{"title":"Politics","description":"","products":[{"product_id":"diwaliya-pakistan-دیوالیہ-پاکستان","title":"Diwaliya Pakistan - دیوالیہ پاکستان","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cstrong\u003e\"دیوالیہ پاکستان مجاہد حسین کی لکھی ہوئی ایک فکر انگیز کتاب ہے جو پاکستان میں ریاست، سیاست اور معاشرے کے زوال کی نشاندہی کرتی ہے۔ \u003cbr\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eریاست اور سیاست کا زوال: کتاب میں پاکستان کے زوال میں کردار ادا کرنے والے عوامل کی کھوج کی گئی ہے، بشمول بدعنوانی، ناقص طرز حکمرانی، اور معاشرتی مسائل۔\u003cbr\u003e- سماجی تجزیہ: حسین ان سماجی حرکیات کا گہرائی سے تجزیہ فراہم کرتے ہیں جنہوں نے پاکستان کی رفتار کو تشکیل دیا ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cbr\u003e- تنقیدی نقطہ نظر: ایک تفتیشی صحافی کے طور پر، حسین پاکستان کو درپیش مسائل پر تنقیدی تناظر پیش کرتے ہیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eمصنف کا پس منظر\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eمجاہد حسین ایک تجربہ کار تفتیشی صحافی ہیں جو حقائق پر مبنی نقطہ نظر اور زیور کے بغیر سچ کو ظاہر کرنے کی صلاحیت کے لیے جانا جاتا ہے۔ ان کے کام کو پاکستان کے پیچیدہ مسائل کے بارے میں بصیرت کے لیے بہت اہمیت دی جاتی ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Mujahid Hussain","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646634651682,"sku":null,"price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/1000000078730_201-626x974.jpg?v=1766144196"},{"product_id":"qomi-jadojahad-ki-manzoom-tarikh","title":"Qomi Jadojahad ki Manzoom Tarikh","description":"\u003cp\u003eمولانا ظفر علی خان ہماری قومی تاریخ کے ایک اہم رہنما، صحافی، سیاستدان اور شاعر ہیں۔ وہ ایک عہد ساز اور تاریخ کا دھارا بدلنے والے فرد تھے۔ وہ مسلمانوں کی سربلندی اور سرافزازی چاہتے تھے اور اسی لئے انہوں نے محاورتاً نہیں ا صلاً اپنا تن من دھن قربان کیا۔ انہوں نے سیاست ہی نہیں، صحافت اور شعر و ادب میں بھی نئی راہیں نکالیں اور انہیں جوش، جذبہ اور والہانہ پن عطا کیا۔ \u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cbr\u003e  مولانا ظفر علی خان کو خراج عقیدت پیش کرنا آسان کام نہیں۔ قومی سطح پر ان کی خدمات کا ویسا اعتراف نہیں کیا گیا جیسا کہ ان کا حق تھا۔اس کمی کو پورا کرنے کیلئے ان کے نام پر قائم کیا گیا ادارہ مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ(اب فائونڈیشن) اپنے آغاز سے ہی مولانا کی خدمات کے اعتراف اور ان کی تخلیقات کی حفاظت کے لئے کوشاں ہے۔ اس سلسلے میں اس ادارے کی جانب سے اب تک مولانا کے متعدد نثری اور شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ مولانا ظفر علی خاں فائونڈیشن نے اپنی خدمات کا دائرہ وسیع کرنے کے لئے پنجاب یونیورسٹی کے ادارہ تالیف و ترجمہ کے ساتھ تعاون کے ذریعے اس سلسلے کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا جوبڑے خلوص کے ساتھ گزشتہ چالیس برس سے مولانا ظفر علی خان کی خدمات کے اعتراف اور ان کے قلمی آثار کے تحفظ کیلئے کوشاں ہیں۔ اس موضوع پر ان کی متعدد کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ اب ڈاکٹر زاہد منیر عامر نے اپنے شاگرد حافظ محمد سعد عبداللہ کے ساتھ مل کر ایک ایسا کارنامہ انجام دیا ہے جس پر مولانا ظفر علی خان کے مداح انہیں ہمیشہ خراج تحسین پیش کرتے رہیں گے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eمولانا ظفر علی خان کا کلام ان کے متعدد مجموعوں میں بکھرا ہوا ہے ان کے اشعار زبان زدِ عام ہیں۔ ان کی اور علامہ اقبالؒ کی فکر کے اشتراک کی وجہ سے اکثر لوگ ان کے اشعار کو اقبالؒ یا دوسرے شعرا سے منسوب کر دیتے ہیں۔ ڈاکٹر زاہد منیر عامر اور حافظ محمد سعد عبداللہ کے اس کام سے یہ معلوم ہو جائے گا کہ کون سا شعر مولانا ظفر علی خان کا ہے اور کون سا نہیں۔ اگر آپ کو ان کے شعر کا ایک مصرع بھی معلوم ہے تو یہ کتاب آپ کو اس کے دوسرے مصرعے، مولانا ظفر علی خان کی اس نظم، اس کتاب اور اس صفحہ تک پہنچا دے گی جہاں آپ پورا شعر بلکہ وہ پوری نظم دیکھ سکتے ہیں۔پھر یہ اشاریہ، کلام ظفر علی خان کی کسی ایک اشاعت تک محدود نہیں بلکہ ان کے کلام کے اب تک جتنے مجموعے شائع ہوئے ہیں یہ اشاریہ ان سب کا احاطہ کرتا ہے۔صرف یہی نہیں کلام ظفر علی خان کے تمام مجموعوں کی تاریخ اور ان میں ہونے والی تبدیلیوں پر ڈاکٹر زاہد منیر عامر نے جو قابل داد تحقیق کی ہے وہ ان جیسا کوئی محقق ہی انجام دے سکتا تھا ۔\u003cbr\u003eاسی پس منظر میں پروفیسر ڈاکٹر زاہد منیر عامر اپنے مضمون میں لکھتے ہیں کہ ظفر علی خان، غالب سے مستفید اور ان کے ایک مداح ہیں۔ ان کے کلام کی اہمیت شاعری کے نقطۂ نظر ہی سے نہیں ہماری ملی تاریخ اور قومی جدوجہد کے نقطہ نظر سے بھی ہے۔ راقم مدت العمر سے ان کے آثار و افکار پر کام کرتا رہا ہے۔ ان کے کلام کے مجموعوں سے تعارف اور ان کے کلام تک قارئین کی رسائی کو ممکن بنانے کیلئے ایک منصوبہ شروع کیا اس کے تسلسل میں پیش نظر تحریر کے ذریعے مولانا کے شعری مجموعوں سے متعلق کچھ ایسی تفصیلات فراہم کی ہیں جو پہلے قارئین کے سامنے نہیں آئی تھیں۔\u003cbr\u003eمولانا ظفر علی خان کا پہلا باقاعدہ شعری مجموعہ ’’حبسیات‘‘ ہے۔ اس سے پہلے ان کے زمانہ قیام حیدر آباد دکن میں ان کی طویل نظم ’’شور محشر‘‘ کتابچے کی شکل میں شائع ہوئی تھی۔ یہ نظم موسیٰ ندی میں طغیانی کے المناک حادثے پر لکھی گئی تھی اور بڑی تعداد میں شائع کرکے تقسیم کی گئی اور اس کی آمدنی طغیانی کے متاثرین کیلئے وقف کردی گئی تھی۔ یہ 1908ء کا واقعہ ہے۔ اصغر حسین خان نظیر لدھیانوی مرحوم نے یہ نظم بہارستان کی تیسری اشاعت مکتبہ کارواں لاہور میں درج کرتے ہوئے اس پر نوٹ لکھا تھا۔نظیر صاحب کے منقولہ متن میں یہ نظم محض چونیتس اشعار پر مشتمل ہے۔ مولانا ظفر علی خان کے سوانح نگار ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار کے مطابق اس نظم کے اشعار کی تعداد ایک سو تھی، حقیقت یہ ہے کہ ایک سو اشعار صرف پہلے چھ بندوں کے تھے جنہیں شیخ عبدالقادر نے’’ مخزن ‘‘میں شائع کیا۔پوری نظم اب دستیاب نہیں ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eاس کے بعد مولانا کا کوئی شعری مجموعہ شائع نہ ہوا تھا۔ وہ بارہا گرفتار بھی ہوئے، اس زمانہ اسارت میں انہوں نے متعدد علمی و ادبی مضامین لکھے ان کا مجموعہ1925ء میں ’’ لطائف الادب‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ سورہ روم کی تاریخ تفسیر قلمبند کی جو بعد ازاں غلبہ روم کے نام سے اشاعت پذیر ہوئی۔ ان نثری کاموں کے علاوہ اس زمانہ اسارت میں ان کا شعری سفر بھی جاری رہا جس کا ثمر ان کے اولین شعری مجموعے’’ حبسیات‘‘ کی صورت میں سامنے آیا۔ یہ مجموعہ 8\/20x26سائز پر منصوبہ اسٹیم پریس لاہور سے میں چھپ کر شائع ہوا۔ مجموعے کے سرورق کی عبارت مظہر ہے کہ اس مجموعے کی نظمیں سنٹرل جیل منٹگمری کے زمانہ اسارت کی یادگار ہیں ۔ سرورق پر لکھا ہے:’’حبسیات یعنی مولانا ظفر علی خان مدظلہ العالی کی ان نظموں کا مجموعہ جو انہوں نے زمانہ قید فرنگ میں سنٹرل جیل منٹگمری میں ارشاد فرمائیں‘‘۔بہ حیثیت مجموعی یہ بات درست ہے کہ اس مجموعے میں شامل بیشتر نظمیں سنٹرل جیل منٹگمری کے زمانہ اسارت میں کہی گئیں لیکن ایسا نہیں ہے کہ تمام منظومات اسی جیل میں کہی گئیں۔ اس مجموعے میں سنٹرل جیل لاہور اور کرم آباد میں نظر بندی کے زمانے کی نظمیں بھی شامل ہیں۔\u003cbr\u003eقصہ مختصریہ ایک جامع اور مفید دستاویز ہے جس کا مطالعہ تاریخ و ادب کے طلبہ ہی نہیں ہر پاکستانی کے لئے ضروری ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e \u003c\/p\u003e","brand":"Moalana Zafar Ali Khan","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646635896866,"sku":null,"price":1500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/5295_66622784.jpg?v=1766144230"},{"product_id":"jinnah-of-pakistan","title":"Jinnah of Pakistan","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eMohammad Ali Jinnah was for Pakistan what Mahatma Gandhi and Jawaharlal Nehru combined were for modern India—inspirational father and first head of state. Jinnah began his career as the Indian National Congress’s ‘Ambassador of Hindu-Muslim Unity’ but ended it forty years later as the architect of the partition that split Pakistan away from India. This authoritative and uniquely insightful biography explores the fascinating public and private life of this eminently powerful but little understood leader who changed the map of the Asian subcontinent.\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003ePortraying Jinnah’s story in all of its human complexity. Wolpert begins in the late nineteenth century with Jinnah’s early life as a provincial country-boy in Karachi and follows him to London where he studied law and became a British barrister. Returning to India in 1896, Jinnah rapidly ascended the dual ladders of Indian law and politics, climbing to the top rung of each. By the 1920s, however, it appeared that Jinnah’s political career was at an end, superseded by the rise of Gandhi’s leadership and the movement of India in a more revolutionary direction. Yet, Jinnah was to remain a pivotal figure in the turbulent decades that followed, as India struggled for independence from British rule amid growing Hindu-Muslim antagonism.\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Stanley Wolpert","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646641205282,"sku":null,"price":1600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/5eb7949d7df251589089437_af74a044-4ffe-4ee0-89bc-79fc5ccfa08e.jpg?v=1766144354"},{"product_id":"pakistan-fauj-aur-mulaon-kay-derminyan","title":"PAKISTAN: FAUJ AUR MULAON KAY DERMINYAN","description":"\u003cp\u003e‘A well – written and authoritative account from someone who knows Pakistani politics from the inside’.\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003ePeter Bergen, CNN Terrorism Analyst and author of the bestselling Holy War Inc; Inside the Secret World of Osama Bin Laden\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e‘We are in Husain Haqqani’s debt for providing an authoritative account of the linkages between Pakistan’s powerful Islamists and its professional army. He conclusively demonstrates that these ties are long-standing, complex and very troubling. This brilliantly researched and written book should be required reading for anyone who wishes to understand this increasingly important state’.\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eStephen p. Cohen, Brookings Institution,\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eAuthor of The Idea of Pakistan and the Pakistan Army\u003cbr\u003eHusain Haqqani’s Pakistan: Between Mosque and Military analyzes the origins of the relationships between Islamism groups and Pakistan’s military, and explores Pakistan’s quest for identity and security. Tracing how Pakistan’s military has sought U.S. support by making itself useful for concerns of the moment – while continuing to strengthen the mosque – military alliance within the country – Haqqani offers an alternative view of political developments in Pakistan since the country’s independence in 1947.\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Husain Haqqani","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646641369122,"sku":null,"price":1995.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/9789694025131-1_aef4925f-7cc2-4859-ab05-18f2c60d2bb2.jpg?v=1766144358"},{"product_id":"fact-and-fiction","title":"Fact and Fiction","description":"\u003cp\u003eFirst published in 1961, Fact and Fiction is a collection of Bertrand Russell’s essays that reflect on the books and writings that influenced his life, including fiction, essays on politics and education, divertissements and parables. Also broaching on the highly controversial issues of war and peace, it is in this classic collection that Russell states some of his most famous pronouncements on nuclear warfare and international relations. It is a remarkable book that provides valuable insight into the range of interests and depth of convictions of one of the world’s greatest philosophers.