{"title":"Philosophy (Urdu Translations)","description":"","products":[{"product_id":"the-lessons-of-history","title":"The Lessons of History","description":"\u003ctable border=\"0\" cellpadding=\"0\" cellspacing=\"0\" width=\"795\" style=\"border-collapse: collapse; width: 596pt;\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol width=\"795\" style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 29074; width: 596pt;\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr height=\"20\" style=\"height: 15.0pt;\"\u003e\n\u003ctd height=\"20\" align=\"left\" width=\"795\" style=\"height: 15.0pt; width: 596pt;\"\u003eIn this illuminating and thoughtful book, Will and Ariel Durant have succeeded in distilling for the reader the accumulated store of knowledge and experience from their four decades of work on the ten monumental volumes of The Story of Civilization. The result is a survey of human history, full of dazzling insights into the nature of human experience, the evolution of civilization, the culture of man. With the completion of their life's work they look back and ask what history has to say about the nature, the conduct and the prospects of man, seeking in the great lives, the great ideas, the great events of the past for the meaning of man's long journey through war, conquest and creation -- and for the great themes that can help us to understand our own era. To the Durants, history is \"not merely a warning reminder of man's follies and crimes, but also an encouraging remembrance of generative souls ... a spacious country of the mind, wherein a thousand saints, statesmen, inventors, scientists, poets, artists, musicians, lovers, and philosophers still live and speak, teach and carve and sing ...\" Designed to accompany the ten-volume set of The Story of Civilization, The Lessons of History is, in its own right, a profound and original work of history and philosophy\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e","brand":"Will Durant","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646641696802,"sku":null,"price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/71-1MfEw_4L._SY425.jpg?v=1772098061"},{"product_id":"the-renaissance","title":"The Reformation: The Story of Civilization, Volume VI","description":"\u003ch5 class=\"LC20lb MBeuO DKV0Md\" style=\"text-align: right;\"\u003eThe Reformation: The Story of Civilization, Volume 6 | تہذیب کی کہانی | مذہبی بیداری\u003c\/h5\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eاس کتاب کا عنوان \" اصلاح مذہب \" در حقیقت اپنے اندر پوری دیانتداری نہیں رکھتا، لہند اواجب ہے کہ پیشگی طور پر قاری کو خوش ولی سے مطلع کر دیا جائے۔ اگر عنوان میں صداقت کی تمام تر باریکیاں ملحوظ رکھی جاتیں تو یوں ہوتا: \"یورپی تمدن کی ایک تاریخ، جو اٹلی کے ماسوا 1300 سے لے کر 1564 تک محیط ہے، جس میں اٹلی میں مذہب کی تاریخ بھی شامل ہے، نیز یورپ، افریقہ اور مغربی ایشیا میں اسلامی اور یہودی تمدن کا سرسری منظر نامہ بھی پیش کیا گیا ہے ۔ \" اتنی پھیلی ہوئی اور پر پیچ موضوعاتی سرحد کیوں؟ اس لیے کہ اس سلسایہ کتب \" تاریخ تہذیب\" کی چو تھی جلد ، جس کا عنوان \"عبد ایمان \" ہے، یورپی تاریخ کو فقط من 1300 تک لے آئی تھی اور پانچویں جلد \" احیائے علوم \" فقط انٹلی تک محدود رہی تھی ، وہ بھی 1304 سے 1576 تکاور اس نے اٹلی میں اصلاح مذہب کی بازگشت کو مؤخر کر دیا تھا۔ چنانچہ یہ چھٹی جلد اپنی کہانی کا آغاز من 1300 سے کرے گی اور قاری کو مسکراہٹ آئے گی جب وہ دیکھے گا کہ لوتھر کا ظہور تب ہوتا ہے جب داستان کا ایک تہائی حصہ بیت چکا ہوتا ہے۔ لیکن آئے ہم باہم اس بات پر خاموشی سے متفق ہو جائیں کہ اصلاح مذہب دراصل چودھویں صدی میں جان و کلف اور لوئیس آف با دیر یا سے شروع ہوئی، پندرھویں صدی میں جان جس کے ہاتھوں آگے بڑھی اور سولھویں صدی میں وٹن برگ کے بے باک راہب کے ہاتھوں زور و شور سے اپنے عروج کو پہنچی۔ وہ حضرات جن کی دلچسپی فقط اس مذہبی انقلابی تحریک میں ہے، وہ بے تامل طور پر ابواب سوم تا ششم اور نیم تا دہم کو چھوڑ سکتے ہیں، اس سے ان کے علم میں کوئی نا قابل تلافی کمی واقع نہ ہو گی۔\u003c\/span\u003e\u003cspan\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eیوں اصلاح مذہب اس کتاب کا مرکزی موضوع ضرور ہے، مگر یہ تنہا عنوان نہیں۔ ہم آغاز کریں گے مذہب کے عمومی تصور سے، اس کے روحانی اور اجتماعی کردار سے اور کلیسائے روم کے ان حالات و مسائل سے جو لوتھر کی آمد سے دو صدی پیشتر موجود تھے۔ ہم نظر ڈالیں گے انگلستان پر (1376 تا 1382)، جرمنی پر 1320 تا 1347) اور بوہیمیا پر (1402 1485)، جہاں اصلاح مذہب کی فکری تیاری اور نظریاتی کشمکش کی جھلکیاں پہلے سے نمودار ہو چکی تھیں۔ اس کے ساتھ ہم دیکھیں گے کہ کسی طرح سماجی انقلابات ، جن میں اشتراکی امنگیں بھی پوشیدہ تھیں، مذہبی بغاوت کے ہمراہ گام به گام چلتے رہے۔ ہم گہن کے اس باب کی مدھم گونج سنیں گے جو قسطنطنیہ کے زوال سے متعلق ہے اور یہ محسوس کریں گے کہ ترکوں کی پیش قدمی جب ویانا کے دروازے تک آن پہنچی، تو ایک انسان کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ وہ بیک وقت بادشاہ اور پاپا دونوں کی تحدی کرے۔ ہم اراسمس کی ان پر خلوص مساعی کا بھی مطالعہ کریں گے جو کلیسا کی پر امن اندرونی اصلاح کے لیے کی گئیں۔ ہم لوتھر کی آمد سے قبل کے جرمنی کا جائزہ لیں گے اور شاید اس سے ہمیں یہ ادراک ہو کہ اس کی نمود کتنی ناگزیر تھی۔ کتاب دوم میں اصلاح مذہب کا اصل منظر نامہ پیش کیا جائے گا، جس میں جرمنی میں لوتھر اور سیلکٹھن ، سویٹزر لینڈ میں زونگی اور کیلوں ، انگلستان میں ہنری هشتم، اسکاٹ لینڈ میں ناکس اور سویڈن میں گستاؤ داسا شامل ہوں گے، ساتھ ہی فرانس اول اور چارلس پنجم کی طویل کشاکش پر ایک سرسری نگاہ ڈالی جائے گی اور یورپ کی اس ہنگامہ خیز نصف صدی (1517 تا 1564) کے دیگر پہلوؤں کو فی الحال مؤخر کیا جائے گا تا کہ مذہبی داستان بلا التو پوری شان سے ابھر سکے۔ کتاب سوم میں اُن \" اجنبیوں \" پر نظر ڈالی جائے گی جو یورپ کی دہلیز پر تھے: روس اور خاندان ایوان، کلیسائے آرتھوڈوکس اسلام، جس کا عقیدہ، تمدن اور قوت ایک گہری للکار تھی؛ اور یہودیوں کی یہ جد وجہد کہ وہ مسیحی دنیا میں مسیح کو تلاش کریں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Will Durant","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646641827874,"sku":null,"price":4500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/stori_10.jpg?v=1772098060"},{"product_id":"achai-aur-burai-se-balater","title":"Achai Aur Burai SE Balater","description":"\u003cp\u003e(Beyond Good and Evil)\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e \u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eکے دوسرے باب میں آزاد روح یا آزاد فطرتِ انسان کا تصور پیش کرتا ہے۔ نطشے اپنی کتاب  \u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e \u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eنطشے کے مطابق، “آزاد فطرت کا انسان” وہ ہوتا ہے جو روایتی خیر و شر کے تصورات کو چیلنج کرتا ہے اور اپنی اخلاقیات خود تخلیق کرتا ہے۔ وہ سماجی، مذہبی اور اخلاقی پابندیوں سے آزاد ہوکر اپنی عقل، تجربے اور فکری جستجو سے سچائی تلاش کرتا ہے۔ نطشے غلامانہ اخلاقیات (جو کمزوری، اطاعت اور عاجزی کو نیکی سمجھتی ہے) کو مسترد کرکے آقا کی اخلاقیات (جو طاقت، خود اعتمادی اور تخلیق کو ترجیح دیتی ہے) کو اپنانے کا درس دیتا ہے۔ اس کا پیغام یہ ہے کہ انسان بھیڑ چال کا حصہ نہ بنے، خود سوچے، سوال کرے اور اپنی راہ خود متعین کرے\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e \u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003ePages\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e287\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e \u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e \u003c\/p\u003e","brand":"Friedrich Nietzsche","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646652805154,"sku":null,"price":750.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/rn-image_picker_lib_temp_a3572278-b854-48f1-8eae-69ff22860cc6.jpg?v=1766144434"},{"product_id":"being-and-nothingness","title":"Wajood Aur Adam","description":"\u003cp\u003eBeing \u0026amp; Nothingness بلا شبہ 20ویں صدی کی سب سے اہم فلسفیانہ کتابوں میں سے ایک ہے۔ صدی کے سب سے زیادہ بااثر مفکرین میں سے ایک کا مرکزی کام، اس نے مغربی فلسفے کا رخ بدل دیا۔ اس کے انقلابی انداز نے دنیا کے ساتھ فرد کے تعلقات کے بارے میں سابقہ ​​تمام مفروضوں کو چیلنج کیا۔ 'وجود کی بائبل' کے نام سے جانا جاتا ہے، ثقافت اور ادب پر ​​اس کا اثر فوری طور پر ہوا اور اسے دنیا بھر میں محسوس کیا گیا، سیموئیل بیکٹ کے مضحکہ خیز ڈرامے سے لے کر بیٹ شاعروں کی روح کو تلاش کرنے والی پکار تک۔\u003cbr\u003eBeing \u0026amp; Nothingness ان نایاب کتابوں میں سے ایک ہے جس کے اثرات نے آنے والی نسلوں کی ذہنیت کو متاثر کیا۔ اس کی پہلی اشاعت کے ستر سال بعد، اس کا پیغام ہمیشہ کی طرح قوی ہے - قارئین کو انسانی آزادی، انتخاب، ذمہ داری اور عمل کے بنیادی مخمصوں کا مقابلہ کرنے کے لیے چیلنج کرتا ہے۔\u003c\/p\u003e","brand":"Jean-Paul Sartre","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646705594402,"sku":null,"price":2200.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Wajood_Aur_Adam_by_Jean-Paul_Sartre.jpg?v=1766144579"},{"product_id":"المیے-کا-جنم-the-birth-of-tragedy-friedrich-nietzsche-فریڈرک-نطشے","title":"المیے کا جنم | The Birth of Tragedy | Friedrich Nietzsche | فریڈرک نطشے","description":"\u003cp align=\"right\" class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\" lang=\"AR-SA\"\u003eالمیے کا جنم “ قدیم یونانی ثقافت میں اپولونین اور ڈائیونیسیائی قوتوں کے گہرے باہمی تعامل کی کھوج کرتی ہے۔ 1872ء میں شائع ہونے والی یہ بنیادی تصنیف نطشے کے ابتدائی فلسفیانہ بصیرت کو ظاہر کرتی ہے، جو فنکارانہ اظہار میں نظم اپولونین) اور انتشار (ڈائیونیسیائی) کے درمیان کشیدگی کی جانچ کرتی ہے۔ یونانی افسانوں اور ڈرامے سے استفادہ کرتے ہوئے، نطشے کا دعویٰ ہے کہ ان متضاد عناصر کا اتحاد حقیقی فنکارانہ ذہانت کو جنم دیتا ہے۔ ایک اہم متن، یہ نہ صرف نطشے کی فکری پختگی کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ اس کی بعد کی فلسفیانہ تحقیقات کی بنیاد بھی رکھتا ہے۔ \" المیے کا جنم \" ان لوگوں کے لیے ایک لازمی کام ہے جو نطشے کے خیال مغربی جمالیات کی ابتدا میں غور و فکر کرتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cspan\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Friedrich Nietzsche","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646711689250,"sku":null,"price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Brith_Of_Tradgey.jpg?v=1766144807"},{"product_id":"آزادی-کی-عظمت-گرورجنیش-اوشو","title":"Azadi Ki Azmat","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eSufis: The People Of The Path -4 ( The Glory of Freedom) By Osho\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eآزادی کی عظمت  | گرورجنیش | اوشو\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003ePages 232\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eISBN 9786273002187\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Guru Ranjesh Oshu","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646712311842,"sku":null,"price":700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/azadikiazmat_1d4689f3-712f-4870-8267-d40c97563bd9.jpg?v=1766144825"},{"product_id":"گنگناتی-خامشی-گرورجنیش-اوشو-osho","title":"Gungunati Khamoshi","description":"\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eSufis: The People Of The Path -1 (The Singing Silence) By Osho\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eگنگناتی خامشی | | گرورجنیش | اوشو\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003ePages 240\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eISBN 9786273002163\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Guru Ranjesh Oshu","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646712344610,"sku":null,"price":700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/GungunatiKahmoshi_080c4ed0-2c51-464a-84da-876e28dfb315.jpg?v=1766144826"},{"product_id":"شاہی-کا-راستہ-گرورجنیش-اوشو","title":"Shahi Ka Rasta","description":"\u003cdiv class=\"product__description rte quick-add-hidden\"\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eSufis: The People Of The Path -2 (The Royal Way) By Osho\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eشاہی کا راستہ | | گرورجنیش | اوشو\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003ePages 223\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eISBN 9786273002194\u003c\/strong\u003e\u003cbutton class=\"share-button__button\"\u003e\u003cspan class=\"svg-wrapper\"\u003e\u003csvg xmlns=\"http:\/\/www.w3.org\/2000\/svg\" fill=\"none\" class=\"icon icon-share\" viewbox=\"0 0 13 12\"\u003e\u003cpath stroke=\"currentColor\" stroke-linecap=\"round\" stroke-linejoin=\"round\" d=\"M1.625 8.125v2.167a1.083 1.083 0 0 0 1.083 1.083h7.584a1.083 1.083 0 0 0 1.083-1.083V8.125\"\u003e\u003c\/path\u003e\u003cpath fill=\"currentColor\" fill-rule=\"evenodd\" d=\"M6.148 1.271a.5.5 0 0 1 .707 0L9.563 3.98a.5.5 0 0 1-.707.707L6.501 2.332 4.147 4.687a.5.5 0 1 1-.708-.707z\" clip-rule=\"evenodd\"\u003e\u003c\/path\u003e\u003cpath fill=\"currentColor\" fill-rule=\"evenodd\" d=\"M6.5 1.125a.5.5 0 0 1 .5.5v6.5a.5.5 0 0 1-1 0v-6.5a.5.5 0 0 1 .5-.5\" clip-rule=\"evenodd\"\u003e\u003c\/path\u003e\u003c\/svg\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/button\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Guru Ranjesh Oshu","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646712377378,"sku":null,"price":700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/SahiKaRasta_b07913d6-07fc-4fc8-be48-583cd12daeb8.jpg?v=1766144827"},{"product_id":"خالی-پن-کا-کنول-گرورجنیش-اوشو","title":"Khalipun Ka Kawal","description":"\u003cdiv class=\"product__description rte quick-add-hidden\"\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eSufis: The People Of The Path -3 ( The A Lotus Of Emtinrs ) By Osho\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eخالی پن کا کنول | گرورجنیش | اوشو \u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003ePages 247\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eISBN 9786273002170\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cp\u003e\u003cbutton class=\"share-button__button\"\u003e\u003cspan class=\"svg-wrapper\"\u003e\u003csvg xmlns=\"http:\/\/www.w3.org\/2000\/svg\" fill=\"none\" class=\"icon icon-share\" viewbox=\"0 0 13 12\"\u003e\u003cpath stroke=\"currentColor\" stroke-linecap=\"round\" stroke-linejoin=\"round\" d=\"M1.625 8.125v2.167a1.083 1.083 0 0 0 1.083 1.083h7.584a1.083 1.083 0 0 0 1.083-1.083V8.125\"\u003e\u003c\/path\u003e\u003cpath fill=\"currentColor\" fill-rule=\"evenodd\" d=\"M6.148 1.271a.5.5 0 0 1 .707 0L9.563 3.98a.5.5 0 0 1-.707.707L6.501 2.332 4.147 4.687a.5.5 0 1 1-.708-.707z\" clip-rule=\"evenodd\"\u003e\u003c\/path\u003e\u003cpath fill=\"currentColor\" fill-rule=\"evenodd\" d=\"M6.5 1.125a.5.5 0 0 1 .5.5v6.5a.5.5 0 0 1-1 0v-6.5a.5.5 0 0 1 .5-.5\" clip-rule=\"evenodd\"\u003e\u003c\/path\u003e\u003c\/svg\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/button\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Guru Ranjesh Oshu","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646712410146,"sku":null,"price":700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/khalipankakkanawal_1656491a-7951-47e8-ab64-1e3c448eefa3.jpg?v=1766144827"},{"product_id":"20-azeem-falsfi","title":"20 Azeem Falsfi","description":"\u003cp\u003eTranslation of \u003c\/p\u003e\n\u003cdiv class=\"BookPageTitleSection\"\u003e\n\u003cdiv class=\"BookPageTitleSection__title\"\u003e\n\u003ch1 class=\"Text Text__title1\" data-testid=\"bookTitle\" aria-label=\"Book title: Living Biographies of Great Philosophers\"\u003eLiving Biographies of Great Philosophers\u003cbutton type=\"button\" class=\"Button Button--transparent Button--medium Button--rounded\" aria-label=\"Share\"\u003e\u003cspan class=\"Button__labelItem\"\u003e\u003ci class=\"Icon ShareIcon\"\u003e\u003csvg viewbox=\"0 0 24 24\"\u003e\u003cpath d=\"M16.5 2C18.433 2 20 3.567 20 5.5C20 7.433 18.433 9 16.5 9C15.6752 9 14.917 8.71467 14.3187 8.23733L10.6119 10.3965C10.8599 10.8769 11 11.4221 11 12C11 12.619 10.8393 13.2006 10.5573 13.7051L14.2507 15.8184C14.859 15.3076 15.6436 15 16.5 15C18.433 15 20 16.567 20 18.5C20 20.433 18.433 22 16.5 22C14.567 22 13 20.433 13 18.5C13 17.9703 13.1177 17.4681 13.3283 17.0181L9.62754 14.901C9.59678 14.8834 9.56774 14.8639 9.54048 14.8429C8.9661 15.2568 8.26144 15.5 7.5 15.5C5.567 15.5 4 13.933 4 12C4 10.067 5.567 8.5 7.5 8.5C8.30519 8.5 9.04687 8.77189 9.63824 9.22888L13.364 7.056C13.131 6.58729 13 6.05895 13 5.5C13 3.567 14.567 2 16.5 2ZM16.5 16.5C15.3954 16.5 14.5 17.3954 14.5 18.5C14.5 19.6046 15.3954 20.5 16.5 20.5C17.6046 20.5 18.5 19.6046 18.5 18.5C18.5 17.3954 17.6046 16.5 16.5 16.5ZM7.5 10C6.39543 10 5.5 10.8954 5.5 12C5.5 13.1046 6.39543 14 7.5 14C8.60457 14 9.5 13.1046 9.5 12C9.5 10.8954 8.60457 10 7.5 10ZM16.5 3.5C15.3954 3.5 14.5 4.39543 14.5 5.5C14.5 6.60457 15.3954 7.5 16.5 7.5C17.6046 7.5 18.5 6.60457 18.5 5.5C18.5 4.39543 17.6046 3.5 16.5 3.5Z\"\u003e\u003c\/path\u003e\u003c\/svg\u003e\u003c\/i\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/button\u003e\u003cspan tabindex=\"-1\"\u003e\u003ca class=\"ContributorLink\" href=\"https:\/\/www.goodreads.com\/author\/show\/91291.Henry_Thomas\"\u003e\u003cspan class=\"ContributorLink__name\" data-testid=\"name\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003e\n\u003c\/h1\u003e\n\u003ch1 class=\"Text Text__title1\" data-testid=\"bookTitle\" aria-label=\"Book title: Living Biographies of Great Philosophers\"\u003e\u003cspan tabindex=\"-1\"\u003e\u003ca class=\"ContributorLink\" href=\"https:\/\/www.goodreads.com\/author\/show\/91291.Henry_Thomas\"\u003e\u003cspan class=\"ContributorLink__name\" data-testid=\"name\"\u003eHenry Thomas\u003c\/span\u003e\u003c\/a\u003e, \u003ca class=\"ContributorLink\" href=\"https:\/\/www.goodreads.com\/author\/show\/91292.Dana_Lee_Thomas\"\u003e\u003cspan class=\"ContributorLink__name\" data-testid=\"name\"\u003eDana Lee Thomas\u003c\/span\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/h1\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan tabindex=\"-1\"\u003e\u003cspan class=\"ContributorLink__name\" data-testid=\"name\"\u003eTranslated by Qazi Javed\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Henry Thomas, Qazi Javed","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646740688930,"sku":null,"price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/20-Azeem-Falsfi-500.jpg?v=1766145487"},{"product_id":"from-sex-to-superconciousness-شہوانیت-سے-الوہیت-تک","title":"FROM SEX TO SUPERCONCIOUSNESS","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\"شہوانیت سے الوہیت تک\" اوشو کی ایک فکر انگیز کتاب ہے جو جنس، محبت اور روحانیت کی پیچیدگیوں کو تلاش کرتے ہوئے انسانی شعور کے سفر کو تلاش کرتی ہے۔ یہاں آپ کتاب سے کیا توقع کر سکتے ہیں:\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eجنس اور روحانیت:\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e اوشو نے انسانی زندگی میں جنس کے کردار پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ یہ فطرت کی طرف سے ایک بنیادی تحفہ ہے جو روحانی بیداری کا دروازہ بن سکتا ہے۔\u003cbr\u003e- جبر اور آزادی: وہ انسانی جنسیت کو دبانے کے لیے سماجی اصولوں اور مذہبی روایات پر تنقید کرتا ہے، جنسی اور محبت کے لیے زیادہ کھلے اور قبول کرنے والے انداز کی وکالت کرتا ہے۔