{"product_id":"akhri-ahd-e-mughlia-ka-hindustan","title":"Akhri Ahd-e-Mughlia Ka Hindustan","description":"\u003ctable style=\"border-collapse: collapse; width: 585pt;\" width=\"780\" cellspacing=\"0\" cellpadding=\"0\" border=\"0\"\u003e\n\u003ccolgroup\u003e\n\u003ccol style=\"mso-width-source: userset; mso-width-alt: 28525; width: 585pt;\" width=\"780\"\u003e \u003c\/colgroup\u003e\n\u003ctbody\u003e\n\u003ctr style=\"height: 15.0pt;\" height=\"20\"\u003e\n\u003ctd style=\"height: 15.0pt; width: 585pt;\" width=\"780\" align=\"right\" dir=\"RTL\" height=\"20\"\u003eکتاب کا نام: آخری عہد مغلیہ کا ہندستان۔\u003cbr\u003eمعنف: ڈاکٹر مبارک علی۔\u003cbr\u003eقیمت: 800\u003cbr\u003eمقل زوال کے آثار اور نگ زیب کے عہد حکومت ہی میں شروع ہو چکے تھے۔ میل امرا کے پاس\u003cbr\u003eبے استہ دولت تھی۔ وہ اپنی دولت کی حفاظت کے لیے جنگ و جدل سے دُور رہنا چاہتے تھے ۔ عیاشی کی زندگی نے ان کی اہلیت اور لیاقت کا خاتمہ کر دیا تھا۔ بد عنوانی اور رشوت کا دور دورہ تھا۔ جب 1707ء میں اور نگ زیب کی وفات ہوئی تو پہلے ہوئے جھگڑے اور فسادات سامنے آگئے۔ مغل شہزادوں میں خانہ جنگی کا سلسلہ شروع ہوا جس نے سیاسی استحکام کو تم کیا اور سازشوں کانہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ جب مغل سلطنت کمزور ہوئی تو بغاوتوں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔ مرہٹے، جائے ، سکھ اور روہیلوں نے اپنے اقتدار کے لیے جنگوں کا سہارا لیا۔ مسلسل جنگوں نے یہ شہر یوں کو کوئی تحفظ دیانہ کسانوں کو امن\u003cbr\u003eکے ساتھ کھیتی باڑی کرنے دی۔ تجارتی راستے بھی غیر محفوظ ہوگئے ۔ جب مغل بادشاہ کی حکومت لال قلعے تک محدود ہو گئی تو کئی کئی آزاد ریاستیں وجود میں آئیں جن میں خاص طور سے اودھ ، بنگال، مرشد آباد اور وکن کی سلطنتیں تھیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لگان کی وہ رقوم جو ان علاقوں سے آتی تھیں وہ آنا بند ہو گئیں، جس کی وجہ سے دہلی دربار کی آمدنی ختم ہوئی لیکن نئی ریاستوں میں دولت کی بہتات ہوگئی۔ اب مغل درباری کھیر کی بجائے نیار یاستی گھر اودھ ، بنگال اور دکن میں تشکیل ہوا ۔\u003cbr\u003eیہ وہ حالات تھے جب 1757ء میں پلاسی کی جنگ میں ایسٹ انڈیا کمپنی تیاب ہوئی۔ پھر اس کی\u003cbr\u003eفتوحات کا سلسلہ شروع ہوا تو پورا ہندوستان اُس کے تسلط میں آگیا۔ مغل بادشاہ کی نہ کوئی طاقت رہی اور نہ ہی اُس کے پاس مالی وسائل رہے۔\u003cbr\u003eجب بڑی بڑی سلطنتیں ٹوٹتی ہیں تو مسلح جماعتیں لوٹ مار کا سلسلہ شروع کر دیتی ہیں۔ سہی کچھ آخری عہد مغلیہ میں ہوا۔ تھنگ ، ڈاکو اور پنڈاری ملک میں لوٹ مار کرنے لگے ۔ نہ تاجروں\u003cbr\u003eکو تحفظ رہا اور نہ عام لوگوں کی عزت محفوظ رہی۔ یہ وہ حالات تھے کہ جب ایسے اللہ یا کمپنی نے ہندوستان میں اپنے اقتدار\u003cbr\u003eکو قائم کیا۔\u003cbr\u003eڈاکٹر مبارک علی\u003cbr\u003e2 ستمبر 2024ء\u003c\/td\u003e\n\u003c\/tr\u003e\n\u003c\/tbody\u003e\n\u003c\/table\u003e","brand":"Dr. Mubarak Ali","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44646711623714,"sku":null,"price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/IMG-20250118-WA0023_ddfcc48b-b5ae-440b-a681-1a545e148aa6.jpg?v=1766144806","url":"https:\/\/www.onlineurdubazar.pk\/products\/akhri-ahd-e-mughlia-ka-hindustan","provider":"Online Urdu Bazar","version":"1.0","type":"link"}