\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Bertrand Russell","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646641565730,"sku":null,"price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/71Kj1d1_IbL._SY425_34d0f92f-d985-4a6a-83b9-9b1501850147.jpg?v=1766144362"},{"product_id":"fallen-leaves-last-words-on-life-love-war-god","title":"Fallen Leaves: Last Words on Life, Love, War \u0026 God","description":"\u003ctable border=\"0\" cellpadding=\"0\" cellspacing=\"0\" width=\"795\" style=\"border-collapse: collapse; width: 596pt;\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol width=\"795\" style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 29074; width: 596pt;\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr height=\"20\" style=\"height: 15.0pt;\"\u003e\n\u003ctd height=\"20\" align=\"left\" width=\"795\" style=\"height: 15.0pt; width: 596pt;\"\u003eThe culmination of Will Durant’s sixty-plus years spent researching the philosophies, religions, arts, sciences, and civilizations from across the world, Fallen Leaves is the distilled wisdom of one of the world’s greatest minds, a man with a renowned talent for rendering the insights of the past accessible. Over the course of Durant’s career he received numerous letters from “curious readers who have challenged me to speak my mind on the timeless questions of human life and fate.” With Fallen Leaves, his final book, he at last accepted their challenge.\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eIn twenty-two short chapters, Durant addresses everything from youth and old age to religion, morals, sex, war, politics, and art. Fallen Leaves is “a thought-provoking array of opinions” (Publishers Weekly), offering elegant prose, deep insights, and Durant’s revealing conclusions about the perennial problems and greatest joys we face as a species. In Durant’s singular voice, here is a message of insight for everyone who has ever sought meaning in life or the counsel of a learned friend while navigating life’s journey.\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e","brand":"Will Durant","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646641762338,"sku":null,"price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/71K4p9iMcnL._SY425_41fdcc3e-0855-4533-a871-347f1dab32e4.jpg?v=1766144366"},{"product_id":"2-books-set-of-george-orwell","title":"2 Books set of George Orwell","description":"\u003cp\u003eزیر نظر کتاب \"1984\"\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eچارج آرویل کا لکھا ہوا غیر معمولی ناول ہے۔ اس ناول کو بیسویں صدی عیسوی کے دس بہترین لکھے گئے فکشن میں شمار کیا جاتا ہے۔ جارج آرویل نے یہ ناول 1949ء میں لکھا تھا۔ اس ناول کی کئی لاکھ جلدیں صرف انگریزی میں فروخت ہو چکی ہیں۔ اس کا ترجمہ دنیا کی پچاس سے زیادہ زبانوں میں ہو چکا ہے۔ زیر نظر ناول اردو ترجمہ ہے جسے سید سہیل واسطی نے کیا ہے۔ ناول کا مرکزی کردار ریاست اوشیانا کا باشندہ ہے۔ اس ناول میں بتایا گیا ہے کہ کیسے یہ ریاست اپنے باشندوں کی دماغی دھلائی یعنی برین واشنگ کا سامان کرتی ہے۔ ریاست میں منسٹری آف ٹرتھ کے نام سے ایک بہت بڑا ادارہ قائم ہے جو کہ صرف اور صرف تاریخ اور حالات و واقعات کو حسب ضرورت تبدیل کرنے کا کام سر انجام دیتا ہے۔ جارج آرویل کے اس ناول کے مخصوص انداز بیاں اور اس میں بیان کیا گیا فلسفے نے ادب، سیاست اور سوشلزم وغیرہ کی دنیا میں ایسی شہرت پائی کہ \"آرویلیئن\" کے نام سے ایک اصطلاح بھی مروج ہو گئی تھی۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e“اینمل فارم\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e” جارج اور ویل کی مشہور کتاب ہے، جس کا اردو ترجمہ سید علاودین نے کیا ہے۔ یہ کتاب ایک علامتی کہانی ہے جو حکومتی ظلم و جبر، معاشرتی انصاف، اور انقلاب کی پیچیدگیوں پر روشنی ڈالتی ہے۔ “اینمل فارم” میں جانوروں کی کہانی کے ذریعے انسانی معاشرت کے مسائل کو پیش کیا گیا ہے، جس سے قارئین کو سیاست اور سماج کے اہم پہلوؤں پر غور کرنے کا موقع ملتا ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"George Orwell","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646708314146,"sku":null,"price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/background-editor_output_4bb86d1c-5243-4658-a079-299947698d18.png?v=1766144683"},{"product_id":"1984","title":"1984","description":"\u003cp\u003eزیر نظر کتاب \"انیس سو چوراسی\" چارج آرویل کا لکھا ہوا غیر معمولی ناول ہے۔ اس ناول کو بیسویں صدی عیسوی کے دس بہترین لکھے گئے فکشن میں شمار کیا جاتا ہے۔ جارج آرویل نے یہ ناول 1949ء میں لکھا تھا۔ اس ناول کی کئی لاکھ جلدیں صرف انگریزی میں فروخت ہو چکی ہیں۔ اس کا ترجمہ دنیا کی پچاس سے زیادہ زبانوں میں ہو چکا ہے۔ زیر نظر ناول اردو ترجمہ ہے جسے سید سہیل واسطی نے کیا ہے۔ ناول کا مرکزی کردار ریاست اوشیانا کا باشندہ ہے۔ اس ناول میں بتایا گیا ہے کہ کیسے یہ ریاست اپنے باشندوں کی دماغی دھلائی یعنی برین واشنگ کا سامان کرتی ہے۔ ریاست میں منسٹری آف ٹرتھ کے نام سے ایک بہت بڑا ادارہ قائم ہے جو کہ صرف اور صرف تاریخ اور حالات و واقعات کو حسب ضرورت تبدیل کرنے کا کام سر انجام دیتا ہے۔ جارج آرویل کے اس ناول کے مخصوص انداز بیاں اور اس میں بیان کیا گیا فلسفے نے ادب، سیاست اور سوشلزم وغیرہ کی دنیا میں ایسی شہرت پائی کہ \"آرویلیئن\" کے نام سے ایک اصطلاح بھی مروج ہو گئی تھی۔\u003c\/p\u003e","brand":"George Orwell","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646709690402,"sku":null,"price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/background-editor_output_7c5a4c82-0613-40e7-b2a5-24d923f190af.png?v=1766144744"},{"product_id":"animal-farm","title":"Animal Farm","description":"\u003cp\u003e“اینمل فارم” جارج اور ویل کی مشہور کتاب ہے، جس کا اردو ترجمہ سید علاودین نے کیا ہے۔ یہ کتاب ایک علامتی کہانی ہے جو حکومتی ظلم و جبر، معاشرتی انصاف، اور انقلاب کی پیچیدگیوں پر روشنی ڈالتی ہے۔ “اینمل فارم” میں جانوروں کی کہانی کے ذریعے انسانی معاشرت کے مسائل کو پیش کیا گیا ہے، جس سے قارئین کو سیاست اور سماج کے اہم پہلوؤں پر غور کرنے کا موقع ملتا ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"George Orwell","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646709723170,"sku":null,"price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/background-editor_output_331d2c34-8b87-4095-aab3-e84785fa1eed.png?v=1766144744"},{"product_id":"ulma-aur-siasat","title":"Ulma aur Siasat","description":"\u003ctable style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\" width=\"780\" cellspacing=\"0\" cellpadding=\"0\" border=\"0\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\" width=\"780\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr style=\"height: 15.0pt;\" height=\"20\"\u003e\n\u003ctd style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\" width=\"780\" align=\"right\" dir=\"RTL\" height=\"20\"\u003eکتاب کا نام: علماء اور سیاست\u003cbr\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی \u003cbr\u003eقیمت: 600\u003cbr\u003eبرصغیر ہندوستان میں سلاطین دہلی اور مغل سلطنتوں میں علماء کا کردار رہا ہے۔ لیکن ان کے اور\u003cbr\u003eحکمرانوں کے درمیان سیاسی اختلافات رہے تھے، علماء مذہبی طور پر ہندو رعایا کے ساتھ انتہا پسندی کا سلوک چاہتے تھے۔ لیکن حکمران سیاسی طور پر اپنی ہندو رعایا کے ساتھ خوشگوار تعلقات رکھنا چاہتے تھے۔ چونکہ سیاسی طاقت حکمرانوں کے پاس تھی اس لیے وہ علماء کے دباؤ میں نہیں آئے بلکہ انہیں ریاست کا وفادار بنائے رکھا۔\u003cbr\u003eبرطانوی دور حکومت میں جبکہ یہاں سے مغل ریاست ختم ہو چکی تھی ۔ انہوں نے اپنے مدر سے قائم کر کے مسلمانوں کو مذہبی تعلیمات دیں، بلکہ فتوؤں کے ذریعے اُن کے سماجی اور معاشی مسائل کو بھی\u003cbr\u003eحل کیا۔ جب سائنس کی ایجادات آئیں تو انہوں نے اُن کی مخالفت کی ، تاکہ مسلمانوں کے عقیدے\u003cbr\u003eمیں شک وشبہ پیدا نہ ہو۔ ان کے مقابلے میں سرسید احمد خاں نے اسلام کا ترقی پسندانہ نظریہ پیش\u003cbr\u003eکیا، جس کی وجہ سے آج تک اسلام کی قدامت پسندی اور ترقی پسندی کے درمیان تصادم جاری ہے پاکستان کے موجودہ حالات میں جب سیاستدان ناکام ہو گئے اور جمہوری ادارے بھی عوام کو\u003cbr\u003eنمائندگی نہ دیں سکیں تو اس ماحول میں علماء کو اپنی جگہ بنانے کا موقع مل گیا۔ لیکن ان حالات میں سیاستدانوں اور علماء کے درمیان مذہبی پالیسی پر کوئی اختلاف نہیں رہا۔\u003cbr\u003eاس کتاب میں کوشش کی گئی ہے کہ اسلامی تاریخ میں علماء کے بدلتے ہوئے کردار کا تجزیہ کیا جائے۔\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646710870050,"sku":null,"price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/IMG-20250118-WA0029_c7768e0a-e9e2-4892-bc9b-63657afe0810.jpg?v=1766144791"},{"product_id":"tarikh-or-nisabi-kutab","title":"Tarikh or Nisabi Kutab","description":"\u003ctable style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\" width=\"780\" cellspacing=\"0\" cellpadding=\"0\" border=\"0\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\" width=\"780\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr style=\"height: 15.0pt;\" height=\"20\"\u003e\n\u003ctd style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\" width=\"780\" align=\"right\" dir=\"RTL\" height=\"20\"\u003eکتاب کا نام: تاریخ اور نصابی کتب\u003cbr\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی\u003cbr\u003eقیمت: 700\u003cbr\u003eقومی ریاست کے وجود میں آنے کے بعد سے تعلیم کو قومی بنانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ قومی ریاست نصابی تعلیم کے ذریعے طالب علموں میں قوم پرستی اور وطن پرستی کے جذبات کو پیدا کرنا چاہتی ہے۔ اس کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ حکمران طبقے پر کوئی تنقید نہ کی جائے اور نہ ہی ریاست میں اصلاح کی تجاویز دی جائیں۔ اس مقصد کے لیے نصابی کتب اُن افراد سے لکھوائی جاتی ہیں جو قومی ریاست کے منصوبے کو پورا کرتے ہیں۔\u003cbr\u003eنصابی کتابوں میں سیاست کا بھی دخل ہوتا ہے۔ اقتدار میں آنے والی سیاسی پارٹی انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے اُن موضوعات کو شامل کرتیں جو عوام میں مقبول ہوں جبکہ نصابی کتابوں کے ذریعے عالمگیر سیاست نئے افکار و خیالات کو شامل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ جن ملکوں میں نصابی کتابوں کے ذریعے کسی ایک خاص نظریے کی تعلیم دی گئی ہو تو اس صورت میں نوجوانوں میں تعصب اور نفرت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ لہذا نصابی کتابوں کی وجہ سے کئی ملکوں کے باہمی تعلقات کشیدہ ہیں۔ جیسے جاپان اور کوریا، اسرائیل اور عرب ممالک ، امریکہ اور لاطینی ممالک، جرمنی اور انگلینڈ، انڈیا اور پاکستان۔ کئی بار یہ کوشش کی گئی کہ جن ملکوں کے درمیان نصابی کتب تنازعے کا باعث ہیں اُن کے مورخ مل کر ایسی تاریخ لکھیں جس میں تعصبات نہ ہوں بلکہ باہمی روابط کے واقعات ہوں۔\u003cbr\u003eڈاکٹر مبارک علی\u003cbr\u003e2 ستمبر 2024 ء ، لاہور\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646710935586,"sku":null,"price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/IMG-20250118-WA0013_373d4240-3d19-48b3-a649-8b82810398b1.jpg?v=1766144792"},{"product_id":"tareekh-kay-badalty-nazariyat","title":"Tareekh Kay Badalty Nazariyat","description":"\u003ctable style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\" width=\"780\" cellspacing=\"0\" cellpadding=\"0\" border=\"0\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\" width=\"780\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr style=\"height: 15.0pt;\" height=\"20\"\u003e\n\u003ctd style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\" width=\"780\" align=\"right\" dir=\"RTL\" height=\"20\"\u003eکتاب کا نام: تاریخ کے بدلتے نظریات۔