\u003cbr\u003e- سپر شعور: کتاب قارئین کو جنسیت کے روایتی تصورات سے بالاتر ہونے کی طرف رہنمائی کرتی ہے، جس کا مقصد شعور کی ایک اعلیٰ کیفیت ہے جہاں افراد گہرے خوشی اور اتحاد کا تجربہ کر سکتے ہیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eبصیرت اور ٹیک ویز\u003cbr\u003e- ایک اتپریرک کے طور پر سیکس:\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e اوشو کا خیال ہے کہ سیکس روحانی ترقی کے لیے ایک اتپریرک ہو سکتا ہے، لیکن اس کے لیے جبر یا جرم کی بجائے سمجھ اور قبولیت کی ضرورت ہوتی ہے۔\u003cbr\u003e- Orgasm کی طاقت: وہ orgasmic تجربے کو بے وقت، بے فکری، اور خالص خوشی کی ایک جھلک کے طور پر بیان کرتا ہے، جو الوہیت کی طرف قدم بڑھا سکتا ہے۔\u003cbr\u003e- مراقبہ اور محبت: کتاب الوہیت کے حصول میں مراقبہ اور محبت کی اہمیت پر زور دیتی ہے، قارئین کو ذاتی ترقی اور تبدیلی کے لیے ان خصوصیات کو فروغ دینے کی ترغیب دیتی ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eتنازعہ اور استقبال\u003cbr\u003e- متنازعہ خیالات: جنسی تعلقات، تعلقات اور روحانیت کے بارے میں اوشو کے خیالات کو کچھ لوگوں نے اشتعال انگیز اور متنازعہ قرار دیا ہے، جس سے بحث و مباحثے کو ہوا ملتی ہے۔\u003cbr\u003e- اثر و رسوخ اور میراث: تنازعہ کے باوجود، \"شہوانیت سے لے کر الوہیت تک\" ایک وسیع پیمانے پر پڑھی جانے والی اور بااثر کتاب بنی ہوئی ہے، جو جدید روحانیت اور افکار پر اوشو کے اثرات کی عکاسی کرتی ہے۔\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Guru Ranjesh Oshu","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646773030946,"sku":null,"price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Shahwaniat-Osho_d716a5a8-7af0-40eb-b568-8e132b10d556.jpg?v=1766145789"},{"product_id":"the-book-of-woman-عورت","title":"THE BOOK OF WOMAN","description":"\u003cp\u003eاوشو کی \"عورت کی کتاب\" نسوانیت کی ایک فکر انگیز تحقیق ہے، جو عورت کے جوہر اور عورت ہونے کے متنوع جہتوں کو تلاش کرتی ہے۔ اس کتاب میں بنیادی موضوعات کا جائزہ لیا گیا ہے جیسے\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e- جنسیت: اوشو جنسی حقوق اور لذت کی اہمیت پر بحث کرتے ہیں، جنسیت کے لیے رجعت پسندی کے بجائے آزادانہ نقطہ نظر پر زور دیتے ہیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eکیریئر اور سیاست: اوشو روایتی نظریات پر تنقید کرتے ہیں جو خواتین کی بنیادی قدر کو زچگی سے متعلق درجہ بندی کرتے ہیں اور معاشرے میں خواتین کے کردار کے از سر نو جائزہ کے لیے ان کی موروثی صلاحیتوں اور مختلف شعبوں میں عظمت کے امکانات کی عکاسی کرنے کی دلیل دیتے ہیں۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e- خواتین کی آزادی: خواتین کے لیے حقیقی آزادی ضروری ہے، جس سے وہ اپنی حقیقی فطرت کو اپنا سکیں اور مسخ شدہ تاریخی کرداروں سے آگے بڑھیں۔\u003cbr\u003e- رشتے: اوشو خواتین کو زچگی سے بالاتر کردار ادا کرنے اور مختلف تخلیقی شعبوں میں مشغول ہونے کی ترغیب دیتا ہے، متوازن معاشرے کے لیے انفرادیت اور بقائے باہمی کو فروغ دیتا ہے۔\u003cbr\u003e- تخلیقی صلاحیت: وہ خواتین کے اندر موجود تخلیقی جذبے پر بحث کرتا ہے، اس بات پر زور دیتا ہے کہ تخلیقی صلاحیت صنف سے بالاتر ہے اور محبت اور تکمیل سے ابھر سکتی ہے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eمجموعی طور پر، \"عورت کی کتاب\" خواتین اور خواتین کے جذبے کا جشن ہے، جو خواتین کی شناخت اور تجربات کی گہرائی سے تحقیق کرتی ہے۔ اوشو کا کام خواتین کو ان کی منفرد صلاحیتوں اور صلاحیتوں کو اپناتے ہوئے نسوانیت کے ذریعے اپنی شناخت دوبارہ حاصل کرنے کی ترغیب دیتا ہے\u003cbr\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Guru Ranjesh Oshu","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646773063714,"sku":null,"price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Orat-by-Osho.jpg?v=1766145790"},{"product_id":"bertrand-russel-zindgi-aur-afkaar","title":"Bertrand Russel: Zindgi Aur Afkaar","description":"\u003cp\u003eTitle: Bertrand Russel:Zindgi Aur Afkaar\u003cbr\u003e\nAuthor: Qazi Javed\u003cbr\u003e\nSubject: Philosophy\u003cbr\u003e\nISBN: 9693504453\u003cbr\u003e\nYear: 2004\u003cbr\u003e\nLanguage: Urdu\u003cbr\u003e\nNumber of Pages: 196\u003cbr\u003e\nYou may also like\u003c\/p\u003e","brand":"Qazi Javed","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646888964130,"sku":null,"price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/bertrand-russelzindgi-aur-afkaar-862795-221901_4d61f0a2-ed1a-4ae8-b98c-ea9e847d722b.jpg?v=1766147755"},{"product_id":"sehat-mand-mashra","title":"صحت مندہ معاشرہ | Sayhat Mand Maasharah","description":"\u003cp\u003eصحت مندہ معاشرہ\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eایرک فرام \u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eترجمہ قاضی جاوید\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eTranslation of The Sane Society by Erich Fromm\u003c\/p\u003e","brand":"Erich Fromm, Qazi Javed","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646930382882,"sku":"9789695622537-5-1-2-1-11","price":450.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/14068591_1363642523650774_5005864705618535452_o.jpg?v=1766148591"},{"product_id":"بھر-پور-زندگی-گزارئیے","title":"بھر پور زندگی گزارئیے | Bahr Pur Zindagi Guzaray","description":"\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eنام کتاب ۔۔۔۔۔۔۔۔ بھر پور زندگی گزارئیے\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eمصنف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قاضی جاوید\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cbr\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\n\u003cdiv class=\"QpPSMb\"\u003e\n\u003cdiv class=\"DoxwDb\"\u003e\n\u003cdiv class=\"PZPZlf ssJ7i B5dxMb\" aria-level=\"2\" data-attrid=\"title\" role=\"heading\"\u003eYour Erroneous Zones\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"nwVKo\"\u003e\n\u003cdiv class=\"loJjTe\"\u003e\u003cspan\u003eWayne Dyer\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"loJjTe\"\u003e\u003cspan\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"loJjTe\"\u003e\u003cspan\u003eYour Erroneous Zones is the first self-help book written by Wayne Dyer and first issued by Funk \u0026amp; Wagnalls publishers in April 1976. It is one of the best-selling books of all time, with an estimated 100 million copies sold.\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Qazi Javed","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646931136546,"sku":"9789695622537-5-1-2-1--4-4-7-8-1-2-1-2-3-2-2-2-5-3-1-3-3-6-2-3-1","price":250.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Bharpur-Ziandagi-scaled_139846fb-35af-4a6b-a35b-71dafabcce05.jpg?v=1766148613"},{"product_id":"azadi-ki-rahain","title":"Azadi Ki Raahay","description":"\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eآزادی کی راہیں\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eبرٹرینڈ رسل\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\n\u003cdiv class=\"m8h3af8h l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf n3t5jt4f\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاقلیت اور اکثریت میں تصادم.!\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf jikcssrz n3t5jt4f\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eسیاست کے مختلف تعریفیں کی جاسکتی ہے اور مختلف ہونے کی وجوہ اس کے مختلف نوعیت کی بنا پر کی جاتی ہے بہرحال یہاں سیاست کی ایک خاص عنصر کو مہو گفتگو بناکر ایک الگ نکتہ نظر پیش کرنے کی کوشش کرتا ہوں.\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eسیاست یا اجتماعی زندگی میں ہمیشہ دو طبقات کسی نہ کسی صورت میں متصادم ہوتی ہے، ایک وہ طبقہ جس کے پاس دولت اور طاقت کا ارتکاز زیادہ ہو جس کے باعث وہ بالادست ہوجاتا ہے لیکن یہ طبقہ ہمیشہ اقلیت میں ہوتا ہے اور دوسرا وہ طبقہ جس پر دولت اور طاقت کا مرتکز ہونے کا \u003cspan\u003e\u003ca tabindex=\"-1\"\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003eانحصار اس اقلیت بالادست طبقے کی ہوتی ہے، اور یہ طبقہ ہمیشہ اکثریت میں ہوتا ہے.\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاقلیت اور اکثریت تاریخ کے جھروکوں میں حاکم اور محکوم، آقا اور غلام، حکمران اور رعایا کی صورت میں متصادم ہوتی چلی آرہی ہے. جب سے نجی ملکیت کا تصور ابھرا ہے تب سے یہ دو طبقات ہمیشہ دست و گریبان رہے ہیں.\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاقلیت طبقہ جس کے پاس زر اور دولت جمع ہوجاتی ہے تو وہ اس زر و دولت کے سہارے طاقت اور اقتدار کا مالک بن جاتا ہے اور اکثریت طبقہ اس دولت اور طاقت کو پورے سماج میں تحلیل کرنے کیلئے بغاوت پر اتر آجاتے ہیں. پورے انسانی تہذیب و تمدن کی ارتقاء پر نگاہ ڈالی جائے تو پوری انسانی ارتقاء اس تصادم کے گرد گھومتی ہے لیکن اس کی نوعیت الگ ہوتی ہے ورنہ بنیاد وہی ہوتی ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے.\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eموجودہ عصر حاضر میں تمام ممالک سرمایہ دارانہ نظام کے بل بوتے پر کھڑی ہے. اگر تھوڑی باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو ہر ملک میں ایک مخصوص طبقہ ریاست کے مرکزی طاقت کو برقرار رکھنے کے حمایتی نظر آتے ہیں جبکہ بالمقابل ایک مخصوص طبقہ اس مرکزی طاقت اور دولت کو صوبوں اور ضلعوں تک تحلیل کرنے کے تگ و دود میں رہتے ہیں. یہ سلسلہ پہلے غلامانہ نظام سے لیکر جاگیردارانہ نظام تک، جاگیرداری سے لیکر سرمایہ دارانہ نظام تک اور سرمایہ دارانہ نظام کو مزید سموتھ شکل دینے کے لیے جمہوریت، جمہوریت سے لیکر لیبرل جمہوریت اور اب سوشل جمہوریت تک یہ سلسلہ وار تصادم جاری ہے اور یہ جاری رہے گی تب تک سرمایہ دارانہ نظام کو بھی اکھاڑ پھینک کر اس کی جگہ ایک اشتراکی نظام سوشل ازم نافذ کردیا جائے. یہ کب اور کس طرح ممکن ہوگا یہ ایک الگ بحث ہے بہرحال اب تک جس شکل میں جو بھی نظام موجود ہے وہ اس اقلیت بالادست اور اکثریت محکوم طبقات کے تصادم کے نتیجے میں ابھری ہے مطلب حالیہ ڈیموکریسی اور سرمایہ دارانہ نظام ان دو طبقاتی کشمکش کی مرہون منت ہے.