{"title":"Poetry (Urdu)","description":"","products":[{"product_id":"rang-khushu-roshni-kulliyaat-e-nazmain","title":"Rang Khushu Roshni - Kulliyaat E Nazmain","description":"\u003cp\u003eTitle: Rang Khushu Roshni - Kulliyaat E Nazmain\u003cbr\u003e\nAuthor: Qateel Shifai\u003cbr\u003e\nSubject: Poetry\u003cbr\u003e\nISBN: 9693522370\u003cbr\u003e\nYear: 2009\u003cbr\u003e\nLanguage: Urdu\u003cbr\u003e\nNumber of Pages: 728\u003c\/p\u003e","brand":"Qateel Shifai","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646829064226,"sku":null,"price":2800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/rang-khushu-roshni-kulliyaat-e-nazmain-907092-596246_9996bebd-cf8e-4211-a94d-123fc1f562d6.jpg?v=1766146587"},{"product_id":"bergad","title":"Bergad","description":"\u003cp\u003eTitle: Bergad\u003cbr\u003e\nAuthor: Qateel Shifai\u003cbr\u003e\nSubject: Poetry\u003cbr\u003e\nISBN: 9693506367\u003cbr\u003e\nYear: 2004\u003cbr\u003e\nLanguage: Urdu\u003cbr\u003e\nNumber of Pages: 288\u003c\/p\u003e","brand":"Qateel Shifai","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646833618978,"sku":null,"price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/bergad-287786-700361_d56644ee-ce1e-4174-93c1-ab340a040b64.jpg?v=1766146650"},{"product_id":"rang-khushbu-roshni-kulliyaat-e-geet","title":"Rang-Khushbu-Roshni: Kulliyaat-E-Geet","description":"\u003cp\u003eTitle: Rang-Khushbu-Roshni : Kulliyaat-E-Geet\u003cbr\u003e\nAuthor: Qateel Shifai\u003cbr\u003e\nSubject: Poetry\u003cbr\u003e\nISBN: 969352540X\u003cbr\u003e\nYear: 2012\u003cbr\u003e\nLanguage: Urdu\u003cbr\u003e\nNumber of Pages: 412\u003c\/p\u003e","brand":"Qateel Shifai","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646837157922,"sku":null,"price":1800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/rang-khushbu-roshni-kulliyaat-e-geet-591030-697770_073646b0-bf89-463a-980b-575f2b48526b.jpg?v=1766146721"},{"product_id":"kulliyaat-ghazlain-rang-khushboo-roshni","title":"Kulliyaat Ghazlain Rang Khushboo Roshni","description":"\u003cp\u003eTitle: Kulliyat Ghazlain Rang Khushboo Roshni\u003cbr\u003e\nAuthor: Qateel Shifai\u003cbr\u003e\nSubject: Poetry\u003cbr\u003e\nISBN: 9693502027\u003cbr\u003e\nYear: 2017\u003cbr\u003e\nLanguage: Urdu\u003cbr\u003e\nNumber of Pages: 840\u003c\/p\u003e","brand":"Qateel Shifai","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646837714978,"sku":null,"price":2800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/kulliyaat-ghazlain-rang-khushboo-roshni-789018-336245_ebd1545a-600c-4187-a543-be3f3a18e518.jpg?v=1766146732"},{"product_id":"kulliyat-qateel-shafai-barshgaal-sandal","title":"Kulliyat Qateel Shafai: Barshgaal Sandal","description":"\u003cp\u003eTitle: Kulliyat Qateel Shafai: Barshgaal Sandal\u003cbr\u003e\nAuthor: Qateel Shifai\u003cbr\u003e\nSubject: Poetry\u003cbr\u003e\nISBN: 9693531671\u003cbr\u003e\nYear: 2018\u003cbr\u003e\nLanguage: Urdu\u003cbr\u003e\nNumber of Pages: 368\u003c\/p\u003e","brand":"Qateel Shifai","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646856228898,"sku":null,"price":1800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/kulliyat-qateel-shafai-barshgaal-sandal-191910-610467_2077a6f1-9912-4310-a89a-e9c6e2480ac2.jpg?v=1766147245"},{"product_id":"hadees-jaan","title":"Hadees Jaan","description":"\u003cp\u003eTitle: Hadees Jaan\u003cbr\u003e\nAuthor: K. K. Aziz\u003cbr\u003e\nSubject: Poetry\u003cbr\u003e\nISBN: 9693519442\u003cbr\u003e\nYear: 2007\u003cbr\u003e\nLanguage: Persian\u003cbr\u003e\nNumber of Pages: 312\u003c\/p\u003e","brand":"Khursheed Kamal Aziz","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646867009570,"sku":null,"price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/hadees-jaan-255534-846436_4ab1886f-f037-4ff6-a53b-7b275786dfbf.jpg?v=1766147552"},{"product_id":"tafheemat-e-zaboor-e-ajam","title":"Tafheemat E Zaboor E Ajam","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eاقبال کا شمار بیسویں صدی کے ممتاز شاعر، مصنف، ماہر قانون اور فلسفی کے طور پر ہوتا ہے۔اقبال اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں شاعری کرتے تھے۔انہوں نے اردو غزل کو زلف و رخسار سے نکال کر نئے موضوعات سے آشنا کروایا اور اردو نظم کے ارتقا میں اہم رول ادا کیا۔ اقبال کی شاعری کائنات کی اٹل سچائیوں کا اعتراف ہے جس میں تعمیر حیات کا پہلو سب سے نمایاں ہے۔ اقبال نے اپنی شاعری سے سوئے ہوئے ذہنوں اور انسان کو بیدار کرنے کا کام کیا اور خودی کا تصور دیا جس سے انسان خود کو پہچان سکے ۔ مذکورہ کتاب زبورِعجم علامہ اقبال کا فارسی شعری مجموعہ ہے۔ یہ کتاب 1927ء میں شائع ہوئی۔ زبورِ عجم میں مثنوی گلستان راز جدید اور بندگی نامہ شامل ہیں۔ اس کتاب کو علامہ اقبال نے چار حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے دو حصوں میں غزلیں شامل ہیں اور آخری دو حصوں میں نظمیں شامل ہیں۔ زیر نظر زبور عجم کا منظوم ترجمہ ہے جس کو حمیرا جمیل  نے انجام دیا ہے۔ اور اس منظوم ترجمہ کو سطور الم سے موسوم کیا ہے۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Ilama Iqbal","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44651804753954,"sku":null,"price":450.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/tafhemaat-e-zaboor-e-ajum-matablib-wa-sharah-500x500h_jpg_8e452ee1-dff0-4164-82dd-8106d061937c.webp?v=1766150224"},{"product_id":"tafheemat-e-masanvi-pascha-bayad-kard-ma-musafir","title":"Tafheemat E Masanvi Pascha Bayad Kard Ma Musafir","description":"\u003cp\u003eزیر نظر کتاب علامہ اقبال کی مشہور مثنوی ہے۔ اس مثنوی کے دو حصے ہیں یعنی \" مسافر\" اور\"پس چہ باید کرد اے اقوام مشرق\"، \"مسافر\" افغانستان کے دوران قیام کی یادگار ہے۔ ’’پس چہ باید کرد اے اقوام شرق‘‘ کی شان تصنیف یہ ہے کہ جس زمانے میں علامہ اپنے علاج کے لیے بھوپال تشریف لے گئے تھے ایک رات سر سید احمد خاں سے خواب میں ملاقات ہوئی۔ سر سید نے ان سے کہا کہ اپنی علالت کا ذکر حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے کیوں نہیں کرتے۔ جب آنکھ کھلی تو یہ شعر ورد زبان تھا: با پرستاران شب دارم ستیز باز روغن در چراغ من بریز پھر چند اشعار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیے۔ اس کے بعد علامہ برصغیر اور خارجی ممالک کے سیاسی اور اجتماعی حالات پر اپنے تاثرات کا اظہار اشعار کی صورت میں کرتے رہے اور بالآخر ان اشعار نے ایک مستقل مثنوی کی شکل اختیار کر لی۔ جس کا نام \"پس چہ باید کرد اے اقوام شرق\" قرار پایا۔ یہ مثنویات حجم کے اعتبار سے سابق مثنویوں کے مقابلے میں بہت مختصر ہیں لیکن علامہ کے آخری عمر کے پختہ افکار اور گہری بصیرت سے واقفیت حاصل کرنے کے لیے\"پس چہ باید کرد اے اقوام شرق\" کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ مثنوی پس چہ باد کرد ای اقوام شرق، علامہ صاحب کے فارسی کلام میں حجم کے لحاظ سے سب سے چھوٹی کتاب ہے۔ اس میں علامہ صاحب نے اقوام مشرق کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کے حالات میں جو امت مسلمہ کو مسائل ہیں انکا حل کیا ہو سکتا ہے۔ ’’مسافر‘‘ میں یہ بات خاص طور سے قابل ذکر ہے کہ علامہ نے یہاں اپنے سفر کی جزئیات یا مشاہدات و تاثرات کا ذکر نسبتاً کم کیا ہے۔ اس کے بجائے وہ ہر مقام پر اپنے افکار کے اظہار و ابلاغ کی کوشش کرتے ہیں اور ہر واقعہ کو اپنے فلسفہ زندگی کی ترجمانی کا وسیلہ بناتے ہیں۔ محمود غزنوی کا مزار ہو یا احمد شاہ درانی کا، حکیم سنائی کا مرقد ہو یا فرمانروائے سلطنت سے خطاب، مقصد ان اقدار و حقائق زندگی کا ابلاغ ہے جو فرد یا ملت کی خودی کے اثبات و استحکام اور ملت کی تشکیل نو اور عظمت رفتہ کے حصول کے لیے ضروری ہیں، اور جن کے سمجھنے سے ان کا مخاطب یا قاری اپنی ذات کی حقیقت اور امکانات سے پوری طرح واقف ہو سکتا ہے۔ زیر نظر کتاب پس چہ باید کرد کی شرح ہے، یہ شرح حمیرا جمیل  نے کی ہے۔ اس شرح کو جامعات کے طلبا کا خیال رکھتے ہوئے بہت ہی مختصر انداز میں انجام دیا گیا ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Ilama Iqbal","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44651804852258,"sku":null,"price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/tafhemaat-masnavi-pas-chah-baid-kard-ma-musafer-500x500w_jpg_789d68d4-5991-4181-899e-5460a670af8c.webp?v=1766150225"},{"product_id":"tafheemat-e-javaid-nama","title":"Tafheemat E Javaid Nama","description":"\u003cp\u003eجاوید نامہ علامہ اقبال کی فارسی زبان میں ایک شاہ کار کتاب ہے ۔ اس کے بارے میں علامہ اقبال نے خود فرمایا کہ یہ کتاب مکمل کرکے مجھے یوں لگا جیسے میں نچڑ کر رہ گیا ہوں۔ یہ کتاب مثنوی کی شکل میں لکھی گئی ہے، اور تقریباً 2,000 اشعار پر مشتمل ہے اور یہ سب سے پہلے 1932 میں شائع ہوئی۔ یہ کتاب دراصل علامہ اقبالؒ کا خیالی سفرنامہ ہے جس میں ان کے راہبر مولانا روم انہیں مختلف سیاروں کی سیر کرواتے ہیں جہاں علامہ اقبال تاریخ کی کئی نامور ہستیوں کی ارواح سے ملاقات کرتے ہیں۔ اس مثنوی میں قسم قسم کے علمی و فکری، دینی و سیاسی اور اجتماعی حقائق کو پیش کیا گیا ہیں۔ اقبال نے اپنی اس کتاب کو دانتے کی کتاب ڈیوائن کامیڈی کے طرز پر ایشیا کی ڈیوائن کامیڈی کہا ہے۔ کتاب کا آغاز مناجات سے ہوتا ہے مگر اصل مطالب تب آتے ہیں جب شاعر شام کے وقت دریا کنارے مولانا روم کے بعض اشعار پڑھ رہا ہوتا ہے کہ مولانا رومی کی روح وہاں حاضر ہوجاتی ہے۔ شاعر رومی کی روح سے چند سوال کرتا ہے جس کا جواب رومی کی روح دیتی ہے پھر رومی اور شاعر کی روح فضا کا سفر کرتی ہے راستے میں وہ ستاروں کا نغمہ سنتے ہیں جو ان کو خوش آمدید کہتا ہے۔ چاند پر رومی اور شاعر توقف کرتے ہیں۔ فلک قمر پر ان کی ملاقات ایک جہاں دوست سے ہوئی ہے جہاں دوست دراصل ایک قدیم ہندو رشی و شوامتر ہے۔ وشوامتر علامہ اقبال سے چند سوالات کرتا ہے جس کا وہ جواب دیتے ہیں۔۔۔ پھر وہ ایک فلک پر ابن حلاج، غالب اور قرۃ العین کی روحوں سے ملتے ہیں مرزا غالب سے ادبی اور مذہبی سوالات پوچھے جاتے ہیں، اسی طرح اقبال اور رومی مختلف آسمانوں کی سیر کرتے ہیں، جہاں مختلف لوگوں سے ملاقاتیں ہوتی ہیں۔ آخری حصے میں کتاب کا شاعر اپنے بیٹے سے خطاب کرتا ہے جو دراصل آنے والی نسل سے ایک خطاب ہے۔اس طرح یہ افلاکی ڈرامہ بڑے دلچسپ انداز میں ختم ہوتا ہے۔  نیز حمیرا جمیل کا دیباچہ کچھ اہم معلومات فراہم کرتا ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Ilama Iqbal","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44651804917794,"sku":null,"price":650.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/tafhemaat-javed-nama-500x500h_jpg_d0e235d4-357a-4fd1-9ce1-ed4a4a7c7364.webp?v=1766150226"},{"product_id":"tafheemat-e-rumoz-e-bekhudi","title":"Tafheemat E Rumoz E Bekhudi","description":"\u003cp\u003eشاعر مشرق علامہ اقبال کی مثنوی  \"رموز بیخودی \" اپنی وسیع مفاہیم ،موضوع ، فنی اور صوری اعتبار سے اہم ہے۔ زیر مطالعہ اقبال کی\" رموز بیخودی \" کا تفہیمی ترجمہ ہے، جس کو حمیرا جمیل نے تحریر کیا ہے۔ جو سلیس ،رواں ،جامع ،فاضلانہ اور ہر لحاظ سے مکمل ہے۔ جو ایسے باکمال مترجم کی شخصیت جھلکتی ہے ۔جسے اردو اور فارسی دونوں زبانوں پر یکساں عبور حاصل ہے۔اس کتاب کا مطالعہ شاعر مشرق کے فلسفہ خودی کو سمجھنے میں معاون ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Ilama Iqbal","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44651805048866,"sku":null,"price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/tafhemaat-e-ramooz-e-bay-khudi-matablib-wa-sharah-500x500h_jpg_62c9a1f0-a2ce-4b67-a18a-2682fd5d0ea4.webp?v=1766150228"},{"product_id":"tafheemat-e-asrar-e-khudi","title":"Tafheemat E Asrar E Khudi","description":"\u003cp\u003e\"اسرار خودی\"علامہ اقبال کی فلسفیانہ خیالات کی حامل فارسی مثنوی ہے یہ مثنوی 1915ء میں شائع ہوئی، اس مثنوی میں علامہ نے ایک مکمل ضابطہ حیات پیش کیا ہےجس کا محور و مرکزخودی ہے ، \"اسرار خودی\" میں خودی کی حقیقت و ماہیت اور قوت و صلاحیت کا بیان ہے،اور اس کی پرورش و استحکام کے لیے ایک مکمل لائحہ عمل تجویز کیا گیا ہے، روایتی مثنوی کی طرح اقبال نے اپنے افکار کی توضیح کے لیے تمثیل کا سہارا بھی لیا ہے،جس کامقصدداستان و واقعہ کے ذریعے مفہوم کو پوری طرح واضح کرنا ہے۔ اس کے علاوہ فلسفے کے ٹھوس مسائل کو شاعرانہ لطافت کے ساتھ سمونے کے لیے تخیل کی رنگینی سے بھی کام لیا گیا ہے، زیر نظر کتاب \"اسرارخودی\"کا منظوم اردو ترجمہ ہے ،ترجمہ حتی الامکان لفظی ہے، زیادہ تر \"اسرار خودی\" کے فقروں اور لفظوں سے ہی ترجمہ کیا گیا ہے تاہم ایک رکن کے اضافہ کے ساتھ دوسری بحر کا استعمال کیا گیا ہے، جس سے ایک شعر کا ترجمہ ایک ہی شعر میں کردیا گیا ہے،یہ کتاب اگرچہ مختصر ہے تاہم بڑی جامع اور اس قابل ہے کہ مسلمان اس کو پڑھ کر اپنا دستو العمل بنائیں ۔\u003c\/p\u003e","brand":"Ilama Iqbal","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44651805179938,"sku":null,"price":350.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/tafhemaat-e-asrar-e-khudi-matablib-wa-sharah-new-500x500h_jpg_8581b108-1bb9-4260-a772-1fdd70b8735a.webp?v=1766150229"},{"product_id":"tafheemat-e-arumghan-e-hijaz","title":"Tafheemat E Arumghan E Hijaz","description":"\u003cp\u003eارمغان حجاز علامہ اقبال کی شعری تصنیف ہے۔ یہ کتاب 1938ء میں شائع ہوئی۔ یہ کتاب علامہ اقبال کی وفات کے چند مہینے بعد شائع ہوئی۔ یہ کتاب اردو اور فارسی دونوں زبانوں کے کلام کا مجموعہ ہے۔ یہ کتاب علامہ اقبال کی نا مکمل کتابوں میں سے ہے جسے وہ حج کا فرض ادا کرنے اور دربارِ حضورﷺ کی حاضری کے بعد مکمل کرنے کا ارادہ رکھتے تھے، ان کا ارادہ تھا کہ وہ ارمغان حجاز لکھ کر حجاز مقدس میں اپنے ساتھ لے جائیں گے لیکن بیماری نے انہیں مہلت نہ دی اور وہ وفات پا گئے اور ان کی وفات کے کے بعد یہ کتاب شائع ہو سکی۔ یہ کتاب فراق حجاز کی پر فضا نغموں سے معمور ہے یہ وہ دور ہے جب علامہ علالت و پریشان کے حالات سے گزر رہے تھے، اس لئے ارمغان حجاز کے کلام میں جوش کے ساتھ سوز و گداز بھی پایا جاتا ہے،ارمغان حجاز اصل میں اقبال کا آخری ارمغان ملک و ملت ہے جس میں ان کے فکرو فلسفہ اور دعوت و پیام کے متنوع اور کثیر الجہات نقوش کی بو قلمونی ہے۔ عالم تصورات کا یہ سفرحجاز اقبال کے آخری تارِ نفس تک جاری رہا۔ \u003c\/p\u003e","brand":"Ilama Iqbal","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44651805278242,"sku":null,"price":350.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/tafhemaat-e-armagan-e-hijaz-farsi-matablib-wa-sharah-500x500h_jpg_c000e3dc-dbeb-48c4-b36f-f4ef26e6b43c.webp?v=1766150230"},{"product_id":"tafheemat-e-payam-e-mashriq","title":"Tafheemat E Payam E Mashriq","description":"\u003cp\u003eیہ مجموعہ علامہ اقبال نے معروف شاعر گوئٹے کے \"مغربی دیوان\" کے جواب میں لکھا ہے۔ دیوان گوئٹے اس کی بہتریں کاوشوں میں شمار کی جاتی ہے۔ جرمن میں ایک وقت ایسا آیا کہ لوگ فارسی شاعری کے مضامین و اخلاقا ت کی طرف متوجہ ہو گئے جس کے نتیجے میں گوئٹے بھی سعدی کی پیروی کرتے ہوئے اپنے مضامین کو حیات بخشنے لگا ۔ مشرقی تحریک نے پورے یورپ میں ایک تحریک کی صورت اختیار کر لی جس کا نتیجہ دیوان مشرق ہے ۔علامہ نے مشرق کو ایک پیام دیا اور \"پیام مشرق\" کے عنوان سے گوئٹے کا جواب بھی دیا۔ علامہ کی یہ کاوش داد و تحسین کے قابل ہے اور اس میں انہوں نے بہترین شاعری کی ہے ۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس مجموعہ کی اشاعت کے فورا بعد ہی جرمن کے ایک ادیب نے اس کا ترجمہ کرنے کی اجازت لیکر شایع کر دیا۔ اس میں علامہ نے اپنی بہترین صلاحت کا مظاہرہ کیا ہے اور اہل مشرق کو بیداری کا پیغام دیا ہے۔ زیر نظر \"پیام مشرق\" کے منتخب حصوں کا منظوم اردو ترجمہ ہے جس کو حمیرا جمیل نے انجام دیا ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Ilama Iqbal","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44651805409314,"sku":null,"price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/tafheemat-payam-e-mashriq-500x500h_jpg_60e756a8-90be-473b-a50f-e3e1e0d77a5d.webp?v=1766150232"},{"product_id":"complete-collection-of-allama-iqbals-urdu-poetry","title":"Complete Collection of Allama Iqbal's Urdu Poetry","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003eعلامہ اقبال کا مکمل کلام مطالب و شرح کے ساتھ۔ اس سیٹ اصل قیمت 4850 روپے ہے۔ رعایتی قیمت 3300 روپے میں گھر بیٹھے حاصل کریں اور ان کتب کو اپنی لائبریری کی زینت بنائیں۔ آرڈر کرنے کے لئے اس نمبر پر رابطہ کریں 03174627290\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003eبہترین پیپر کوالٹی اور مجلد۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003eان میں شامل ہیں\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e1) \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003eتفہیم زبور عجم 238 صفحات\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e2) \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003eتفہیمات اسرار خودی 159 صفحات\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e3) \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003eتفہیمات ارمغان حجاز 168 صفحات\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e4) \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003eتفہیمات رموز بے خودی 199 صفحات\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e5) \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003eتفہیمات مثنوی 144 صفحات\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e6) \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003eتفہیمات پیام مشرق 295 صفحات\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e7) \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003eتفہیمات جاوید نامہ 344 صفحات\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Ilama Iqbal","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44651806556194,"sku":null,"price":3300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/481677201_1032662858895420_5318661846328594109_n_2bafff64-b0cc-42e4-bee8-ea0bb4ccae04.jpg?v=1766150244"},{"product_id":"8-books-set-of-iqbaliat","title":"7 Books Set of Iqbaliat","description":"\u003cdiv class=\"html-div xdj266r x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r xexx8yu x4uap5 x18d9i69 xkhd6sd\"\u003e\n\u003cdiv data-ad-rendering-role=\"story_message\" class=\"html-div xdj266r x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r xexx8yu x4uap5 x18d9i69 xkhd6sd\"\u003e\n\u003cdiv class=\"x1l90r2v x1iorvi4 x1ye3gou xn6708d\" data-ad-comet-preview=\"message\" data-ad-preview=\"message\" id=\":r44a:\"\u003e\n\u003cdiv class=\"x78zum5 xdt5ytf xz62fqu x16ldp7u\"\u003e\n\u003cdiv class=\"xu06os2 x1ok221b\"\u003e\n\u003cdiv class=\"xdj266r x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eعلامہ اقبال کا مکمل کلام مطالب و شرح کے ساتھ۔ اس سیٹ اصل قیمت 4850 روپے ہے۔ رعایتی قیمت 3300 روپے میں گھر بیٹھے حاصل کریں اور ان کتب کو اپنی لائبریری کی زینت بنائیں۔ آرڈر کرنے کے لئے اس نمبر پر رابطہ کریں 03174627290\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eبہترین پیپر کوالٹی اور مجلد۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eان میں شامل \u003cspan class=\"html-span xdj266r x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r xexx8yu x4uap5 x18d9i69 xkhd6sd x1hl2dhg x16tdsg8 x1vvkbs\"\u003e\u003ca class=\"html-a xdj266r x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r xexx8yu x4uap5 x18d9i69 xkhd6sd x1hl2dhg x16tdsg8 x1vvkbs\" tabindex=\"-1\"\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003eہیں\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e1) تفہیم زبور عجم 238 صفحات\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e2) تفہیمات اسرار خودی 159 صفحات\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e3) تفہیمات ارمغان حجاز 168 صفحات\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e4) تفہیمات رموز بے خودی 199 صفحات\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e5) تفہیمات مثنوی 144 صفحات\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e6) تفہیمات پیام مشرق 295 صفحات\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e7) تفہیمات جاوید نامہ 344\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv\u003e\n\u003cdiv class=\"xabvvm4 xeyy32k x1ia1hqs x1a2w583 x6ikm8r x10wlt62\" data-visualcompletion=\"ignore-dynamic\"\u003e\n\u003cdiv class=\"x1n2onr6\"\u003e\n\u003cdiv class=\"x6s0dn4 xi81zsa x78zum5 x6prxxf x13a6bvl xvq8zen xdj266r xat24cr xkhd6sd x4uap5 x80vd3b x1q0q8m5 xso031l x16n37ib xq8finb x1y1aw1k x10b6aqq\"\u003e\n\u003cdiv class=\"x1c4vz4f x2lah0s xci0xqf\"\u003e\u003cbr\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x9f619 x1ja2u2z x78zum5 x2lah0s x1n2onr6 x1qughib x1qjc9v5 xozqiw3 x1q0g3np xykv574 xbmpl8g x4cne27 xifccgj\"\u003eشرح از حمیرہ جمیل\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Ilama Iqbal","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44651822678050,"sku":null,"price":3300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/462004476_919088403586200_4025662869274009129_n_e7bd2377-827c-4066-9414-0e9c4c046f80.jpg?v=1766150408"},{"product_id":"ilama-iqbal-ki-zinda-yaadein-علامہ-اقبال-کی-زندہ-یادیں","title":"Ilama Iqbal Ki Zinda Yaadein | علامہ اقبال کی زندہ یادیں","description":"\u003cp\u003eAuthor: Dr. Nadeem Shafiq Malik Pages:308 Language:Urdu Hard Binding\u003c\/p\u003e","brand":"Dr. Nadeem Shafiq Malik","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44651827134498,"sku":null,"price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/allama_muhammad_iqbal_ki_zinda_yaaden_3c38e85a-44dc-4c7f-91a0-ed4e557e2664.jpg?v=1766150469"},{"product_id":"kiyo-by-jaun-elia-کیوںاز-جون-ایلیا","title":"Kiyo by Jaun Elia کیوں از جون ایلیا","description":"\u003cp\u003eمصنف: تعارف\u003cbr\u003eجون ایلیا اترپردیش کے شہر امروہہ کے ایک علمی گھرانے میں (1931) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید شفیق حسن ایلیا ایک تنگ دست شاعر اور عالم تھے۔ ان کے اور اپنے بارے میں جون ایلیا کا کہنا تھا \"جس بیٹے کو اس کے انتہائی خیال پسند اور مثالیہ پرست باپ نے عملی زندگی گزارنے کا کوئی طریقہ نہ سکھایا ہو بلکہ یہ تلقین کی ہو کہ علم سب سے بڑی فضیلت ہے اور کتابیں سب سے بڑی دولت تو وہ رایگاں نہ جاتا تو کیا ہوتا۔\" پاکستان کے نام ور صحافی، ماہر نفسیات رئیس امروہوی اور جنگ اخبار کے پہلے ایڈیٹر و فلسفی سید محمد تقی، جون ایلیا کے بھائی تھے، جب کہ مشھور خطاط و مصور صادقین، فلم ساز کمال امروہی ان کے چچا زاد بھائی تھے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eجون ایلیا کے بچپن اور لڑک پن کے واقعات بہ زبان جون ایلیا ہیں مثلاً \"اپنی ولادت کے تھوڑی دیر بعد چھت کو گھورتے ہوئے میں عجیب طرح ہنس پڑا جب میری خالاؤں نے یہ دیکھا تو ڈر کر کمرے سے باہر نکل گئیں۔ اس بے محل ہنسی کے بعد میں آج تک کھل کر نہیں ہنس سکا\" یا \"آٹھ برس کی عمر میں میں نے پہلا عشق کیا اور پہلا شعر کہا۔\"\u003cbr\u003eجون کی ابتدائی تعلیم امروہہ کے مدارس میں ہوئی جہاں انھوں نے اردو عربی اور فارسی سیکھی۔ درسی کتابوں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی اور امتحان میں فیل بھی ہو جاتے تھے۔ بڑے ہونے کے بعد ان کو فلسفہ اور ہیئت سے دلچسپی پیدا ہوئی۔ انھوں نے اردو، فارسی اور فلسفہ میں ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔ وہ انگریزی، پہلوی و عبرانی، سنسکرت اور فرانسیسی زبانیں بھی جانتے تھے۔ نوجوانی میں وہ کمیونزم کی طرف راغب ہوئے۔ تقسیم کے بعد ان کے بڑے بھائی پاکستان چلے گئے تھے۔ والدہ اور والد کے انتقال کے بعد جون ایلیا کو بھی (1956) میں با دل ناخواستہ پاکستان جانا پڑا اور وہ تا زندگی امروہہ اور ہندوستان کو یاد کرتے رہے۔ ان کا کہنا تھا \"پاکستان آ کر میں ہندوستانی ہو گیا۔\" جون کو کام میں مشغول کر کے ان کو ہجرت کے کرب سے نکالنے کے لیے رئیس امروہوی نے اک علمی و ادبی رسالہ \"انشا\" جاری کیا، جس میں جون اداریے لکھتے تھے۔ بعد میں اس رسالہ کو \"عالمی ڈائجسٹ\" میں تبدیل کر دیا گیا۔ اسی زمانہ میں جون نے قبل از اسلام مشرق وسطی کی سیاسی تاریخ مرتب کی اور باطنی تحریک نیز فلسفے پر انگریزی، عربی اور فارسی کتابوں کے ترجمے کیے۔ انھوں نے مجموعی طور پر 35 کتابیں مرتب کیں۔ وہ اردو ترقی بورڈ (پاکستان) سے بھی وابستہ رہے، جہاں انھوں نے ایک عظیم اردو لغت کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eجون ایلیا کا مزاج بچپن سے عاشقانہ تھا۔ وہ اکثر تصور میں اپنی محبوبہ سے باتیں کرتے رہتے تھے۔ بارہ برس کی عمر میں وہ ایک خیالی محبوبہ صوفیہ کو خطوط بھی لکھتے رہے۔ پھر نوجوانی میں ایک لڑکی فارہہ سے عشق کیا جسے وہ زندگی بھر یاد کرتے رہے، لیکن اس سے کبھی اظہار عشق نہیں کیا۔ ان کے عشق میں ایک عجیب انانیت تھی اور وہ اظہارِ عشق کو ایک ذلیل حرکت سمجھتے تھے۔ \"حسن سے عرضِ شوق نہ کرنا حسن کو زک پہنچانا ہے \/ ہم نے عرضِ شوق نہ کر کے حسن کو زک پہنچائی ہے\" اس طرح انھوں نے اپنے طور پر عشق کی تاریخ کی ان تمام حسیناؤں سے،ان کے عاشقوں کی طرف سے انتقام لیا جن کے دل ان حسیناؤں نے توڑے تھے۔ یہ اردو کی عشقیہ شاعری میں جون ایلیا کا پہلا کارنامہ ہے۔\u003cbr\u003eجس زمانہ میں جون ایلیا \"انشا\" میں کام کر رہے تھے، ان کی ملاقات مشہور جرنلسٹ اور افسانہ نگار زاہدہ حنا سے ہوئی۔ (1970) میں دونوں نے شادی کر لی۔ زاہدہ حنا نے ان کی بہت اچھی طرح دیکھ بھال کی اور وہ ان کے ساتھ خوش بھی رہے لیکن دونوں کے مزاجوں کے فرق نے دھیرے دھیرے اپنا رنگ دکھایا۔ آخر تین بچوں کی پیدائش کے بعد دونوں کی طلاق ہو گئی۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eجون ایلیا کی شخصیت کا نقشہ ان کے دوست قمر رضی نے اس طرح پیش کیا ہے۔ ’’ایک زود رنج مگر بےحد مخلص دوست، ایک شفیق اور بے تکلف استاد، اپنے خیالات میں ڈوبا ہوا راہ گیر، ایک مرعوب کن شریکِ بحث، ایک مغرور فلسفی، ایک فوراً رو دینے والا غم گسار، ناروا حد تک خود دار اور سرکش عاشق، ہر وقت تمباکو نوشی میں مبتلا رہنے والا خلوت پسند، انجمن ساز، بہت ہی ناتواں مگر ساری دنیا سے بیک وقت جھگڑا مول لے لینے کا خوگر، سارے زمانے کو اپنا محرم بنا لینے والا نامحرم، حد درجہ غیر ذمہ دار، بیمار، ایک شدید الحس نادرہ کار شاعر، یہ ہے وہ فن کار جسے جون ایلیا کہتے ہیں۔‘‘\u003cbr\u003eجون ایلیا نے پاکستان پہنچتے ہی اپنی شاعری کے جھنڈے گاڑ دیے تھے۔ شاعری کے ساتھ ساتھ ان کے پڑھنے کے ڈرامائی انداز سے بھی سامعین محظوظ ہوتے تھے۔ ان کی شرکت مشاعروں کی کام یابی کی ضمانت تھی۔ نام ور شاعر ان مشاعروں میں، جن میں جون ایلیا بھی ہوں، شرکت سے گھبراتے تھے۔ جون کو عجوبہ بن کر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا شوق تھا۔ گرمیوں میں کمبل اوڑھ کر نکلنا، رات کے وقت دھوپ کا چشمہ لگانا، کھڑاؤں پہن کر دُور دُور تک لوگوں سے ملنے چلے جانا، ان کے لیے عام بات تھی۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eزاہدہ حنا سے علیحدگی جون کے لیے بڑا صدمہ تھی۔ وہ نیم تاریک کمرے میں پہروں تنہا بیٹھے رہتے۔ سگرٹ اور مشروب نے بھی ان کی صحت متاثر کی۔ 8 نومبر (2002) کو ان کی وفات ہو گئی۔ اپنی زندگی کی طرح وہ اپنی شاعری کی اشاعت کی طرف سے بھی لاپروا تھے۔ (1990) میں تقریباً ساٹھ سال کی عمر میں لوگوں کے اصرار پر انھوں نے اپنا پہلا مجموعہ کلام ”شاید\" شاٸع کیا۔ جون صاحب کا مرتب کردہ دوسرا مجموعہ ”یعنی“ بعد از مرگ (2003) میں منظرِ عام پر آیا۔ بعد میں جون ایلیا کے قریبی ساتھی خالد احمد انصاری نے ان کا بکھرا ہوا کلام اور تحریریں سمیٹنے اور ان کی تدوین کر کے چھپوانے کا کارنامہ سر انجام دیا۔ انھوں نے ’گمان‘ (2004) ’لیکن‘ (2006) ’گویا‘ (2008) جیسے خوب صورت شعری مجموعے قارئین کی نذر کیے۔ 2007 میں جون کے دوسرے شعری مجموعے ’یعنی‘ کو 80 اشعار کے اضافے کے ساتھ دوبارہ اور مختلف موضوعات پر انشائیوں کا مجموعہ، اردو نثری شاہکار ’فرنود‘ (2012) میں شاٸع کیا۔ (2016) میں جون ایلیا کی ایک طویل نظم ’راموز‘ کی مختلف اور منتخب الواح کے مجموعے کے بعد اب جون ایلیا پر لکھی گئی تحریروں اور ملاقاتوں پر مشتمل مجموعہ ’میں یا میں‘ (2020) بھی ان کی شبانہ روز کاوشوں کا حاصل ہے۔\u003cbr\u003eان کتابوں کے علاوہ جون ایلیا کا ایک اور شعری مجموعہ ’کیوں‘ بھی خالد انصاری مرتب کر رہے ہیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eجون بڑے شاعر ہیں تو اس لیے نہیں کہ ان کی شاعری ان تمام کسوٹیوں پر کھری اُترتی ہے جو صدیوں کی شعری روایت اور تنقیدی معیارات کے تحت قائم ہوئی ہے۔ وہ بڑے شاعر اس لیے ہیں کہ شاعری کے سب سے بڑے موضوع انسان کی جذباتی اور نفسیاتی کیفیات پر جیسے اشعار جون ایلیا نے کہے ہیں، اردو شاعری کی روایت میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ کیفیت کو احساس کی شدّت کے ساتھ قاری یا سامع تک منتقل کر نے کی جو صلاحیت جون کے یہاں ہے، اس کی مثال اردو شاعری میں صرف میر تقی میر کے یہاں ملتی ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Jaun Elia","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44651828903970,"sku":null,"price":750.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/kiyo_1a4f94ab-be89-4c6d-9e67-b63c84f260e6.png?v=1766150526"},{"product_id":"5-books-set-by-jhon-elia","title":"5 Books Set By Jhon Elia","description":"\u003cp\u003eمصنف: تعارف\u003cbr\u003eجون ایلیا اترپردیش کے شہر امروہہ کے ایک علمی گھرانے میں (1931) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید شفیق حسن ایلیا ایک تنگ دست شاعر اور عالم تھے۔ ان کے اور اپنے بارے میں جون ایلیا کا کہنا تھا \"جس بیٹے کو اس کے انتہائی خیال پسند اور مثالیہ پرست باپ نے عملی زندگی گزارنے کا کوئی طریقہ نہ سکھایا ہو بلکہ یہ تلقین کی ہو کہ علم سب سے بڑی فضیلت ہے اور کتابیں سب سے بڑی دولت تو وہ رایگاں نہ جاتا تو کیا ہوتا۔\" پاکستان کے نام ور صحافی، ماہر نفسیات رئیس امروہوی اور جنگ اخبار کے پہلے ایڈیٹر و فلسفی سید محمد تقی، جون ایلیا کے بھائی تھے، جب کہ مشھور خطاط و مصور صادقین، فلم ساز کمال امروہی ان کے چچا زاد بھائی تھے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eجون ایلیا کے بچپن اور لڑک پن کے واقعات بہ زبان جون ایلیا ہیں مثلاً \"اپنی ولادت کے تھوڑی دیر بعد چھت کو گھورتے ہوئے میں عجیب طرح ہنس پڑا جب میری خالاؤں نے یہ دیکھا تو ڈر کر کمرے سے باہر نکل گئیں۔ اس بے محل ہنسی کے بعد میں آج تک کھل کر نہیں ہنس سکا\" یا \"آٹھ برس کی عمر میں میں نے پہلا عشق کیا اور پہلا شعر کہا۔\"\u003cbr\u003eجون کی ابتدائی تعلیم امروہہ کے مدارس میں ہوئی جہاں انھوں نے اردو عربی اور فارسی سیکھی۔ درسی کتابوں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی اور امتحان میں فیل بھی ہو جاتے تھے۔ بڑے ہونے کے بعد ان کو فلسفہ اور ہیئت سے دلچسپی پیدا ہوئی۔ انھوں نے اردو، فارسی اور فلسفہ میں ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔ وہ انگریزی، پہلوی و عبرانی، سنسکرت اور فرانسیسی زبانیں بھی جانتے تھے۔ نوجوانی میں وہ کمیونزم کی طرف راغب ہوئے۔ تقسیم کے بعد ان کے بڑے بھائی پاکستان چلے گئے تھے۔ والدہ اور والد کے انتقال کے بعد جون ایلیا کو بھی (1956) میں با دل ناخواستہ پاکستان جانا پڑا اور وہ تا زندگی امروہہ اور ہندوستان کو یاد کرتے رہے۔ ان کا کہنا تھا \"پاکستان آ کر میں ہندوستانی ہو گیا۔\" جون کو کام میں مشغول کر کے ان کو ہجرت کے کرب سے نکالنے کے لیے رئیس امروہوی نے اک علمی و ادبی رسالہ \"انشا\" جاری کیا، جس میں جون اداریے لکھتے تھے۔ بعد میں اس رسالہ کو \"عالمی ڈائجسٹ\" میں تبدیل کر دیا گیا۔ اسی زمانہ میں جون نے قبل از اسلام مشرق وسطی کی سیاسی تاریخ مرتب کی اور باطنی تحریک نیز فلسفے پر انگریزی، عربی اور فارسی کتابوں کے ترجمے کیے۔ انھوں نے مجموعی طور پر 35 کتابیں مرتب کیں۔ وہ اردو ترقی بورڈ (پاکستان) سے بھی وابستہ رہے، جہاں انھوں نے ایک عظیم اردو لغت کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eجون ایلیا کا مزاج بچپن سے عاشقانہ تھا۔ وہ اکثر تصور میں اپنی محبوبہ سے باتیں کرتے رہتے تھے۔ بارہ برس کی عمر میں وہ ایک خیالی محبوبہ صوفیہ کو خطوط بھی لکھتے رہے۔ پھر نوجوانی میں ایک لڑکی فارہہ سے عشق کیا جسے وہ زندگی بھر یاد کرتے رہے، لیکن اس سے کبھی اظہار عشق نہیں کیا۔ ان کے عشق میں ایک عجیب انانیت تھی اور وہ اظہارِ عشق کو ایک ذلیل حرکت سمجھتے تھے۔ \"حسن سے عرضِ شوق نہ کرنا حسن کو زک پہنچانا ہے \/ ہم نے عرضِ شوق نہ کر کے حسن کو زک پہنچائی ہے\" اس طرح انھوں نے اپنے طور پر عشق کی تاریخ کی ان تمام حسیناؤں سے،ان کے عاشقوں کی طرف سے انتقام لیا جن کے دل ان حسیناؤں نے توڑے تھے۔ یہ اردو کی عشقیہ شاعری میں جون ایلیا کا پہلا کارنامہ ہے۔\u003cbr\u003eجس زمانہ میں جون ایلیا \"انشا\" میں کام کر رہے تھے، ان کی ملاقات مشہور جرنلسٹ اور افسانہ نگار زاہدہ حنا سے ہوئی۔ (1970) میں دونوں نے شادی کر لی۔ زاہدہ حنا نے ان کی بہت اچھی طرح دیکھ بھال کی اور وہ ان کے ساتھ خوش بھی رہے لیکن دونوں کے مزاجوں کے فرق نے دھیرے دھیرے اپنا رنگ دکھایا۔ آخر تین بچوں کی پیدائش کے بعد دونوں کی طلاق ہو گئی۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eجون ایلیا کی شخصیت کا نقشہ ان کے دوست قمر رضی نے اس طرح پیش کیا ہے۔ ’’ایک زود رنج مگر بےحد مخلص دوست، ایک شفیق اور بے تکلف استاد، اپنے خیالات میں ڈوبا ہوا راہ گیر، ایک مرعوب کن شریکِ بحث، ایک مغرور فلسفی، ایک فوراً رو دینے والا غم گسار، ناروا حد تک خود دار اور سرکش عاشق، ہر وقت تمباکو نوشی میں مبتلا رہنے والا خلوت پسند، انجمن ساز، بہت ہی ناتواں مگر ساری دنیا سے بیک وقت جھگڑا مول لے لینے کا خوگر، سارے زمانے کو اپنا محرم بنا لینے والا نامحرم، حد درجہ غیر ذمہ دار، بیمار، ایک شدید الحس نادرہ کار شاعر، یہ ہے وہ فن کار جسے جون ایلیا کہتے ہیں۔‘‘\u003cbr\u003eجون ایلیا نے پاکستان پہنچتے ہی اپنی شاعری کے جھنڈے گاڑ دیے تھے۔ شاعری کے ساتھ ساتھ ان کے پڑھنے کے ڈرامائی انداز سے بھی سامعین محظوظ ہوتے تھے۔ ان کی شرکت مشاعروں کی کام یابی کی ضمانت تھی۔ نام ور شاعر ان مشاعروں میں، جن میں جون ایلیا بھی ہوں، شرکت سے گھبراتے تھے۔ جون کو عجوبہ بن کر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا شوق تھا۔ گرمیوں میں کمبل اوڑھ کر نکلنا، رات کے وقت دھوپ کا چشمہ لگانا، کھڑاؤں پہن کر دُور دُور تک لوگوں سے ملنے چلے جانا، ان کے لیے عام بات تھی۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eزاہدہ حنا سے علیحدگی جون کے لیے بڑا صدمہ تھی۔ وہ نیم تاریک کمرے میں پہروں تنہا بیٹھے رہتے۔ سگرٹ اور مشروب نے بھی ان کی صحت متاثر کی۔ 8 نومبر (2002) کو ان کی وفات ہو گئی۔ اپنی زندگی کی طرح وہ اپنی شاعری کی اشاعت کی طرف سے بھی لاپروا تھے۔ (1990) میں تقریباً ساٹھ سال کی عمر میں لوگوں کے اصرار پر انھوں نے اپنا پہلا مجموعہ کلام ”شاید\" شاٸع کیا۔ جون صاحب کا مرتب کردہ دوسرا مجموعہ ”یعنی“ بعد از مرگ (2003) میں منظرِ عام پر آیا۔ بعد میں جون ایلیا کے قریبی ساتھی خالد احمد انصاری نے ان کا بکھرا ہوا کلام اور تحریریں سمیٹنے اور ان کی تدوین کر کے چھپوانے کا کارنامہ سر انجام دیا۔ انھوں نے ’گمان‘ (2004) ’لیکن‘ (2006) ’گویا‘ (2008) جیسے خوب صورت شعری مجموعے قارئین کی نذر کیے۔ 2007 میں جون کے دوسرے شعری مجموعے ’یعنی‘ کو 80 اشعار کے اضافے کے ساتھ دوبارہ اور مختلف موضوعات پر انشائیوں کا مجموعہ، اردو نثری شاہکار ’فرنود‘ (2012) میں شاٸع کیا۔ (2016) میں جون ایلیا کی ایک طویل نظم ’راموز‘ کی مختلف اور منتخب الواح کے مجموعے کے بعد اب جون ایلیا پر لکھی گئی تحریروں اور ملاقاتوں پر مشتمل مجموعہ ’میں یا میں‘ (2020) بھی ان کی شبانہ روز کاوشوں کا حاصل ہے۔\u003cbr\u003eان کتابوں کے علاوہ جون ایلیا کا ایک اور شعری مجموعہ ’کیوں‘ بھی خالد انصاری مرتب کر رہے ہیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eجون بڑے شاعر ہیں تو اس لیے نہیں کہ ان کی شاعری ان تمام کسوٹیوں پر کھری اُترتی ہے جو صدیوں کی شعری روایت اور تنقیدی معیارات کے تحت قائم ہوئی ہے۔ وہ بڑے شاعر اس لیے ہیں کہ شاعری کے سب سے بڑے موضوع انسان کی جذباتی اور نفسیاتی کیفیات پر جیسے اشعار جون ایلیا نے کہے ہیں، اردو شاعری کی روایت میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ کیفیت کو احساس کی شدّت کے ساتھ قاری یا سامع تک منتقل کر نے کی جو صلاحیت جون کے یہاں ہے، اس کی مثال اردو شاعری میں صرف میر تقی میر کے یہاں ملتی ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Jaun Elia","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44651829264418,"sku":null,"price":2400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Jhon-Elia-Set_c39b7b2c-8271-4f26-aece-8ed23be6fa2f.jpg?v=1766150536"},{"product_id":"فرنود-farnood","title":"فرنود - Farnood","description":"\u003cp\u003eمصنف: تعارف\u003cbr\u003eجون ایلیا اترپردیش کے شہر امروہہ کے ایک علمی گھرانے میں (1931) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید شفیق حسن ایلیا ایک تنگ دست شاعر اور عالم تھے۔ ان کے اور اپنے بارے میں جون ایلیا کا کہنا تھا \"جس بیٹے کو اس کے انتہائی خیال پسند اور مثالیہ پرست باپ نے عملی زندگی گزارنے کا کوئی طریقہ نہ سکھایا ہو بلکہ یہ تلقین کی ہو کہ علم سب سے بڑی فضیلت ہے اور کتابیں سب سے بڑی دولت تو وہ رایگاں نہ جاتا تو کیا ہوتا۔\" پاکستان کے نام ور صحافی، ماہر نفسیات رئیس امروہوی اور جنگ اخبار کے پہلے ایڈیٹر و فلسفی سید محمد تقی، جون ایلیا کے بھائی تھے، جب کہ مشھور خطاط و مصور صادقین، فلم ساز کمال امروہی ان کے چچا زاد بھائی تھے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eجون ایلیا کے بچپن اور لڑک پن کے واقعات بہ زبان جون ایلیا ہیں مثلاً \"اپنی ولادت کے تھوڑی دیر بعد چھت کو گھورتے ہوئے میں عجیب طرح ہنس پڑا جب میری خالاؤں نے یہ دیکھا تو ڈر کر کمرے سے باہر نکل گئیں۔ اس بے محل ہنسی کے بعد میں آج تک کھل کر نہیں ہنس سکا\" یا \"آٹھ برس کی عمر میں میں نے پہلا عشق کیا اور پہلا شعر کہا۔\"\u003cbr\u003eجون کی ابتدائی تعلیم امروہہ کے مدارس میں ہوئی جہاں انھوں نے اردو عربی اور فارسی سیکھی۔ درسی کتابوں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی اور امتحان میں فیل بھی ہو جاتے تھے۔ بڑے ہونے کے بعد ان کو فلسفہ اور ہیئت سے دلچسپی پیدا ہوئی۔ انھوں نے اردو، فارسی اور فلسفہ میں ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔ وہ انگریزی، پہلوی و عبرانی، سنسکرت اور فرانسیسی زبانیں بھی جانتے تھے۔ نوجوانی میں وہ کمیونزم کی طرف راغب ہوئے۔ تقسیم کے بعد ان کے بڑے بھائی پاکستان چلے گئے تھے۔ والدہ اور والد کے انتقال کے بعد جون ایلیا کو بھی (1956) میں با دل ناخواستہ پاکستان جانا پڑا اور وہ تا زندگی امروہہ اور ہندوستان کو یاد کرتے رہے۔ ان کا کہنا تھا \"پاکستان آ کر میں ہندوستانی ہو گیا۔\" جون کو کام میں مشغول کر کے ان کو ہجرت کے کرب سے نکالنے کے لیے رئیس امروہوی نے اک علمی و ادبی رسالہ \"انشا\" جاری کیا، جس میں جون اداریے لکھتے تھے۔ بعد میں اس رسالہ کو \"عالمی ڈائجسٹ\" میں تبدیل کر دیا گیا۔ اسی زمانہ میں جون نے قبل از اسلام مشرق وسطی کی سیاسی تاریخ مرتب کی اور باطنی تحریک نیز فلسفے پر انگریزی، عربی اور فارسی کتابوں کے ترجمے کیے۔ انھوں نے مجموعی طور پر 35 کتابیں مرتب کیں۔ وہ اردو ترقی بورڈ (پاکستان) سے بھی وابستہ رہے، جہاں انھوں نے ایک عظیم اردو لغت کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eجون ایلیا کا مزاج بچپن سے عاشقانہ تھا۔ وہ اکثر تصور میں اپنی محبوبہ سے باتیں کرتے رہتے تھے۔ بارہ برس کی عمر میں وہ ایک خیالی محبوبہ صوفیہ کو خطوط بھی لکھتے رہے۔ پھر نوجوانی میں ایک لڑکی فارہہ سے عشق کیا جسے وہ زندگی بھر یاد کرتے رہے، لیکن اس سے کبھی اظہار عشق نہیں کیا۔ ان کے عشق میں ایک عجیب انانیت تھی اور وہ اظہارِ عشق کو ایک ذلیل حرکت سمجھتے تھے۔ \"حسن سے عرضِ شوق نہ کرنا حسن کو زک پہنچانا ہے \/ ہم نے عرضِ شوق نہ کر کے حسن کو زک پہنچائی ہے\" اس طرح انھوں نے اپنے طور پر عشق کی تاریخ کی ان تمام حسیناؤں سے،ان کے عاشقوں کی طرف سے انتقام لیا جن کے دل ان حسیناؤں نے توڑے تھے۔ یہ اردو کی عشقیہ شاعری میں جون ایلیا کا پہلا کارنامہ ہے۔\u003cbr\u003eجس زمانہ میں جون ایلیا \"انشا\" میں کام کر رہے تھے، ان کی ملاقات مشہور جرنلسٹ اور افسانہ نگار زاہدہ حنا سے ہوئی۔ (1970) میں دونوں نے شادی کر لی۔ زاہدہ حنا نے ان کی بہت اچھی طرح دیکھ بھال کی اور وہ ان کے ساتھ خوش بھی رہے لیکن دونوں کے مزاجوں کے فرق نے دھیرے دھیرے اپنا رنگ دکھایا۔ آخر تین بچوں کی پیدائش کے بعد دونوں کی طلاق ہو گئی۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eجون ایلیا کی شخصیت کا نقشہ ان کے دوست قمر رضی نے اس طرح پیش کیا ہے۔ ’’ایک زود رنج مگر بےحد مخلص دوست، ایک شفیق اور بے تکلف استاد، اپنے خیالات میں ڈوبا ہوا راہ گیر، ایک مرعوب کن شریکِ بحث، ایک مغرور فلسفی، ایک فوراً رو دینے والا غم گسار، ناروا حد تک خود دار اور سرکش عاشق، ہر وقت تمباکو نوشی میں مبتلا رہنے والا خلوت پسند، انجمن ساز، بہت ہی ناتواں مگر ساری دنیا سے بیک وقت جھگڑا مول لے لینے کا خوگر، سارے زمانے کو اپنا محرم بنا لینے والا نامحرم، حد درجہ غیر ذمہ دار، بیمار، ایک شدید الحس نادرہ کار شاعر، یہ ہے وہ فن کار جسے جون ایلیا کہتے ہیں۔‘‘\u003cbr\u003eجون ایلیا نے پاکستان پہنچتے ہی اپنی شاعری کے جھنڈے گاڑ دیے تھے۔ شاعری کے ساتھ ساتھ ان کے پڑھنے کے ڈرامائی انداز سے بھی سامعین محظوظ ہوتے تھے۔ ان کی شرکت مشاعروں کی کام یابی کی ضمانت تھی۔ نام ور شاعر ان مشاعروں میں، جن میں جون ایلیا بھی ہوں، شرکت سے گھبراتے تھے۔ جون کو عجوبہ بن کر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا شوق تھا۔ گرمیوں میں کمبل اوڑھ کر نکلنا، رات کے وقت دھوپ کا چشمہ لگانا، کھڑاؤں پہن کر دُور دُور تک لوگوں سے ملنے چلے جانا، ان کے لیے عام بات تھی۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eزاہدہ حنا سے علیحدگی جون کے لیے بڑا صدمہ تھی۔ وہ نیم تاریک کمرے میں پہروں تنہا بیٹھے رہتے۔ سگرٹ اور مشروب نے بھی ان کی صحت متاثر کی۔ 8 نومبر (2002) کو ان کی وفات ہو گئی۔ اپنی زندگی کی طرح وہ اپنی شاعری کی اشاعت کی طرف سے بھی لاپروا تھے۔ (1990) میں تقریباً ساٹھ سال کی عمر میں لوگوں کے اصرار پر انھوں نے اپنا پہلا مجموعہ کلام ”شاید\" شاٸع کیا۔ جون صاحب کا مرتب کردہ دوسرا مجموعہ ”یعنی“ بعد از مرگ (2003) میں منظرِ عام پر آیا۔ بعد میں جون ایلیا کے قریبی ساتھی خالد احمد انصاری نے ان کا بکھرا ہوا کلام اور تحریریں سمیٹنے اور ان کی تدوین کر کے چھپوانے کا کارنامہ سر انجام دیا۔ انھوں نے ’گمان‘ (2004) ’لیکن‘ (2006) ’گویا‘ (2008) جیسے خوب صورت شعری مجموعے قارئین کی نذر کیے۔ 2007 میں جون کے دوسرے شعری مجموعے ’یعنی‘ کو 80 اشعار کے اضافے کے ساتھ دوبارہ اور مختلف موضوعات پر انشائیوں کا مجموعہ، اردو نثری شاہکار ’فرنود‘ (2012) میں شاٸع کیا۔ (2016) میں جون ایلیا کی ایک طویل نظم ’راموز‘ کی مختلف اور منتخب الواح کے مجموعے کے بعد اب جون ایلیا پر لکھی گئی تحریروں اور ملاقاتوں پر مشتمل مجموعہ ’میں یا میں‘ (2020) بھی ان کی شبانہ روز کاوشوں کا حاصل ہے۔\u003cbr\u003eان کتابوں کے علاوہ جون ایلیا کا ایک اور شعری مجموعہ ’کیوں‘ بھی خالد انصاری مرتب کر رہے ہیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eجون بڑے شاعر ہیں تو اس لیے نہیں کہ ان کی شاعری ان تمام کسوٹیوں پر کھری اُترتی ہے جو صدیوں کی شعری روایت اور تنقیدی معیارات کے تحت قائم ہوئی ہے۔ وہ بڑے شاعر اس لیے ہیں کہ شاعری کے سب سے بڑے موضوع انسان کی جذباتی اور نفسیاتی کیفیات پر جیسے اشعار جون ایلیا نے کہے ہیں، اردو شاعری کی روایت میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ کیفیت کو احساس کی شدّت کے ساتھ قاری یا سامع تک منتقل کر نے کی جو صلاحیت جون کے یہاں ہے، اس کی مثال اردو شاعری میں صرف میر تقی میر کے یہاں ملتی ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Jaun Elia","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44651866030114,"sku":null,"price":1175.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Farnood-1500_e37e34a3-1dd8-4ca0-9a94-efb9cf9e51a9.jpg?v=1766150661"},{"product_id":"goya-گویا","title":"Goya - گویا","description":"\u003cp\u003eکتاب: تعارف\u003cbr\u003e\"گویا\" جون ایلیا کا مجموعہ کلام ہے۔ جس میں ہلاکت خیز غزلوں اور نظموں کا ایسا امتزاج ہے کہ اس سے پہلے ان کے کسی مجموعہ میں نظر نہیں آتا۔ یہ وہ کلام ہے جو ان کے دیگر مجموعہ کلام سے بالکل الگ ہے۔اس میں جون کی ان غزلوں اور نظموں کو درج کیا گیا ہے جو ان کے دیگر مجموعہ میں شامل نہیں ہیں۔ اس کے لئے مرتب نے بہت سے افراد کی مدد لی، خاص طور پر ان کے بھتیجے علامہ علی کرار نقوی سے جنہیں نے جون کا غیر مطبوعہ کلام جو ان کے پاس تھا وہ مہیا کرایا اور دیگر حضرات نے بھی اس کی ترتیب میں مدد کی ۔ اس مجموعہ میں کہیں پر جون اپنے مخصوص لہجے میں یہ کہتے ہوئے نظر آئینگے کہ، \"حاکم وقت ہوا ہے، حاکم فطرت شاید\/ ان دنوں شہر میں ، نافذ ہے خزاں کا موسم ۔\" اور کہیں وہ کہتے ہیں کہ، \"حالت حال کے سبب ، حالت حال ہی گئی\/ شوق میں کچھ نہیں گیا ، شوق کی زندگی گئی ۔\" گویا جون کی بہترین شاعری کا ایک خوصورت گلدستہ ہے جس میں رنگ برنگے پھولوں کی کثرت ہے اور جس کی خوشبو مشام جان کو معطر کئے بنا نہیں رہتی۔ سب جون ایلیا کے خواہشمند حضرات اس سے استفادہ کر سکتے ہیں۔\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Jaun Elia","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44651866062882,"sku":null,"price":525.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Goya-700_0257b875-ed5d-4ce2-8b91-6403c9852329.jpg?v=1766150661"},{"product_id":"گمان-guman","title":"گمان - Guman","description":"\u003cp\u003eکتاب: تعارف\u003cbr\u003eجو ن ایلیا کی شاعری محتاج تعارف نہیں ۔ ا ن کی شاعری نے دنیا کو شاعری کے ایک انوکھے ڈھنگ سے روشناس کرایا اور لفظو ں کو ایک نیا پیراہن عطا کر کے لوگوں کو حیران کر دیا ۔ انہوں نے اپنے عہد کی فرسودہ روایت اور ترقی پسندیت ، جدیدیت اور وجودیت جیسی تحریکوں سے ہٹ کر اور ذات و کائنات کی باتوں کو چھوڑ کر ، میر و مومن کے بعد جو روایت تشنہ رہ گئی تھی اسے ایک بار پھر سے آبیار کیا اور پھر سے عشق و محبت جیسے موضوعات کو اپنی شاعری کا عنصر بنایا اور غم حجراں ، وصال اور درد و الم سے شرابور نظمیں ، غزلیں و قطعات صفحہ قرطاس پر اتار دئے۔