طرفہ ہاتھ سے ایک ہی نظریہ کے تحت لکھا جا رہا ہے اور اس میں کوئی تنقیدی اور تجزیاتی عصر نہیں ہے، ہمارے تمام راہنما غلطیوں سے پاک ومبرا تھے ظاہر ہے کہ تاریخ تو لوگوں کو سکھانے کے بجائے گمراہ کرے گی۔\u003cbr\u003eیہ کتاب طالب علموں کے لیے بھی ہے اور عام قارئین کے لیے بھی ، یہ دانشوروں کے لیے نہیں ہے کہ وہ پہلے سے سب کچھ جانتے ہیں اور میری کوئی خواہش نہیں کہ ان کے علم میں اضافہ کروں ۔ میں اپنے دوستوں اور پڑھنے والوں کا مشکور ہوں کہ وہ مجھے اپنے مشوروں سے نوازتے رہتے ہیں۔\u003cbr\u003eڈاکٹر مبارک علی\u003cbr\u003e2 ستمبر 2024ء ، لاہور\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646710968354,"sku":null,"price":750.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/IMG-20250118-WA0010_56d52abb-2bbc-4e0b-afb0-3031dd904bdb.jpg?v=1766144793"},{"product_id":"مشل-فوکو-طاقت-اساس-فلسفہ-خرم-شہزاد","title":"مشل فوکو | طاقت اساس فلسفہ | خرم شہزاد","description":"\u003cdiv class=\"xdj266r x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eمشل فوکو نے 'دیوانگی' ، 'جرم اور 'جنسیات' جیسے اہم مظاہر کی موجودگی سے انکار نہیں کیا تھا بلکہ اس کا مقصد تھا کہ فرد کے اُس وجود کو تحفظ فراہم کیا جائے جو سماجی تشکیلات کی زد پر رہتا ہے۔ کیوں کہ ساجی تشکیلات تو بدلتی رہتی ہیں۔ ان کا دارو مدار طاقت کے پیچیدہ جال پر ہوتا ہے۔ البتہ وہ زندگیاں جو تاریک راہوں میں خاموشی کی نذر ہو گئیں ( کسی طور ) اُن کا مداوا ممکن ہو۔ کم از کم اتنا تو ہو کہ خاموش ہو جانے والوں کی خاموشی کو مفہوم ملے۔ لہذا یہ بات بھی غنیمت بن جاتی ہے کہ فلسفیانہ\u003cspan\u003e \u003c\/span\u003e\u003cspan class=\"html-span xdj266r x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r xexx8yu x4uap5 x18d9i69 xkhd6sd x1hl2dhg x16tdsg8 x1vvkbs\"\u003e\u003c\/span\u003eاقلیم میں تاریک راستوں کو روشن کر دیا جائے تا کہ سماجی تشکیلات اور اُن کے پس منظر میں کارفرما طاقت کے رشتے واضح ہو جائیں۔ اس کے علاوہ یہاں موضوع بننے والے تجزیے کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ عموماً تاریخ کو ارتقائی عمل کے طور پر لیا جاتا ہے۔ یعنی تسلیم کر لیا جاتا ہے کہ انسان نے عہد بہ عہد ترقی کی ہے۔ گویا پہلے اگر انسانوں کو زنجیروں میں جکڑا جاتا تھا تو آج زنجیریں کٹ چکی ہیں۔ تاہم فو کونے جدید دور سے منسوب آزادی کی ماہیت پر توجہ دلائی۔ یہ بتایا کہ زنجیروں اور سلاخوں سے بدتر وہ عذاب ہے جو مختلف سوچ رکھنے والے افراد کو تنہائی اور خاموشی کی صورت میں جھیلنا پڑتا ہے۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003e___________________________________________\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eخرم شہزاد نو جوان نقاد، مترجم اور افسانہ نگار ہیں لیکن ان کی بنیادی شناخت ایک نقاد کی ہے۔ مابعد جدید تنقیدی تھیوری ان کی دلچسپی کا موضوع ہے۔ وہ ان موضوعات کے بنیادی ماخذات تک رسائی رکھتے ہیں۔ اُن کا پی ایچ ڈی کا مقالہ ژاک دریدا کا تحریر اساس فلسفہ تھا جو انڈیا اور پاکستان سے کتابی صورت میں شائع ہو چکا ہے۔ انھوں نے دریدا کے ایک طویل مضمون کا ترجمہ انسانی علوم کے کلامیے میں ساخت، نشان اور کھیل کے عنوان سے کیا۔ خرم شہزاد آج کل شعبہ اردو، گورنمنٹ گریجویٹ کالج قادر پوررال ( ملتان ) میں تدریسی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eمشل فوکو\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eطاقت اساس فلسفہ\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eصفحات 152\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Khurram Shehzad","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646711820322,"sku":null,"price":550.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}]},{"product_id":"wajodiyat-aur-insan-dosti-falsfa","title":"Wajodiyat aur Insan Dosti Falsfa - وجودیت اور انسان","description":"\u003cp align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eمعاصر فلسفیانہ تحریکوں میں سے وجودیت کے بارے میں غالبا سب سے زیادہ غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو اس کی وسیع تر مقبولیت ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ عام طور پر اسے فکری انداز کی بجائے ادبی حوالے سے سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eاپنی محدود ترین تشکیل میں وجویت ایک ایسا ما بعد الطبیعیاتی نظریہ جو یہ دعوی کرتا ہے کہ فرد کے جوہر کا تعین اس کے وجود کے اظہار کے بعد ممکن ہے۔ یہ نظریہ فرد کی آزادی کا اعلان کرتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eوجودی فکر کا آغاز ژاں پال سارتر سے نہیں ہوا۔ اس سے پہلے بھی فلسفہ اور مذہب میں اس فکر کے منابع موجود تھے لیکن وجودیت کی عام مقبولیت بہر طور سارتر کی مرہون منت ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eیہاں سارتر کے شہرہ آفاق خطبے\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e L, EXISTENTIALISME EST UN HUMANISME \u003cspan dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eکا اردو ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کا اردو ترجمہ قاضی جاوید نے کیا ہے۔ سارتر نے یہ خطبہ 1945 میں پیرس کے ایک کلب میں دیا تھا۔ اس میں وجودیت کا دفاع انسان دوستی کے سچے نظریے کے طور پر کیا گیا ہے۔ فرانسیسی زبان میں یہ خطبہ پہلی بار 1946 میں شائع ہوا تھا۔ انگریزی میں \"وجودیت اور انسان دوستی\" کے عنوان سے اس کا ترجمہ فلپ میرٹ نے کیا جو امریکہ میں صرف \"وجودیت\" کے عنوان سے شائع ہوا۔ اردو ترجمہ میرٹ کے انگریزی ترجمے پر مبنی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Jean-Paul Sartre","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646731612194,"sku":null,"price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Wajodiyat-aur-Insan-Dosti-Falsfa-200_823790e3-fd73-431f-a3f0-e66ba7d34e09.jpg?v=1766145410"},{"product_id":"4-philosophers","title":"4 Philosophers","description":"\u003cdiv class=\"post-excerpt\"\u003e\n\u003cp\u003eسقراط (فلسفے کی دنیا کے ایک جلیل القدرمعلم)1\u003cbr\u003eارسطو (مفکر اول سیاسیات،بابائےسیاسیات)2\u003cbr\u003eافلاطون (عظیم فلسفی اور نژر نگار)3\u003cbr\u003e4 بقراط صفحات 160\u003cbr\u003eمصنف: علیم اللہ , ڈاکٹر شاہد مختار\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003ePaper: Local\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eBinding: Hard\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Aleem Ullah","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646773325858,"sku":null,"price":2000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/4_Philosophers_Set.jpg?v=1777215231"},{"product_id":"logon-ko-sochny-do","title":"لوگوں کو سوچنے دو | Logo Ko Sochany Do | Qazi Javed","description":"\u003cdiv class=\"\" data-block=\"true\" data-editor=\"8slud\" data-offset-key=\"9qo45-0-0\" data-mce-fragment=\"1\" style=\"text-align: right;\"\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"9qo45-0-0\" class=\"_1mf _1mk\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"9qo45-0-0\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eبرٹرینڈ رسل کو آپ کے فلسفے کی تاریخ کا آخری بڑا فلسفی قرار دے سکتے ہیں۔ زندگی میں ہی اس کی شہرت تمام براعظموں تک پھیل گئی تھی اس کی شہرت صرف علمی اور فکری حلقوں تک محدود نہ رہی تھی بلکہ ارباب ادب و فن اور تعلیم یافتہ عوام تک بھی پہنچی تھی۔ رسل کی تحریروں کو چاہنے والوں کے علاوہ ان کی مخالفت کرنے والے بھی ہر جگہ موجود تھے۔ بہت سے ایسے لوگ تھے جو رسل کو بیسویں صدی کے ضمیر کی آواز سمجھتے تھے اور اس کو تہذیب اور انسانیت کا نمائندہ خیال کرتے تھے۔ اس کی وفات کے لگ بھگ نصف صدی بعد کسی اور فلسفی کو یہ اعزاز اور یہ مقبولیت حاصل نہیں ہوئی ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"\" data-block=\"true\" data-editor=\"8slud\" data-offset-key=\"e0g4k-0-0\" data-mce-fragment=\"1\" style=\"text-align: right;\"\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"e0g4k-0-0\" class=\"_1mf _1mk\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"e0g4k-0-0\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eبرٹرینڈرسل کی زیر نظر کتاب چند مضامین کا مجموعہ ہے جو مذہب اور انسانی زندگی میں اس کے کردار پر رسل کے خیالات کی ترجمانی کرتے ہیں.\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"\" data-block=\"true\" data-editor=\"8slud\" data-offset-key=\"2khqk-0-0\" data-mce-fragment=\"1\" style=\"text-align: right;\"\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"2khqk-0-0\" class=\"_1mf _1mk\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"2khqk-0-0\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cbr data-text=\"true\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"\" data-block=\"true\" data-editor=\"8slud\" data-offset-key=\"9far2-0-0\" data-mce-fragment=\"1\" style=\"text-align: right;\"\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"9far2-0-0\" class=\"_1mf _1mk\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"9far2-0-0\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eلوگوں کو سوچنے دو | برٹرینڈرسل\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"\" data-block=\"true\" data-editor=\"8slud\" data-offset-key=\"632u9-0-0\" data-mce-fragment=\"1\" style=\"text-align: right;\"\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"632u9-0-0\" class=\"_1mf _1mk\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"632u9-0-0\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eترجمہ قاضی جاوید\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"\" data-block=\"true\" data-editor=\"8slud\" data-offset-key=\"62jod-0-0\" data-mce-fragment=\"1\" style=\"text-align: right;\"\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"62jod-0-0\" class=\"_1mf _1mk\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"62jod-0-0\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eصفحات | 224\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"\" data-block=\"true\" data-editor=\"8slud\" data-offset-key=\"30s5c-0-0\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003c\/div\u003e","brand":"Bertrand Russell","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646931955746,"sku":"9789695622537-","price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/BeyondGoodAndEvil_10_d76d5430-c681-4e7a-af68-682ac59cf90a.png?v=1766148632"},{"product_id":"falsafa-kya-hy","title":"فلسفہ کیا ہے ؟ ایک نیی مادی تعبیر |  Falsafa Kaya hay ? | Ashfaq Salim Mirza","description":"\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eفلسفہ کیا ہے ( ایک نئی مادی تعبیر)\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eمصنف | اشفاق سلیم مرزا\u003c\/div\u003e","brand":"Ashfaq Saleem Mirza","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646932512802,"sku":"9789695622537-5-111","price":300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Falsafa-Kya-Hai-ek-nai-maddi-tabeer-Copy-scaled_8026149c-da0a-4e0e-8480-92ef9561508e.jpg?v=1766148653"},{"product_id":"falsafa-kia-hy","title":"فلسفہ کیا ہے ؟ | Falsafa Kaya hay ? | Taqi Haider","description":"\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eفلسفہ کیا ہے؟ | ?Falsafa kya hai\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eگالینا کیریلنکو،\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eلیدیا کورشنووا،\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eترجمہ: تقی حیدر\u003c\/div\u003e","brand":"Noori Sons","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646934577186,"sku":"9789695622537-5-1-2-1-3-1-1-2-1-1-2-7-2-8-2-6-1-15-7-1-1-1-3-4-4-2","price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Falsafa-Kya-Hai-scaled_92dc66ad-ca1a-4328-8e96-05b8eea255f4.jpg?v=1766148705"},{"product_id":"falsafa-e-mazahib","title":"فلسفہ مذاہب | Falsafah Mazahib | Yasir Jawad","description":"\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eنام کتاب | فلسفہ مذاہب\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eاز | امولیہ انجن مہاپتر\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eترجمہ : یاسر جواد\u003c\/div\u003e","brand":"Noori Sons","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646936182818,"sku":"9789695622537-5-1-2-1-3-1-1-2-1-1-2-7-2-8-2-6-1-12","price":300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/BertrandRussell_18_c052e0fd-16f7-4c20-97e8-11b7eb15b2fe.jpg?v=1766148750"},{"product_id":"مارکسی-فلسفہ","title":"مارکسی فلسفہ | Marksi Philosopha","description":"\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eنام کتاب: مارکسی فلسفہ\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eمصنف: سید سجاد ظہیر\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eصفحات: 72\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eبشکریہ سائیں نعمان ظہور (فکشن ہاوس)\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eسجاد ظہیر کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ادب کے سنجیدہ طالب علموں کےلیے۔۔ مارکسی فلسفہ گو کہ بہت مختصر سی کتاب ہے صرف بہتر صفحات ہیں لیکن اپنی اہمیت کے لحاظ سے بہت سی بھاری کتب سے بہتر ہے۔۔\u003c\/div\u003e","brand":"Syed Sajjad Zahir","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646936903714,"sku":"9789695622537--8-3","price":300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/BeyondGoodAndEvil_9.png?v=1766148771"},{"product_id":"جدید-مغربی-فلسفہ","title":"جدید مغربی فلسفہ | Jadid Magrbi Falsfah","description":"\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eجدید مغربی فلسفہ\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eقاضی جاوید\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003c\/div\u003e","brand":"Qazi Javed","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646938411042,"sku":"9789695628447-4-1-4","price":150.