\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf jikcssrz n3t5jt4f\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eمثال کے طور پر، پاکستان میں اس وقت فوجی آمریت سیول مارشل لاء کی شکل میں صرف اسٹیبلشمنٹ اور اس سے جڑی ہوئی تمام اجزاء پر دولت اور طاقت دونوں مرتکز ہے اور اس کے مقابل محکوم اقوام بائیس کروڑ عوام کی شکل میں اکثریت ہوتے ہوئے بھی اس اقلیت طبقہ کی زیر تسلط اقتصادی، سیاسی او قومی محکومیت میں زندگی بسر کررہے ہیں. ملکی سطح پر صوبوں کی صورت میں اور صوبوں کے اندر مذہبی اور ریاستی آلہ کارو کی صورت میں اس بالادست طبقے کی مفادات اور ریاستی مرکزی طاقت کو برقرار رکھنے کیلئے کوشاں ہے لیکن ایک مخصوص طبقہ جو قومی مفادات اور محکوم طبقات کے حق میں اس مرکزی طاقت اور دولت کو مرکز سے لیکر صوبوں اور صوبائی سطح پر اس دولت اور طاقت کو علاقوں تک عوام میں تحلیل کرنے کیلئے جدوجہد کرتے رہے ہیں،مطلب یہاں بھی واضح طور اقلیت کی بالادستی اور اکثریت کی محکومیت کا تصادم مختلف صورتوں میں جاری ہے اور اس لڑائی میں مرکزی طاقت کو تحلیل کرنے میں جو بھی سامنے آتا ہے وہ اپنے وقت کا سب بڑا ترقی پسند اور انسان دوست تصور کیا جاتا ہے.\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eبیسویں صدی کا مشہور فلسفی مبلغ برٹرینڈ رسل اپنے کتاب \" آزادی کی راہیں\" میں موجودہ سیاسی و اقتصادی نظاموں کیپٹل ازم، سوشل ازم، سنڈیکلیزم اور انارکسیزم کا موازنہ کرتے ہیں اور اپنے انداز میں ان نظاموں کے ایمپلیمنٹیشن پر سیر حاصل بحث کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ ایک معتدل طریقہ رائج اور نظام کی تجویز پیش کرتے ہیں.\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاس کتاب میں برٹرینڈ رسل نے ان ریاستوں کو مخاطب کیا ہے جو اس وقت تیسری دنیا کیلئے ترقی اور خوشحالی کیلئے آئیڈیل کو طور پر مانا جاتا ہے. ہمارے ہاں یوں موضوعات پر بحث کرنا اور ان کو رائج کرنے کیلئے جدوجہد کرنا تو فلحال محال ہے کیونکہ یہاں ابھی تک یہ کنفرم نہیں ہورہا کہ ریاست کا بھی مذہب ہوسکتا ہے کہ نہیں، یہاں ابھی تک جمہوریت مسلمان نہیں ہوچکا ہے اور یہاں ابھی تک مادہ اور خیال کو الگ نہیں کیا جاسکتا اور ان کو ایک ہی پیمانے پر تولا جاتا ہے.\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e=== زاہد اللہ زاہد ===\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\n\u003cspan\u003e\u003ca role=\"link\" href=\"https:\/\/www.facebook.com\/hashtag\/%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%DB%81%DB%8C%DA%BA?__eep__=6\u0026amp;__cft__%5B0%5D=AZVIi1ZnzlavvanRgb60cAXklEL3SWS1XshcG_MzGTA6MTsV7o3JvEpk7zN6S-gZrI1KM7p0WavP_B7tGmGmjNYsl-iRc4TUvq4yLdFVyttHSw\u0026amp;__tn__=*NK-R\" class=\"qi72231t nu7423ey n3hqoq4p r86q59rh b3qcqh3k fq87ekyn bdao358l fsf7x5fv rse6dlih s5oniofx m8h3af8h l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk srn514ro oxkhqvkx rl78xhln nch0832m cr00lzj9 rn8ck1ys s3jn8y49 icdlwmnq cxfqmxzd d1w2l3lo tes86rjd\" tabindex=\"0\"\u003e#آزادی_کی_راہیں\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003e، \u003cspan\u003e\u003ca role=\"link\" href=\"https:\/\/www.facebook.com\/hashtag\/%D8%A8%D8%B1%D9%B9%D8%B1%DB%8C%D9%86%DA%88_%D8%B1%D8%B3%D9%84?__eep__=6\u0026amp;__cft__%5B0%5D=AZVIi1ZnzlavvanRgb60cAXklEL3SWS1XshcG_MzGTA6MTsV7o3JvEpk7zN6S-gZrI1KM7p0WavP_B7tGmGmjNYsl-iRc4TUvq4yLdFVyttHSw\u0026amp;__tn__=*NK-R\" class=\"qi72231t nu7423ey n3hqoq4p r86q59rh b3qcqh3k fq87ekyn bdao358l fsf7x5fv rse6dlih s5oniofx m8h3af8h l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk srn514ro oxkhqvkx rl78xhln nch0832m cr00lzj9 rn8ck1ys s3jn8y49 icdlwmnq cxfqmxzd d1w2l3lo tes86rjd\" tabindex=\"0\"\u003e#برٹرینڈ_رسل\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Bertrand Russell","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646931267618,"sku":"9789695621936","price":250.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Azadi-ki-Rahain-1-scaled_73832582-f711-4efd-a0b4-6cbcfc1b524d.jpg?v=1766148615"},{"product_id":"gul-e-daim","title":"Gul E Daim","description":"\u003cp\u003eگل دائم\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eگرورجنیش\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eمحبوب تابیش\u003c\/p\u003e","brand":"Guru Ranjesh Oshu","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646931496994,"sku":"9789695622537-555","price":200.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Gull-Dayem-Copy-scaled_af645ffb-c409-487f-9211-f2ae32af4314.jpg?v=1766148620"},{"product_id":"logon-ko-sochny-do","title":"لوگوں کو سوچنے دو | Logo Ko Sochany Do | Qazi Javed","description":"\u003cdiv class=\"\" data-block=\"true\" data-editor=\"8slud\" data-offset-key=\"9qo45-0-0\" data-mce-fragment=\"1\" style=\"text-align: right;\"\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"9qo45-0-0\" class=\"_1mf _1mk\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"9qo45-0-0\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eبرٹرینڈ رسل کو آپ کے فلسفے کی تاریخ کا آخری بڑا فلسفی قرار دے سکتے ہیں۔ زندگی میں ہی اس کی شہرت تمام براعظموں تک پھیل گئی تھی اس کی شہرت صرف علمی اور فکری حلقوں تک محدود نہ رہی تھی بلکہ ارباب ادب و فن اور تعلیم یافتہ عوام تک بھی پہنچی تھی۔ رسل کی تحریروں کو چاہنے والوں کے علاوہ ان کی مخالفت کرنے والے بھی ہر جگہ موجود تھے۔ بہت سے ایسے لوگ تھے جو رسل کو بیسویں صدی کے ضمیر کی آواز سمجھتے تھے اور اس کو تہذیب اور انسانیت کا نمائندہ خیال کرتے تھے۔ اس کی وفات کے لگ بھگ نصف صدی بعد کسی اور فلسفی کو یہ اعزاز اور یہ مقبولیت حاصل نہیں ہوئی ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"\" data-block=\"true\" data-editor=\"8slud\" data-offset-key=\"e0g4k-0-0\" data-mce-fragment=\"1\" style=\"text-align: right;\"\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"e0g4k-0-0\" class=\"_1mf _1mk\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"e0g4k-0-0\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eبرٹرینڈرسل کی زیر نظر کتاب چند مضامین کا مجموعہ ہے جو مذہب اور انسانی زندگی میں اس کے کردار پر رسل کے خیالات کی ترجمانی کرتے ہیں.\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"\" data-block=\"true\" data-editor=\"8slud\" data-offset-key=\"2khqk-0-0\" data-mce-fragment=\"1\" style=\"text-align: right;\"\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"2khqk-0-0\" class=\"_1mf _1mk\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"2khqk-0-0\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cbr data-text=\"true\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"\" data-block=\"true\" data-editor=\"8slud\" data-offset-key=\"9far2-0-0\" data-mce-fragment=\"1\" style=\"text-align: right;\"\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"9far2-0-0\" class=\"_1mf _1mk\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"9far2-0-0\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eلوگوں کو سوچنے دو | برٹرینڈرسل\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"\" data-block=\"true\" data-editor=\"8slud\" data-offset-key=\"632u9-0-0\" data-mce-fragment=\"1\" style=\"text-align: right;\"\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"632u9-0-0\" class=\"_1mf _1mk\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"632u9-0-0\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eترجمہ قاضی جاوید\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"\" data-block=\"true\" data-editor=\"8slud\" data-offset-key=\"62jod-0-0\" data-mce-fragment=\"1\" style=\"text-align: right;\"\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"62jod-0-0\" class=\"_1mf _1mk\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"62jod-0-0\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eصفحات | 224\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"\" data-block=\"true\" data-editor=\"8slud\" data-offset-key=\"30s5c-0-0\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003c\/div\u003e","brand":"Bertrand Russell","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646931955746,"sku":"9789695622537-","price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/BeyondGoodAndEvil_10_d76d5430-c681-4e7a-af68-682ac59cf90a.png?v=1766148632"},{"product_id":"فریڈرک-نطشے-frederick-niteshy","title":"فریڈرک نطشے | Frederick Niteshy | Qazi Javeed","description":"\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eانسان کے تمام اب تک کے تمام گھڑے ہوئے مفروضوں میں سب سے بڑا احمقانہ مطالبہ یہ ہے کہ کوئی ہم سے محبت کرے۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e فریڈرک نطشے\u003c\/div\u003e","brand":"Friedrich Nietzsche","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646933299234,"sku":"9789695622537-5-1-2-11","price":300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/jrumesaz_2.png?v=1766148675"},{"product_id":"rai-ka-dana","title":"Raai Ka Dana","description":"رائی کا دانہ\u003cbr data-mce-fragment=\"1\"\u003eگرو رجنیش (اوشو)\u003cbr data-mce-fragment=\"1\"\u003eترجمہ | الطاف چاہت\u003cbr data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cbr\u003e","brand":"Guru Ranjesh Oshu","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646933561378,"sku":"9789695622537-5-1-2-1-3-1-1-2-1-1-2-7-2-8-2-6-1-15-7-1-1-1-3-4-4-7-8-1-2-1-4-1-3","price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/The-Mustard-Seed-1-scaled_e7ce09d5-f9e4-4e32-9e60-b7cd7ef47c7d.jpg?v=1766148680"},{"product_id":"rohani-sarur","title":"Rohani Saroor","description":"\u003cp\u003eروحانی سرور\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eاوشو\u003c\/p\u003e","brand":"Guru Ranjesh Oshu","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646933594146,"sku":"9789695622537-5-1-2-1-3-1-1-2-1-1-2-7-2-8-2-6-1-15-7-1-1-1-3-4-4-7-8-1-2-1-4-1-2","price":450.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/The-Divine-Melody-scaled_433cc35f-472c-4ff5-b07a-df64e1ced2a7.jpg?v=1766148681"},{"product_id":"جدید-مغربی-فلسفہ","title":"جدید مغربی فلسفہ | Jadid Magrbi Falsfah","description":"\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eجدید مغربی فلسفہ\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eقاضی جاوید\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003c\/div\u003e","brand":"Qazi Javed","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646938411042,"sku":"9789695628447-4-1-4","price":150.