\u003cbr\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی۔\u003cbr\u003eقیمت: 700\u003cbr\u003eابتدائی دور میں تاریخ نویسی کا یہ مطلب تھا کہ ماضی میں ہونے والے واقعات کو بیان کر دیا جائے۔ یہ نہیں بتایا جاتا تھا کہ واقعات کی نوعیت کیا ہے، اس کی وجوہات کیا ہیں اور کیا ہی ڈالی شعور میں اضافہ کریں گے۔ اس کمی کو دور کرنے کے لیے اب جدید تاریخ کو نظریات کی روشنی میں لکھا جاتا ہے خام جب ایشیا اور افریقہ کے ملکوں میں آزادی کی جدو جہد شروع ہوئی تو تاریخ کو قوم پرستی کے نظریے کے تحت لکھا گیا تا کہ یورپی سامراج کا مقابلہ کیا جائے۔ یورپ کے سامراجی ملکوں نے یورپ کی تاریخ کو برتر ثابت کیا اور کالونیز کی تاریخ کو پسماندہ کہہ کر اپنے اقتدار کو جائز قرار دیا۔ کارل مارکس نے تاریخ میں طبقاتی جنگ کو اہمیت دیتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ یہ طبقاتی جنگ تاریخ کو تبدیل کرتی رہتی ہے۔ اب\u003cbr\u003eتک تاریخ نویسی میں عورتوں کے کردار کا بہت کم ذکر تھا۔ لہذا تحریک نسواں نے مردوں کی تاریخ پر اجارہ\u003cbr\u003eداری کو چیلنج کیا اور تاریخ کی تشکیل میں عورتوں کے کردار کو پیش کر کے تاریخ نویسی کو تبدیل کیا۔ ایک وقت تک تاریخ سیاست تک محدود تھی۔ بعد میں اس میں معیشت کا بھی اضافہ ہوا لیکن تاریخ نویسی کو سیاست اور معیشت سے نکال کر اس میں نفسیات ، عمرانیات ، علم بشریات اور سائنس کے مضامین کو بھی شامل کر لیا۔ فرانس میں 1930 ء کی دہائی میں قائم ہونے والے انا لز اسکول کے مؤرخین نے ٹوٹل ہسٹری کا نظریہ پیش کیا ، جس میں جذبات کی تاریخ بھی ہے۔\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eاب مؤرخین کا دعوی ہے کہ معاشرے کی تمام روایات، ادارے اور رویے تاریخ کی دسترس میں ہیں۔ تاریخ کی وسعت نے اسے ایک نئی زندگی دے دی ہے اور مؤرخ ان موضوعات پر تحقیق کر رہے ہیں جو اب تک تاریخ نویسی کا حصہ نہیں تھے۔\u003cbr\u003eوقت کے ساتھ جیسے جیسے ماحول بدلتا ہے اُس کے ساتھ نئے نظریات بھی پیدا ہوتے ہیں اس لیے تاریخ کو\u003cbr\u003eبار بار لکھنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ نئے نظریات کی روشنی میں واقعات کی تشریح کرے۔\u003cbr\u003eڈاکٹر مبارک علی\u003cbr\u003e2 ستمبر 2024 ، لاہور\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e\n\u003cp\u003e\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646711099426,"sku":null,"price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/IMG-20250118-WA0026_9496e80a-ffc4-4653-b893-35a1b6cb2564.jpg?v=1766144794"},{"product_id":"quaid-e-azam-kia-they-kia-nahi","title":"Quaid-e-Azam Kia They Kia Nahi","description":"\u003ctable style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\" width=\"780\" cellspacing=\"0\" cellpadding=\"0\" border=\"0\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\" width=\"780\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr style=\"height: 15.0pt;\" height=\"20\"\u003e\n\u003ctd style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\" width=\"780\" align=\"right\" dir=\"RTL\" height=\"20\"\u003eکتاب کا نام: قائداعظم کیا تھے کیا نہیں تھے۔\u003cbr\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی۔\u003cbr\u003eقیمت: 600\u003cbr\u003eمعاشرہ پہلے اپنے ہیروز کی تشکیل کرتا ہے، پھر اُن کی شخصیت کو مقدس بناتا ہے، پھر اُس کے حوالے سے اپنے خیالات اور نظریات کو پیش کر کے انھیں عوام میں مقبول بناتا ہے۔ ہیرو کی شخصیت تمام غلطیوں اور کمزوریوں سے پاک ہو جاتی ہے۔ یہی صورتحال پاکستان میں قائد اعظم محمدعلی جناح کی ہے۔ کبھی اُن\u003cbr\u003eکے نام سے جعلی ڈائری چھپ کر سامنے آئی کبھی اُن سے وہ واقعات منسوب کیے گئے جس سے اُن کا کوئی\u003cbr\u003eتعلق نہیں تھا۔ مثلاً ٹی وی کے ایک اینکر پرسن نے کہا کہ ایک مرتبہ جناح صاحب اسلام آباد کی سائٹ سے گزر رہے تھے تو انھوں نے اشارہ کر کے کہا کہ پاکستان کا دارالخلافہ یہاں بنے گا۔ اب جب علامہ اقبال اور جناح صاحب میں مقابلہ ہوتا ہے تو علامہ اقبال نے جناح صاحب کو مشورہ دیا کہ آپ پاکستان میں سوشل ڈیموکریسی لے کر آئیں یعنی پاکستان کی سیاست میں علامہ اقبال جناح صاحب سے بڑھ کر تھے۔\u003cbr\u003eاس کتاب میں جناح صاحب کی شخصیت کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ مسلم لیگ کی شمولیت سے پہلے\u003cbr\u003eاور بعد میں ۔ پاکستان کے قیام کے بعد اُن کی تبدیل ہوتی سیاست کے بارے ذکر ہے۔ اُن کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے یہ کتاب مفید ہوگی۔\u003cbr\u003eڈاکٹر مبارک علی\u003cbr\u003e2 ستمبر 2024 ، لاہور\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646711263266,"sku":null,"price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/IMG-20250118-WA0024_87212720-fe2b-4c1e-8757-d40e3e2b0e8b.jpg?v=1766144798"},{"product_id":"jageerdari","title":"Jageerdari","description":"\u003ctable style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\" width=\"780\" cellspacing=\"0\" cellpadding=\"0\" border=\"0\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\" width=\"780\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr style=\"height: 15.0pt;\" height=\"20\"\u003e\n\u003ctd style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\" width=\"780\" align=\"right\" dir=\"RTL\" height=\"20\"\u003eکتاب کا نام: جاگیر داری\u003cbr\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی \u003cbr\u003eقیمت: 1000\u003cbr\u003eقدیم زمانے میں زرعی زمین کی اہمیت ہوا کرتی تھی ، کیونکہ پیداوار اور لگان آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔ بادشاہ اپنے وفادار اُمرا کو زرعی زمین بطور جا گیر دیا کرتا تھا تا کہ وقت ضرورت وہ اُس کی مالی اور فوجی مدد کرے ۔ مختلف سلطنتوں میں جاگیر کی مختلف شکلیں ہوا کرتیں تھیں۔ کہیں جاگیر موروثی ہوتی تھی جو ایک ہی خاندان کے افراد میں منتقل ہو جاتی تھی۔ اگر جاگیر کے کئی حصے دار ہوتے تھے تو اُسے ان میں تقسیم کر دیا جاتا تھا۔ نتیجہ یہ نکلتا تھا کہ وقت کے ساتھ جاگیردار خاندان کا خاتمہ ہو جاتا تھا۔ اس کو روکنے کے لئے یورپ میں یہ قانون بنایا گیا ، کہ جائیداد کا وارث بڑا لڑکا ہوگا۔\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eہندوستان میں بادشاہ زمین کا مالک ہوتا تھا۔ کسی بھی امیر کو جاگیر خاص وقت کے لئے دی جاتی تھی۔ اُس کی جاگیر کا تبادلہ بھی ہوتا رہتا تھا۔ اُس کے ریٹائر ہونے یا مرنے پر جاگیر دوبارہ سے بادشاہ کے پاس آجایا کرتی تھی۔ لہذا جاگیر داروں کا کوئی مستقل طبقہ نہیں تھا۔\u003cbr\u003e\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003eجب ہندوستان میں برطانوی حکومت قائم ہوئی تو اُس نے جاگیرداروں کا ایک نیا طبقہ پیدا کیا اور جاگیر کونجی بنا دیا گیا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ وفادار جاگیردار طبقہ برطانوی حکومت کا وفادار رہے اور وقت ضرورت اُن کی مالی امداد بھی کرتا رہے۔\u003cbr\u003e\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003eبرصغیر کی تقسیم کے بعد ہندوستان کی حکومت نے جاگیرداری اور مقامی ریاستوں کو ختم کر دیا۔ لیکن پاکستان میں موروثی جاگیردار خاندان باقی رہے جو آج بھی ملک کی سیاست، معیشت اور عام لوگوں پر اپنا تسلط قائم رکھے ہوئے ہیں۔\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646711361570,"sku":null,"price":700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/IMG-20250118-WA0021_eea9d8aa-fbc4-45da-bfb0-1343a9d8280f.jpg?v=1766144800"},{"product_id":"hindustan","title":"Hindustan","description":"\u003ctable border=\"0\" cellpadding=\"0\" cellspacing=\"0\" width=\"780\" style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol width=\"780\" style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr height=\"20\" style=\"height: 15.0pt;\"\u003e\n\u003ctd height=\"20\" dir=\"RTL\" align=\"right\" width=\"780\" style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\"\u003eکتاب کا نام: ہندوستان \u003cbr\u003eمصنف: ڈاکٹر مبارک علی \u003cbr\u003eقیمت: 1000\u003cbr\u003eہندوستان میں تہذیب کی ابتداء اگرچہ وادی سندھ کی تہذیب سے ہوئی لیکن یہ تہذیب حادثات کے\u003cbr\u003eہاتھوں زوال کا شکار ہو کر مٹی میں مدفون ہو گئی۔ ہندوستان کی تاریخ آریاؤں کی آمد سے شروع ہوتی ہے جو 1500 قبل مسیح میں ہندوستان میں آنا شروع ہوئے تھے ۔ 1920 عیسوی میں جب ہر پہ اور موہنجو داڑو دریافت ہوئے تو تاریخ\u003cbr\u003eکی ابتداء 5000 قبل مسیح سے شروع ہو گئی۔ آریاؤں کی تہذیب کی بنیاد مذہب اور فلسفے پر تھی۔ ان کے ویدک عہد میں مذہبی کتابوں کا ذکر ہے۔ جن سے ان کے مذہبی عقیدے کے بارے میں معلومات ملتی ہیں۔ اسی عہد میں ہندوستان مختلف ریاستوں میں تقسیم ہوا۔ ان کی آپس کی جنگیں تاریخ کا اہم موضوع ہیں۔\u003cbr\u003eتیرویں صدی میں ترکوں نے ہندوستان میں اپنی حکومت قائم کی۔ یہ اپنے ساتھ نیا طرز تعمیر نئی صنعتیں اور آب پاشی کے نئے نظام کو ساتھ میں لائے۔ ترکوں کی حکومت نے ہندوستان کی سیاست کو بدل ڈالا اور ایک لحاظ سے\u003cbr\u003eہندوستان قدیم عہد سے جدید دور میں آیا۔\u003cbr\u003eسلاطین کے بعد ہندوستان میں مغلوں کی حکومت قائم ہوئی۔ مغلوں کے شہنشاہ اکبر نے تمام مذاہب کو آپس میں ملایا اور رواداری کی پالیسی کو اختیار کیا۔ مغل دور ہی میں فتوحات کے ذریعے ہندوستان کو سیاسی طور پر متحد کیا۔ یہ دور اس لحاظ سے قابل ذکر ہے کیونکہ اس میں ادب، آرٹ ہتعمیرات موسیقی اور ادب آداب کی روائتیں قائم ہوئیں ۔\u003cbr\u003eمغل زوال کے بعد یہاں برطانوی حکومت کا قیام عمل میں آیا۔ انگریز اپنے ساتھ یورپی تہذیب اور اس کے علوم وفنون کو اپنے ساتھ لائے ۔ انگریزوں کی آمد نے ہندوستان کے سماج کو بدل ڈالا اور اشرافیہ کا ایک ایسا طبقہ پیدا\u003cbr\u003eہوا جو مغربی تعلیم یافتہ تھا اور مغرب کی تہذیب کو اختیار کر چکا تھا۔ ان کی مدد سے انگریزوں نے ہندوستان پر اپنا تسلط قائم\u003cbr\u003eکیا اور یورپی تہذیب کو ہندوستان میں روشناس کرایا۔ اس نے ہندوستانی سماج کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ جدید طبقہ جو\u003cbr\u003eیورپی تہذیب کا حامی تھا اور اکثریت جو قدامت پرست تھی اور جن کی اپنی ہی دنیا تھی۔ انگریزوں کے جانے کے بعد بھی\u003cbr\u003eبرصغیر ہندوستان میں یہ تقسیم جاری رہی۔\u003cbr\u003e1. Qadeem Hindustan\u003cbr\u003e2. Ohd E Wasta Ka Hindustan\u003cbr\u003e3. Bartanvi Hindustan\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e\n\u003cp\u003e\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646711394338,"sku":null,"price":700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/IMG-20250118-WA0015_64643430-a770-424c-a6e4-e150e4b3938b.jpg?v=1766144801"},{"product_id":"big-capital-in-an-unequal-world-the-micropolitics-of-wealth-in-pakistan-rosita-armytage-بندر-بانٹ-khalid-mehmood-advocate","title":"Big Capital In An Unequal World: The Micropolitics Of Wealth In Pakistan | Rosita Armytage | بندر بانٹ | Khalid Mehmood Advocate","description":"\u003cdiv class=\"product__description rte quick-add-hidden\"\u003e\n\u003cdiv class=\"product__description rte quick-add-hidden\"\u003e\n\u003cp align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eعصر حاضر کے پاکستان کو سمجھنے کے لیے بہترین کتابوں میں سے ایک\u003cspan dir=\"RTL\" lang=\"ER\"\u003e \u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan\u003e\u003ca href=\"https:\/\/www.amazon.com\/Big-Capital-Unequal-World-Micropolitics\/dp\/1789206162\/ref=cm_cr_arp_d_product_top?ie=UTF8\"\u003eBIG CAPITAL IN AN UNEQUAL WORLD: THE MICROPOLITICS OF WEALTH IN PAKISTAN\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e \u003c\/span\u003e\u003c\/a\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e \u003c\/span\u003eBY\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e \u003cspan lang=\"AR-SA\"\u003e\u003ca href=\"https:\/\/www.amazon.com\/s?ie=UTF8\u0026amp;field-author=Rosita+Armytage\u0026amp;search-alias=books\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\" lang=\"EN-US\"\u003eROSITA ARMYTAGE\u003c\/span\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003ch4 align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\n\u003cb\u003e\u003cspan dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eداناؤں کا قول ہے کہ جب آپ اپنی تاریخ خود نہیں لکھیں گے تو کوئی دوسرا یہ کام کرے گا۔ وطن عزیز میں مسخ شدہ تاریخ کے ذریعے نوجوانوں کو لوری دے کر سلانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے تاکہ وہ حقیقت سے غافل رہیں اور اس کی آڑ میں سرمایہ داروں، جاگیر داروں، تمن دار اور نوکر شاہی قومی وسائل پر ہاتھ صاف کر کے اپنی عیاشیوں کا سامان کرتے رہیں۔ لیکن خدا کی قدرت ہے کہ جب آپ حقیقت کو چھپانے یا مسح کرنے کی کوشش کریں گے تو کہیں نہ کہیں سے محکوم طبقہ کو اس کا سراغ لگ ہی جائے گا۔ آج کل وطن عزیز پر بھی یہ بات درست ثابت آتی ہے جہاں قصیدہ گو مورخین اور فتوی فروش فقیہوں نے حقائق کو مسخ کرنے کی کمینگی کی ہے۔ وہاں بعض ملکی \/ غیر ملکی محققین نے اشرافیہ کی منافقت کا پردہ چاک کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان میں خورشید کمال عزیز کی کتاب \" تاریخ کا قتل \" ، وکیل انجم کی سیاست کے فرعون \" اور ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کی \"خاکی وردی \" جیسے درخشاں نام شامل ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ نام نہاد ترقی پسند قلمکاروں نے اپنے سابقہ آقاؤں اور موجودہ حکمرانوں کی چیرہ دستیوں اور کالے کرتوتوں کو مصلحت کے پردے میں چھپانے کی کوشش کی ہے لیکن یہ قارئین کہ ایک محدود حلقہ تک محدود رہی۔ اس کے برعکس حق و صداقت کے علمبردار محققین نے پوری ایمانداری اور فرض شناسی سے سیاستدانوں اور فوجی و شہری نوکر شاہی کے گٹھ جوڑ کو طشت از بام کر کے عوام کو حقیقت سے روشناس کرنے کی کوشش کی ہے جن کو وطن عزیز میں اچھی خاصی پذیرائی ملی ہے کیونکہ ان صاحب نظر لوگوں نے بغیر کسی لگی لپٹی کے حقائق کو طشت از بام کر کے اشرافیہ کی منافقت کا پردہ چاک کر کے انقلاب کی راہ ہموار کی ہے۔ ان میں فاضل مصنفہ روزیٹا آرمیٹیج بھی شامل ہے جس نے اپنے علمی منصوبے پر کام کرنے کے دوران پورے ملک کے سیاسی، صنعتی، فوجی، علمی اور کاروباری حلقوں کا بغور مشاہدہ کر کے حقیقت کا سراغ لگانے کی کوشش کی ہے جس کو تعلیمی اور صحافتی شعبدہ بازی کے ذریعے عوام الناس سے چھپانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ فاضل مصنفہ نے مذکورہ بالا حلقوں کے سرکردہ لوگوں سے ملاقاتوں کے علاوہ ان خاندانوں کی مختلف سماجی تقریبات میں بھی شرکت کی جس سے اس پر اشرافیہ کے خاص پہلو آشکار ہوئے کہ کس طرح یہ لوگ خود کو عوام الناس اور باقی طبقات سے بالا تصور کرتے ہیں۔ یہی بالا دستی اور احساس برتری کا تصور ایک زہر آلود خنجر ہے جو خلق خدا کی رگِ جاں میں اترا ہوا ہے علی فاضل مصنفہ نے اپنے مشاہدہ سے واضح کیا کہ صنعتکار ، سیاستدانوں سے گٹھ جوڑ کرنے کے بجائے فوجی افسر کے ساتھ رشتہ استوار کرنے کو ترجیح دیتے ہیں شاید انہیں اس بات کا بخوبی علم ہے اسی طبقہ کی وطن عزیز کے طول و عرض پر حکمرانی ہے ، باقی سب تو مہرے ہیں جو ان کے کہنے پر حرکت کرتے ہیں۔ اسی تناظر میں مصنفہ نے سیالکوٹ شہر کو نوجوان فوجی افسروں کا سسرالی شہر قرار دیا ہے۔ خاندانی پس منظر کے پیش نظر یہ برطانوی سامراج کے قائم کردہ اداروں میں تعلیم حاصل کرتا ہے اور وہاں سے فارغ ہو کر ملک کے بڑے بڑے سیاسی، معاشی، صنعتی اور علمی کاروباری اور نوکر شاہی عہدوں پر براجمان ہو کر ایک\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003e\u003cspan\u003e \u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eخاص طبقہ کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔ اسی طرح یہ طبقہ اپنی عیاشیوں کا سامان کرنے کے لیے ملک میں بڑے بڑے کلبوں کی ممبر شپ حاصل کرتا ہے جہاں ہر امیر آدمی کو جانے کی اجازت نہیں خواہ اس کے پاس اربوں روپے ہی کیوں نہ ہوں کیونکہ فاضل مصنفہ کے مطابق ان کلبوں کی رکنیت کے لیے خاص قسم کی پہچان درکار ہے اور یہ سہولت وہی لوگ حاصل کر سکتے ہیں جن کی ماضی میں برطانوی حکمرانوں کے درباروں میں کسی نہ کسی حوالے سے رسائی رہی ہے۔ اس گروہ کے مقابلے میں امیر طبقہ جسے مصنفہ نوے راجے \" کہہ کر پکارتی ہے نے اپنے احساس کمتری کو مٹانے \/ کم کرنے کے لیے سندھ اور پنجاب میں بڑے بڑے کلب قائم کر لیے جن کی فیس،،۔۔۔\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\n\u003c\/h4\u003e\n\u003ch4 align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan\u003eISBN 9786273001692\u003c\/span\u003e\u003c\/h4\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cp\u003e\u003cbutton class=\"share-button__button\"\u003e\u003cspan class=\"svg-wrapper\"\u003e\u003csvg xmlns=\"http:\/\/www.w3.org\/2000\/svg\" fill=\"none\" class=\"icon icon-share\" viewbox=\"0 0 13 12\"\u003e\u003cpath stroke=\"currentColor\" stroke-linecap=\"round\" stroke-linejoin=\"round\" d=\"M1.625 8.125v2.167a1.083 1.083 0 0 0 1.083 1.083h7.584a1.083 1.083 0 0 0 1.083-1.083V8.125\"\u003e\u003c\/path\u003e\u003cpath fill=\"currentColor\" fill-rule=\"evenodd\" d=\"M6.148 1.271a.5.5 0 0 1 .707 0L9.563 3.98a.5.5 0 0 1-.707.707L6.501 2.332 4.147 4.687a.5.5 0 1 1-.708-.707z\" clip-rule=\"evenodd\"\u003e\u003c\/path\u003e\u003cpath fill=\"currentColor\" fill-rule=\"evenodd\" d=\"M6.5 1.125a.5.5 0 0 1 .5.5v6.5a.5.5 0 0 1-1 0v-6.5a.5.5 0 0 1 .5-.5\" clip-rule=\"evenodd\"\u003e\u003c\/path\u003e\u003c\/svg\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/button\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Rosita Armytage; Khalid Mehmood Adv\/Wazir Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646711722018,"sku":null,"price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/bandbantt_fa23d375-9970-42e2-a9a8-4c1ca2d5e69e.jpg?v=1766144808"},{"product_id":"arth-shahstar","title":"Arth Shahstar - ارتھ شاستر","description":"\u003cp\u003eہندوستان کے کلاسیکی ذہنوں میں سے ایک کے ذریعہ ریاستی دستکاری اور زندگی گزارنے کی سائنس پر ایک غیر معمولی تفصیلی کتابچہ؛ کوٹیلیہ؛ چانکیہ اور وشنو گپت کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ ارتھ شاستر 150 عیسوی کے بعد لکھا حالانکہ اس کی تاریخ حتمی طور پر قائم نہیں کی گئی ہے۔ روایت ہے کہ وہ یا تو کیرالہ کا برہمن تھا یا شمالی ہندوستان سے۔ تاہم؛ یہ بات یقینی ہے کہ کوٹیلیہ ہی وہ شخص تھا جس نے نندا خاندان کو تباہ کیا اور چندرگپت موریہ کو مگدھ کا بادشاہ بنایا۔ ایک ماہر حکمت عملی جو ویدوں سے اچھی طرح واقف تھا اور سازشیں کرنے اور سیاسی حکمت عملی وضع کرنے میں ماہر تھا۔ کوٹیلیہ کی ذہانت اس کے ارتھ شاستر میں جھلکتی ہے جو کہ کلاسیکی دور کے ریاستی دستکاری کا سب سے جامع مقالہ ہے۔\u003cbr\u003eارتھا; لفظی دولت؛ ہندو روایت کے ذریعہ تجویز کردہ چار اعلیٰ مقاصد میں سے ایک ہے۔ تاہم؛ اس کی بہت وسیع اہمیت ہے اور افراد کی مادی بہبود اس کا صرف ایک حصہ ہے۔ اس کے مطابق؛ کوٹیلیہ کا ارتھ شاستر اس بات کو برقرار رکھتا ہے کہ کسی ملک کی ریاست یا حکومت کا ملک اور اس کے عوام دونوں کی مادی حیثیت کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ہوتا ہے۔ لہذا؛ ارتھ شاستر کا ایک اہم حصہ معاشیات کی سائنس سے متعلق ہے۔ جب یہ سیاست کی سائنس سے متعلق ہے؛ ارتھ شاستر حکومت کے فن کو اس کے وسیع معنی میں تفصیل سے بیان کرتا ہے - امن و امان کی بحالی کے ساتھ ساتھ ایک موثر انتظامی مشینری بھی۔\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Acharya Kautilya Chanakya","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646723387426,"sku":null,"price":1500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Arth-Shahstar_4c3f0526-a576-4f89-94f0-d776f6883560.jpg?v=1766145276"},{"product_id":"jun-nama","title":"Jang Nam - جنگ نامہ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\"جنگ نامہ\" سید فخر کاکاخیل کی ایک فکر انگیز کتاب ہے جو پاکستان اور افغانستان میں عسکریت پسندی کی پیچیدگیوں کو بیان کرتی ہے۔ مصنف، ایک تجربہ کار صحافی جس کے پاس خطے کا احاطہ کرنے کا تقریباً تین دہائیوں کا تجربہ ہے، مذہبی عسکریت پسندی کے عروج، ارتقا اور اثرات کے بارے میں ایک اہم نقطہ نظر فراہم کرتا ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eکتاب کی اہم خصوصیات\u003cbr\u003e- صحافتی بصیرت: کاکا خیل کا وسیع تجربہ اور زمینی رپورٹنگ بیانیہ میں ایک منفرد نقطہ نظر لاتی ہے، جو اسے تشدد، نظریے اور جغرافیائی سیاست کے الجھے ہوئے جال کو سمجھنے کے لیے ایک ضروری مطالعہ بناتی ہے۔\u003cbr\u003e- تاریخی گہرائی: کتاب عسکریت پسندی کے تاریخی سیاق و سباق کی کھوج کرتی ہے، اس کی جڑوں اور وقت کے ساتھ ساتھ ارتقاء کا پتہ لگاتی ہے، جس میں عبداللہ یوسف عزام اور ابو مصعب الزرقاوی جیسی اہم شخصیات کا اثر بھی شامل ہے۔\u003cbr\u003e- علاقائی فوکس: کاکاخیل نے پاکستان اور وسیع تر خطے پر عسکریت پسندی کے اثرات کا جائزہ لیا، بشمول چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) منصوبے اور افغان نژاد وسطی ایشیائی عسکریت پسند گروپوں کے کردار۔\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Syed Fakhar Kakakhail","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646724010018,"sku":null,"price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Jung-Nama_551ffa4f-3a6e-46d5-b598-f8b15a6259d0.jpg?v=1766145295"},{"product_id":"pakistani-siasat-mein-gadi-nasheeno-ka-kirdar","title":"Pakistani Siasat Mein Gadi Nasheeno Ka Kirdar","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eپاکیستانی سیاست میں مذہبی جماعتوں کا کردار“…… ایک جائزہ\"\u003cbr\u003eپاکستانی سیاست پر لکھنے والوں میں ایک نیا نام جناب ذبیح اللہ صادق بلگن کا ہے۔ ان کی تازہ کتاب ”پاکستانی سیاست…… مذہبی جماعتوں کا کردار (1947ء سے تاحال)“ ہے۔ اسے ”نگارشات“ نے356 صفحات پر شائع کیا ہے۔ کتاب کا بیک پیج بتاتا ہے کہ مصنف کی اس سے پہلے مندرجہ ذیل تین تصانیف منظر عام پر آ چکی ہیں:\u003cbr\u003e٭…… بین الاقوامی انسانی اسمگلنگ\u003cbr\u003e٭…… پاکستان میں بین الاقوامی مداخلتیں\u003cbr\u003e٭…… پاکستانی جماعتیں اور غیر ملکی فنڈنگ\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eیہ کتابیں میری نظر سے نہیں گزریں۔البتہ مذہبی جماعتوں والی کاوش کا مَیں نے بصد ذوق و شوق مطالعہ کیا ہے۔اس کا بڑا سبب میرا اپنا بچپن سے دینی رجحان ہے۔ پہلے پہل مَیں وہابی سُنی کے جھگڑے بہت دلچسپی سے سنتا اور پڑھتا رہا۔ پھر مولانا مودودیؒ کی تحریروں نے مجھے ایسا جذب کیا کہ مَیں وہ جھگڑے بھول بھال گیا۔اسلامی جمعیت طلبہ اور جماعت اسلامی سے وابستگی نے مجھے مذہبی سیاست کو بہت نزدیک سے سمجھنے کا موقع دیا۔مَیں نے جناب بلگن کی کتاب کا جماعت اسلامی والا باب(صفحہ53 تا 108) بغور پڑھا اور اسی پر اظہارِ خیال کر رہا ہوں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eجناب بلگن نے جماعت اسلامی کے نظریات اور حکمت ِ عملی پر جامعیت کے ساتھ روشنی ڈالی ہے۔ اندازِ بیان سے کہیں جانبداری کا گمان نہیں گزرتا،لیکن ایسے موضوعات پر جب قلم اٹھایا جاتا ہے تو اتنا ہی کافی نہیں ہوتا۔فاضل مصنف نے ایک تو حقائق و واقعات کی زیادہ چھان پھٹک نہیں کی۔بس جو ملا اور جیسا ملا اسے ترتیب دے دیا۔ دوسرے، ایسے موضوعات جس قسم کی سنجیدہ اور پختہ زبان چاہتے ہیں وہ بلگن صاحب کو میسر نہیں۔ تیسرے، کتاب لکھنے کے بعد اسے دوبارہ یا سہ بارہ پڑھنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔پروف کی ایسی ایسی فاش غلطیاں ہیں کہ پوری کتاب درجہ اعتبار سے گر جاتی ہے، مثلاً صفحہ54 پر مصری عالم قاسم امین بے کا نام ”قاسم دین“ اور مولانا حمید الدین فراہی کا نام مولانا فرید الدین فراہی درج کر دیا ہے۔اگلے صفحہ پر مولانا مودودیؒ کے کتابچہ ”اسلام کا سر چشمہ ئ قوت“ کو ”اسلام کا چشمہ ئ قدرت“ لکھ دیا ہے۔ صفحہ77پر نواب آف کالا باغ کا نام چودھری محمد علی خان رقم کیا ہے۔ اس نوع کی غلطیاں پوری کتاب میں بار بار دہرائی گئی ہیں۔ صفحہ144 پر مولانا سید ابو الحسنات کو بتکرار مولانا عبدالحسنات لکھا ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eبعض مشہور و معروف حقائق کا بُری طرح تیا پانچہ کیا گیا ہے۔ مثلاً لکھا ہے کہ جماعت اسلامی کا تاسیسی اجتماع پٹھان کوٹ میں ہوا تھا،حالانکہ مذکورہ مقام پٹھان کوٹ نہیں، اسلامیہ پارک لاہور تھا۔ایک جگہ لکھتے ہیں:جماعت پر قیام پاکستان کا مخالف ہونے اور اس کے بانی مولانا مودودیؒ پر یہ الزام دہرایا جاتا ہے کہ انہوں نے قائداعظم ؒ کو کافر ِ اعظم قرار دیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ در فتنی مجلس احرار کے نامور رہنما مولانا مظہر علی اظہر کی چھوڑی ہوئی تھی۔