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Jadeed-Maghrabi-Falsafa-Copy-scaled_a9aa6002-694f-463b-a8f3-a04a8bdcbc20.jpg?v=1766148813"},{"product_id":"sikh-history-from-persian-sources","title":"ریاست | Riyasat","description":"\u003cp\u003eافلاطون دُنیا کا وہ عظیم فلسفی ہے جس کا نام تقریباً ڈھائی ہزار سال گزر جانے کے باوجود بھی دُنیا کے ہر خطے میں جانا پہچانا جاتا ہے۔ اس نے اپنی شہرۂ آفاق تصنیف ’’ریاست‘‘ میں ایک فلسفی حکمران کا نظریہ پیش کیا ہے۔ وہ انصاف اور علم کو سب سےبڑی خوبی اور صفت مانتا ہے اور موت کے بعد کی زندگی کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔ اس کتاب میں ہمارے لیے ایک ایسی مثالی ریاست کا نقشہ پیش کیا گیا ہے جہاں انصاف اور علم کی حکمرانی ہے۔ دُنیا کی کوئی زبان ایسی نہیں جس میں ’’ریاست‘‘ کا ترجمہ نہ ہوا ہو اور اس پر فلسفیوں اور دانشوروں نے اپنے خیالات کا اظہار نہ کیا ہو۔ برٹرینڈ رسل نے لکھا تھا کہ اتنی صدیاں بیت گئیں لیکن انسانی فکر و دانش پر افلاطون اور ارسطو کے خیالات و افکار اتنے گہرے ہیں کہ انھیں انسانی فکر کی مرکزیت حاصل ہو چکی ہے۔ افلاطون اور ’’ریاست‘‘ ہر دور میں موضوعِ بحث رہے ہیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e’’ریاست‘‘ دس ابواب یا حصوں پر مشتمل ہے جن کو کتابوں (Books) كا نام ديا گيا هے۔ افلاطون کے پورے فلسفے اور بالخصوص ’’ریاست‘‘ میں افلاطون ہر ایسا سوال اٹھاتا ہے جس کا کسی نہ کسی صورت میں انسان کو اپنی زندگی میں سامنا کرنا پڑتاہے ۔ وہ حیات بعد الممات کے مسئلے کو بھی اپنی آخری کتاب میں پیش کرتا ہے۔ افلاطون کے ساتھ اختلاف ممکن ہے اور اختلاف کیا بھی گیا ہے مگر افلاطون کا کمال یہ ہے کہ وہ جو سوال اٹھاتا ہے اس کا واضح ثبوت بھی فراہم کرتا ہے۔ وہ ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ ہم کس طرح صحیح معنوں میں فکری انداز میں اپنے آپ کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ ’’ریاست‘‘ کے حوالے سے وہ انصاف کی روح کو تمام انسانوں میں زندہ کرنا چاہتا ہے۔ وہ علم اور نیکی کی تلقین کرتا ہے اور ایک ایسی ریاست کا نقشہ پیش کرتا ہے جو عملی طور پر تو کبھی قائم نہیں ہوئی لیکن جس کے خصائص اور عناصر کو اگر انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنا لیا جائے تو انسانی زندگیوں میں ایک مثبت تبدیلی واقع ہو سکتی ہے۔ ’’ریاست‘‘ کا مطالعہ ایک بہت بڑے تجربے کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس نے بنی نوعِ انسان کے افکار پر گہرے اثرات مرتّب کیے ہیں اور یہ بھی وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ ’’ریاست‘‘ کو ہمیشہ پڑھا جاتا رہے گا اور اس سے دُنیا ہمیشہ فیض اٹھاتی رہے گی۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eUrdu Translation of The Republic\u003c\/p\u003e","brand":"Plato","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646938574882,"sku":"9789695623436","price":750.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Republic-Copy-scaled_a1da54cf-5d40-4bec-be46-747e05cd9b68.jpg?v=1766148817"},{"product_id":"مارکسی-فلسفہ-اور-جدید-سائنس","title":"مارکسی فلسفہ اور جدید سائنس | Reason in Revolt","description":"\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eمارکسی فلسفہ اور جدید سائنس | Reason in Revolt\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eایلن ووڈز\/ٹیڈ گرانٹ\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eترجمہ :ابو فراز\u003c\/div\u003e","brand":"Noori Sons","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646952501282,"sku":null,"price":750.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/FB_IMG_1545720888411_0ae11334-3b1f-4b25-bbfc-71cc06feb323.jpg?v=1766149071"},{"product_id":"بھگت-کبیر-فلسفہ-و-شاعری","title":"بھگت کبیر فلسفہ و شاعری | Bhagat Kabeer","description":"\u003cdiv data-mce-fragment=\"1\" dir=\"auto\"\u003eBhagat Kabeer\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv data-mce-fragment=\"1\" dir=\"auto\"\u003eby Hari Odh\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv data-mce-fragment=\"1\" dir=\"auto\"\u003eبھگت کبیر\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv data-mce-fragment=\"1\" dir=\"auto\"\u003eفلسفہ و شاعری\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv data-mce-fragment=\"1\" dir=\"auto\"\u003eتالیف: ہری اودھ\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv data-mce-fragment=\"1\" dir=\"auto\"\u003e\n\u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003ca data-mce-fragment=\"1\" tabindex=\"-1\" data-mce-tabindex=\"-1\"\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003eصفحات | 388، مجلد کوالٹی\u003c\/div\u003e","brand":"Hari Odh","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646962233378,"sku":null,"price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/bhagttkabir.jpg?v=1766149285"},{"product_id":"فلسفہ-اخلاق-کے-عناصر","title":"فلسفہ اخلاق کے عناص | Falsfa ikhlaq K Unasir | Umer Adil","description":"\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eنام کتاب : فلسفہ اخلاق کے عناصر\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eاز : جیمز ریچلز \/ اسٹوارٹ ریچلز\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eترجمہ : عمر عدیل\u003c\/div\u003e","brand":"Noori Sons","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646962364450,"sku":null,"price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/TheElementsofMoralPhilosophy_ba8abd74-3cb4-4fe2-a340-dc199145bd56.jpg?v=1766149290"},{"product_id":"مبادیات-منطق-و-علوم-فلسفہ-mubadiyat-mantaq-o-falsfa","title":"مبادیات منطق و علوم فلسفہ | Mubadiyat Mantaq O Falsfa","description":"\u003cdiv style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003eمبادیات منطق و علوم فلسفہ\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003eمنطق | فلسفیانہ تحریکیں | نظریات | فلسفہ ہند\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003eتحقیق و تدوین | حکیم عبدالرؤف کیانی\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e","brand":"Noori Sons","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646962593826,"sku":null,"price":300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/BasicsofLogicandPhilosophyFinal_ebc63389-78b9-4306-abc6-bd8b83abbaab.jpg?v=1766149294"},{"product_id":"مارکسی-فلسفہ-marksi-philosophy-سرمایہ-sarmaya-karl-marx","title":"مارکسی فلسفہ | Marksi Philosophy  | سرمایہ | Sarmaya | Karl Marx","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eمارکسی فلسفہ | Marksi Philosophy \u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eسرمایہ | Sarmaya | Karl Marx\u003c\/p\u003e\n\u003c!