{"product_id":"europe-main-tehqeeqi-mutalia-یورپ-میں-تحقیقی-مطالعے","title":"Europe Main Tehqeeqi Mutalia - یورپ میں تحقیقی مطالعے","description":"\u003cp\u003eڈاکٹر آغا افتخار حسین نامور محقق، مؤرخ، ناول نگار، ڈراما نویس، سول سرونٹ، مترجم اور قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے وزیٹنگ پروفیسر تھے۔ وہ 17 اپریل، 1921ء کو دہلی، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد آغا افتخار حسین انجینئر تھے اور ان کا تعلق ایران کی قزلباش فیملی سے تھا۔ آغا افتخار کو اوائل عمری ہی سے پڑھنے لکھنے کا شوق تھا۔ 1946ء میں ابھی وہ پچیس سال کے تھے کہ انہوں نے فلسفہ فرہنگ کے نام سے مغربی فلسفے کی مختصر تاریخ لکھی۔ اس کے بعد انہوں نے کئی کتابیں لکھیں۔ 1967ء میں ان کی کتاب یورپ میں تحقیقی مطالعے چھپی۔ ان کی یہ کتاب ان تحقیقی مضامین پر مشتمل ہے جو انہوں نے اپنے قیام یورپ کے دوران میں لکھے تھے۔ آغا افتخار فرانسیسی ادب اور ثقافت سے گہرا شغف رکھتے تھے۔ انقلاب فرانس ان کے نزدیک بہت زیادہ اہمیت کا حامل تھا۔ انقلاب فرانس کے لیے ذہنی فضا پیدا کرنے والے فلسفیوں اور دانشوروں دیدیرو، والٹیئر اور دالمبر کے وہ بہت بڑے مداح تھے۔ ان کے نزدیک فرانسیسی دانشوروں کی یہ جماعت دسویں صدی کے بغداد میں تشکیل پانے والی خفیہ جماعت اخوان الصفا سے متاثر تھے۔\u003c\/p\u003e\n\n\u003cp\u003eاپنی کتاب ’’یورپ میں تحقیقی مطالعے‘‘ میں ان کے وہ مضامین شامل ہیں جو اُنھوں نے لندن، کیمبرج، روم، نیپلز اور زیادہ تر پیرس کے دورانِ قیام میں لکھے یا ان کا زیادہ تر مواد اس عرصے میں حاصل کیا۔ تحقیق اور مطالعے کے دوران میں بعض اوقات ایسے اہم مآخذ بھی اُن کے علم میں آئے یا ایسی معلومات حاصل ہوئیں جو دلچسپی کا باعث ہو سکتی تھیں، ان کو بھی اُنھوں نے مضامین کی شکل میں پیش کر دیا۔ مطالعہ و فکر کے دوران میں بعض ایسے تصورات اور نظریات بھی ذہن میں اُبھرے جن کے اظہار کا موقع انھیں وطن واپس آ کر ملا، ان کی جھلک بھی ان مضامین میں کہیں کہیں موجود ہے۔ یہ مضامین ’’افکار‘‘ کراچی، ’’اُردو نامہ‘‘ کراچی، ’’نگار‘‘ کراچی، اور ’’صحیفہ‘‘ لاہور میں شائع ہو چکے ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں مغربی علوم کا مطالعہ اہلِ مشرق کے لیے بہت ضروری ہے۔ کیونکہ نوآزاد اور پسماندہ اقوام کے لیے تیزی سے بدلتے ہوئے نئے ماحول سے مطابقت پیدا کرنا اور صحیح بیرونی اثرات قبول کرنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ اپنے تہذیبی سرمائے کو برقرار رکھنا اور اسے ترقی دینا۔ ان دونوں صورتوں میں سے اگر ایک کو دوسرے کی خاطر قربان کر دیا گیا تو یہ قومیں اسی تیز رفتاری کے ساتھ واماندہ، پسماندہ اور مفلوک الحال ہوتی چلی جائیں گی جس رفتار سے طاقتور قومیں ترقی کر رہی ہیں۔\u003c\/p\u003e","brand":"Agha Iftikhar Hussain","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":44840335704098,"sku":null,"price":330.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0779\/9531\/1138\/files\/eurup-main-tehqeeqi-mutalia-50p.jpg?v=1771342053","url":"https:\/\/www.onlineurdubazar.pk\/products\/europe-main-tehqeeqi-mutalia-%db%8c%d9%88%d8%b1%d9%be-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%db%8c-%d9%85%d8%b7%d8%a7%d9%84%d8%b9%db%92","provider":"Online Urdu Bazar","version":"1.0","type":"link"}