انہوں نے لاہور میں غلام غوث ہزاروی کی صدارت میں ہونے والے ایک جلسہ عام میں یہ افواہ اڑائی تھی“ (صفحہ63)\u003cbr\u003eفاضل مصنف نے ”در فتنی“ اور ”افواہ اڑانے“ کے الفاظ غیر ذمہ داری سے استعمال کئے ہیں۔اصل واقعہ یہ ہے کہ قیام پاکستان سے پہلے لاہور کے ایک جلسہ ئ عام میں مولانا مظہر علی اظہر نے جو مجلس ِ احرار کے صدر تھے،قائداعظم کو کافرِ اعظم کہا تھا اور باقاعدہ اپنا یہ شعر پیش کیا تھا:\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eاِک کافرہ عورت کے لئے دین کو بیچا\u003cbr\u003eیہ قائداعظم ہے کہ ہے کافرِ اعظم\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cbr\u003eاسی طرح بلگن صاحب نے ایوب دور کے ادارہ تحقیقات اسلامیہ کے سربراہ ڈاکٹر فضل الرحمن کے بارے میں صفحہ78 پر لکھا ہے کہ مولانا مودودیؒ نے انہیں کافر قرار دلوانے اور انہیں ملک سے باہر نکلوانے کا حکومت سے مطالبہ کیا تھا،حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ نہ مولانا نے ڈاکٹر صاحب کے خلاف کفر کا فتویٰ دیا اور نہ یہ کہا کہ انہیں ملک سے نکال دیا جائے۔ ایسے فتوے دینا اور مطالبے کرنا مولانا مودودیؒ کے مزاج کے خلاف تھا۔\u003cbr\u003eمذہبی جماعتوں اور ان کے اندر سے پھوٹنے والی گروہ بندیوں کی تفصیلات بلاشبہ قاری کے سامنے مذہبی سیاست کے خدوخال کو نمایاں کر دیتی ہیں۔اس اعتبار سے معلومات کافی محنت سے اکٹھی کی گئی ہیں۔البتہ جماعتوں کے قیام کے پیچھے کار فرما خفیہ ہاتھوں کا بہت کم ذکر کیا گیا ہے،حالانکہ خفیہ ہاتھوں نے صرف اسلامی جمہوری اتحاد ہی نہیں بنوایا تھا اور بھی بہت کچھ انجام دیا تھا،کاش کوئی طاقتور قلم ان ہاتھوں کو جرأت کے ساتھ بے نقاب کر دے!\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eخوب کیا ہے زِشت کیا ہے،\u003cbr\u003eجہاں کی اصلی سرشت کیا ہے\u003cbr\u003eبڑا مزہ ہو تمام چہرے\u003cbr\u003eاگر کوئی بے نقاب کر دے\u003cbr\u003e(حفیظ جالندھری)\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eذوالفقار علی بھٹو کے عہد ِ حکومت میں اپوزیشن جماعتوں نے ”متحدہ جمہوری محاذ“ نام سے ایک اتحاد ضرور قائم کیا تھا،لیکن فاضل مصنف کا یہ کہنا کہ ”آخر کار تنگ آ کر حکومت نے1975ء میں اس اتحاد پر پابندی عائد کر دی اور عدالت نے پابندی برقرار رکھی ”سرا سر خلافِ واقعہ ہے۔مزید لکھتے ہیں کہ ”عدالت نے اپنے فیصلے میں اس اتحاد کی مرکزی و صوبائی قیادت کی اسمبلیوں سے رکنیت کے خاتمے کا بھی اعلان کر دیا“۔ (ص86:)اسی طرح صفحہ91 پر یہ جو رقم فرمایا ہے کہ جنرل ضیاء الحق نے جماعت اسلامی کے امیر میاں طفیل محمد سے مشاورت کے نتیجے میں مجلس شوریٰ قائم کی تھی، معلوم نہیں مصنف کا ذریعہ معلومات کیا ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eخالد ہمایوں\u003c\/p\u003e","brand":"Zabeeh Ullah Balaggan","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646725812258,"sku":null,"price":1050.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Pakisani-Siasat-Mein_ccf19b76-004e-49e7-bd37-69207d28445b.jpg?v=1766145335"},{"product_id":"sachi-paish-goian","title":"Sachi Paish Goian","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eFuture Predictions by Naimatullah Shah Wali\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eTranslated by: Touseef Ahmed Khan\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eنعمت اللہ شاہ ولی کی \"مستقبل کی پیشین گوئیاں\" 15ویں صدی کے صوفی بزرگ سے منسوب پیشین گوئیوں اور پیشین گوئیوں کا مجموعہ ہے۔ کتاب مستقبل کے ممکنہ واقعات کے بارے میں بصیرت فراہم کرتی ہے، زندگی کے مختلف پہلوؤں پر رہنمائی پیش کرتی ہے، بشمول:\u003cbr\u003e- سیاست: حکمرانی، قیادت، اور عالمی سیاست سے متعلق پیشین گوئیاں۔\u003cbr\u003e- معیشت: معاشی رجحانات، چیلنجز اور مواقع کے بارے میں پیشین گوئیاں۔\u003cbr\u003e- سماجی مسائل: سماجی حرکیات، ثقافتی تبدیلیوں، اور ممکنہ چیلنجوں کی بصیرت۔\u003cbr\u003e- قدرتی آفات: قدرتی آفات اور ان کے اثرات کے بارے میں پیشین گوئیاں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eنعمت اللہ شاہ ولی کی پیشین گوئیوں کو گہرا سمجھا جاتا ہے اور ماہرین نے ان کا تجزیہ کیا ہے، جو تاریخی تناظر اور مستقبل کی ممکنہ تشریحات فراہم کرتے ہیں۔ اس کے کام کو کتابوں اور ایپس میں مرتب کیا گیا ہے\u003cbr\u003eخیال کیا جاتا ہے کہ پیشین گوئیاں قیمتی بصیرت پیش کرتی ہیں، جو افراد کو ان کے روحانی تعلق اور اپنے ارد گرد کی دنیا کے بارے میں گہرائی سے سمجھنے کی طرف رہنمائی کرتی ہیں۔ ان کی چند قابل ذکر تصانیف شامل ہیں۔\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Naimatullah Shah Wali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646726500386,"sku":null,"price":730.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Sachi-Paish-Goian-800_253bb80d-95e7-479e-9933-eaa3c7172002.jpg?v=1766145365"},{"product_id":"punjab-mein-bradrion-aur-elect-ablers-ki-siasat-پنجاب-میں-برادریوں-اور-الیکٹ-ایبلرز-کی-سیاست","title":"Punjab Mein Bradrion Aur Elect Ablers Ki Siasat  (پنجاب میں برادریوں اور الیکٹ ایبلرز کی سیاست)","description":"","brand":"?","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646758678562,"sku":null,"price":920.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Punjab-Mein-Bradrion-Aur-Elect-Ablers-Ki-Siasat-1200_0b73fb5a-4424-4e00-9f5b-5f27b72e4609.jpg?v=1766145668"},{"product_id":"the-book-of-woman-عورت","title":"THE BOOK OF WOMAN","description":"\u003cp\u003eاوشو کی \"عورت کی کتاب\" نسوانیت کی ایک فکر انگیز تحقیق ہے، جو عورت کے جوہر اور عورت ہونے کے متنوع جہتوں کو تلاش کرتی ہے۔ اس کتاب میں بنیادی موضوعات کا جائزہ لیا گیا ہے جیسے\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e- جنسیت: اوشو جنسی حقوق اور لذت کی اہمیت پر بحث کرتے ہیں، جنسیت کے لیے رجعت پسندی کے بجائے آزادانہ نقطہ نظر پر زور دیتے ہیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eکیریئر اور سیاست: اوشو روایتی نظریات پر تنقید کرتے ہیں جو خواتین کی بنیادی قدر کو زچگی سے متعلق درجہ بندی کرتے ہیں اور معاشرے میں خواتین کے کردار کے از سر نو جائزہ کے لیے ان کی موروثی صلاحیتوں اور مختلف شعبوں میں عظمت کے امکانات کی عکاسی کرنے کی دلیل دیتے ہیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e- خواتین کی آزادی: خواتین کے لیے حقیقی آزادی ضروری ہے، جس سے وہ اپنی حقیقی فطرت کو اپنا سکیں اور مسخ شدہ تاریخی کرداروں سے آگے بڑھیں۔\u003cbr\u003e- رشتے: اوشو خواتین کو زچگی سے بالاتر کردار ادا کرنے اور مختلف تخلیقی شعبوں میں مشغول ہونے کی ترغیب دیتا ہے، متوازن معاشرے کے لیے انفرادیت اور بقائے باہمی کو فروغ دیتا ہے۔\u003cbr\u003e- تخلیقی صلاحیت: وہ خواتین کے اندر موجود تخلیقی جذبے پر بحث کرتا ہے، اس بات پر زور دیتا ہے کہ تخلیقی صلاحیت صنف سے بالاتر ہے اور محبت اور تکمیل سے ابھر سکتی ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eمجموعی طور پر، \"عورت کی کتاب\" خواتین اور خواتین کے جذبے کا جشن ہے، جو خواتین کی شناخت اور تجربات کی گہرائی سے تحقیق کرتی ہے۔ اوشو کا کام خواتین کو ان کی منفرد صلاحیتوں اور صلاحیتوں کو اپناتے ہوئے نسوانیت کے ذریعے اپنی شناخت دوبارہ حاصل کرنے کی ترغیب دیتا ہے\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Guru Ranjesh Oshu","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646773063714,"sku":null,"price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Orat-by-Osho.jpg?v=1766145790"},{"product_id":"blind-spots-in-pakistans-history-asim-imdad-ali","title":"Blind Spots in Pakistan's History - Asim Imdad Ali","description":"\u003cp\u003eThis book narrates some of the enduring fallacies and flawed philosophies (blind spots) of our elites that prevent us from joining virtuous cycles of growth and development. The book does not restrict itself to being a catalog of political follies and historical fallacies but also offers multiple solutions that could help reinvigorate our fast-eroding cultural and political commons and possibly reverse the engulfing tide of social entropy.\u003c\/p\u003e\n\n\u003cp\u003eTitle: Blind Spots in Pakistan's History\u003cbr\u003e\nAuthor: Asim Imdad Ali\u003cbr\u003e\nSubject: Politics, Political Satire\u003cbr\u003e\nISBN: 9693534824\u003cbr\u003e\nLanguage: English\u003cbr\u003e\nNumber of Pages: 244\u003cbr\u003e\nYear of Publication: 2023\u003c\/p\u003e","brand":"Asim Imdad Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646784270370,"sku":null,"price":2800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/9693534824.main_97946dab-48ad-4a42-95b3-2dc88e65fe49.jpg?v=1766145949"},{"product_id":"arab-dialogue-with-the-world","title":"Arab Dialogue With The World","description":"\u003cp\u003eThe book explains the Arab point of view and why problems and frictions are taking place between the Arab-Muslims and the world. The author selected in this book some issues related to international politics. These issues were and still are under discussion at a number of seminars in which the author participated.\u003c\/p\u003e\n\n\n\u003cp\u003eTitle: Arab Dialogue With The World\u003cbr\u003e\nAuthor: Dr. Mohamed Noman Galal\u003cbr\u003e\nSubject: History\u003cbr\u003e\nISBN: 9693517954\u003cbr\u003e\nYear: 2006\u003cbr\u003e\nLanguage: English\u003cbr\u003e\nNumber of Pages: 192\u003c\/p\u003e","brand":"Dr. Mohamed Noman Galal","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646820118562,"sku":null,"price":595.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/arab-dialogue-with-the-world-200296-938004.jpg?v=1766146477"},{"product_id":"money-bankers-deception","title":"Money: Banker's Deception","description":"\u003cp\u003eThis is a ‘must read’ book which looks into the whole process of money creation domestically and internationally thus laying bare banker’s deception in money creation, in a sober exposition of the processes involved. It should be read by everybody associated with business and\/or politics and is exceedingly relevant in the current monetary crises afflicting the world of high finance.\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eTitle: Money: Banker's Deception\u003cbr\u003eAuthor: Shahid Hassan\u003cbr\u003eSubject: Finance\u003cbr\u003eISBN: 9693525086\u003cbr\u003eYear: 2012\u003cbr\u003eLanguage: English\u003cbr\u003eNumber of Pages: 155\u003c\/p\u003e","brand":"Shahid Hassan","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646859079714,"sku":null,"price":750.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/money-bankers-deception-517336-824585_731d0fbc-2632-4927-b760-b25f2f0cfd52.jpg?v=1766147321"},{"product_id":"poetry-protest-and-politics","title":"Poetry, Protest And Politics","description":"\u003cp\u003eTitle: Poetry, Protest And Politics\u003cbr\u003e\nAuthor: Supriya Chowdhary\u003cbr\u003e\nSubject: Literature\u003cbr\u003e\nISBN: 9693529944\u003cbr\u003e\nYear: 2016\u003cbr\u003e\nLanguage: English\u003cbr\u003e\nNumber of Pages: 191\u003c\/p\u003e","brand":"Supriya Chowdhary","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646900334626,"sku":null,"price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/poetry-protest-and-politics-444006-500585_995de9d3-7e30-4466-8aa4-14495ef98ce7.jpg?v=1766148051"},{"product_id":"party-politics-in-pakistan-1947-58","title":"Party Politics In Pakistan 1947-58","description":"\u003cp\u003eTitle: Party Politics In Pakistan 1947-58\u003cbr\u003e\nAuthor: K. K. Aziz\u003cbr\u003e\nSubject: History\u003cbr\u003e\nISBN: 9693519809\u003cbr\u003e\nYear: 2007\u003cbr\u003e\nLanguage: English\u003cbr\u003e\nNumber of Pages: 302\u003c\/p\u003e","brand":"Khursheed Kamal Aziz","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646910591010,"sku":null,"price":1600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/party-politics-in-pakistan-1947-58-852034-969861_8fa84c38-9538-4822-93c2-7ac73bd2ac40.jpg?v=1766148291"},{"product_id":"recollections-of-india","title":"Recollections Of India","description":"\u003cp\u003e\"Recollections of India\" is a memoir written by Charles Stewart Hardinge, a British civil servant who served in India during the British Raj. The book provides a detailed account of Hardinge's experiences and observations during his time in India, offering valuable insights into the country's history, culture, and politics during the 19th century.