----\u003e","brand":"Noori Sons","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646982058018,"sku":null,"price":700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/CarlMArxSet_ec8bcc19-1307-42e9-8bab-0a8d308257e1.jpg?v=1766149703"},{"product_id":"freued-k-mazamin","title":"Freud K Mazamin","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eبنیادی طور پر یہ مضامین فرائڈ کے وسیع تر اور اطلاقی نظریات کا نتیجہ ہیں جن میں اس نے تحلیلِ نفسی کی طویل تحقیق سے ثابت ہونے والے نتائج کا اطلاق نفسیات کے علاوہ زندگی کے بعض دیگر شعبوں پر بھی کیا ہے جن میں مذہب، معاشرت، بشریات، ادب اور فلسفہ شامل ہیں.\u003cbr\u003eزیرِ نظر کتاب کے پہلے تین مضامین یعنی \"ایک فریب کا مستقبل\"، ٹوٹم اینڈ ٹیبو\" اور\" موسیٰ اور مذہبِ توحید\" خالصتاً فرائڈ کے مذہبی نظریات کا احاطہ کرتے ہیں.\u003cbr\u003e\" گروپ سائیکالوجی اور ایگو کا تجربہ\" ایک طویل مضمون ہے. اس میں فرد کی نفسیات کا اطلاق گروہ پر کر کے دور رس نتائج اخذ کئے گئے ہیں۔\u003cbr\u003eاس میں فرائڈ نے تنویم، اثر پزیری اور عشق کا باہمی ربط جس قدر دلکش پیرائے میں بیان کیا ہے وہ اس تحریر کو نفسیات کے دائرے سے نکال کر ادبِ عظیم کے درجے پر فائز کرنے کے لئے کافی ہے۔ خاص طور پر اس کا یہ کہنا کہ سماجی انصاف کا مقصد دوسروں کو یکساں حقوق دلانا نہیں بلکہ بہت سی ایسی مراعات سے محروم رکھنا ہے جنہیں ہم خود نہیں پا سکتے.\u003cbr\u003e\"جنگ اور موت سے متعلق کچھ خیالات\" پر مبنی مضمون پہلی جنگ عظیم کے دوران تحریر کیا گیا جس میں جنگ کے دوران انسان کی اخلاقی گراوٹ کی نفسیاتی وجوہ بیان کی گئی ہیں۔\u003cbr\u003eاس سلسلے کا آخری انتخاب یعنی \"جنگ کیوں\" فرائڈ اور آئن سٹائن کی باہمی خط و کتابت پر مشتمل ہے۔\u003cbr\u003eکتاب کے ابتداء میں فرائڈ کا مختصر سوانخی خاکہ اور عمومی خیالات کا مجموعی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eفرائڈ کے مضامین.\u003cbr\u003eترجمہ ڈاکٹر ثوبیہ طاہر.\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e \u003c\/p\u003e","brand":"Sigmund Freud","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44651868061730,"sku":null,"price":700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Freued-K-Mazamin-800_33db1e04-7f3d-4427-91f5-a35ec66dfbde.jpg?v=1766150683"},{"product_id":"main-maseehi-kyon-nahi","title":"میں مسیحی کیوں نہیں؟ | Mein Msihi Ku Nahi? | Bertrand Russell","description":"\u003cdiv class=\"m8h3af8h l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf n3t5jt4f\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 115%; font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003eبرٹرینڈ رسل کو آپ کے فلسفے کی تاریخ کا آخری بڑا فلسفی قرار دے سکتے ہیں۔ زندگی میں ہی اس کی شہرت تمام براعظموں تک پھیل گئی تھی اس کی شہرت صرف علمی اور فکری حلقوں تک محدود نہ رہی تھی بلکہ ارباب ادب و فن اور تعلیم یافتہ عوام تک بھی پہنچی تھی۔ رسل کی تحریروں کو چاہنے والوں کے علاوہ ان کی مخالفت کرنے والے بھی ہر جگہ موجود تھے۔ بہت سے ایسے لوگ تھے جو رسل کو بیسویں صدی کے ضمیر کی آواز سمجھتے تھے اور اس کو تہذیب اور انسانیت کا نمائندہ خیال کرتے تھے۔ اس کی وفات کے لگ بھگ نصف صدی بعد کسی اور فلسفی کو یہ اعزاز اور یہ مقبولیت حاصل نہیں ہوئی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 115%; font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 115%; font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003eبرٹرینڈرسل کی زیر نظر کتاب چند مضامین کا مجموعہ ہے جو مذہب اور انسانی زندگی میں اس کے کردار پر رسل کے خیالات کی ترجمانی کرتے ہیں۔ یہ کتاب\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 115%; font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e \" Why I Am Not a Christian \" \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eکے عنوان سے شائع ہوئی تھی جو اس میں شامل ایک مضمون کا عنوان ہے ۔ یہ رسل کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتابوں میں شامل ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 115%; font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003eتاریخ کی سب سے زیادہ ہنگامہ خیز بیسویں صدی کے آغاز پر، جب کہ رسل ابھی نوجوان تھا، اس نے اپنی ایک تحریر میں یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ بیسویں صدی آزاد خیالی ، عقل پسندی اور سیکولر ازم کی صدی ہوگی جب کہ انسان مقدس رہنماوں سے بے نیاز ہو کر سائنسی اور معروضی انداز سے اپنے انفرادی اور اجتماعی مسائل حل کرنا چاہیں گے۔ دنیا کے کئی کونوں میں بھی اس امید کا اظہار کیا جا رہا تھا۔ اس امید کے ساتھ یہ دعوے بھی کئے جا رہے تھے کہ مذہب کی بالادستی کے زمانے ختم ہونے کو ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 115%; font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 115%; font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003eوہ دن بیت گئے ۔ وہ زمانے ماضی کا حصہ بن گئے۔ آج ہم اکیسویں صدی کی تیسری دہائی کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ رسل کی رائے صرف جزوی طور پر صحیح ثابت ہوئی کیونکہ عالمی سطح پر گزشتہ صدی کے پہلے چھ عشروں میں اگرچہ لبرل خیالات فروغ پاتے رہے لیکن بعد میں تبدیلی کی ہوا چلنے لگی۔ اول اول مسلمانوں میں احیائے مذہب کی تحریکیں نمایاں ہونے لگیں اور مسلم دنیا کے مختلف حصوں میں ان کا اظہار کئی طریقوں سے ہوا۔\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 115%; font-family: 'Dubai',sans-serif; mso-bidi-language: ER;\"\u003e \u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 115%; font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003eپھر ہندو اور مسیحی دنیاوں میں بھی مذہبی رجحانات منظر عام پر آنے لگے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 115%; font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 115%; font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003eخیر، اس کا یہ مطلب نہیں کہ رسل کی اس کتاب کی اہمیت ختم ہو گئی ہے۔ ہماری زندگیوں میں مذہب کے کردار خود مذہب کی ماہیت کے موضوع پر بیسویں صدی کے ممتاز ترین دانش ور کے خیالات کے مرقع کے طور پر اس کتاب کی اہمیت برقرار رہے گی۔ گویا یہ ایک اہم خیال انگیز کتاب ہے جو غیر روایتی طریقے سے دنیا اور زندگی کو دیکھنے کی تحریک دیتی رہے گی۔\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 115%; font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 115%; font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003eیہ کتاب، رسل کی دوسری کتابوں کی طرح، دنیا کی بہت سی زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہے۔ اردو ترجمہ تاخیر سے منظر عام پر آیا، لیکن یہ ایک معیاری اور عام فہم ترجمہ ہے۔ اس کو پڑھتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ مترجم قارئین کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔ وہ قارئین سے محبت کرتا ہے اور کتاب کے مندرجات کو سمجھنے میں ان کی مدد کرنے پر آمادہ ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 115%; font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 115%; font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003eWhy I Am Not a Christin book by Bertrand Russell.\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 115%; font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003eمیں مسیحی کیوں نہیں ؟\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 115%; font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 115%; font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003eترجمہ | صفدر حسین\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 115%; font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 115%; font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003eصفحات 232\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 115%; font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 115%; font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003e \u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Bertrand Russell","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44652056477730,"sku":"9789695622537-R","price":450.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Why-I-Am-Not-A-Christian-scaled_4a9bfdde-6d87-45bd-93fd-8eb9d918273c.jpg?v=1766152186"},{"product_id":"سارتر-کے-انٹرویو","title":"Sartar kay Interviews","description":"\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eنام کتاب | سارتر کے مضامین ( فلسفہ ،وجودیت ،مضامین ،انٹرویو ،مکالمے اور سارترکے شخصیت کے بارے میں\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاز | فہیم شناس کاظمی\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\n\u003cdiv class=\"m8h3af8h l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf n3t5jt4f\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\"مجھے تو موت محرومیوں کا ایک سلسلہ لگتی ہے اور جس لمحے میں زندگی کی تمام چیزوں سے محروم ہوجاؤں گا وہ موت کا لمحہ ہوگا۔\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf jikcssrz n3t5jt4f\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eمیری زندگی آج کل اتنی آرام دہ نہیں ہے جتنی دس برس بیشتر تھی۔ اس کے باوجود میں موت سے خائف نہیں۔ میرے نزدیک وہ فطری عمل ہے موت فطرت کی طرف لوٹ جانے کا عمل ہوگا۔ جس کا میں پہلے بھی ایک حصہ تھا۔\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf jikcssrz n3t5jt4f\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eمیں ان لوگوں میں سے ایک نہیں بننا چاہتا تھا جو میرے سے پہلے کہتے ہیں\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf jikcssrz n3t5jt4f\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\n\u003cspan\u003e\u003ca tabindex=\"-1\"\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003e\"ہماری زندگی بیکار گئی اگر ہمیں زندگی دوبارہ ملتی تو ہم اسے کسی اور طرح گزارتے۔\" \u003cspan class=\"fxk3tzhb b2rh1bv3 gh55jysx m8h3af8h ewco64xe kjdc1dyq ms56khn7 bq6c9xl4 eohcrkr5 akh3l2rg\"\u003e\u003cimg src=\"https:\/\/static.xx.fbcdn.net\/images\/emoji.php\/v9\/ta5\/1.5\/16\/1f642.png\" alt=\"🙂\" width=\"16\" height=\"16\" referrerpolicy=\"origin-when-cross-origin\"\u003e\u003c\/span\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf jikcssrz n3t5jt4f\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e.\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e.\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e.\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf jikcssrz n3t5jt4f\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eژاں پال سارتر اور سیمون دی بووا کے درمیان \"خدا اور موت کے بارے میں مکالمہ\" سے ایک اقتباس\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf jikcssrz n3t5jt4f\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eکتاب : ژاں پال سارتر کے انٹرویو\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Jean-Paul Sartre","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44652061360162,"sku":null,"price":350.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Jean-Paul-Sartre--scaled_24c39b26-8350-4b67-840c-73646a25b33e.jpg?v=1766152310"},{"product_id":"مارکسی-فلسفہ-marksi-falsfa","title":"مارکسی فلسفہ | Marksi Falsfa","description":"\u003cp\u003eمارکسی فلسفہ | Marksi Falsfa \u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eجدلیاتی مادیت کیا ہے ؟\u003c\/p\u003e","brand":"Noori Sons","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44652064800802,"sku":null,"price":300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/20221022_190716_8f83b8ba-a53f-46b6-a092-b8a5fb80e51b.jpg?v=1766152424"},{"product_id":"مارکسزم-جسے-دنیا-رد-کر-چکی-mulana-wahid-ud-din-khan","title":"Marksism","description":"\u003cdiv style=\"text-align: right;\"\u003eمارکسزم جسے دنیا رد کر چکی | Mulana Wahid Ud Din Khan\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"text-align: right;\"\u003eمارکسزم صرف ایک اقتصادی تدبیر نہیں ہے، بلکہ وہ اقتصادیات کے حوالے سے انسان کی پوری زندگی کے لیے ایک فلسفے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اپنی غیرفطری بنیاد کی بنا پر وہ امکانی طور پر اپنے آغازہی میں قابل رد تھا۔ اب وہ واقعہ کے طور پر قابل رد قرار پاچکا ہے۔ زیر نظر کتاب میں یہ حقیقت مارکس ازم کے زوال سے 35 سال پہلے بیان کی گئی تھی۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"text-align: right;\"\u003eمارکسزم\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"text-align: right;\"\u003eتاریخ جس کو رد کر چکی ہے\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"text-align: right;\"\u003eمصنف مولانا وحید الدین خان\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"text-align: right;\"\u003eصفحات 116\u003c\/div\u003e","brand":"Wahiduddin Khan","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44652066406434,"sku":null,"price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Sahimahi60_3_07369fd8-cc9b-4878-a239-1abfe5681054.png?v=1766152487"},{"product_id":"tareekh-falsfa-تاریخ-فلسفہ","title":"Tareekh Falsfa تاریخ فلسفہ","description":"","brand":"Khalifa Abdul Hakim","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44704788906018,"sku":null,"price":1200.