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Jadeed-Maghrabi-Falsafa-Copy-scaled_a9aa6002-694f-463b-a8f3-a04a8bdcbc20.jpg?v=1766148813"},{"product_id":"بچپن","title":"بچپن | آپبیتی | Maxim Gorky","description":"\u003cdiv class=\"m8h3af8h l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf n3t5jt4f\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e28 جون۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یومِ وفات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میکسم گورکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf jikcssrz n3t5jt4f\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eمیکسم گورکی کا یہ ناول عالمی شہرت رکھتا ہے اور دنیا کی تقریباً تمام زبانوں میں اس کا ترجمہ ہو چکا ہے۔ ناول نگاری کی سوسالہ تاریخ میں اس ناول کو سنگِ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ ناول ’’ ماں ‘‘ انقلاب روس سے پہلے کے حالات، جدوجہد اور انقلاب میں عوامی جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ ناول انقلابِ روس میں عورتوں کی جدوجہد کو focus کرتا ہے۔ انقلاب سے پہلے روس جن معاشی حالات سے دو چار تھا، عوام کی زندگی جن دشواریوں سے دو چار تھی، زار حکومت میں اندھے قانون اور سوشل نا انصافیوں نے عوام کی زندگی کو کس طرح دوزخ بنا دیا تھا اور پھر وہ سب انقلاب اور تبدیلی لانے کے لیے کیسے کمر بستہ ہوئے۔ یہ سب واقعات اس ناول کے پلاٹ میں شامل ہیں۔ ناول ’’ماں‘‘ روسی ادب میں ایک تبدیلی کا باعث بنا۔ انقلابِ روس کو سمجھنے کے لیے اس ناول کا مطالعہ بہت ضروری ہے۔ لینن (lenin) نے اس ناول کی اہمیت اور پس منظر کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا: ’’یہ ناول بہت اہمیت کا حامل ہے۔ وہ مزدور اور محنت کش جو بغیر سوچے سمجھے انقلاب لانے والے قافلے میں شامل ہوئے۔ یہ ناول پڑھ کر انہیں پتا چل جائے گا کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا تھا۔‘‘ ناول ’’ماں‘‘ کا مرکزی کردار ناول کے ہیرو پاول (pavel) کی بوڑھی، ان پڑھ ماں palegea nilovna ہے جو انقلاب کے فلسفے سے قطعی طور پر لا علم ہے۔ وہ غربت میں پلی بڑھی مظلوم عورت ہے۔ وہ ایک سیدھی سادی عورت ہے جس کی زندگی تشدد اور ظلم سہتے ہوئے بسر ہوئی۔ اس نے اپنے خاوند اور سماج کے ستم برداشت کئے ہیں ۔ اسے اپنے بیٹے پاول سے بہت پیار ہے۔ پاول وہ نوجوان ہے جو اپنے باپ کی وفات کے بعد فیکٹری میں ملازم ہو جاتا ہے۔ فیکٹری میں لوگوں سے مل کر انقلابی ذہن رکھنے والے دوستوں سے بحث مباحثے کے بعد اسے احساس ہوتا ہے کہ صرف مزدور ہی ہیں جو نظام میں ایک تبدیلی لا سکتے ہیں۔ وہ سوشلسٹ دوستوں کے ساتھ مطالعاتی نشستوں میں شامل ہو جاتا ہے۔ کتابوں کے مطالعے سے اس کے ذہن میں انقلاب جڑیں پکڑ لیتا ہے۔ پافل سوشلسٹ نظریات سے متاثر ہوتا ہے اور گھر کتابیں لانا شروع کرتا ہے۔ گھر میں پاول کے دوستوں کی مجلس جمنا شروع ہوتی ہے۔ پاول کی ماں پہلے پہلے تو بیٹے کے منہ سے نکلے الفاظ سمجھنے سے قاصر ہے لیکن آہستہ آہستہ اسے وہ باتیں اچھی لگنا شروع ہوتی ہیں جو پاول دوستوں سے کرتا ہے اور پھر بوڑھی ماں اپنے آپ کو ان جوان لڑکوں کا حصہ سمجھنا شروع کر دیتی ہے جو سوشلزم کا پرچار کر رہے ہیں اور انقلاب لانا چاہتے ہیں۔ پاول کی ماں کے علاوہ اس ناول میں اور بھی کئی نسوانی کردار ہیں۔ ساشا (sasha)، لڈمیلا (ludmilla)، صوفیا(sophia) اور نتاشا (natasha) اپنے رشتے داروں اور گھر والوں کو چھوڑ کر انقلابیوں کے لیے سب کچھ ٹھکرا دیتی ہے۔ گورکی نے اس کردار کی بُنت اس طریقے سے کی ہے کہ وہ قارئین کا پسندیدہ کردار بن گیا ہے۔ ساشا کا کردار ایک لحاظ سے ہیروئین کا ہے۔ وہ پاول سے محبت کرتی ہے۔ جدوجہد کے دوران جیل جاتی ہے۔ جیل کا وارڈن اس سے ہتک آمیز رویہ اختیار کرتا ہے۔ ساشا بھوک ہڑتال کر دیتی ہے اور معافی نہ مانگنے تک ہڑتال جاری رکھتی ہے۔ آٹھ دن تک کچھ نہیں کھاتی۔ وارڈن معافی مانگنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ پاول کی ماں pelegea nilovana صرف پاف پاول کی ماں نہیں اس کے دل میں سب کامریڈز کے لیے محبت ہے۔ اسے پاول کے ایک دوست (andrei nikhodka) سے بہت پیار ہے جو یوکرائن کا رہنے والا ہے۔ وہ ہمیشہ اسے (nenko) کہہ کر بلاتا ہے جو یوکرائن کی زبان میں ’’ماں‘‘ کو کہتے ہیں۔ پاول کی ماں کا غصہ اس وقت دیکھنے کے قابل ہوتا ہے جب فیکٹری کی انتظامیہ علاقے کی بہتری کے لیے ہر مزدور کی تنخواہ سے ایک (kopek) کاٹنا شروع کر دیتی ہے۔ پاول اس زیادتی کے خلاف احتجاج کرتا ہے اور ایک جلوس نکالنے کی تیاری کرتا ہے لیکن اسے گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ پاول کی ماں کا اب ایک اور روپ سامنے آتا ہے۔ فیکٹری کے اندر سوشلزم کا لٹریچر لے جانے پر پابندی ہے۔ وہ اپنے کپڑوں میں چھپا کر.پمفلٹ اندر لے جاتی ہے اور مزدوروں کو خبریں پہنچاتی ہے۔ یومِ مئی کا واقعہ ناول میں بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ پاول پر مقدمہ چلتا ہے۔ وہ عدالت میں جج کے سامنے زور دار تقریر کرتا ہے اور کہتا ہے: ’’ہم اس نظام کیخلاف ہیں جس نظام کی حفاظت کے لیے تمہیں کرسی پر بٹھایا گیا ہے۔ تم روحانی طور پر اس نظام کے غلام ہو اور ہم جسمانی طور پر۔ ہمارے اور تمہارے درمیان نظام کی تبدیلی تک کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔‘‘ اندر بیٹا تقریر کر رہا ہے اور باہر ماں کو لوگ بیٹے کی جرأت کی داد دے رہے ہیں۔ پاول کو سائبیریا جلا وطنی کی سزادی جاتی ہے۔ ماں لوگوں کے سامنے تقریر کرتی ہے اور کہتی ہے: ’’اگر ہمارے بیٹے جو ہمارے دل کے ٹکڑے ہیں۔ نظام کی تبدیلی کے لیے جان دے سکتے ہیں تو ہم اپنی جانوں کی قربانی کیوں نہیں دے سکتے‘‘۔ ناول کا یہ حصہ بہت جذباتی اور متاثر کن ہے۔ پاول کو سائبیریا روانہ کیا جانے والا ہے۔ ماں اس کی تقریر چھپوا کر لوگوں میں بانٹنا چاہتی ہے۔ چنانچہ وہ چوری چھاپہ خانے میں جاتی ہے۔ پاول کی تقریر سائیکلو سٹائل کراتی ہے۔ اسٹیشن پر جاتی ہے اور لوگوں میں تقریر کے صفحات بانٹتی ہے۔ زارِ حکومت کے سپاہی اسے مارتے ہیں، اس کے بال نوچتے ہیں، ٹھڈے مارتے ہیں، وہ مار کھاتی رہتی ہے اور چلاتی رہتی ہے: \"not even an ocean of blood can drown the truth\"\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Maxim Gorky","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646940278818,"sku":"9789695628409-2-1-1-1-2-2-2","price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/My-Childhood-I.jpg?v=1766148857"},{"product_id":"منز-ل-کی-تلاش-manzil-ki-talash-maxim-gorky","title":"منز ل کی تلاش | آپبیتی | Maxim Gorky","description":"\u003cdiv style=\"text-align: right;\"\u003eمنز ل کی تلاش \u003c\/div\u003e\n\u003cdiv style=\"text-align: right;\"\u003eمیکسم گورکی\u003cbr\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv style=\"text-align: right;\"\u003eمنز ل کی تلاش | Manzil Ki Talash | Maxim Gorky\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv style=\"text-align: right;\"\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv style=\"text-align: right;\"\u003eیہ کتاب گورکی کی اہم کتابوں میں شمار کی جاتی ہے۔ اس سے قبل وہ ’ماں‘ اور ’زندگی کی شاہراہ پر‘ جیسی نادر کتابوں سے شہرت کی بلندیوں پر پہلے براجمان ہو چکے تھے۔ ان یہ کتاب بنیادی طور پر ان کی خود نوشت جیسی ہے۔ ایک نوجوان جوانی کے سنہرے خواب سجائے یونیورسٹی جانے اور اعلی تعلیم حاصل کرنے کا خواب دیکھتا ہے۔ اس خواب میں قازان یونیورسٹی سے پہلے تھی لیکن وہاں جا کر اس کی شناسائی جن صبر آزما ماحول اور حالات سے ہوئی اس نے تھوڑی سی مایوسی تو ملی لیکن بعد میں جن نئے لوگوں سے آشنائی ہوئی وہ زندگی کی امنگوں سے بھرے ہوئے تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہیں انقلابی دانشوروں سے تعبیر کرنا چاہیے۔ یہ کتاب گورکی کی تین جلدوں پر محیط خود نوشت کا ایک حصہ ہے۔ پہلے دو حصے میرا بچپن، دنیا میں کے نام سے شائع ہوئے۔ انگریزی میں اس کا ترجمہ my universities کے نام سے ہے۔ اس کا اردو ترجمہ رضیہ سجاد ظہیر نے کیا ہے۔\u003c\/div\u003e","brand":"Maxim Gorky","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646941786146,"sku":"9789695625798","price":300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/IMG-20190211-WA0037_5bd336e1-132a-4559-b902-5c4afb6a75cd.jpg?v=1766148887"},{"product_id":"posheda-israr","title":"Sufism Say Makalmah","description":"\u003cp\u003eصوفی ازم سے مکالمہ | Sofi Azam Say Makalmah\u003c\/p\u003e","brand":"Guru Ranjesh Oshu","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646942408738,"sku":"9789695621431","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/IMG_20190509_173915-scaled_55ff2904-a32f-401c-aa0d-3acba13766d2.jpg?v=1766148892"},{"product_id":"مخزن-راز","title":"Mohzin E Raaz","description":"\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eنام کتاب:مخزنِ راز\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eمصنف : اوشو(گرورجنیش)\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eترجمہ : وسیم الدین چودھری\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eصفحات: 440\u003c\/div\u003e","brand":"Guru Ranjesh Oshu","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646942572578,"sku":"9789695625587","price":650.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/IMG_20190509_174609-scaled_448161b6-01c4-459c-b9b5-796d42db2e6d.jpg?v=1766148894"},{"product_id":"اسرار-حیات","title":"Asrar E Hayat","description":"\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاسرار حیات | Asrar Hayat | Osho | Guru Ranjesh\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eمصنف : اوشو(گرورجنیش)\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eترجمہ : عقیل عباس سومرو\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eصفحات: 272\u003c\/div\u003e","brand":"Guru Ranjesh Oshu","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646942670882,"sku":"9789695625354","price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/IMG_20190509_174447-scaled_27dcd3ed-2f50-4df4-9659-0452e86f527e.jpg?v=1766148894"},{"product_id":"صحرا-کا-متلاشی-صوفی-ازم-پہ-مباحثہ","title":"Sehra Ka Matlashi","description":"\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eصحرا کا متلاشی\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e(صوفی ازم پر مباحثہ)\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاوشو(گرورجنیش) ایم اختر\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eصفحات: 272\u003c\/div\u003e","brand":"Guru Ranjesh Oshu","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646942736418,"sku":"9789695626931-3-3","price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/IMG_20190509_174739-scaled_bf4cd113-0fad-4f7d-a556-496d96ceab9c.jpg?v=1766148895"},{"product_id":"سر-سید-سے-اقبال-تک","title":"سر سید سے اقبال تک | Sir Syed se Iqbal Tak","description":"\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eسر سید سے اقبال تک | Sir Syed se Iqbal Tak\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eقاضی جاوید\u003c\/div\u003e","brand":"Qazi Javed","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646944047138,"sku":"9789695622827","price":250.