\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eAbout the Author:\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eCharles Stewart Hardinge was a British civil servant who served in various capacities in India, including as the Private Secretary to the Viceroy of India. He had a deep interest in Indian culture and history, which is reflected in his writings.\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eImportance:\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\"Recollections of India\" is a valuable resource for historians and scholars interested in understanding the complexities of India during the British Raj. The book provides a unique perspective on the country's past, offering insights into the social, cultural, and political landscape of India during the 19th century.\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Charles Stewart Hardinge","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646921961506,"sku":null,"price":2700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/recollections-of-india-302331-517480.jpg?v=1766148471"},{"product_id":"walo-watnen","title":"ولووطنیں | Walowatanay | Nazir Laghari","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eاُبھے تے لمے امریکہ دے ادھوان وچ کریبیئن سمندردےبھنگ مارطنیق دے ہک وڈے انسان، فرانزفینن دے استاد، سریلزم دے منڈھاؤ موہری اتے 60 سال تائیں مارطنیق دے مئیراتے \u003c\/span\u003e\u003cspan\u003e\u003ca tabindex=\"-1\"\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan\u003eفرانس دی قومی اسمبلی دے ڈپٹی رہن آلے سیاستدان، کمیونسٹ اسکالراتے جگ جہان وچ سونہہ رونہہ رکھن آلے شاعر ایمی سیزر دی ڈھیردرگھی نظم “میڈی مادھرتی ول آون دی ہک نوٹ بک” دا میں “ولووطنیں” دے ناں نال سرائیکی ترجمہ کیتے۔ایں نظم دا مُہاگ ساڈے یار محبوب تابش لکھیئے۔سنگت ایں کتاب دا ٹائیٹل ڈیکھے۔بیک کور تے میڈیئیں فکشن ہاؤس توں چھپن آلیئں چار کتابیں دے ٹائیٹل ہن۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Nazir Laghari","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646924910626,"sku":"978969562958-1-2-2-3-1","price":200.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Walowatanay-Fiction-House-1687687722603_56347211-e7e1-43fc-9d4e-9c77633e5dae.jpg?v=1766148502"},{"product_id":"nazriyat-jinhony-dunya-badal-dali","title":"نظریات جنہوں نے دنیا بدل ڈالی | Nazriyat Jnho nay Duniya Bdal Dali","description":"\u003ch4 class=\"gr-h1 gr-h1--serif\" id=\"bookTitle\"\u003eFive Ideas That Change the World\u003c\/h4\u003e\n\u003ch4 class=\"gr-h1 gr-h1--serif\"\u003eBy Barbara Ward.\u003c\/h4\u003e\n\u003cp\u003eNazriyat Jinhony Dunya Badal Dali\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eTranslation by Atif Muhtisham Khan\u003c\/p\u003e","brand":"Barbara Ward, Baroness Jackson","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646927269922,"sku":"9789695621961-1-3-1","price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Nazriyat-Jnho-nay-Duniya-Bdal-Dali-Fiction-House-1687687908457.jpg?v=1766148534"},{"product_id":"punjab-mein-baradriyo-aur-electables-ki-siyasat","title":"پنجاب میں برادریوں اور الیکٹ ایبلز کی سیاست | Punjab main Biradarion aur Electables ki Siyasat","description":"\u003ch4 data-ved=\"2ahUKEwjf1vLn97HuAhWAQkEAHUMhCoYQ3B0oATALegQIEhAL\" data-attrid=\"title\" data-local-attribute=\"d3bn\" class=\"qrShPb kno-ecr-pt PZPZlf HOpgu mfMhoc hNKfZe\" style=\"text-align: right;\"\u003e\n\u003cspan\u003ePunjab main Biradarion aur Electables ki Siyasat\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eپنجاب میں برادریوں اور الیکٹ ایبلز کی سیاست\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(1947ء تا 2018ء)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eڈاکٹر ظہور چوہدری\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h4\u003e","brand":"Dr. Zahoor Ch.","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646927532066,"sku":"9789695628966-1-2","price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Punjab-main-Biradarion-aur-Electables-ki-Siyasat-Fiction-House-1687687933638_3a41944d-9c50-4ccc-b354-c2d0daba3013.jpg?v=1766148539"},{"product_id":"punjab-assembly-tarikh-o-tehzib","title":"پنجاب اسمبلی تاریخ و تہذیب | Punjab Assembly Tarikh o Thazib","description":"\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eپنجاب اسمبلی __تاریخ و تہذیب___\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eمصنف | محمد اکرم الحق\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eصفحات | 624\u003c\/div\u003e","brand":"Muhammad Ikram Ul Haq","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646927597602,"sku":"9789695628966-1-1","price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Punjab-Assembly-Tarikh-o-Thazib-Fiction-House-1687687939176_2da7bb50-12a0-4bff-b3af-dbffec2b27c6.jpg?v=1766148539"},{"product_id":"memoirs-of-a-sadiqain","title":"Memoirs of a Sadiqain","description":"\u003cp\u003eMemoirs of a Sadiqain\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eBook By Nauman Ahmed Qureshi\u003c\/p\u003e","brand":"Nauman Ahmed Qureshi","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646927663138,"sku":"9789695628966-1","price":700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Memoirs-scaled_cc3387f3-98ac-4949-a34e-5fef252cfb46.jpg?v=1766148540"},{"product_id":"profiles-of-intelligence","title":"Profiles of Intelligence","description":"\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cstrong\u003eProfiles Of Intelligence\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eBook by Brigadier Syed A.I Tirmazi , SI (M)\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"b64c9-0-0\" data-editor=\"1h84q\" data-block=\"true\" class=\"\"\u003e\n\u003cdiv class=\"_1mf _1mj\" data-offset-key=\"b64c9-0-0\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"b64c9-0-0\"\u003eDuring the 20th century, advanced countries have increased their reliance on espionage and covert activities. Sophisticated techniques and state-of-the-art weapons have been developed for the sole purpose of gathering information through covert means. Agencies indulging in the intelligence-gathering which have earned notoriety in recent times, are American CIA, Soviet KGB, British MI6 and Israeli Mossad. Closer home, Indian RAW has also sponsored a number of covert operations to destabilize conditions in countries in its immediate neighborhood. Pakistan, too, has its intelligence arm.\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"5d09d-0-0\" data-editor=\"1h84q\" data-block=\"true\" class=\"\"\u003e\n\u003cdiv class=\"_1mf _1mj\" data-offset-key=\"5d09d-0-0\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"5d09d-0-0\"\u003e\u003cbr data-text=\"true\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"ce9gc-0-0\" data-editor=\"1h84q\" data-block=\"true\" class=\"\"\u003e\n\u003cdiv class=\"_1mf _1mj\" data-offset-key=\"ce9gc-0-0\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"ce9gc-0-0\"\u003eBrigadier S.A.I. Tirmazi, in Profiles of Intelligence unveils some of the counter-intelligence operations undertaken by the Directorate General Inter Services Intelligence, in its home ground. Whatever little has been revealed, presents the portrait of a patriotic, committed, well trained and a highly efficient team under the dynamic and untiring directorship of Tirmazi.\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"4usgt-0-0\" data-editor=\"1h84q\" data-block=\"true\" class=\"\"\u003e\n\u003cdiv class=\"_1mf _1mj\" data-offset-key=\"4usgt-0-0\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"4usgt-0-0\"\u003e\u003cbr data-text=\"true\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"aa4g8-0-0\" data-editor=\"1h84q\" data-block=\"true\" class=\"\"\u003e\n\u003cdiv class=\"_1mf _1mj\" data-offset-key=\"aa4g8-0-0\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"aa4g8-0-0\"\u003eISI remained an almost unknown entity until the beginning of Aghan Jehad. It was only then that this important security-related Pakistan Institution came into limelight. In league with American CIA and other Intelligence agencies of a few friendly countries, it helped Afghan Mujahideen in such an effective manner that the then Super Power, the Soviet Union, had to beat a retreat from Afghanistan which it had invaded nine years earlier.\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"5fhln-0-0\" data-editor=\"1h84q\" data-block=\"true\" class=\"\"\u003e\n\u003cdiv class=\"_1mf _1mj\" data-offset-key=\"5fhln-0-0\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"5fhln-0-0\"\u003e\u003cbr data-text=\"true\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"6uqid-0-0\" data-editor=\"1h84q\" data-block=\"true\" class=\"\"\u003e\n\u003cdiv class=\"_1mf _1mj\" data-offset-key=\"6uqid-0-0\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"6uqid-0-0\"\u003ePrimarily relying on his good memory and a few documents, Brig. Tirmazi has pieced together a good account of ISI, its activities and how it operates to protect country's vital security interests. The book presents an authoritative documentation of the activities of the ISI without divulging any state secrets or jeopardizing its security.\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"2tqng-0-0\" data-editor=\"1h84q\" data-block=\"true\" class=\"\"\u003e\n\u003cdiv class=\"_1mf _1mj\" data-offset-key=\"2tqng-0-0\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"2tqng-0-0\"\u003e\u003cbr data-text=\"true\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"8vuh9-0-0\" data-editor=\"1h84q\" data-block=\"true\" class=\"\"\u003e\n\u003cdiv class=\"_1mf _1mj\" data-offset-key=\"8vuh9-0-0\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"8vuh9-0-0\"\u003ePublication of such revealing books as Profiles of Intelligence is good for boosting the morale of the people and in creating awareness among them about the designs and strategy our our unknown and not-so-well known enemies, who, in the garb of diplomatic activities, try to damage our vital national interests.