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/InShot_20230916_125931412.jpg?v=1767449774"},{"product_id":"jadeed-falsafa-e-taleem-جدید-فلسفہ-تعلیم","title":"Jadeed Falsafa e Taleem جدید فلسفہ تعلیم","description":"\u003cp\u003eJohn Dewey to Paulo Freire\u003cbr\u003e\nTaleef By Iqbal Khan and translated by Masood Ashar\u003c\/p\u003e","brand":"Masood Ashar","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44704790380578,"sku":null,"price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Jadeed_Falsfa_Taleem.jpg?v=1779554122"},{"product_id":"falsafe-ka-naya-ahang-فلسفے-کا-نیا-آہنگ","title":"Falsafe Ka Naya Ahang فلسفے کا نیا آہنگ","description":"\u003cp\u003eفلسفے کا نیا آہنگ Philosophy in a New Key سوسین لینگر کے نظریات بنیادی طور پر آرٹ ، زبان اور ذہن کے مابین تعلق اور انسانی فہم اور تجربے کی تشکیل میں علامتوں کے کردار کی وضاحت کرتے ہیں ۔ اس نے بیان کیا کہ کس طرح آرٹ ، جو علامتی اظہار کی ایک شکل ہے، ہمیں انسانی جذبات کو سمجھنے اور پیش کرنے میں مدد دیتا ہے۔ آرٹ کا یہ کردار با لخصوص وہاں زیادہ واضح ہے جہاں جذبات کو بسہولت الفاظ کی شکل نہیں دی جاسکتی۔ اس نے بجائے خود احساس کی ماہیت پر بھی کام کیا اور بتایا کہ یہ بلند تر وقوفی عمل کی بنیاد اور شعور کا بنیادی پہلو ہے۔ امریکی فلسفی، مصنفہ اور معلمہ سوسین لینگر (1985 - 1895ء) نے ذہن پر آرٹ کے اثرات پر نظریات پیش کیے۔ یہ ان اولین امریکی خواتین میں سے ہیں جنھوں نے فلسفہ کی درس و تدریس کو بطور پیشہ اپنایا۔ ان کی ایک نہایت مقبول ہونے والی کتاب Philosophy in a New Key کے نام سے 1942 ء میں چھپی ۔ مختلف مضامین کے طالب علم اس کتاب سے دہائیوں استفادہ کرتے رہے۔ یه کتاب اس نے جرمن فلسفی کیسیر کے علامتیت کے فلسفے سے متاثر ہو کر لکھی۔ کیسیر رسمجھتا ہے کہ مذہب، سائنس، آرٹ اور اسطورہ انسانی فکر کی مختلف لیکن باہم مساوی شاخیں ہیں۔ اپنی مذکورہ بالا کتاب میں سوسین لینگر نے اورا کی علامتیت (Presentational Symbol ) کا ایک اپنا نظریہ پیش کیا ہے۔ وہ کہتی ہے کہ انسان کو دوسرے جانوروں سے تمیز کرنے والی اہلیت علامت سازی اور سلامت کے ساتھ معنی کی وابستگی ہے۔ اس کتاب میں وہ آرٹ ، اس کی تخلیق کے پس منظر میں کارفرما عوامل اور انسانی شعور کی تشکیل میں اس کی وقعت پر کام کے لیے منضبط بنیاد فراہم کرنے میں کوشاں ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ زبان اظہار کی شکلوں میں سے صرف ایک ہے۔ اس کے نظریہ علامتیت میں انسانی تجربے کو معنی دینے میں آرٹ کا وہی مرتبہ ہے جو سائنس کو دیا گیا ہے۔ انسان پیش آمدہ تجربات اور مظاہر کو موسیقی ، آرٹ اور اسطورہ سازی جیسے ادرا کی علامتوں کی مدد سے معنی دیتا ہے۔ علامتوں کی طاقت اور انسانی تجربے اور احساس کے ساتھ ان کے تعلق پر لینگر کی گرفت کے باعث آج بھی جمالیات ، فلسفہ ذہن اور اشاروں اور علامتوں کے مطالعے (Semiotics) میں اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ انسانی اظہاری وقوف ( Cognitive) میں دلچسپی رکھنے والے احساس اور علامتی منطق کے درمیان تعلق پر اس کی تحریروں کو وقعت دیتے ہیں۔ محمد ارشد رازی\u003c\/p\u003e","brand":"Susanne Langer","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44704796835874,"sku":null,"price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/InShot_20251009_135511203.jpg?v=1767450005"},{"product_id":"aflatoon-افلاطون","title":"Aflatoon افلاطون","description":"\u003cp\u003ePages: 400\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eBinding: Hard\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eLanguage: Urdu\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eCompiled By: Aleem Ullah\u003c\/p\u003e","brand":"Aleem Ullah","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44749604323362,"sku":null,"price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/WhatsAppImage2023-10-14at11.20.10AM.jpg?v=1768638490"},{"product_id":"falsfa-e-hind-o-yunaan-فلسفۂ-ہند-و-یونان","title":"Falsfa E Hind O Yunaan - فلسفۂ ہند و یونان","description":"\u003cp\u003eیہ کتاب ہند اور یونان کے فلسفے کا ایک مجمل جائزہ ہے، جسے فقط ایک مطالعے کی حیثیت حاصل ہے۔ اس کے اجزائے ترکیبی تنقید و تبصرہ کی بجائے ترجمہ و تلخیص ہیں، گویا یہ ہر دو مذکورہ ممالک کے فلسفیانہ افکار و آرا کا ایسا خلاصہ ہے، جو فلسفے کے طالب علم کو بڑی بڑی ادق اور ضخیم کتب کے مطالعۂ عرق ریز سے بچا لے گا، یہی نہیں، بلکہ زندگی کے قیمتی ایام جو ان فلاسفہ کی کتب کے مطالعے میں صرف ہوتے ہیں، وہ بھی محفوظ رہیں گے اور ان سے کوئی اور مفید کام لیا جا سکے گا۔ اگر دونوں فلسفوں (فلسفۂ ہند اور فلسفۂ یونان) کا بہ نظرِ غائر مطالعہ کیا جائے تو ان کے تدریجی ارتقا سے واضح ہو جائے گا کہ فلسفے نے ہر دو مذکورہ ممالک میں قریباً ایک ہی سی منازلِ فکر طے کی ہیں اور ان کی آخری منزل بھی ایک ہی ہے، جہاں پہنچ کر دونوں نے اپنا اپنا سفر ختم کر دیا ہے اور وہ منزل ہے الٰہیات، جس سے ہم یہ سمجھ لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ یہی آخری منزل ہے اور اس سے آگے عقل اور فکرِ انسانی کی رسائی ناممکن ہے۔\u003c\/p\u003e\n\n\u003cp\u003eاگرچہ یہ ایک مختصر کتاب ہے، مگر اپنی افادیت کے لحاظ سے بڑی بڑی ضخیم کتب پر بھاری ہے، کیوں کہ اس میں سب کچھ موجود ہے اور ’’دریا بہ حباب اندر‘‘ کے مصداق ہے۔ افکار کا تسلسل، تدریج، ارتقا، اور نظم و ترتیب اس کی افادیت کو اور بھی یقینی کر دیتے ہیں۔ اس کتاب میں اٹھارہ مضامین جمع کیے گئے ہیں ہندوستان کے مختلف فلسفوں اور فلسفیوں اور اسی طرح یونان کے مختلف فلسفوں اور فلسفیوں کے افکار کا جائزہ لیتے ہیں۔ ہندوستان کے فلسفیوں میں فلسفوں اور فلسفیوں میں جین مت اور بدھ مت کے فلسفے، نیایہ، ویشسکا، سانکھیہ، یوگ، سیماسہ، ویدانت، اچاریہ، رامانوج اور مذاہبِ ہند شامل ہیں۔ جبکہ یورپ کے فلسفوں اور فلسفیوں میں سقراط، افلاطون، ارسطو اور اس کے بعد کے فلسفیوں اور افلاطونیتِ جدیدہ کا جائزہ لیا گیا ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Din Muhammad Shafiqi Ohadpuri","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44840339177506,"sku":null,"price":330.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/falsfa-e-hind-o-yunaan-50p.jpg?v=1771342109"},{"product_id":"qadeem-yunani-flasfa-قدیم-یونانی-فلسفہ","title":"Qadeem Yunani Flasfa - قدیم یونانی فلسفہ","description":"\u003cp\u003e’’قدیم یونانی فلسفہ‘‘ امام غزالی کی معروف کتاب ’’مقاصد الفلاسفہ‘‘ کا اُردو ترجمہ ہے۔ غزالیؒ، اسلام کی فکری تاریخ میں وہ پہلے اور آخری فلسفی ہیں جنھوں نے علم و دانش کے رائج الوقت پیمانوں کا ازسرنو جائزہ لیا، جنھوں نے یونانی صنم خانوں پر بھرپور وار کیا اور علم و آگہی کے نئے سرچشمے کی نشان دہی کی۔ امام غزالی کا ’’مقاصد الفلاسفہ‘‘ کی تصنیف کا مقصد فلسفیانہ حلقوں میں اس کے ذریعے اپنی دھاک بٹھانا تھا تاکہ اس کے بعد وہ قدیم یونانی فلسفہ کی داماندگی ظاہر کر سکیں اور ابنِ سینا اور فارابی کی پھیلائی ہوئی غلط فہمیوں کا ازالہ کر سکیں۔ اپنی اس کتاب میں غزالی نے منطق، الٰہیات اور طبیعیات ایسے خشک مضامین کو ایسے واضح، شگفتہ اور قابلِ فہم انداز میں بیان کیا ہے کہ ان کی فلسفیانہ صلاحیتوں میں کوئی شک نہیں رہتا۔\u003c\/p\u003e\n\n\u003cp\u003eمجلس ترقی ادب لاہور کے اس کتاب کے ترجمہ کرنے کی کئی وجوہات بنیں جیسے (1) غزالی کی فلسفیانہ تصنیفات سے خصوصی دلچسپی، (2) یونانی فلسفہ یورپ اور دیگر دُنیا میں عربوں کے ذریعے پھیلا، اس ترجمے سے عربوں کے اخذ و ترجمہ میں درجۂ دیانت داری، سلیقہ اور خوش اسلوبی کا ثبوت ملتا ہے۔ (3) علومِ عقلیہ کے اُردو میں ڈھالنے سے علما اپنی توانائیوں کو بچا کر ذہنی قوتوں کو صرف قرآن و حدیث اور جدید ترین علوم کی اعلیٰ تعلیم کی طلب و جستجو میں کھپا سکیں۔ ان مقاصد و وجوہات کے پیش نظر امام غزالی کی کتاب کے اس ترجمہ میں کوشش کی گئی ہے کہ علم و ادب کے تقاضے پیشِ نظر رہیں اور کسی طرح بھی مضامین کی خشکی اور اغلاق، قاری کی دلچسپیوں کو مجروح نہ کر سکیں۔ گویا غزالی کے اپنے پیرایۂ بیان کی خوبیوں کو اُردو میں جوں کا توں برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Imam Ghazali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44840344911906,"sku":null,"price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/qadeem-yunani-flasfa.jpg?v=1771342239"},{"product_id":"islami-falsafa-aur-science-اسلامی-فلسفہ-اور-سائنس","title":"Islami Falsafa Aur Science - اسلامی فلسفہ اور سائنس","description":"\u003cp\u003eاسلامی فلسفہ اور سائنس’ پروفیسر میاں محمد شریف کی تصنیف ہے۔’\u003cbr\u003e\nمیاں محمد شریف 1893 میں لاہور میں پیدا ہوئے۔\u003cbr\u003e\nانہوں نے فلسفیانہ موضوعات پر آٹھ کتابیں اور متعدد تحقیقی مقالات تحریر کیے۔\u003cbr\u003e\nصفحات کی تعداد ایک سو دس ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Mian Muhammad Sharif","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44840349958178,"sku":null,"price":220.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/WhatsApp-Image-2024-03-06-at-1.57.40-AM.jpg?v=1771342308"},{"product_id":"falsfa-shariyat-islam-فلسفۂ-شریعتِ-اسلام","title":"Falsfa-Shariyat Islam - فلسفۂ شریعتِ اسلام","description":"\u003cp\u003eیہ کتاب ڈاکٹر صبحی محمصانی کی تالیف کردہ عربی کتاب ’’فلسفۃ الشریع فی الاسلام‘‘ کا اُردو ترجمہ ہے، جس کے مترجم مولوی محمد احمد رضوی ہیں۔ مولوی صاحب پاکستان کی مجلس دستور ساز میں مترجم تھے۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن عربی زبان میں انیس سو چھیالیس میں بیروت سے شائع ہوا تھا۔ جبکہ دوسرا ایڈیشن ترمیم و اضافے کے ساتھ انیس سو باون میں شائع ہوا۔ یہ کتاب کی بارہویں اشاعت ہے۔ کتاب کا پیش لفظ عنایت اللہ کا لکھا ہوا ہے۔ مولف کا لکھا ہوا مقدمہ اس کے بعد ہے۔ کتاب کو پانچ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر باب کے تحت متعلقہ موضوعات کو فصول میں تقسیم کیا گیا ہے۔ باب اوّل میں علم فقہ کی تعریف اور قسمیں؛ باب دوم میں قانون سازی کی اجمالی تاریخ؛ سوم میں قوانینِ اسلامی کے مآخذ؛ باب چہارم میں قانون سازی کے خارجی مآخذ؛ باب پنجم میں بعض قواعد اور کلیے جبکہ ہر باب کے آخر میں حواشی درج کیے گئے ہیں۔ کتاب کے آخری صفحات پر اہم عربی اور غیرعربی مآخذ کی فہرست دی گئی ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Sobhi Mahmassani","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44840360345634,"sku":null,"price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/falsfa-shariyat-islam-50.jpg?v=1771342503"},{"product_id":"nafsyat-e-wardaat-e-نفسیاتِ-وارداتِ-رُوحانی","title":"Nafsyat E Wardaat E Rohani - نفسیاتِ وارداتِ رُوحانی","description":"\u003cp\u003eولیم جیمز (1842ء تا 1910ء) اپنے اندازِ فکر، طرزِ تحقیق اور اسلوبِ بیان کے اعتبار سے تاریخِ فلسفہ میں ایک یگانہ مفکر ہے۔ ولیم جیمز کی عمیق جدتِ فکر و نظر کی وجہ سے یورپی محققین نے ایک امریکی محقق کا لوہا مانا۔ جیمز سے پہلے علم و فن کے لحاظ سے اہلِ امریکہ اپنے تئیں اہلِ فرنگ سے کم تر سمجھتے تھے۔ یہ طے شدہ امر ہے کہ روحانی تجربات، وحی و الہام، کشف و کرامات کسی ایک مذہب اور علاقے کا اجارہ نہیں۔ ’’نفسیاتِ وارداتِ روحانی‘‘ روحانی شعور کی تحقیق کے موضوع پر ایک فکر افروز تصنیف ہے۔ اس کے بیان میں سوز نہیں مگر ساز ضرور ہے۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے کہ علم النفس کی روز افزوں ترقیاں بھی اس کو کسی منزل پر دفترِ پارینہ قرار نہ دے سکیں گی۔\u003c\/p\u003e\n\n\u003cp\u003eنامور محقق، نقاد، مترجم اور ادارئہ ثقافتِ اسلامیہ کے سابق ناظم، ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم (1895ء تا 1959ء) تخلیقِ پاکستان سے پہلے عثمانیہ یونیورسٹی حیدر آباد (دکن) میں فلسفہ کے پروفیسر تھے۔ ان کی اہم تصانیف میں فکرِ اقبال، افکارِ غالب، حکمتِ رومی اور تشبیہاتِ رومی شامل ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے ولیم جیمز کی کتاب کو انگریزی زبان سے اُردو زبان میں منتقل کرتے وقت بیان کی لطافتوں کا کماحقہ خیال رکھا ہے اور اس کے اسلوبِ بیان کی طرح فلسفے کے ریگستان کو بیان کی شگفتگی سے گلزار بنا دیا ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"William James","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44840361721890,"sku":null,"price":550.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/nafsyat-e-wardaat-e-rohani.jpg?v=1771342535"},{"product_id":"tehzeeb-aur-us-kay-hejanat-tehleel-e-nafsi-ka-ajmali-khaka","title":"Tehzeeb Aur Us Kay Hejanat | Tehleel e Nafsi Ka Ajmali Khaka","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eUrdu Translation of Civilization And Its Discontents\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eنفسیات اور فلسفہ، تہذیب اور اس کے عدم اطمینان کے شعبوں میں ایک بنیادی کام انفرادی جبلتوں اور معاشرتی اصولوں کے درمیان موروثی تناؤ کو تلاش کرتا ہے۔ یہ تہذیب کی نفسیاتی بنیادوں کا جائزہ لے کر یہ دلیل پیش کرتا ہے کہ معاشرے کی ترقی کے لیے بنیادی انسانی خواہشات کے جبر کی ضرورت ہے۔ فرائیڈ کا مؤقف ہے کہ جب تہذیب سلامتی اور فرقہ وارانہ ڈھانچہ پیش کرتی ہے، یہ بیک وقت افراد میں عدم اطمینان اور بے چینی کے جذبات کو جنم دیتی ہے۔ وہ خوشنودی کے اصول اور حقیقت کے اصول کے درمیان کشمکش کو تلاش کرتا ہے، ہماری بنیادی خواہشات اور سماجی نظم کے تقاضوں کے درمیان جدوجہد کو اجاگر کرتا ہے۔ نفسیاتی نظریہ اور فلسفیانہ تحقیقات کے امتزاج کے ذریعے، وہ انسانی فطرت کی پیچیدگیوں اور معاشرتی ترقی کے اخراجات کو بیان کرتا ہے۔ سب سے پہلے 1930 میں شائع ہوا، یہ اثر انگیز کام ثقافت کی حرکیات، انفرادیت، اور جدید زندگی میں درپیش نفسیاتی چیلنجوں کو سمجھنے کے لیے ایک اہم حوالہ ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e \u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan\u003eUrdu Translation of An Outline of Psychoanalysis\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eفرائیڈ نے مجموعی ادارتی منصوبے، کلیدی الفاظ اور فقروں کی مخصوص ترتیب، اور کتابیات اور وضاحتی سے قیمتی نوٹوں کے اضافے کی منظوری دی۔ بہت سے ترجمے اسٹریچی نے خود کیے تھے۔ باقی ان کی نگرانی میں تیار کیے گئے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ معیاری ایڈیشن کو دیگر تمام موجودہ ورژنز پر بلا شبہ بالادستی کی پوزیشن میں رکھا جائے۔ یکساں شکل میں نئے ڈیزائن کیے گئے، اسٹینڈرڈ ایڈیشن میں ہر نیا پیپر بیک فرائیڈ کی زندگی اور کام پر سوانح حیات کے مضمون کے ساتھ کھلتا ہے\u003c\/span\u003e\u003cspan\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Sigmund Freud","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44877047398434,"sku":null,"price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/tehzeeb-aur-us-kay-hejanat-550x550h.jpg?v=1772092014"},{"product_id":"traeekh-masail-falsafa-تاریخ-مسائل-فلسفہ","title":"Traeekh Masail Falsafa - تاریخ مسائل فلسفہ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eUrdu Translation of \"A History Of The Problems Of Philosophy\" by Paul Janet (Author), Gabriel Seailles (Author), Mir Wali Ud Din (Translator)\u003cbr\u003eمترجم: ڈاکٹر میر ولی الدین\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\"فلسفہ کے مسائل کی تاریخ\"\" ایک کتاب ہے جو پال جینیٹ نے لکھی ہے اور اصل میں 1902 میں شائع ہوئی ہے۔ یہ کتاب پوری تاریخ میں فلسفیانہ فکر کی نشوونما کا ایک جامع جائزہ فراہم کرتی ہے، ان اہم مسائل پر توجہ مرکوز کرتی ہے جن پر فلسفیوں نے وقت کے ساتھ بحث کی ہے اور بحث کی ہے۔ پہلا حصہ قدیم یونانیوں کا احاطہ کرتا ہے جن میں سقراط، افلاطون اور ارسطو شامل ہیں۔ دوسرا حصہ قرون وسطی کے دور کا احاطہ کرتا ہے، جس میں سینٹ آگسٹین اور تھامس ایکیناس کے کام شامل ہیں۔ تیسرا حصہ نشاۃ ثانیہ اور روشن خیالی کا احاطہ کرتا ہے، بشمول ڈیکارٹس، اسپینوزا اور کانٹ کے کام۔ چوتھا حصہ 19ویں صدی پر محیط ہے، جس میں ہیگل، شوپنہاؤر اور نطشے کے کام شامل ہیں۔ پانچواں حصہ 20ویں صدی کے اوائل پر محیط ہے، جس میں برگسن اور جیمز کے کام شامل ہیں۔ آخری حصہ عصری دور کا احاطہ کرتا ہے، جس میں وِٹگنسٹین اور ہائیڈیگر کے کام شامل ہیں۔ پوری کتاب کے دوران، جینیٹ نے ان اہم فلسفیانہ مسائل کی کھوج کی ہے جو پوری تاریخ میں پیدا ہوئے ہیں، جن میں حقیقت کی نوعیت، خدا کا وجود، آزاد مرضی، اور دماغ اور جسم کے درمیان تعلق شامل ہیں۔ وہ وقت کے ساتھ ساتھ ابھرنے والے مختلف مکاتب فکر کا بھی جائزہ لیتا ہے، جن میں عقلیت پسندی، تجربہ پرستی اور وجودیت شامل ہے۔ مجموعی طور پر، \"فلسفہ کے مسائل کی تاریخ\" پوری تاریخ میں فلسفیانہ فکر کی نشوونما کا ایک جامع اور قابل رسائی جائزہ فراہم کرتا ہے، جو اسے ہر اس شخص کے لیے پڑھنا ضروری بناتا ہے جو اس موضوع میں دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے پرانی اور پرانی کتابوں کے خلاف ہو سکتا ہے۔ کچھ خامیوں پر مشتمل ہے جیسے لائبریری کے نشانات اور اشارے۔ چونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کام ثقافتی طور پر اہم ہے، اس لیے ہم نے اسے دنیا کے ادب کے تحفظ، تحفظ اور فروغ کے لیے اپنے عزم کے ایک حصے کے طور پر سستی، اعلیٰ معیار کے، جدید ایڈیشن میں دستیاب کرایا ہے، جو ان کے اصل کام کے مطابق ہیں۔\u003c\/p\u003e","brand":"Paul Janet","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44878579433506,"sku":null,"price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/tareekh-masail-falsfa-550x550h_jpg.webp?v=1772099633"},{"product_id":"falsafa-kia-hai-فلسفہ-کیا-ہے","title":"Falsafa Kia Hai - فلسفہ کیا ہے؟","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eUrdu Translation of Introduction To Philosophy by Oswald Külpe \u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eFalsafah Kiya Hai Oswald Külpe کی کلاسک فلسفیانہ تصنیف کا اردو ترجمہ ہے، Einleitung in die Philosophie (فلسفہ کا تعارف)، جسے ایک معروف عالم اور مترجم مرزا ہادی صاحب نے خوبصورتی اور جامع انداز میں پیش کیا ہے۔ Oswald Külpe، ایک ممتاز جرمن فلسفی اور ماہر نفسیات، تجرباتی نفسیات اور فلسفیانہ فکر کے علمبردار تھے۔ اس کتاب میں وہ قارئین کو فلسفے کے بنیادی تصورات، دائرہ کار اور مقصد سے واضح اور منطقی انداز میں متعارف کراتے ہیں۔ یہ اردو ترجمہ Külpe کی گہری بصیرت کو برصغیر کے وسیع تر سامعین، خاص طور پر طلباء، محققین اور فلسفے کے شائقین کے لیے قابل رسائی بناتا ہے۔ فلسفہ کیا ہے اردو کتاب Oswald Kulpe فلسفہ کتاب مرزا ہادی کا ترجمہ فلسفہ اردو میں اردو فلسفہ کی کتابیں اردو میں فلسفہ کا تعارف فلسفہ کی کتاب مغربی فلسفہ اردو اردو علمی کتابیں فلسفہ کیا ہی کتاب فلسفہ کی اردو ترجمہ فلسفہ کی اردو ترجمہ فلسفہ میرزا فلسفہ اردو ترجمہ فلسفہ کی کتاب اردو میں چاہے آپ فلسفہ کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرنے والے مبتدی ہوں، یا اردو زبان میں مغربی فلسفیانہ فکر کو دریافت کرنے والے ایک تجربہ کار طالب علم، \"فلسفہ کیا ہے\" ضرور پڑھنا چاہیے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Oswald Külpe","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44878613970978,"sku":null,"price":650.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/713ppkXoLbL.jpg?v=1772973831"},{"product_id":"anwa-e-falsafa-انواعِ-فلسفہ","title":"Anwa e Falsafa - انواعِ فلسفہ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\"مصنف: پروفیسر ولیم ارنسٹ ہاکنگ\u003cbr\u003eمترجم: ظفر حسین خان\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eپروفیسر ملین ارنسٹ ہاکنگ کی مشہور و معروف کتاب \"\"ٹائپس آف فلاسفی\"\" کا اُردو ترجمہ ـ\"\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eUrdu Translation of Types of Philosophy\u003c\/p\u003e","brand":"William Ernest Hocking","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44879021244450,"sku":null,"price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/anwa-e-falsfa-550x550h_jpeg.webp?v=1772103624"},{"product_id":"kuliyat-e-iqbal-farsi-کلیاتِ-اقبال-فارسی","title":"Kuliyat e Iqbal (Farsi) - کلیاتِ اقبال (فارسی)","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eکلیاتِ اقبال (فارسی) علامہ محمد اقبال کے فارسی کلام کا مجموعہ ہے، جو اُن کے فکری و روحانی پیغام کا نچوڑ پیش کرتا ہے۔ اس میں\u003cspan\u003e \u003c\/span\u003e\u003cem\u003eاسرارِ خودی\u003c\/em\u003e،\u003cspan\u003e \u003c\/span\u003e\u003cem\u003eرموزِ بیخودی\u003c\/em\u003e،\u003cspan\u003e \u003c\/span\u003e\u003cem\u003eپیامِ مشرق\u003c\/em\u003e،\u003cspan\u003e \u003c\/span\u003e\u003cem\u003eزبورِ عجم\u003c\/em\u003e\u003cspan\u003e \u003c\/span\u003eاور\u003cspan\u003e \u003c\/span\u003e\u003cem\u003eجاوید نامہ\u003c\/em\u003e\u003cspan\u003e \u003c\/span\u003eجیسی شاہکار تصانیف شامل ہیں۔ علامہ اقبال نے فارسی زبان میں اپنے فلسفۂ خودی، امتِ مسلمہ کی بیداری، اور انسان کے روحانی سفر کو انتہائی دلنشین انداز میں بیان کیا ہے۔ یہ مجموعہ مشرقی تصوف، اسلامی فکر اور جدید فلسفے کا حسین امتزاج ہے، جو اقبال کی فکر کا بین الاقوامی پہلو اجاگر کرتا ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Ilama Iqbal","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":45073628594210,"sku":null,"price":2300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/2332.jpg?v=1773739445"}],"url":"https:\/\/www.onlineurdubazar.pk\/collections\/philosophy-1.oembed?page=4","provider":"Online Urdu Bazar","version":"1.0","type":"link"}