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Sir-Syed-se-Iqbal-Tak-scaled_fc7cb2bb-68cf-49fc-bfb5-31414e5fcf01.jpg?v=1766148912"},{"product_id":"تاریخ-و-تہذیب","title":"تاریخ و تہذیب | Tarikh o Tahzib","description":"\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eتاریخ و تہذیب\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eتعارف | لیاقت علی ایڈووکیٹ\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eقاضی جاوید کا شمار پاکستان کے اُ ن اہل علم میں ہوتا ہے جنھوں نے فلسفے اور سماجی و فکری تحریکوں کو اپنے مطالعہ کا موضوع بنایا ہے۔ انھوں نے فلسفے پر متعدد کتابیں لکھی اور ترجمہ کی ہیں۔ پاکستان میں فلسفے پر لکھنے والے بہت ہی کم ہیں اور جو ہیں وہ زیادہ تر انگریزی کو ذریعہ اظہار بناتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے خیالات عام پڑھے لکھے فرد تک نہیں پہنچ پاتے۔ قاضی جاوید نے اس کے برعکس فلسفے جیسے ادق موضوع کو اردو بیان میں کیا ہے جس کی وجہ سے وہ \u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003ca tabindex=\"-1\" data-mce-fragment=\"1\" data-mce-tabindex=\"-1\"\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003eقارئین کا ایک وسیع حلقہ بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔ انھوں نے برٹرینڈرسل کی خود نوشت سوانح عمری، اس کے مضامین اور سارتر کی خود نوشت کو اردو میں ترجمے کرنے کے ساتھ ساتھ یونانی فلسفہ کی اہم اورنامور شخصیات کے سوانح خاکے لکھے ہیں جس میں ان کی زندگی کے ساتھ ان کے فلسفے کے اہم اور بنیادی نکات کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ فلسفے کے علاوہ قاضی جاوید نے شمالی ہند کے مسلمانوں کی فکری تاریخ پر بھی خاصا کام کیا ہے۔ ’ہندی مسلم تہذیب‘ ’شاہ ولی اللہ کے افکار‘،’سرسید سے اقبال تک‘ اور ’پنجاب کے صوفی دانشور‘ جیسی کتابیں ان کے شمالی ہند کی فکری اور نظریاتی تحریکوں پر علمی و تحقیقی کام ہی کا نتیجہ ہیں۔ انھوں نے ’منڈلی‘ کے عنوان سے دانشوروں اورادیبوں کے خاکے بھی لکھے ہیں۔ اپنے خاکوں میں انھوں نے اپنے ممدوح ادیبوں اور دانشوروں کی فکری اٹھان اور پہچان کو بیان کیا ہے۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e’تاریخ و تہذیب‘ قاضی جاوید کے مضامین کا مجموعہ ہے جو انھوں نے مختلف اوقات میں لکھے تھے۔ یہ مضامین تاریخ و تہذیب کے مختلف موضوعات اور پہلووں سے تعلق رکھتے ہیں اور اسی مناسبت سے کتاب کا نام تجویز کیا گیا ہے۔یہ مضامین گو اپنے موضوعات کے اعتبار سے مختلف ہیں لیکن ان میں داخلی وحدت ضرور پائی جاتی ہے اور وحدت اور اشتراک روشن خیالی اور انسان دوستی ہے جو قاضی جاوید کی فکر کا بنیادی پتھر ہے\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e’ہندوستان میں رواداری کی تاریخ پر ایک نظر میں‘ قاضی جاوید نے ہندوستان میں رواداری، روشن خیالی اور فکری کشادگی کی تحریک اور اس کے محرکین کا تاریخی تسلسل میں جائزہ لیا ہے۔ قاضی جاوید نے ہندوستان کے مختلف علاقوں، دھرموں، زبانوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے صوفیا، سنتوں اور بھگتوں کے پیغام کو تاریخی سیاق و سباق میں بیان کیا ہے۔قاضی جاوید کہتے ہیں کہ مذہبی قانون کی نمائندگی کرنے والے علمائے دین نے رواداری کی تحریک میں کم ہی حصہ لیا ہے۔ ا ن کی کوششوں کا محور اگر طرف ہندو مسلم تضاد کو ابھارناور مزید گہرا کرنا تھا تو دوسری طرف مسلمانوں کے مابین فرقہ ورانہ اختلافات کو شدت عطا کرنے تک محدود تھا۔ چشتی سلسلے سے تعلق رکھنے والے صوفیا اوربھگت کبیر، راما نج، گورونانک جیسی بھگتی کے گیت گانے والے سنتوں اور شاعروں کو رواداری اور روشن خیالی کا پیامبر قرار دیتے ہیں\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eسرسید پر اپنے مضمون میں قاضی جاوید نے سرسید کی تعلیمی خدمات کے ساتھ ساتھ روشن خیالی کی تحریک میں ان کے کردار پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ وہ جہاں روشن خیالی اور خرد افروزی کے حوالے سے سرسید کی خدمات کی تحسین کرتے ہیں وہاں وہ ان کے داخلی تضادات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔سرسید کی تعلیمی مساعی صرف یوپی اور بہار کی ابھرتی ہوئی مسلم اشرافیہ کے لئے تھی وہ چھوٹی جاتیوں کے مسلمانوں کو تعلیم دینے کے مخالف تھے اور تو اور وہ عورتوں کو نہ صرف تعلیم نہیں دینا چاہتے تھے بلکہ وہ انھیں ترجمے کے بغیر قرآن مجید پڑھانے کے حق میں تھے کیونکہ وہ عورتوں کو باترجمہ قرآن پڑھانے کے حق میں نہیں تھے۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eمضامین کے اس مجموعہ میں شامل سارتر پر شامل مضمون بہت جامع ہے اور قاری کو سارتر کی شخصیت اور فلسفے سے عام فہم زبان اور انداز میں متعار ف کراتا ہے۔تاریخ و تہذیب میں شامل کچھ مضامین مختلف ملکی اور بین الاقوامی کانفرنسوں میں پڑھے گئے تھے اس لئے قاضی صاحب نے مختصر طور پر اپنے اسفار، کانفرنسوں اوران میں شریک دانشوروں کا بھی احوال لکھ دیا ہے جن میں یہ مضامین پڑھے گئے تھے ٭٭\u003c\/div\u003e","brand":"Qazi Javed","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646944342050,"sku":"9789695627051-6","price":450.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/IMG_20190323_164442_bac8c795-c5c8-4e72-bf30-1a379c19b79b.png?v=1766148918"},{"product_id":"تعلیم-اور-سماجی-نظام","title":"تعلیم اور سماجی نظام | Talim Or Samaji Nazam","description":"\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eتعلیم اور سماجی نظام\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eترجمہ ۔ قاضی جاوید\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eصفحات 142\u003c\/div\u003e","brand":"Bertrand Russell","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646947291170,"sku":"9789695626166","price":250.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Education-and-the-Social-order-scaled_61fc2814-4198-4a7f-9bdb-05d533f6e504.jpg?v=1766148947"},{"product_id":"زندگی-کی-شاہراہ-پر","title":"زندگی کی شاہراہ پر |  آپبیتی | Maxim Gorky","description":"\u003cdiv class=\"m8h3af8h l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf n3t5jt4f\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eاچھا تو لیجئیے چل پڑا میں زندگی کی شاہراہ پر. شہر کی بڑی سڑک پر جوتوں کی دکان میں \"بوائے\" ہو گیا ہوں. اس دوکان کا نام ھے: \"فیشن ایبل جوتے\" میرا مالک ناٹا سا, موٹا سا آدمی ھے. اس کا چہرا میلا اور بے جان ھے, پھولا ہوا اور خط و خال مٹے مٹے سے. اس کے دانتوں پر کائی سی جمی ہوئی ھے, آنکھیں دھندلی سی ہیں. مجھے تو وہ اندھا دکھائی دیتا ھے اس لیے آزمانے کو منہ چڑاتا ھوں.... دیکھوں اندھا ھے یا نہیں؟\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eوہ مجھ سے آہستگی سے لیکن درشتی سے کہتا ھے\"مت بگاڈو اپنا تھوبڑا\".\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf jikcssrz n3t5jt4f\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\"زندگی کی شاہراہ پر\"\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eصفات 340\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Maxim Gorky","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646953156642,"sku":null,"price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/In-the-World-II-Copy-scaled_c35a694b-8ca1-4279-9039-6aa7c3284ddb.jpg?v=1766149091"},{"product_id":"چلو-یوں-کر-لو","title":"Chalo Yo Kar Lo","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eایک کتاب ، چائے کے ایک کپ سے زیادہ آرام کرنے کے لیے ، خود دریافت کے قریبی لمحات میں پڑھنے کے لیے۔ ہمارے آس پاس کی دنیا کے اسرار پر حیرت کے احساس کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے,,..\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eمضمون , تصوف سے ترجمہ کیا گیا۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e \u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eچلو یوں کر لو ! | Just like that | Talk on Sufi Stories \u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eمصنف| اوشو | \u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eترجمہ منیب شہزاد \u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e \u003c\/p\u003e","brand":"Guru Ranjesh Oshu","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646954270754,"sku":null,"price":450.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Just_Like_That_f4a9bc2c-71ee-4773-addd-6bce1f068f66.jpg?v=1766149132"},{"product_id":"لافانی-حکایت","title":"Lafani Hakayat","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e \u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e1960 میں اوشو کی ملاقات مسز مدن کنور پارکھ (ما آنند مائی) سے ہوئی ، جسے وہ ماضی کی زندگی میں اپنی ماں کے طور پر پہچانتے ہیں۔ مسز پارکھ اس وقت 40 سال کی ہیں ، اور تسلیم کرتی ہیں کہ اوشو روشن خیال ہیں۔ اوشو نے اسے سینکڑوں خط لکھے۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e \u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eیہ ایک قسم کا مجموعہ ہے جس میں 120 مقالہ جات کے خطوط اور کہانیاں شامل ہیں جو اوشو نے اپنے پہلے دنوں میں ہندوستان کے سفر کے دوران لکھے تھے۔ ادبی مناظرکے ذریعے وہ گواہ ہے کہ کاغذی کشتیوں کے ساتھ دریا پر کھیلنے والے بچے ، بیل گاڑی کی نقل و حرکت ، مٹی کا چراغ بجھ رہا ہے ، ایک گاؤں پر آندھی ، طلوع آفتاب اور غروب آفتاب ، پھول کی زندگی اور موت- اوشو باہر لاتا ہے ہر فرد کی نفسیاتی دنیا میں مماثلت،،۔۔\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e \u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eلافانی حکایات | Seed of Revolution\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eمصنف | اوشو | osho\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eترجمہ | منیب شہزاد\u003c\/p\u003e","brand":"Guru Ranjesh Oshu","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646954303522,"sku":null,"price":450.