\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"fr958-0-0\" data-editor=\"1h84q\" data-block=\"true\" class=\"\"\u003e\n\u003cdiv class=\"_1mf _1mj\" data-offset-key=\"fr958-0-0\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"fr958-0-0\"\u003e\u003cbr data-text=\"true\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"aecnl-0-0\" data-editor=\"1h84q\" data-block=\"true\" class=\"\"\u003e\n\u003cdiv class=\"_1mf _1mj\" data-offset-key=\"aecnl-0-0\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"aecnl-0-0\"\u003eProfiles of Intelligence\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"tvsu-0-0\" data-editor=\"1h84q\" data-block=\"true\" class=\"\"\u003e\n\u003cdiv class=\"_1mf _1mj\" data-offset-key=\"tvsu-0-0\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"tvsu-0-0\"\u003eSyed A.I. Tirmazi\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"1rk7l-0-0\" data-editor=\"1h84q\" data-block=\"true\" class=\"\"\u003e\n\u003cdiv class=\"_1mf _1mj\" data-offset-key=\"1rk7l-0-0\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"1rk7l-0-0\"\u003e367 Pages | Hardcover\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"516v-0-0\" data-editor=\"1h84q\" data-block=\"true\" class=\"\"\u003e\n\u003cdiv class=\"_1mf _1mj\" data-offset-key=\"516v-0-0\"\u003e\u003cbr\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003ch2 class=\"qrShPb kno-ecr-pt PZPZlf HOpgu mfMhoc hNKfZe\" data-local-attribute=\"d3bn\" data-attrid=\"title\" data-ved=\"2ahUKEwjf1vLn97HuAhWAQkEAHUMhCoYQ3B0oATALegQIEhAL\"\u003e\u003cbr\u003e\u003c\/h2\u003e\n\u003cdiv data-attrid=\"subtitle\"\u003e\u003cbr\u003e\u003c\/div\u003e","brand":"Syed A.I. Tirmazi","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646927958050,"sku":"97896956","price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/BertrandRussell_17_83c86cc2-156a-4647-b0e0-3aa65923423f.jpg?v=1766148547"},{"product_id":"pakistan-askari-rayasat","title":"Pakistan Askari Riyasat | Dr Naeem Taqir","description":"\u003ch4 class=\"qrShPb kno-ecr-pt PZPZlf HOpgu mfMhoc hNKfZe\" data-local-attribute=\"d3bn\" data-attrid=\"title\" data-ved=\"2ahUKEwjf1vLn97HuAhWAQkEAHUMhCoYQ3B0oATALegQIEhAL\"\u003eThe Pakistan Garrison State: Origins, Evolution, Consequences (1947-2011)\u003c\/h4\u003e\n\u003ch4 class=\"qrShPb kno-ecr-pt PZPZlf HOpgu mfMhoc hNKfZe\" data-local-attribute=\"d3bn\" data-attrid=\"title\" data-ved=\"2ahUKEwjf1vLn97HuAhWAQkEAHUMhCoYQ3B0oATALegQIEhAL\"\u003e\u003cspan data-ved=\"2ahUKEwjf1vLn97HuAhWAQkEAHUMhCoYQ2kooAjALegQIEhAM\"\u003eBook by Ishtiaq Ahmed\u003c\/span\u003e\u003c\/h4\u003e\n\u003cdiv data-attrid=\"subtitle\"\u003eTranslation By Dr Naeem Taqir\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv data-attrid=\"subtitle\"\u003ePages 408\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv data-attrid=\"subtitle\"\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv data-attrid=\"subtitle\"\u003e\n\u003cdiv class=\"description no-expand\"\u003e\n\u003cdiv class=\"expand-block\"\u003e\n\u003cdiv class=\"expand-content\"\u003e\n\u003cdiv align=\"right\"\u003e\n\u003cp\u003eاس تحقیقی کتاب میں ایک معمہ حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ 1947ء میں آزادی کے وقت پاکستانی فوج کے پاس اسلحے کی کمی تھی اور ریاست کے مؤثر عضو کے طورپر کام کرنے کے لئے اسے انفراسٹرکچر اور ٹریننگ کی ضرورت تھی۔ وہ سیاست میں براہ راست ملوث نہیں تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ فوج نہ صرف ایٹمی صلاحیت کی حامل درمیانی سطح کی قوت بن گئی بلکہ یہ ملک کا ایسا طاقتور ادارہ بھی بن گیا جس کے پاس سیاست کے معاملات میں ’’ویٹو‘‘ پاور بھی آگئی۔ ایسا ’کیسے‘ اور ’کیوں ‘ہوا اور اس کے نتائج ’کیا ‘ہوئے؟۔ اس کا کھوج پاکستان کو لا حق حقیقی اور تصوراتی خطرات اور بین الاقوامی سیاست کی نوعیت کے ملغوبے میں ملتا ہے۔\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"product-stats\"\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv data-attrid=\"subtitle\"\u003e\u003cbr\u003e\u003c\/div\u003e","brand":"Ishtiaq Ahmed","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646928023586,"sku":"9789695628262-2-1","price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/AskraiRayaasat_aefcc268-1394-42d1-9ad7-1fe6bf02bfed.jpg?v=1766148547"},{"product_id":"khilaf-e-dushmana","title":"خلاف دشمناں | Khulaf e Doshman","description":"\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eخلاف دشمناں\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eامریکہ کے استعماری ہتھکنڈوں سے پھوٹتی ایک چشم کشا تحریر\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eترجمہ ظفر بابر\u003c\/div\u003e","brand":"Noori Sons","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646928121890,"sku":"9789695628262-2","price":350.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Against-All-Enemies-1-scaled_80d15528-648b-4e9b-88a2-b482ae9a5dd6.jpg?v=1766148548"},{"product_id":"شب-گزیدہ-سحر-shab-ghazida-sehr-dr-syed-jaffar-ahmed","title":"شب گزیدہ سحر | Shab Ghazida Sehr | Dr Syed Jaffar Ahmed","description":"\u003cp\u003eشب گزیدہ سحر | Shab Ghazida Sehr | Dr Syed Jaffar Ahmed\u003c\/p\u003e","brand":"Noori Sons","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646929465378,"sku":"9789695628262","price":350.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Shab-Gazeeda-Sahar-Copy-2-scaled.jpg?v=1766148568"},{"product_id":"multan-tasawof-adab-o-saqafat","title":"ملتان تصوف ، ادب اور ثقافت | Multan Tasof, Adab Or Saqafat","description":"\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eملتان تصوف ادب و ثقافت کے آئینے میں\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eترتیب، تہذیب و تدوین | خلیل احمد\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eصفحات | 359\u003c\/div\u003e","brand":"Khalil Ahmad","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646929498146,"sku":"9789695622537-5-1-2-1-3-1-1-2-1-1-2-7-2-8-2-6-1-15-7-1-1-1-3-4-4-7-8-1-2-1-2-3-2-2-2-5-3-1-3-3-6-2-3-1","price":650.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/multan-TAWAF-ADAB-O-SAQAFAT-kay-aainy-me-Copy-scaled_3139ac06-44be-4048-b9ff-e3a9a64c8af9.jpg?v=1766148569"},{"product_id":"multan-tarikh-k-ainay-mein","title":"ملتان تاریخ کے آینے میں | Multan Tarikh Kay Ainay Mein","description":"\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eزیر نظر کتاب ملتان پر لکھے گئے مضامین کا مجموعہ ہے جو تاریخ, تصوف, ادب, ثقافت اور دیگر موضوعات پر مشتمل ہے میں جب بھی ملتان پر کوئی کتاب پڑھتا ہوں تو مجھے اس بات کا شدت سے احساس رہتا ہے ہے کہ کسی بھی محقق نے ملتان کی تاریخ مکمل احاطہ نہیں کیا اس میں قصور محقق کا نہیں بلکہ ان کی پانچ ہزار سالہ تاریخ کا ہے جو ہر دور میں اس طرح پھیلی ہے کہ کوئی لکھنے والا تاریخ ملتان کا حق ادا نہیں کرسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے ملتان کی تاریخ کا جائزہ نہیں لے سکتے۔ کتاب کی تدوین کے دوران بہت \u003cspan\u003e\u003ca tabindex=\"-1\"\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003eسارے نٰئے واقعات پڑھنے کو ملے جس کے بعد مجھے احساس ہوا کہ اس طرح کی کتاب کو بہت پہلے منظر عام پر آ جانا چاہیے تھا۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eیہ کتاب جو کہ کسی بھی محقق کی لکھی ہوئی نہیں بلکہ آپ کو درجنوں اہل قلم کے مضامین پڑھنے کو ملیں گے جو انہوں نے ملتان میں مختلف اوقات میں لکھے۔ اسی وجہ سے یہ کتاب اپنی اسلوب کی وجہ سے ہر مضمون میں مختلف دکھائی دے گی۔ مجھے خود بھی جب یہ مضامین بار بار پڑھنے پڑے تو ہر بار ہر مضمون میں مختلف دکھائی دے گی ابھی جب یہ مضامین بار بار پڑھنے پڑے تو ہر بار مجھے ہر مضمون نے مجھے نیا لُطف دیا۔یقینا آپ بھی اسی کیفیت سے گزریں گے اس کتاب کو مرتب کرنے میں اگرچہ کئی سال لگ گئے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ میری محنت رایگاں نہیں گٰئی اس وقت آپ کے ہاتھوں میں تاریخ ملتان پر سو سے زائد مضامین پر مشتمل پہلی کتاب ہے آنے والے دنوں میں جو بھی کوئی کام کرےگا بہت سی کتابوں کی بجائے یہ کتاب ملتان کی تاریخ کے متعلق بہت سے راستے دکھایے گی۔ جس کے بعد مجھے امید ہے کہ ملتان کے مختلف گوشوں پر اور بھی کام سامنے آئیں گے اہل قلم کا شکر گزار ہوں جنہوں نے ملتان پر قلم اٹھایا پھر اس کو کتابی صورت میں آئے اور پھر وہ مجھے تک پہنچایا آپ ایک ایسی کتاب ہے جس میں بڑے کے ساتھ ملتان سے محبت کرنے والے کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eملتان تاریخ کے آئینے میں\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eترتیب، تہذیب و تدوین | خلیل احمد\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eصفحات | 576\u003c\/div\u003e","brand":"Khalil Ahmad","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646929563682,"sku":"978969562","price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/multan-tareekh-kay-aainy-me-Copy-scaled_124f09b2-17ba-4e0d-853a-2e3e2dc814c3.jpg?v=1766148569"},{"product_id":"پنجاب-کی-ذاتیں-punjab-ki-zatin-punjab-castes","title":"پنجاب کی ذاتیں | Punjab Ki Zaatein","description":"\u003cp\u003eAn Urdu Translation of \"Punjab Castes\" by Sir Denzil Ibbetson.\u003cbr\u003eTranslation By Yasir Jawad\u003c\/p\u003e","brand":"Sir Denzil Ibbetson, Yasir Jawad","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646929825826,"sku":"9789695621417","price":1500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/The_Punjab_Castes_202_76b2e0f4-eae3-4b67-961a-a47fc9261282.jpg?v=1766148575"},{"product_id":"istamariat-or-pakistan","title":"استعماریت اور پاکستان | Imperialism, Pakistan","description":"\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eاستعماریت اور پاکستان | Imperialism, Pakistan\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eاللہ رکھیو ساگر سومر\u003c\/div\u003e","brand":"Allah Rakha Sagar Somroo","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646930219042,"sku":"9789695626672","price":275.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Imperialism-Pakistan.png?v=1766148588"},{"product_id":"pakistan-main-amreki-kirdar","title":"پاکستان میں امریکی کردار | PAkistan Mein Americi Kardar","description":"","brand":"Noori Sons","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646930481186,"sku":"9789695622537-5-17","price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/FB_IMG_1585303593804-Copy-2.jpg?v=1766148594"},{"product_id":"qustuntunya","title":"قسطنطنیہ | Qustuntania","description":"\u003cp\u003eقسطنطنیہ\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eاڑھائی سال کی سر گزشت\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eہیرلڈلیم\u003c\/p\u003e","brand":"Noori Sons","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646930513954,"sku":"9789695622537-5-1-2۲۲","price":300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/FB_IMG_1570242773558-1-Copy_789da671-072a-4283-aa82-8c1b3408d842.jpg?v=1766148595"},{"product_id":"bhagat-singh","title":"بگھت سنگھ کی منتخب تحریں اور تقریریں | Bhagat Singh","description":"\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eبھگت سنگھ | Bhagat Singh\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eمنتخب تحریریں اور تقریریں\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eڈی۔این۔گپتا\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eترجمہ: فیصل اعوان\u003c\/div\u003e","brand":"D N Gupta","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646931234850,"sku":"9789695622537-5-1-2-1۳۳۳33","price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Bhagat-Singh.png?v=1766148615"},{"product_id":"azadi-ki-rahain","title":"Azadi Ki Raahay","description":"\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eآزادی کی راہیں\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eبرٹرینڈ رسل\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\n\u003cdiv class=\"m8h3af8h l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf n3t5jt4f\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاقلیت اور اکثریت میں تصادم.!