کہیں کہیں اہل زمانہ اور معشوق پر ان کی جھنجھلاہٹ صاف نظر آتی ہے اور جب یہ ناراضگی اور جھنجھلاہٹ ان کی شاعری کا حصہ بنتی ہے تو وہ کلاسیکی عشقیہ شاعری نہ ہوکر زمین پر سانس لیتے ہوئے مرد و عورت کی محبت و نفرت کی شاعری بن جاتی ہے۔ وہ ہمیشہ تلخ و شیرین حالات میں اپنے محبوب کو سامنے رکھ کر دو ٹوک بات کرتے ہیں اور ہواوں ،بادلوں، پھول ، خوشبو کو اپنی بات پہونچانے کے لئے نہیں استعمال کرتے ۔ \"گمان\" جون کا شعری مجموعہ ہے ۔جس میں جون کی خوبصورت غزلیات کے ایک سے بڑھ کر ایک نمونے نظر آتے ہیں اور ساتھ ساتھ ان کی بہترین نظمیں اور قطعیات بھی اس مجموعہ کا حصہ ہیں ۔ جون ایلیا کو مطالعہ کرنے والے اور انہیں پسند کرنے والے اس مجموعہ کلام سے اپنی پیاس بچھا سکتے ہیں۔\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Jaun Elia","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44651866095650,"sku":null,"price":450.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Gumaan-600_968e1950-ff36-4d61-9f70-d61db6719a26.jpg?v=1766150663"},{"product_id":"lekin-لیکن","title":"Lekin - لیکن","description":"\u003cp\u003eکتاب: تعارف\u003cbr\u003eجو ن ایلیا کی شاعری آج کے اس دور میں محتاج تعارف نہیں۔ ا ن کی شاعری نے دنیا کو شاعری کے ایک نئے ڈھنگ سے روشناس کرایا اور لفظو ں کو ایک نیا پیراہن عطا کر کے لوگوں کو حیران کر دیا۔ انہوں نے اپنے زمانے کی روش سے ہٹ کر ترقی پسندیت ، جدیدیت اور وجودیت جیسی تحریکوں سے ہٹ کر اور ذات و کائنات کی باتوں کو چھوڑ کر ، میر و مومن کے بعد جو روایت ادھوری رہ گئی تھی اسے ایک بار پھر سے زندہ کیا اور پھر سے عشق و محبت جیسے موضوعات کو اپنی شاعری کا عنصر بنایا اور غم ہجراں ، وصال اور درد و الم سے شرابور نظمیں، غزلیں و قطعات صفحہ قرطاس پر اتار دئے۔کہیں کہیں اہل زمانہ اور معشوق پر ان کی جھنجھلاہٹ صاف نظر آتی ہے اور جب یہ ناراضگی اور جھنجھلاہٹ ان کی شاعری کا حصہ بنتی ہے تو وہ کلاسیکی عشقیہ شاعری نہ ہوکر زمین پر سانس لیتے ہوئے مرد و عورت کی محبت و نفرت کی شاعری بن جاتی ہے۔ وہ ہمیشہ تلخ و شیرین حالات میں اپنے محبوب کو سامنے رکھ کر دو ٹوک بات کرتے ہیں اور ہواوں،بادلوں، پھول ، خوشبو کو اپنی بات پہونچانے کے لئے نہیں استعمال کرتے۔ \"لیکن\" جون کا شعری مجموعہ ہے جس میں جون کی خوبصورت غزلیات کے ساتھ ساتھ ان کی بہترین نظمیں اور قطعیات شامل ہیں۔ جون ایلیا کو پڑھنے والے اور پسند کرنے والے اس سے اپنی پیاس بجھا سکتے ہیں۔\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Jaun Elia","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44651866128418,"sku":null,"price":450.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Lekin-600_5b520963-8e1c-419a-91b6-540afaaa90f4.jpg?v=1766150663"},{"product_id":"میں-یا-میں-mein-ya-mein","title":"میں یا میں -Mein Ya  Mein","description":"\u003cp\u003eمصنف: تعارف\u003cbr\u003eجون ایلیا اترپردیش کے شہر امروہہ کے ایک علمی گھرانے میں (1931) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید شفیق حسن ایلیا ایک تنگ دست شاعر اور عالم تھے۔ ان کے اور اپنے بارے میں جون ایلیا کا کہنا تھا \"جس بیٹے کو اس کے انتہائی خیال پسند اور مثالیہ پرست باپ نے عملی زندگی گزارنے کا کوئی طریقہ نہ سکھایا ہو بلکہ یہ تلقین کی ہو کہ علم سب سے بڑی فضیلت ہے اور کتابیں سب سے بڑی دولت تو وہ رایگاں نہ جاتا تو کیا ہوتا۔\" پاکستان کے نام ور صحافی، ماہر نفسیات رئیس امروہوی اور جنگ اخبار کے پہلے ایڈیٹر و فلسفی سید محمد تقی، جون ایلیا کے بھائی تھے، جب کہ مشھور خطاط و مصور صادقین، فلم ساز کمال امروہی ان کے چچا زاد بھائی تھے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eجون ایلیا کے بچپن اور لڑک پن کے واقعات بہ زبان جون ایلیا ہیں مثلاً \"اپنی ولادت کے تھوڑی دیر بعد چھت کو گھورتے ہوئے میں عجیب طرح ہنس پڑا جب میری خالاؤں نے یہ دیکھا تو ڈر کر کمرے سے باہر نکل گئیں۔ اس بے محل ہنسی کے بعد میں آج تک کھل کر نہیں ہنس سکا\" یا \"آٹھ برس کی عمر میں میں نے پہلا عشق کیا اور پہلا شعر کہا۔\"\u003cbr\u003eجون کی ابتدائی تعلیم امروہہ کے مدارس میں ہوئی جہاں انھوں نے اردو عربی اور فارسی سیکھی۔ درسی کتابوں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی اور امتحان میں فیل بھی ہو جاتے تھے۔ بڑے ہونے کے بعد ان کو فلسفہ اور ہیئت سے دلچسپی پیدا ہوئی۔ انھوں نے اردو، فارسی اور فلسفہ میں ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔ وہ انگریزی، پہلوی و عبرانی، سنسکرت اور فرانسیسی زبانیں بھی جانتے تھے۔ نوجوانی میں وہ کمیونزم کی طرف راغب ہوئے۔ تقسیم کے بعد ان کے بڑے بھائی پاکستان چلے گئے تھے۔ والدہ اور والد کے انتقال کے بعد جون ایلیا کو بھی (1956) میں با دل ناخواستہ پاکستان جانا پڑا اور وہ تا زندگی امروہہ اور ہندوستان کو یاد کرتے رہے۔ ان کا کہنا تھا \"پاکستان آ کر میں ہندوستانی ہو گیا۔\" جون کو کام میں مشغول کر کے ان کو ہجرت کے کرب سے نکالنے کے لیے رئیس امروہوی نے اک علمی و ادبی رسالہ \"انشا\" جاری کیا، جس میں جون اداریے لکھتے تھے۔ بعد میں اس رسالہ کو \"عالمی ڈائجسٹ\" میں تبدیل کر دیا گیا۔ اسی زمانہ میں جون نے قبل از اسلام مشرق وسطی کی سیاسی تاریخ مرتب کی اور باطنی تحریک نیز فلسفے پر انگریزی، عربی اور فارسی کتابوں کے ترجمے کیے۔ انھوں نے مجموعی طور پر 35 کتابیں مرتب کیں۔ وہ اردو ترقی بورڈ (پاکستان) سے بھی وابستہ رہے، جہاں انھوں نے ایک عظیم اردو لغت کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eجون ایلیا کا مزاج بچپن سے عاشقانہ تھا۔ وہ اکثر تصور میں اپنی محبوبہ سے باتیں کرتے رہتے تھے۔ بارہ برس کی عمر میں وہ ایک خیالی محبوبہ صوفیہ کو خطوط بھی لکھتے رہے۔ پھر نوجوانی میں ایک لڑکی فارہہ سے عشق کیا جسے وہ زندگی بھر یاد کرتے رہے، لیکن اس سے کبھی اظہار عشق نہیں کیا۔ ان کے عشق میں ایک عجیب انانیت تھی اور وہ اظہارِ عشق کو ایک ذلیل حرکت سمجھتے تھے۔ \"حسن سے عرضِ شوق نہ کرنا حسن کو زک پہنچانا ہے \/ ہم نے عرضِ شوق نہ کر کے حسن کو زک پہنچائی ہے\" اس طرح انھوں نے اپنے طور پر عشق کی تاریخ کی ان تمام حسیناؤں سے،ان کے عاشقوں کی طرف سے انتقام لیا جن کے دل ان حسیناؤں نے توڑے تھے۔ یہ اردو کی عشقیہ شاعری میں جون ایلیا کا پہلا کارنامہ ہے۔\u003cbr\u003eجس زمانہ میں جون ایلیا \"انشا\" میں کام کر رہے تھے، ان کی ملاقات مشہور جرنلسٹ اور افسانہ نگار زاہدہ حنا سے ہوئی۔ (1970) میں دونوں نے شادی کر لی۔ زاہدہ حنا نے ان کی بہت اچھی طرح دیکھ بھال کی اور وہ ان کے ساتھ خوش بھی رہے لیکن دونوں کے مزاجوں کے فرق نے دھیرے دھیرے اپنا رنگ دکھایا۔ آخر تین بچوں کی پیدائش کے بعد دونوں کی طلاق ہو گئی۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eجون ایلیا کی شخصیت کا نقشہ ان کے دوست قمر رضی نے اس طرح پیش کیا ہے۔ ’’ایک زود رنج مگر بےحد مخلص دوست، ایک شفیق اور بے تکلف استاد، اپنے خیالات میں ڈوبا ہوا راہ گیر، ایک مرعوب کن شریکِ بحث، ایک مغرور فلسفی، ایک فوراً رو دینے والا غم گسار، ناروا حد تک خود دار اور سرکش عاشق، ہر وقت تمباکو نوشی میں مبتلا رہنے والا خلوت پسند، انجمن ساز، بہت ہی ناتواں مگر ساری دنیا سے بیک وقت جھگڑا مول لے لینے کا خوگر، سارے زمانے کو اپنا محرم بنا لینے والا نامحرم، حد درجہ غیر ذمہ دار، بیمار، ایک شدید الحس نادرہ کار شاعر، یہ ہے وہ فن کار جسے جون ایلیا کہتے ہیں۔‘‘\u003cbr\u003eجون ایلیا نے پاکستان پہنچتے ہی اپنی شاعری کے جھنڈے گاڑ دیے تھے۔ شاعری کے ساتھ ساتھ ان کے پڑھنے کے ڈرامائی انداز سے بھی سامعین محظوظ ہوتے تھے۔ ان کی شرکت مشاعروں کی کام یابی کی ضمانت تھی۔ نام ور شاعر ان مشاعروں میں، جن میں جون ایلیا بھی ہوں، شرکت سے گھبراتے تھے۔ جون کو عجوبہ بن کر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا شوق تھا۔ گرمیوں میں کمبل اوڑھ کر نکلنا، رات کے وقت دھوپ کا چشمہ لگانا، کھڑاؤں پہن کر دُور دُور تک لوگوں سے ملنے چلے جانا، ان کے لیے عام بات تھی۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eزاہدہ حنا سے علیحدگی جون کے لیے بڑا صدمہ تھی۔ وہ نیم تاریک کمرے میں پہروں تنہا بیٹھے رہتے۔ سگرٹ اور مشروب نے بھی ان کی صحت متاثر کی۔ 8 نومبر (2002) کو ان کی وفات ہو گئی۔ اپنی زندگی کی طرح وہ اپنی شاعری کی اشاعت کی طرف سے بھی لاپروا تھے۔ (1990) میں تقریباً ساٹھ سال کی عمر میں لوگوں کے اصرار پر انھوں نے اپنا پہلا مجموعہ کلام ”شاید\" شاٸع کیا۔ جون صاحب کا مرتب کردہ دوسرا مجموعہ ”یعنی“ بعد از مرگ (2003) میں منظرِ عام پر آیا۔ بعد میں جون ایلیا کے قریبی ساتھی خالد احمد انصاری نے ان کا بکھرا ہوا کلام اور تحریریں سمیٹنے اور ان کی تدوین کر کے چھپوانے کا کارنامہ سر انجام دیا۔ انھوں نے ’گمان‘ (2004) ’لیکن‘ (2006) ’گویا‘ (2008) جیسے خوب صورت شعری مجموعے قارئین کی نذر کیے۔ 2007 میں جون کے دوسرے شعری مجموعے ’یعنی‘ کو 80 اشعار کے اضافے کے ساتھ دوبارہ اور مختلف موضوعات پر انشائیوں کا مجموعہ، اردو نثری شاہکار ’فرنود‘ (2012) میں شاٸع کیا۔ (2016) میں جون ایلیا کی ایک طویل نظم ’راموز‘ کی مختلف اور منتخب الواح کے مجموعے کے بعد اب جون ایلیا پر لکھی گئی تحریروں اور ملاقاتوں پر مشتمل مجموعہ ’میں یا میں‘ (2020) بھی ان کی شبانہ روز کاوشوں کا حاصل ہے۔\u003cbr\u003eان کتابوں کے علاوہ جون ایلیا کا ایک اور شعری مجموعہ ’کیوں‘ بھی خالد انصاری مرتب کر رہے ہیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eجون بڑے شاعر ہیں تو اس لیے نہیں کہ ان کی شاعری ان تمام کسوٹیوں پر کھری اُترتی ہے جو صدیوں کی شعری روایت اور تنقیدی معیارات کے تحت قائم ہوئی ہے۔ وہ بڑے شاعر اس لیے ہیں کہ شاعری کے سب سے بڑے موضوع انسان کی جذباتی اور نفسیاتی کیفیات پر جیسے اشعار جون ایلیا نے کہے ہیں، اردو شاعری کی روایت میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ کیفیت کو احساس کی شدّت کے ساتھ قاری یا سامع تک منتقل کر نے کی جو صلاحیت جون کے یہاں ہے، اس کی مثال اردو شاعری میں صرف میر تقی میر کے یہاں ملتی ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Jaun Elia","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44651866161186,"sku":null,"price":1175.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Mein-Ya-Mein-1500_4be67d0b-9705-4066-8b7d-9377d24b1b74.jpg?v=1766150664"},{"product_id":"ramooz-راموز","title":"Ramooz - راموز","description":"\u003cp\u003eکتاب: تعارف\u003cbr\u003eجون ایلیا بائبل کے واقعات اور نبیوں کی آزمائشوں سے ہمیشہ متاثر رہے، جس کی وجہ سے انھوں نے اسرائیلت کی روایت و آہنگ کےحوالےسے کئی نظمیں لکھیں، ان نظموں میں سے یہ ایک عمدہ نظم ہے،جس کا اصل نام \"نئی آگ کا عہد نامہ\"تھا بعد میں خود جون نےاس نظم کو \"راموز\" کے نام سےیادکیاتھاچنانچہ اسی نام سےان کی یہ نظم منظر عام پر آئی، اس نظم کو جون نے کئی حصوں میں تقسیم کیا اور ہر حصے کے لئے \"لوح\"کی اصطلاح استعمال کی ہے ،مرتب نےاس کتاب میں اٹھارہ الواح کو پیش کیا ہے،چونکہ جون ہماے معاشرے میں موجود قدروں کے مخالف تھے اور ایک قسم کا باغیانہ موقف رکھتے تھے لہذا اس نظم میں تخیل اور لہجے کی ثقاہت کے ساتھ کہیں کہیں عفونت و ریاکاری اور منافقت پر طنز بھی کسا ہے ،در اصل یہ نظم غیر مکمل بتائی جاتی ہے اورکہا جاتا ہے کہ اگر جون اس نظم کو مکمل کر لیتے تو \"راموز\" کاشمار دنیا کی بڑی بڑی زبانوں کی سب سے اہم نظم میں ہوتا ،یہ کتاب جدید اردو شاعری میں انوکھا تجربہ ہے، یہ نظم جون کی تما م تر صلاحیتوں کا نمونہ ہے،اس نظم میں ان کی عربی، فارسی، عبرانی اوراردو کی لطاف کے ساتھ ساتھ عہد نامئہ عتیق کی پیغمبرانہ اور ڈرامائی خطابیہ طرز تکلم کے عناصر پائے جاتے ہیں، اس نظم میں جون الوہی لہجے میں انسانیت کو لتاڑتے نظر آتے ہیں،گویا کہ جون نے اپنے اضطراب وہیجان کی روح کو ان الواح میں پھونک دیا ہے۔\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Jaun Elia","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44651866718242,"sku":null,"price":750.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Ramooz-1000_27a0ab26-91ca-4b7a-a446-f8f349342ef9.jpg?v=1766150665"},{"product_id":"شاید-ٓ-shayad","title":"شاید ٓ Shayad","description":"\u003cp\u003eکتاب: تعارف\u003cbr\u003eجون ایلیا ایک باغی اور روایت شکن شاعر تھے۔ روایت شکنی، اختلاف رائے شاید جون ایلیا کا محبوب مشغلہ تھا ،اور ہر جگہ وہ اپنی بات بڑے وثوق سے رکھتے اور اس کو دلائل سے ثابت کرتے تھے۔ علمی مباحث اور اپنی فکر کا اظہار کرتے ہوئے جون ایلیا تارٰیخ ، فلسفہ ، منطق ، مذاہب عالم ، زبانوں ، ثقافتوں اور ماضی کی نابغہ روزگار شخصیات کے نظریات اور سیاسی و سماجی تحریکوں کے حوالے دیتے جاتے تھے ۔جون کی زندگی میں ان کا صرف ایک ہی مجموعہ کلام منظر عام پر آیا تھا جس کا نام \"شاید\" ہے ۔ اس کتاب کا دیباچہ جون کی زندگی کی مختلف واقعات سے آراستہ ہے ۔ ان کی شاعری نے ہر عمر اور طبقے کے لوگوں کو متاثر کیا ۔ ان کا حلیہ اور مشاعرہ پڑھنے کا انداز ایسا تھا کہ ہر شخص ان کی طرف کھنچا چلا آتا ۔ وہ اپنے عہد کے ایک بڑے تخلیق کار تھے ، جس نے روایتی بندشوں سے غزل کو نہ صرف آزاد کرایا بلکہ اسے ایک نئے ڈھب سے روشناس کرایا۔ محبوب سے شکوہ کرنا ہو یا رسوا ، زمانے کے چلن سے بیزاری اور نفرت کا اظہار کرنا ہو یا کسی رویے پر چوٹ ، جون ایلیا خوف زدہ نظر نہیں آتے ۔ جون نے زندگی کو اپنی ہی طرقے سے دیکھا اور جیا ہے ۔ اس لئے اگر اردو کا ایک ایسا لہجہ جو جون پر شروع ہوا اور ان ہی پر ختم ہوا دیکھنا ہے تو ان کے اس شعری مجموعہ کا مطالعہ کرنا اشد ضروری ہو جاتا ہے، خاص کر اس وقت جب ہمیں یہ پتہ ہو کہ جون نے اس مجموعہ کو خود مرتب کیا ہے۔ اس مجموعہ میں شامل \"نیازمندانہ\" کے نام سے جون کا مقدمہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Jaun Elia","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44651866751010,"sku":null,"price":525.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Shayad-700_1b2168d5-54af-4788-8438-5333afc012d0.jpg?v=1766150666"},{"product_id":"yani-یعنی","title":"Yani - یعنی","description":"\u003cp\u003eکتاب: تعارف\u003cbr\u003e\"یعنی \" جون ایلیا کا ایک اہم شعری مجموعہ ہے ۔ یہ مجموعہ خود ان کا مرتب کیا ہوا ہے ۔ یہ مجموعہ ان کے پہلے مجموعہ کلام \"شاید\" کے 13 سال بعد ان کی وفات کے بعد منظر عام پر آیا ۔ اس کی اشاعت جون کے لئے بہت مشکل تھی کیوں کہ جب وہ نظر ثانی کرتے تو ان کو تذبذب ہوتا تھا کہ کہیں پہلے کامیاب مجموعہ کی شاندار پزیرائی کے بعد یہ مجموعہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بن پائے گا یا نہیں ۔ دوسری وجہ تاخیر کی یہ ہوئی کہ جون خود اس پر ایک معرکۃ الآرا دیباچہ لکھنا چاہ رہے تھے جو وہ ضعف کی وجہ سے نہ لکھ سکے ۔ یہ مجموعہ بھی کافی خوبصورت مجموعہ ہے اس میں ان کی وہ غزلیں بھی شامل ہیں جن کے اشعار لوگوں کی زبان زد ہیں ۔ اس لیے جون کی شاعری سے لطف لینے کے لئے اس کا مطالعہ بیحد ضروری ہو جاتا ہے۔ زیر نظر ایک اضافہ شدہ ایڈیشن ہے۔\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Jaun Elia","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44651866783778,"sku":null,"price":450.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Yani-700_5fd9af5d-d1ee-415e-9f49-6cf04534cadf.jpg?v=1766150667"},{"product_id":"kuliyat-shair-afzal","title":"Kuliyat Shair Afzal","description":"","brand":"?","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44651869405218,"sku":null,"price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Kuliyat-Shair-Afzal-1000_68df65b7-3db4-4b49-bb6f-fdc89082e9f6.jpg?v=1766150735"},{"product_id":"kuliyat-patras-bukhari","title":"Kuliyat Patras Bukhari","description":"\u003ctable\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003eAuthor\u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003e:  \u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003eآچاریہ چانگیہ     \u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003eSubject\u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003e:  \u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003eKuliyat\u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003eISBN\u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003e:  \u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003e\u003cbr\u003e\u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003eYear\u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003e:  \u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003e2022\u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003eLanguage\u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003e:  \u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003eUrdu\u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003ctr\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003ePages\u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003e:  \u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003ctd\u003e\n\u003ch6\u003e750\u003c\/h6\u003e\n\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e","brand":"Patras Bukhari","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44651869536290,"sku":null,"price":1500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Kuliyat-Patras-Bukhari-800_2a257d6f-c2ba-471a-aacd-1de31b23400c.jpg?v=1766150742"},{"product_id":"kuliyat-doctor-muhammad-ajmal","title":"Kuliyat Doctor Muhammad Ajmal","description":"","brand":"?","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44651869569058,"sku":null,"price":1500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Kuliyat-Doctor-Muhammad-Ajmal-1500_3b854a65-612e-4b54-962a-0003c4669835.jpg?v=1766150743"},{"product_id":"kuliyat-soofi-tbasum","title":"Kuliyat Soofi Tbasum","description":"","brand":"?","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44651870158882,"sku":null,"price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Kuliyat-Soofi-Tbasum-1000_620aa43a-afae-4ffa-ba2c-b1deffaff6df.jpg?v=1766150746"},{"product_id":"kuliyat-shakeel-badayooni","title":"Kuliyat Shakeel Badayooni","description":"","brand":"?","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44651870715938,"sku":null,"price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Kuliyat-Shakeel-Badayooni-1000_466a34e5-bbc6-4fc7-8491-907181e3ede7.jpg?v=1766150747"},{"product_id":"kuliyat-sahir-loodhiyanvi","title":"Kuliyat Sahir Loodhiyanvi","description":"","brand":"?","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44651871272994,"sku":null,"price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Kuliyat-Sahir-Loodhiyanvi-800_081ac27f-e05a-4f64-bcd0-a7efdc73249e.jpg?v=1766150752"},{"product_id":"kuliyat-sagar-sidiqqi","title":"Kuliyat Sagar Sidiqqi","description":"","brand":"?","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44651871305762,"sku":null,"price":1050.