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/The_Seeds_of_Revolution_bc4cdf6e-d2cc-4161-afad-efd177ad7d0e.jpg?v=1766149133"},{"product_id":"نروان-کا-دروازہ","title":"Narwan Ka Darwaza","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eنروان کا دروازہ\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eگرو رجنیش (اوشو)\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eترجمہ | محمد اقبال رندھاوا\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eصفحات | 176\u003c\/p\u003e","brand":"Guru Ranjesh Oshu","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646954336290,"sku":null,"price":350.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Osho_21-2_983bc5b3-c919-47b2-bcbb-0547fbe85a2f.jpg?v=1766149133"},{"product_id":"دعوتِ-خامشی","title":"Dawat E Khamshi","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eدعوتِ خامشی\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eگرو رجنیش (اوشو)\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eترجمہ | محمد اقبال رندھاوا\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eصفحات | 176\u003c\/p\u003e","brand":"Guru Ranjesh Oshu","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646954369058,"sku":null,"price":300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Osho_21-4_d28b9d54-dd0b-41a0-82b8-144db8ae51b7.jpg?v=1766149134"},{"product_id":"ماورائے-حدودِ-دانش","title":"Mawaray E Hadod O Danish","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eماورائے حدودِ دانش\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eگرو رجنیش (اوشو)\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eترجمہ | محمد اقبال رندھاوا\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eصفحات | 180\u003c\/p\u003e","brand":"Guru Ranjesh Oshu","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646954401826,"sku":null,"price":300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Osho_21-3_ec9929c0-7bfb-4e20-a553-0684e550b807.jpg?v=1766149134"},{"product_id":"باطنی-واردات-کا-راز","title":"Baatni wardat ka raz","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eباطنی وار دات کا راز\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eگرو رجنیش (اوشو)\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eترجمہ | محمد اقبال رندھاوا\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eصفحات | 176\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e \u003c\/p\u003e","brand":"Guru Ranjesh Oshu","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646954434594,"sku":null,"price":300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Osho_-1_5a9fce9c-c296-4024-a00e-f662c998f79a.jpg?v=1766149135"},{"product_id":"روسو","title":"روسو | Rosso","description":"\u003cp\u003eروسو\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eحیات و افکار\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eقاضی جاوید\u003c\/p\u003e","brand":"Qazi Javed","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646958596130,"sku":null,"price":250.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/884355_751516121530087_1635755998_o_23096d52-df7b-448f-a586-ea60780574b5.jpg?v=1766149222"},{"product_id":"زردشت-نے-کہا-zardashat-ny-kaha-friedrich-nietzsche","title":"زردشت نے کہا | Zardashat Ny Kaha |  Friedrich Nietzsche","description":"\u003cdiv style=\"text-align: right;\"\u003eزردشت نے کہا\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv style=\"text-align: right;\"\u003eمصنف | فریڈرک نطشے\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv style=\"text-align: right;\"\u003eترجمہ | ڈاکٹر ابوالحسن منصور احمد\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv style=\"text-align: right;\"\u003eصفحات | 432، مجلد\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv style=\"text-align: right;\"\u003eThus Spoke Zarathustra\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv style=\"text-align: right;\"\u003eby Friedrich Nietzsche\u003c\/div\u003e","brand":"Friedrich Nietzsche","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646966296610,"sku":null,"price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/2_26a56704-fa88-4189-ad00-7bb4fa2d026a.jpg?v=1766149353"},{"product_id":"تعلیمی-انقلاب-osho-guru-rajneesh","title":"Taleemi Inqilab","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eتعلیمی انقلاب | Osho | Guru Rajneesh \u003c\/p\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xdj266r x126k92a\" style=\"text-align: right;\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\n\u003cspan\u003e\u003ca role=\"link\" href=\"https:\/\/www.facebook.com\/hashtag\/%D8%AA%D8%B9%D9%84%DB%8C%D9%85?__eep__=6\u0026amp;__cft__%5B0%5D=AZUpra8OfXXDBD67AKfQflNQ0iR8_XVVpMRehTR0D97RcvPKnluw2tdzXq1POybFjZLNudSMEsfPpbr8FEdtuwXYlAjM8-TTBpKB4mxfG9ynl4BaLbUZTCodizDs_xWNcBU\u0026amp;__tn__=*NK-R\" class=\"x1i10hfl xjbqb8w x6umtig x1b1mbwd xaqea5y xav7gou x9f619 x1ypdohk xt0psk2 xe8uvvx xdj266r x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r xexx8yu x4uap5 x18d9i69 xkhd6sd x16tdsg8 x1hl2dhg xggy1nq x1a2a7pz xt0b8zv x1qq9wsj xo1l8bm\" tabindex=\"0\"\u003e#تعلیم\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003e خوف بڑھاتی ہے، تعلیم لالچ سکھاتی ہے، تعلیم نفرت کرنے کا درس دیتی ہے، مقابلہ اور مسابقت پڑھاتی ہے۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eتعلیم کامیابی حاصل کرنے کی امنگ کا بخار چڑھاتی ہے پھر اس قسم کی تعلیم علم کا مبلغ کیسے ہو سکتی ہے ؟\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eایسی تعلیم \u003cspan\u003e\u003ca role=\"link\" href=\"https:\/\/www.facebook.com\/hashtag\/%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DB%8C?__eep__=6\u0026amp;__cft__%5B0%5D=AZUpra8OfXXDBD67AKfQflNQ0iR8_XVVpMRehTR0D97RcvPKnluw2tdzXq1POybFjZLNudSMEsfPpbr8FEdtuwXYlAjM8-TTBpKB4mxfG9ynl4BaLbUZTCodizDs_xWNcBU\u0026amp;__tn__=*NK-R\" class=\"x1i10hfl xjbqb8w x6umtig x1b1mbwd xaqea5y xav7gou x9f619 x1ypdohk xt0psk2 xe8uvvx xdj266r x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r xexx8yu x4uap5 x18d9i69 xkhd6sd x16tdsg8 x1hl2dhg xggy1nq x1a2a7pz xt0b8zv x1qq9wsj xo1l8bm\" tabindex=\"0\"\u003e#آزادی\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003e کیسے دلاسکتی ہے ؟\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eیہ تو مہلک اور جان لیوا امراض بڑھا رہی ہے۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eیہ علم کی تبلیغ نہیں یہ تو جہالت کی تبلیغ ہے۔۔\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"text-align: right;\"\u003e\n\u003cspan\u003e\u003ca tabindex=\"-1\"\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003eاوشو\u003cspan class=\"x3nfvp2 x1j61x8r x1fcty0u xdj266r xhhsvwb xat24cr xgzva0m xxymvpz xlup9mm x1kky2od\"\u003e\u003cimg src=\"https:\/\/static.xx.fbcdn.net\/images\/emoji.php\/v9\/ted\/2\/16\/2764.png\" alt=\"❤\" width=\"16\" height=\"16\" referrerpolicy=\"origin-when-cross-origin\"\u003e\u003c\/span\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"text-align: right;\"\u003eکتاب: تعلیمی انقلاب\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Guru Ranjesh Oshu","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646966689826,"sku":null,"price":450.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/20221130_174321_d3753499-3488-4452-a258-ed8c083b21ff.webp?v=1766149365"},{"product_id":"سراغ-زندگی-surag-e-zindgi-osho-guru-rajneesh","title":"Surag E Zindgi","description":"\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eسراغ زندگی | Surag E Zindgi | Osho | Guru Rajneesh \u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eمصنف: اوشو گرورجنیش\u003c\/div\u003e","brand":"Guru Ranjesh Oshu","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646966722594,"sku":null,"price":375.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/20221130_174347_96aae167-6653-4513-9371-b1fdc9bccbef.webp?v=1766149365"},{"product_id":"نیا-دور-نیا-انسان-naya-door-naya-insan-osho-guru-rajneesh","title":"Naya Door Naya Insan","description":"\u003cp\u003eنیا دور نیا انسان  | Naya Door Naya Insan | Osho | Guru Rajneesh\u003c\/p\u003e","brand":"Guru Ranjesh Oshu","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646967345186,"sku":null,"price":375.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/20221130_174357.webp?v=1766149366"},{"product_id":"شاہراہ-سلاطین-shahra-e-salteen-guru-rajneesh-osho","title":"Shahrah E Salateen","description":"\u003cp\u003eشاہراہ سلاطین | Shahra E Salteen | Guru Rajneesh | Osho\u003c\/p\u003e","brand":"Guru Ranjesh Oshu","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646967377954,"sku":null,"price":350.