\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf jikcssrz n3t5jt4f\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eسیاست کے مختلف تعریفیں کی جاسکتی ہے اور مختلف ہونے کی وجوہ اس کے مختلف نوعیت کی بنا پر کی جاتی ہے بہرحال یہاں سیاست کی ایک خاص عنصر کو مہو گفتگو بناکر ایک الگ نکتہ نظر پیش کرنے کی کوشش کرتا ہوں.\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eسیاست یا اجتماعی زندگی میں ہمیشہ دو طبقات کسی نہ کسی صورت میں متصادم ہوتی ہے، ایک وہ طبقہ جس کے پاس دولت اور طاقت کا ارتکاز زیادہ ہو جس کے باعث وہ بالادست ہوجاتا ہے لیکن یہ طبقہ ہمیشہ اقلیت میں ہوتا ہے اور دوسرا وہ طبقہ جس پر دولت اور طاقت کا مرتکز ہونے کا \u003cspan\u003e\u003ca tabindex=\"-1\"\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003eانحصار اس اقلیت بالادست طبقے کی ہوتی ہے، اور یہ طبقہ ہمیشہ اکثریت میں ہوتا ہے.\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاقلیت اور اکثریت تاریخ کے جھروکوں میں حاکم اور محکوم، آقا اور غلام، حکمران اور رعایا کی صورت میں متصادم ہوتی چلی آرہی ہے. جب سے نجی ملکیت کا تصور ابھرا ہے تب سے یہ دو طبقات ہمیشہ دست و گریبان رہے ہیں.\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاقلیت طبقہ جس کے پاس زر اور دولت جمع ہوجاتی ہے تو وہ اس زر و دولت کے سہارے طاقت اور اقتدار کا مالک بن جاتا ہے اور اکثریت طبقہ اس دولت اور طاقت کو پورے سماج میں تحلیل کرنے کیلئے بغاوت پر اتر آجاتے ہیں. پورے انسانی تہذیب و تمدن کی ارتقاء پر نگاہ ڈالی جائے تو پوری انسانی ارتقاء اس تصادم کے گرد گھومتی ہے لیکن اس کی نوعیت الگ ہوتی ہے ورنہ بنیاد وہی ہوتی ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے.\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eموجودہ عصر حاضر میں تمام ممالک سرمایہ دارانہ نظام کے بل بوتے پر کھڑی ہے. اگر تھوڑی باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو ہر ملک میں ایک مخصوص طبقہ ریاست کے مرکزی طاقت کو برقرار رکھنے کے حمایتی نظر آتے ہیں جبکہ بالمقابل ایک مخصوص طبقہ اس مرکزی طاقت اور دولت کو صوبوں اور ضلعوں تک تحلیل کرنے کے تگ و دود میں رہتے ہیں. یہ سلسلہ پہلے غلامانہ نظام سے لیکر جاگیردارانہ نظام تک، جاگیرداری سے لیکر سرمایہ دارانہ نظام تک اور سرمایہ دارانہ نظام کو مزید سموتھ شکل دینے کے لیے جمہوریت، جمہوریت سے لیکر لیبرل جمہوریت اور اب سوشل جمہوریت تک یہ سلسلہ وار تصادم جاری ہے اور یہ جاری رہے گی تب تک سرمایہ دارانہ نظام کو بھی اکھاڑ پھینک کر اس کی جگہ ایک اشتراکی نظام سوشل ازم نافذ کردیا جائے. یہ کب اور کس طرح ممکن ہوگا یہ ایک الگ بحث ہے بہرحال اب تک جس شکل میں جو بھی نظام موجود ہے وہ اس اقلیت بالادست اور اکثریت محکوم طبقات کے تصادم کے نتیجے میں ابھری ہے مطلب حالیہ ڈیموکریسی اور سرمایہ دارانہ نظام ان دو طبقاتی کشمکش کی مرہون منت ہے.\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf jikcssrz n3t5jt4f\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eمثال کے طور پر، پاکستان میں اس وقت فوجی آمریت سیول مارشل لاء کی شکل میں صرف اسٹیبلشمنٹ اور اس سے جڑی ہوئی تمام اجزاء پر دولت اور طاقت دونوں مرتکز ہے اور اس کے مقابل محکوم اقوام بائیس کروڑ عوام کی شکل میں اکثریت ہوتے ہوئے بھی اس اقلیت طبقہ کی زیر تسلط اقتصادی، سیاسی او قومی محکومیت میں زندگی بسر کررہے ہیں. ملکی سطح پر صوبوں کی صورت میں اور صوبوں کے اندر مذہبی اور ریاستی آلہ کارو کی صورت میں اس بالادست طبقے کی مفادات اور ریاستی مرکزی طاقت کو برقرار رکھنے کیلئے کوشاں ہے لیکن ایک مخصوص طبقہ جو قومی مفادات اور محکوم طبقات کے حق میں اس مرکزی طاقت اور دولت کو مرکز سے لیکر صوبوں اور صوبائی سطح پر اس دولت اور طاقت کو علاقوں تک عوام میں تحلیل کرنے کیلئے جدوجہد کرتے رہے ہیں،مطلب یہاں بھی واضح طور اقلیت کی بالادستی اور اکثریت کی محکومیت کا تصادم مختلف صورتوں میں جاری ہے اور اس لڑائی میں مرکزی طاقت کو تحلیل کرنے میں جو بھی سامنے آتا ہے وہ اپنے وقت کا سب بڑا ترقی پسند اور انسان دوست تصور کیا جاتا ہے.\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eبیسویں صدی کا مشہور فلسفی مبلغ برٹرینڈ رسل اپنے کتاب \" آزادی کی راہیں\" میں موجودہ سیاسی و اقتصادی نظاموں کیپٹل ازم، سوشل ازم، سنڈیکلیزم اور انارکسیزم کا موازنہ کرتے ہیں اور اپنے انداز میں ان نظاموں کے ایمپلیمنٹیشن پر سیر حاصل بحث کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ ایک معتدل طریقہ رائج اور نظام کی تجویز پیش کرتے ہیں.\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاس کتاب میں برٹرینڈ رسل نے ان ریاستوں کو مخاطب کیا ہے جو اس وقت تیسری دنیا کیلئے ترقی اور خوشحالی کیلئے آئیڈیل کو طور پر مانا جاتا ہے. ہمارے ہاں یوں موضوعات پر بحث کرنا اور ان کو رائج کرنے کیلئے جدوجہد کرنا تو فلحال محال ہے کیونکہ یہاں ابھی تک یہ کنفرم نہیں ہورہا کہ ریاست کا بھی مذہب ہوسکتا ہے کہ نہیں، یہاں ابھی تک جمہوریت مسلمان نہیں ہوچکا ہے اور یہاں ابھی تک مادہ اور خیال کو الگ نہیں کیا جاسکتا اور ان کو ایک ہی پیمانے پر تولا جاتا ہے.\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e=== زاہد اللہ زاہد ===\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\n\u003cspan\u003e\u003ca role=\"link\" href=\"https:\/\/www.facebook.com\/hashtag\/%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%DB%81%DB%8C%DA%BA?__eep__=6\u0026amp;__cft__%5B0%5D=AZVIi1ZnzlavvanRgb60cAXklEL3SWS1XshcG_MzGTA6MTsV7o3JvEpk7zN6S-gZrI1KM7p0WavP_B7tGmGmjNYsl-iRc4TUvq4yLdFVyttHSw\u0026amp;__tn__=*NK-R\" class=\"qi72231t nu7423ey n3hqoq4p r86q59rh b3qcqh3k fq87ekyn bdao358l fsf7x5fv rse6dlih s5oniofx m8h3af8h l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk srn514ro oxkhqvkx rl78xhln nch0832m cr00lzj9 rn8ck1ys s3jn8y49 icdlwmnq cxfqmxzd d1w2l3lo tes86rjd\" tabindex=\"0\"\u003e#آزادی_کی_راہیں\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003e، \u003cspan\u003e\u003ca role=\"link\" href=\"https:\/\/www.facebook.com\/hashtag\/%D8%A8%D8%B1%D9%B9%D8%B1%DB%8C%D9%86%DA%88_%D8%B1%D8%B3%D9%84?__eep__=6\u0026amp;__cft__%5B0%5D=AZVIi1ZnzlavvanRgb60cAXklEL3SWS1XshcG_MzGTA6MTsV7o3JvEpk7zN6S-gZrI1KM7p0WavP_B7tGmGmjNYsl-iRc4TUvq4yLdFVyttHSw\u0026amp;__tn__=*NK-R\" class=\"qi72231t nu7423ey n3hqoq4p r86q59rh b3qcqh3k fq87ekyn bdao358l fsf7x5fv rse6dlih s5oniofx m8h3af8h l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk srn514ro oxkhqvkx rl78xhln nch0832m cr00lzj9 rn8ck1ys s3jn8y49 icdlwmnq cxfqmxzd d1w2l3lo tes86rjd\" tabindex=\"0\"\u003e#برٹرینڈ_رسل\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Bertrand Russell","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646931267618,"sku":"9789695621936","price":250.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Azadi-ki-Rahain-1-scaled_73832582-f711-4efd-a0b4-6cbcfc1b524d.jpg?v=1766148615"},{"product_id":"akbar-sy-aurangzaib-tak","title":"اکبر سے اورنگ زیب تک | Akbar say Aurangzeb Tak","description":"\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاکبر سے اورنگ زیب تک۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e(ہندوستان کی معاشی تاریخ کا ایک مطالعہ۔)\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eمصنف: ڈبلیو-ایچ-مورلینڈ۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eترجمہ: جمال محمد صدیقی۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cbr\u003e\u003c\/div\u003e","brand":"William Harrison Moreland","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646931300386,"sku":"9789695622537-5-1-2-1-3-1-1-111","price":300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Abkbar-Copy-scaled_ff7ac784-09ba-45e3-a449-2fbb1b4d4544.jpg?v=1766148616"},{"product_id":"khandan-zati-milkiyat-or-reyasat-ka-agahaz","title":"خاندان ذاتی ملکیت اور ریاست کا آغاز | Khandani Zati Malkiyat Or Riyasat Ka Agaz","description":"\u003cdiv class=\"m8h3af8h l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf n3t5jt4f\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e«خاندان، ذاتی ملکیت اور ریاست کا آغاز»\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf jikcssrz n3t5jt4f\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eخاندان، ذاتی ملکیت اور ریاست کا آغاز‘‘ فریڈرک اینگلز کا وہ شاہکار ہے جس نے خاندان، انسانی معاشرے میں ذاتی ملکیت کے تصور اور ریاست کے ازلی و ابدی، مقدس اور غیر تغیر پذیر ہونے جیسے تمام تر رجعتی اور قدیم خیالات کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاس کتاب میں اینگلز نے تاریخی حوالوں کے ذریعے یہ بات ثابت کی کہ خاندان، ذاتی ملکیت اور ریاست انسانی معاشرے کے ارتقاء میں خاص مرحلوں اور خاص معاشی و سماجی حالات میں معرضِ وجود میں آئے اور تبدیلی کی مختلف \u003cspan\u003e\u003ca tabindex=\"-1\"\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003eمنزلیں طے کرتے ہوئے موجودہ ہئیت اختیار کی، اور معاشرتی ارتقاء کا نہ رکنے والا یہ عمل اب بھی جاری ہے۔ایک سو شلسٹ انقلاب وہ مادی حالات پیدا کرے گا جن کے زیرِ اثر نہ صرف بورژوا ریاست اور ذاتی ملکیت بلکہ بورژوا خاندان میں عورت کا استحصال اور جسم فروشی جیسی غلاظتیں انسانی معاشرے میں سے ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائیں گی۔\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf jikcssrz n3t5jt4f\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eصفحات کی تعداد: 207\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Noori Sons","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646931529762,"sku":"9789695623343","price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/FB_IMG_1565677612024-1-Copy_9bdaaf5a-3054-47f7-8e1d-d5cbb7b68562.jpg?v=1766148621"},{"product_id":"nizam-e-qanon","title":"نظامِ قانون | Nizam i Qanon","description":"\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eنظامِ قانون | Nizam i Qanon\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e(فلسفہ ٔ قانون)\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eمصنفین،مخدوم ٹیپو سلمان\/ شہزاد اسلم\u003c\/div\u003e","brand":"Noori Sons","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646931922978,"sku":"9789695626337","price":200.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/40056679_2220070154674669_4164715381887336448_n_81325076-8524-46b1-861b-910d99741cc1.jpg?v=1766148630"},{"product_id":"lahore-nai-sadi-naya-sahar","title":"لاہور نئی صدی نیا شہر | Lahore Naai Sadi Niya Shahar | Gafar Shahzad","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eلاہور نئی صدی نیا شہر\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eمصنف غافر شہزاد\u003c\/p\u003e","brand":"Ghaffar Shahzad","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646932086818,"sku":"9789695622537-5-1-2-1--14-4-7-8-1-2-1-2-3-2-2-2-5-3-1-3-3-6-2-3-1","price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Lahore-Copy-1-scaled_d1b048cb-318f-4603-bbe0-709cf49a0bcd.jpg?v=1766148634"},{"product_id":"samraj-ki-moot-a-dyung-colonialim","title":"Samraj Ki Moat","description":"\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eفرانز فینن کی انقلاب پہ بہترین کتاب\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eسامراج کی موت\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\n\u003cdiv class=\"xdj266r x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\"کسی قوم کی سب سے بڑی خوش بختی اس کی وحدت ہوتی ہے جس کے بَل بوتے پر وہ بڑے سے بڑے طوفان کا با آسانی مقابلہ کرلیتی ہے\"\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eکتاب سامراج کی موت سے اقتباس از فرانز فینن\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Frantz Fanon","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646932185122,"sku":"9789695621844","price":450.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Dyinggg-scaled_3707a27c-0cfa-4783-babe-c1bf2de6e6e8.jpg?v=1766148637"}],"url":"https:\/\/www.onlineurdubazar.pk\/collections\/politics.oembed?page=5","provider":"Online Urdu Bazar","version":"1.0","type":"link"}