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Kuliyat-Sagar-Sidiqqi-500_cb895275-4dd6-4860-8f8d-76b1e7959221.jpg?v=1766150753"},{"product_id":"kuliyat-mustafa-zaidi","title":"Kuliyat Mustafa Zaidi","description":"","brand":"?","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44651871600674,"sku":null,"price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Kuliyat-Mustafa-Zaidi-1000_2e616cf7-77c9-419d-ab67-d908ad996818.jpg?v=1766150753"},{"product_id":"kuliyat-mohshar-badayooni","title":"Kuliyat Mohshar Badayooni","description":"","brand":"?","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44651871633442,"sku":null,"price":1500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Kuliyat-Mohshar-Badayooni1500_a1131d6e-edcc-4dd7-8dec-2a5db60b5af3.jpg?v=1766150754"},{"product_id":"kuliyat-mirza-daag-dehlvi","title":"Kuliyat Mirza Daag Dehlvi","description":"","brand":"?","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44651871666210,"sku":null,"price":2500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Kuliyat-Mirza-Daag-Dehlvi-2500_46532b92-2dd0-4c00-9690-8f8b5c8ef451.jpg?v=1766150755"},{"product_id":"kuliyat-majrooh-sultan-poori","title":"Kuliyat Majrooh Sultan Poori","description":"","brand":"?","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44651871698978,"sku":null,"price":750.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Kuliyat-Majrooh-Sultan-Poori-600_202591c7-a06e-4681-8e6b-0bc1decf6234.jpg?v=1766150756"},{"product_id":"kuliyat-majeed-amjad","title":"Kuliyat Majeed Amjad","description":"","brand":"?","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44651871993890,"sku":null,"price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Kuliyat-Majeed-Amjad-1000_fdbdbf3d-bcbd-4d7e-9d70-9874b25d7415.jpg?v=1766150757"},{"product_id":"kuliyat-jaan-nisar","title":"Kuliyat Jaan Nisar","description":"","brand":"?","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44651872026658,"sku":null,"price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Kuliyat-Jaan-Nisar-1000_fe1e51c1-1ef1-4a9b-bfa2-732bb465e27b.jpg?v=1766150758"},{"product_id":"kuliyat-hafeez-jalandhari","title":"Kuliyat Hafeez Jalandhari","description":"","brand":"?","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44651872059426,"sku":null,"price":1500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Kuliyat-Hafeez-Jalandhari-1500_dd47af4b-ef29-489d-b008-4cfe3c6f8e8d.jpg?v=1766150759"},{"product_id":"kuliyat-faraq-gaurakhpoori","title":"Kuliyat Faraq Gaurakhpoori","description":"","brand":"?","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44651872354338,"sku":null,"price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Kuliyat-Faraq-Gaurakhpoori-1000_38351d77-8816-4869-b591-736606d54b40.jpg?v=1766150760"},{"product_id":"kuliyat-altaf-hussain-hali","title":"Kuliyat Altaf Hussain Hali","description":"","brand":"?","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44651872387106,"sku":null,"price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Kuliyat-Altaf-Hussain-Hali-1000_909df5bb-09ef-4b94-9511-c49a27534040.jpg?v=1766150761"},{"product_id":"kuliyat-akhtar-shirani","title":"Kuliyat Akhtar Shirani","description":"","brand":"?","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44651872419874,"sku":null,"price":1500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Kuliyat-Akhtar-Shirani-1000_e813aaa8-6a0e-48a6-898a-3d5c26d8b691.jpg?v=1766150761"},{"product_id":"kuliyat-abdul-majeed-adam","title":"Kuliyat Abdul Majeed Adam","description":"","brand":"?","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44651872452642,"sku":null,"price":3000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Kuliyat-Abdul-Majeed-Adam-3000_240257bc-d35e-4e53-808c-257c419b7165.jpg?v=1766150763"},{"product_id":"alif-allah-capt-r-liaqat-ali-malik","title":"Alif Allah - Capt. (R) Liaqat Ali Malik","description":"\u003cp\u003eTitle: Alif Allah\u003cbr\u003e\nAuthor: Capt. (R) Liaqat Ali Malik\u003cbr\u003e\nSubject: Poetry\u003cbr\u003e\nISBN: 9693534484\u003cbr\u003e\nLanguage: Punjabi\u003cbr\u003e\nNumber of Pages: 218\u003cbr\u003e\nYear of Publication: 2024\u003c\/p\u003e","brand":"Capt. (R) Liaqat Ali Malik","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44651876319266,"sku":null,"price":1600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/AlifAllahFinal28-11-2023-front_fcc9d5a4-a5da-4755-a2e0-69befc20edd8.jpg?v=1766150851"},{"product_id":"kulliyaat-mulaqaton-ke-baad-ata-ul-haq-qasmi","title":"Kulliyaat: Mulaqaton ke Baad - Ata ul Haq Qasmi","description":"\u003cp\u003eTitle: Kulliyaat: Mulaqaton ke Baad \u003cbr\u003e\nAuthor: Ata ul Haq Qasmi\u003cbr\u003e\nSubject: Poetry\u003cbr\u003e\nISBN: 9693535634\u003cbr\u003e\nLanguage: Urdu\u003cbr\u003e\nNumber of Pages: 272\u003cbr\u003e\nYear of Publication: 2024\u003c\/p\u003e","brand":"Ata ul Haq Qasmi","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44651876384802,"sku":null,"price":1600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/KuliyaatMulaqatonKayBad01-12-2023-front_5d4b7ce8-9afe-49b2-85da-1cece2299339.jpg?v=1766150853"},{"product_id":"kulliyaat-e-ahmed-faraz-yeh-meri-ghazlein-yeh-meri-nazmein","title":"Kulliyaat-e-Ahmed Faraz - Yeh Meri Ghazlein, Yeh Meri Nazmein","description":"\u003cp\u003eTitle: Kulliyaat-e-Ahmed Faraz Yeh Meri Ghazlein, Yeh Meri Nazmein -\u003cbr\u003e\nAuthor: Ahmed Faraz\u003cbr\u003e\nSubject: Poetry, Collected Works, Poems, Ghazals\u003cbr\u003e\nISBN: 9693535340\u003cbr\u003e\nLanguage: Urdu\u003cbr\u003e\nNumber of Pages: 1328\u003cbr\u003e\nYear of Publication: 2023\u003c\/p\u003e","brand":"Ahmed Faraz","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44651876614178,"sku":null,"price":9000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Kuliyat-e-AhmedFarazTitle_6217741a-5ee4-4de3-8562-c4d3ce28812c.png?v=1766150861"},{"product_id":"aj-mein-tera-sufna-banna-dr-sughra-sadaf","title":"Aj Mein Tera Sufna Banna - Dr. Sughra Sadaf","description":"\u003cp\u003eTitle: Aj Mein Tera Sufna Banna\u003cbr\u003eAuthor: Dr. Sughra Sadaf\u003cbr\u003eSubject: Poetry\u003cbr\u003eISBN: 9693534875\u003cbr\u003eLanguage: Punjabi\u003cbr\u003eNumber of Pages: 143\u003cbr\u003eYear of Publication: 2023\u003c\/p\u003e","brand":"Dr. Sughra Sadaf","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44651876941858,"sku":null,"price":900.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/AjMeinTeraSufnaBunna-SughraSadaf_1fcd3cd6-1796-4694-b050-8bb3ac9d1837.jpg?v=1766150875"},{"product_id":"sahir-ludhyanvi-sahiri-aur-shayeri-dr-kewal-dheer","title":"Sahir Ludhyanvi: Sahiri aur Shayeri - Dr. Kewal Dheer","description":"\u003cp\u003eTitle: Sahir Ludhyanvi: Sahiri aur Shayeri\u003cbr\u003e\nAuthor: Dr. Kewal Dheer\u003cbr\u003e\nSubject: Poetry, Collected Works. Kuliyaat, Biographical Essays\u003cbr\u003e\nISBN: 9693533410\u003cbr\u003e\nLanguage: Urdu\u003cbr\u003e\nNumber of Pages: 1040\u003cbr\u003e\nYear of Publication: 2021\u003c\/p\u003e","brand":"Dr. Kewal Dheer","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44651878842402,"sku":null,"price":2200.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/SahirLudhianviFinal16-02-2022-629581_b2981256-37f1-499d-94dc-a2f4c6262d51.jpg?v=1766150896"},{"product_id":"deewar-pe-dastak-shehzad-ahmad","title":"Deewar Pe Dastak - Shehzad Ahmad","description":"\u003cp\u003eTitle: Deewar Pe Dastak\u003cbr\u003e\nAuthor: Shehzad Ahmad\u003cbr\u003e\nSubject: Poetry\u003cbr\u003e\nISBN: 9693531841\u003cbr\u003e\nLanguage: Urdu\u003cbr\u003e\nYear of Publication: 2018\u003cbr\u003e\nNumber of Pages: 1069\u003c\/p\u003e","brand":"Shehzad Ahmad","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44651880218658,"sku":null,"price":2800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/9693531841-231315_b20b23b5-80b6-4607-87e6-ac7ed920cd6a.jpg?v=1766150911"}],"url":"https:\/\/www.onlineurdubazar.pk\/collections\/urdu-poetry.oembed?page=8","provider":"Online Urdu Bazar","version":"1.0","type":"link"}