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/20221130_174335_e521c2cb-2d9e-418c-9f34-0c317a57ac37.webp?v=1766149366"},{"product_id":"سراہا-کا-شاہی-گیت-surah-shahi-ka-geet-osho-guru-rajneesh","title":"Saraha Ka Shahi Geet","description":"\u003cp\u003eسراہا کا شاہی گیت | Surah Shahi Ka Geet | Osho | Guru Rajneesh\u003c\/p\u003e","brand":"Guru Ranjesh Oshu","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646967410722,"sku":null,"price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Lady_Chatterley.jpg?v=1766149367"},{"product_id":"تکمیل-ذات-osho-faisal-awan","title":"Takmeel E Zaat","description":"\u003cdiv id=\"jsc_c_q9\" data-ad-preview=\"message\" data-ad-comet-preview=\"message\" class=\"x1iorvi4 x1pi30zi x1swvt13 x1l90r2v\"\u003e\n\u003cdiv class=\"x78zum5 xdt5ytf xz62fqu x16ldp7u\"\u003e\n\u003cdiv class=\"xu06os2 x1ok221b\"\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xdj266r x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eتکمیل ذات گرور جنیش (اوشو)\/فیصل اعوان\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x1pi30zi x1swvt13 x1l90r2v x1iorvi4\"\u003e\n\u003cdiv class=\"x78zum5 xdt5ytf xz62fqu x16ldp7u\"\u003e\n\u003cdiv class=\"xu06os2 x1ok221b\"\u003e\n\u003cdiv role=\"button\" class=\"x1i10hfl xjbqb8w x6umtig x1b1mbwd xaqea5y xav7gou x9f619 x1ypdohk xt0psk2 xe8uvvx xdj266r x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r xexx8yu x4uap5 x18d9i69 xkhd6sd x16tdsg8 x1hl2dhg xggy1nq x1o1ewxj x3x9cwd x1e5q0jg x13rtm0m x1n2onr6 x87ps6o x1a2a7pz xt0b8zv\" tabindex=\"0\"\u003e\u003cbr\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Guru Ranjesh Oshu","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646968885282,"sku":null,"price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/1_42c6384f-8f7d-4eb5-bcbc-234d87aacff1.png?v=1766149400"},{"product_id":"کھلا-بھید-osho-faisal-awan","title":"Khula Bhaid","description":"\u003cp\u003eکھلا بھید | Osho | Faisal Awan\u003c\/p\u003e","brand":"Guru Ranjesh Oshu","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646968918050,"sku":null,"price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/f4ba879ae8d424a8529feac73236d322_57a779f1-6369-43bf-8620-af4c6959563b.png?v=1766149400"},{"product_id":"والتیئر-قاضی-جاوید-voltaire","title":"والتیئر | قاضی جاوید | Voltaire","description":"\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"text-align: right;\"\u003eوالتیئر (قاضی جاوید)\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"margin-bottom: .0001pt; text-align: right; line-height: normal; background: white;\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Urdu Typesetting'; mso-fareast-font-family: 'Times New Roman'; color: #050505;\"\u003e”\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eمگر اس زمانے میں عقل پرستی، روشن خیالی اور سائنس کی طرف سے بھی شدید حملے شروع ہو چکے تھے۔ ان سے عاجز آ کر مذہب والوں نے یہ جان لیا تھا کہ وہ اپنی مقدس کتب کی عبارتوں کے لغوی مفاہیم کا دفاع نہیں کر سکتے۔ انہوں نے بچاو کی ہرممکن کوشش کی۔ مگر آخر کار انہوں نے اس تصور میں پناہ ڈھونڈی کہ جو واقعات مذہبی کتب میں درج ہیں، ان کا لغوی طور پر درست ہونا ضروری نہیں۔ ان کی نوعیت علامتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"margin-bottom: .0001pt; text-align: right; line-height: normal; background: white;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Urdu Typesetting'; mso-fareast-font-family: 'Times New Roman'; color: #050505;\"\u003eیہ نقطہ نظر انیسویں اور بیسویں صدیوں میں مقبول ہوا اور اب دنیا میں کم و بیش سبھی مذاہب سے تعلق رکھنے والے دانش وروں نے یہ موقف اختیار کر لیا ہے کہ مذہبی واقعات و بیانات کو ان کے لغوی کے بجائے علامتی مفہوم میں قبول کرنا چاہیے۔اس طرح انہوں نے اپنی مقدس کتابوں کو سائنس اور روشن خیالی کے حملوں سے بچا لیا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جب ان کا مفہوم ہی طے شدہ نہیں ہے تو پھر آپ ان کو کسی طور غلط یا بے معنیٰ ثابت نہیں کر سکتے\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Urdu Typesetting'; mso-fareast-font-family: 'Times New Roman'; color: #050505;\"\u003e“\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Qazi Javed","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646970785826,"sku":null,"price":350.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/22_1ecc9555-a3ae-4f24-8ca8-ebf7a9bf049f.jpg?v=1766149440"},{"product_id":"خطرات-میں-جینے-کا-ہنر-living-dangerously-osho-guru-rajneesh","title":"Khatrat Main Jeenay Ka Hunar","description":"\u003cdiv class=\"\" data-block=\"true\" data-editor=\"76i6l\" data-offset-key=\"a55bg-0-0\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"a55bg-0-0\" class=\"_1mf _1mk\" data-mce-fragment=\"1\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"a55bg-0-0\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eکچھ کتابیں محض وقت گزاری کے لیے ہوتی ہیں، کچھ محض ذہن کی خوراک ہوتی ہیں۔ کچھ کتابیں انٹر ٹینمنٹ کے لیے ہوتی ہیں۔ اور بہت کم کتابیں ایسی ہوتی ہیں جو آپ کو ایک نئے سرے سے ایک نئی جہت کی طرف لا کھڑا کرتی ہیں۔ جو آپ کو سوچنے کا اک نیا زاو یہ فراہم کرتی ہیں جو آپ کے پہلے سے طے شدہ تمام مفروضوں کو خاک میں ملا دیتی ہیں۔ یہ کتاب ان بہت تھوڑی سی کتابوں میں سے ایک ہے۔ ڈرپوک اور بزدل لوگ اس کتاب سے دور رہیں۔ کیونکہ یہ کتاب ان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ صرف دلیر اور ہمت ور لوگ ہی اس کتاب کا مطالعہ کریں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"\" data-block=\"true\" data-editor=\"76i6l\" data-offset-key=\"dmo9e-0-0\" data-mce-fragment=\"1\" style=\"text-align: right;\"\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"dmo9e-0-0\" class=\"_1mf _1mj\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"dmo9e-0-0\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eLiving Dangerously: Ordinary Enlightenment FOr Extraordinary TImes Book Osho ( Guru Rajneesh )\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"\" data-block=\"true\" data-editor=\"76i6l\" data-offset-key=\"25eti-0-0\" data-mce-fragment=\"1\" style=\"text-align: right;\"\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"25eti-0-0\" class=\"_1mf _1mk\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"25eti-0-0\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eخطرات میں جینے کا ہنر\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"\" data-block=\"true\" data-editor=\"76i6l\" data-offset-key=\"9rsbo-0-0\" data-mce-fragment=\"1\" style=\"text-align: right;\"\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"9rsbo-0-0\" class=\"_1mf _1mk\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"9rsbo-0-0\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eہر اس کھلاڑی کے نام جو زندگی کی تلاش میں سر گرداں زندگی کے تمام خطرات میں بے خوف چھلانگ لگانے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"\" data-block=\"true\" data-editor=\"76i6l\" data-offset-key=\"62b0d-0-0\" data-mce-fragment=\"1\" style=\"text-align: right;\"\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"62b0d-0-0\" class=\"_1mf _1mk\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"62b0d-0-0\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eگرو رجنیش ( اوشو )\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"\" data-block=\"true\" data-editor=\"76i6l\" data-offset-key=\"a7v8a-0-0\" data-mce-fragment=\"1\" style=\"text-align: right;\"\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"a7v8a-0-0\" class=\"_1mf _1mk\" data-auto-logging-id=\"f320f4c3d628d2\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"a7v8a-0-0\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eترجمہ ابن یار\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"\" data-block=\"true\" data-editor=\"76i6l\" data-offset-key=\"esr0e-0-0\" data-mce-fragment=\"1\" style=\"text-align: right;\"\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"esr0e-0-0\" class=\"_1mf _1mk\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"esr0e-0-0\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eصفحات 192\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"\" data-block=\"true\" data-editor=\"76i6l\" data-offset-key=\"ffkgf-0-0\" data-mce-fragment=\"1\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003c\/div\u003e","brand":"Guru Ranjesh Oshu","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646975242274,"sku":null,"price":450.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Kharat.png?v=1766149523"},{"product_id":"وجودیت-قاضی-جاوید-qazi-javeed","title":"وجودیت | قاضی جاوید | Qazi Javeed","description":"\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e”یوں ہم دیکھتے ہیں کہ وجود جوہر پر مقدم ہے، کا اصول الحاد کا نتیجہ ہے اور انسان کی بے کراں آزادی و خود مختاری کا جواز ----- وجود باری تعالی کو تسلیم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا جوہر و فطرت پہلے سے متعین ہے، کیونکہ خدا خالق و قادر مطلق ہونے کی بنا پر پہلے ہی سے جانا ہوگا کہ کسی فرد کے امکانات کیا ہیں اور اسے کیا کردار ادا کرنا ہے. یوں خدا کا خالق و قادر مطلق ہونا گویا انسانی آزادی کی نفی پر دلالت کرتا ہے. اس کے برعکس اگر خدا موجود نہیں، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ فرد کے\u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003e \u003c\/span\u003e\u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003c\/span\u003eامکانات اور تقدیر پہلے سے ناقابل تعین ہیں. وہ مطلق طور پر آزاد ہے کہ جو چاہے سو کرے. گویا اس کا وجود اس کے جو ہر قدم پر ہوگا ۔ قصہ مختصر یہ کہ جیسا کہ دستور سکی کہتا ہے، اگر خدا موجود نہیں تو پھر سب کچھ جائز ہے. سارتر نے نطشے کے بر عکس ، خدا کے عدم وجود کو فلسفیانہ طور پر ثابت کرنے کی کوشش بھی کی ہے. وہ کہتا ہے کہ اگر وجود بذات خود اور وجود برائے خود کے تصور کو لامتماہی تک بڑھایا جائے تو خدا کا تصور تشکیل پاتا ہے. اس لئے مذہبی کے نزدیک علماء شعور و معروض کی عینیت خدا کی صفت ہے. لیکن یہ عینیت محال ہے کیونکہ شعور خود عینیت کی اور خود عینیت شعور کی قاطع ہے. پس خدا کا تصور تناقص بالذات ہے.“ (سارتر)\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e★\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eوجودیت\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eقاضی جاوید\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\n\u003cspan\u003eTranslation of Existentialism Is a Humanism by \u003c\/span\u003eJean-Paul Sartre\u003cspan\u003e is a 1946 work by the philosopher Jean-Paul Sartre, based on a lecture by the same name he gave at Club Maintenant in Paris, on 29 October 1945.\u003c\/span\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Jean-Paul Sartre","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646977077282,"sku":null,"price":200.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/Wajodyat.jpg?v=1766149577"}],"url":"https:\/\/www.onlineurdubazar.pk\/collections\/urdu-translations-on-philosophy.oembed?page=9","provider":"Online Urdu Bazar","version":"1.0","type":"link"}